ایک یادگار داستان: دن دہاڑے چوری کی سچی آپ بیتی
یہ دسمبر 1970 کا واقعہ ہے۔ کراچی سے راولپنڈی واپس جاتے ہوئے میں چند دنوں کے لئے اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ لاہور میں بھائی عرفان کے پاس رُک گیا تھا۔ ایک دن جب میں اپنے دوستوں سے مل کر گھر آیا، تو سب کو افسردہ پایا۔ میں بھانپ گیا کہ کوئی پریشانی کی بات ہے۔
لاہور کا سفر اور اچانک پریشانی
بیگم نے مجھے ایک طرف لے جا کر بتایا کہ ان کا سوٹ کیس جس میں ان کے کپڑے اور زیورات تھے، دوپہر سے غائب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تھانے میں رپورٹ درج کروائی تھی۔ پولیس آئی تھی، گھر کے ملازمین سے پوچھ گچھ کی تھی، لیکن سراغ نہیں ملا۔ انہوں نے بتایا کہ ہمارے بستر پر جو بیڈ کور بچھا ہوا تھا، وہ بھی نہیں ہے۔
قیمتی یادیں اور امانتیں غائب
افسوس ہوا، اس لئے کہ سوٹ کیس میں نہ صرف ہماری بیگم کے جہیز اور بری کے کپڑے اور سونے چاندی کے زیورات کے سیٹس تھے، بلکہ کراچی سے خریدے ہوئے تحائف بھی تھے۔ اسی میں کچھ امانتیں بھی تھیں، جو کراچی سے کسی عزیز نے اپنے کسی عزیز کو راول پنڈی میں دینے کے لئے دی تھیں۔ میری چونکہ تعطیلات ختم ہونے والی تھیں، لہٰذا! میں اگلے روز بذریعہ ریل کار، راول پنڈی چلا گیا اور تنویر اور بیٹا رضوان لاہور میں مزید کچھ دن رہنے کے بعد بھائی جان اور بھابی جان کے ہمراہ راول پنڈی بذریعہ کار آگئے تھے۔
پنڈی روانگی اور ایک حیرت انگیز انکشاف
پنڈی پہنچ کر بیگم نے چوری کے سلسلے میں دلچسپ واقعہ سنایا۔ اس دن ہمارا چھوٹا بھتیجا واصف اپنے دوستوں کے ساتھ کرکٹ کھیل کر گھر واپس آ رہا تھا۔ راستے میں گھر کے قریب اس نے ایک دبلا پتلا اور لمبا سا آدمی دیکھا، جس نے شیروانی، سیدھا پاجامہ اور جناح کیپ پہنی ہوئی تھی۔ اس کا سانولا رنگ، لمبا منہ اور ادھیڑ عمر تھا۔ اس کے پاس سائیکل تھی، لیکن وہ سائیکل پر سوار نہیں تھا۔
چور کا حلیہ اور معصومانہ شک
اس نے بتایا کہ وہ یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ سائیکل کے ہینڈل پر جو چادر تہہ کرکے ڈالی ہوئی تھی، وہ ویسی ہی تھی، جیسی ہمارے بستر پر بچھی ہوئی تھی۔ بھتیجے نے سوچا کہ ہو سکتا ہے کہ اس آدمی نے بھی ویسی ہی چادر خریدی ہو، جیسی ہماری امّی نے خریدی ہے۔ اس نے مزید بتایا کہ جب وہ تھوڑا سا اور آگے بڑھا اور اس کے قریب سے گزرا، تو یہ دیکھ کر حیران ہوا کہ اس نے سائیکل کے کیرئیر پر جو سوٹ کیس رکھا ہوا تھا، وہ ویسا ہی تھا، جیسا چچی کا ہے (ہماری بیگم کا)۔ اس نے کیرئر پر سوٹ کیس کو کھڑا کر کے رکھا ہوا تھا۔
افسوسناک انجام اور پچھتاوا
یہی سوچتے سوچتے وہ گھر پہنچ گیا۔ جب گھر پہنچا، تو پتہ چلا کہ چچی کا سوٹ کیس غائب ہے اور پلنگ پر سے چادر بھی۔ یہ سنتے ہی بھابی جان نے نوکروں کو باہر کی طرف دوڑایا۔ لیکن اس کا کہیں نام و نشان نہ ملا، کیونکہ دیر بہت ہو چکی تھی۔





