میری زندگی کا ایک یادگار واقعہ
آپ mad کب سے ہو گئے ہیں؟
1976 کے وسط میں ہمارے بینک کے سرکل ایگزیکیٹو نے ہیڈ آفس سے میری بیرون ملک (برطانیہ) پوسٹنگ کی سفارش کر دی- ہیڈ آفس نے کاغذی کار روائی مکمل کر نے کے بعد مجھے ہیڈ آفس، کراچی انٹرنیشنل ڈویژن کے سر براہ سے انٹرویو کے لئے بلایا- یہ دسمبر کا مہینہ تھا- انٹرویو کامیاب رہا- انٹرنیشنل ڈویژن کے سربراہ نے بینک کے صدر سے میری برطانیہ پوسٹنگ کی سفارش کر دی-
سیاسی حالات اور یو کے ٹرانسفر میں التوا
1977کے اوائل میں وزیر اعظم بھٹو نے قبل از وقت عام انتخابات کا اعلان کر کے تمام اسمبلیاں تحلیل کر دیں۔ 7 مارچ 1977کےعام انتخابات کے نتیجے میں حکمران پارٹی عام انتخابات جیت گئی- لیکن باقی سیاسی پارٹیوں کے سر براہان نے دھاندلی کا الزام لگا کر نتائج قبول کر نے سے انکار کر دیا- ملک میں جلسے، جلوس، ہنگامے، جلائو گھیرائو، پہیہ جام ہڑتال شروع ہوگئی- ان حالات میں میرا یو کے ٹرانسفر کا کیس التوا کا شکار ہو گیا- جب ملک کے امن و امان کے حالات قابو سے باہر ہو گئے، تو آرمی چیف نے 5 جولائی 1977 کو حکومت کا تختہ اُلٹ کر مارشل لا نافذ کر دیا-
کراچی کا سفر اور کراچی صدر بازار سے خریداری
اس عرصہ میں برطانیہ کے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے اپنی چھان بین مکمل کر کے ویزا جاری کر دیا تھا اوریو کے کے زونل آفس کو مطلع کر دیا تھا- انہوں نے ہیڈ آفس کراچی کو اور ہیڈ آفس نے سرکل آ فس راولپنڈی کو مطلع کر دیا- مجھے بینک کے صدر نے کراچی فائنل انٹرویو کے لئے بلایا- یہ دسمبر کا مہینہ تھا- میں نے کراچی جانے سے پہلے راولپنڈی کے صدر بازار سے چمڑے کا ایک خوبصورت بریف کیس خریدا، تاکہ اس میں ضروری کاغذات، پاسپورٹ اور کچھ ذاتی فائلیں رکھ کر لے جائوں-
بریف کیس پر نام کندہ کروانے کا قصہ
بینک کے صدر سے انٹرویو کے بعد میں بریف کیس ہاتھ میں لئے کراچی صدر کے بازاروں میں گھوم پھر رہا تھا ، تو ایک سڑک کے فُٹ پاتھ پر ایک شخص میز پر چند اوزار اور مختلف قسم کی مشینیں سجائے بیٹھا تھا- لوگ اس کے ارد گردجمع تھے- وہ لوگوں کی گھڑیوں، کتابوں، لکڑی کے باکسز اور اسی طرح کی مختلف چیزوں پر ان کے اردو اور انگریزی میں نام پلاسٹک کی پٹی پر کندہ کر کے چسپاں کر رہا تھا- میں نے سوچا کہ کیوں نہ میں بھی اپنا نام کندہ کروا کر بریف کیس پر چپکوا لوں۔ لہذا، میں نے اس شخص کو اپنا پورا نام اِنگلش میں ایک کاغذ پر لکھ کر دیا- Soban Ahmad Imtiazi – اس نے اس نام کی لمبائی کے برابر پلاسٹک کی ایک پٹی قینچی سے کاٹی، اس پر ایک machine سے میرا نام کندہ کیا اور اسے گلو سے میرے بریف کیس پر چپکا دیا- میں راولپنڈی آ گیا-
لندن آمد اور مینیجر کی حیثیت سے فرائض
مجھے ایک ماہ کے اندر لندن کے زونل آ فس میں رپورٹ کر نے کے لئے کہا گیا تھا- 23 جنوری کو راولپنڈی سے فلائٹ لے کر لندن پہنچ گیا اور 24 جنوری کو زونل آ فس، لندن میں رپورٹ کر دیا- میری جہاں جہاں مینیجر کی حیثیت سے پوسٹنگ ہوتی گئی، میں کام کر تا رہا-
کولنڈیل ہسپتال کا ایک دلچسپ واقعہ
میری بڑی بھابھی اپنے علاج کے لئے لندن آئیں اور شمالی لندن کے علاقے کولنڈیل (Colendale) میں کولنڈیل ہسپتال میں داخل ہو گئیں- میں روزانہ شام کو دفتر سے فارغ ہو کر بریف کیس کے ساتھ ان سے ملنے ہسپتال جا تا تھا- تھوڑی دیر ان کے پاس بیٹھ کر گھر چلا جا تا تھا-
ایک شام جب میں ان سے ملنے ہسپتال گیا، تو ان سے ملنے ان کی چھوٹی بہن بھی آئی ہوئی تھیں- وہ اسلام آ باد سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے لندن آئی ہوئی تھیں- دوران گفتگو وہ میرے ایک طرف رکھے ہوئے بریف کیس کو غور سے دیکھتی جاتی تھیں اور مسکرا مسکرا کر مجھے بھی دیکھتی جاتی تھیں- میں نے ان کی اس بات کا نوٹس نہیں لیا- میں بھابھی جان سے رخصت ہو کر اور اپنا بریف کیس اُٹھا کر چلنے لگا، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے پوچھا: “ثوبان بھائی، آ پ mad کب سے ہو گئے ہیں؟” میں ان کی یہ بات سن کر بوکھلا گیا اور پوچھا: “میں سمجھا نہیں۔ آ پ کہنا کیا چاہ رہی ہیں؟” انہوں نے پھر مجھ سے وہی بات پوچھی: “میں نے آپ سے پوچھا ہے کہ آپ mad کب سے ہو گئے ہیں؟”
حقیقت کا انکشاف اور ایک کھسیانی ہنسی
میرے چہرے پر سنجیدگی طاری ہو گئی- لیکن وہ مسلسل مسکراتی رہیں- میری پریشانی کو بھانپتے ہوئے بولیں: “آپ نے اپنے بریف کیس پر لکھا ہے: Soban mad Imtiazi”۔ میں نے فوراً اپنا بریف کیس اُٹھا کر اپنا نام پڑھا، تو اس میں سے Ahmad کا Ah غائب تھا اور Soban mad Imtiazi پڑھا جا رہا تھا- گزشتہ چار سال کے دوران نہ جانے کب Ah ہلکا ہوتے ہوتے غائب ہو گیا تھا اور پڑھا نہیں جا رہا تھا- میں نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا تھا- میرے چہرے پر کھسیانی ہنسی طاری ہو گئی- میں نے کہا: “اوہ! اچھا- یہ بات تھی- پتہ نہیں اس میں سے Ah کب ہلکا ہوگیا اور پڑھا نہیں جا رہا ہے”۔
نام کی تبدیلی اور ایک انوکھا ریکارڈ
گھر جا کر میں نے اپنے نام کی پوری پٹی بریف کیس پر سے اُتار کر پھینک دی اور اگلے روز سے جہاں جہاں اپنا درمیانی نام لکھنا ہو تا تھا، میں ed کے ساتھ لکھتا تھا- Ahmed- لیکن اس سے پہلے جہاں جہاں Ahmad لکھا ہوا تھا، وہ ویسا ہی رہا- اب میرے انگلش میں لکھے ہوئے دودرمیانی نام چل رہے ہیں-
“قارئین کو بتا تا چلوں کہ چمڑے کا وہ بریف کیس 48 سال گزرنے کے بعد اب بھی میرے زیر استعمال ہے۔ گو کہ اس کی بیرونی حالت اب antique کی شکل اختیار کر گئی ہے، لیکن حیرت ہے کہ اندرونی حالت ویسی ہی ہے، جیسے شروع میں تھی۔”
ثوبان امتیازی کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

-
View all postsثوبان امتیازی راولپنڈی کے گورڈن کالج سے وابستہ رہے، جہاں سے انہوں نے اردو زبان و ادب میں ایم اے اور لاہور کے لاء کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 32 سال تک ملک اور بیرون ملک بینکنگ میں خدمات انجام دیں۔ آپ شاعر، افسانہ نگار، مصنف، سٹیج اور ٹیلی ویژن کے تجربہ کار اداکار و صدا کار ہیں۔ PTV چکلالہ/راول پنڈی کے ابتدائی دور (بلیک اینڈ وائٹ) سے منسلک رہے اور اپنے زمانے کے منجھے ہوئے فنکار کے طور پر پہچانے گئے۔ آج کل لندن میں ریٹائرڈ زندگی گزار رہے ہیں۔
کئی کتابوں کے مصنف ہیں؛ جن میں شاعری کے حوالے سے: "احساس کی لو" اور "شام ڈھلے"۔ اور نثر میں ان کی چند آپ بیتیاں، مضامین، خطوط، روزنامچے کے اوراق اور سفرنامہ ترکی پر مبنی "چند یادیں، چند باتیں" افسانوں کا مجموعہ "داستانیں مری، یہ فسانے مرے", سچے واقعات پر مبنی دلچسپ کتاب "باتیں ہماری یاد رہیں گی" شامل ہیں۔ آپ آج کل خود نوشت سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں، جو تکمیل کے مراحل میں ہے۔
آپ 80 سال سے زائد عمر کے باوجود فعال ہیں۔ لکھتے، پڑھتے ہیں اور ادبی حلقوں سے جڑے رہتے ہیں۔



