!ہوتا ہے جادہ پیما، پھر کارواں ہمارا
کئی برسوں سے، مستقل مزاجی اور خلوص کے ساتھ، ہم نے ذکر کتاب کا پیغام فیس بک اور یوٹیوب کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی۔ ذکر کتاب کے یو ٹیوب چینل کی ابتدا 25 فروری 2019 کو معروف ادیب کالم نگار اور شاعر احمد حاطب صدیقی کی زبانی ان کی ایک یتیم بچے کی خودداری کے بارے میں خوبصورت نظم “تھال حلوے سے بھرا ” سے ہوئی تھی
یہ ایک ایسا سفر تھا جو دل کی آواز سے شروع ہوا، اور آج الحمدللہ، *23 مارچ 2026* سے یہ سفر ایک نئی منزل کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہماری ویب سائٹ *ZIKREKITAB.COM* لانچ ہو رہی ہے۔
یہ محض ایک ویب سائٹ نہیں، بلکہ ایک ایسا فورم ہے جہاں ہم اپنے بیانیے کو آزادانہ اور واضح انداز میں آگے بڑھا سکیں گے۔
سوشل میڈیا کی حدود اور حقیقت
ابتدا میں خیال تھا کہ فیس بک اور یوٹیوب جیسے پلیٹ فارمز پر سبسکرائبرز اور فالوورز بڑھا کر، لاکھوں لوگوں تک رسائی ممکن ہے۔ مگر برسوں کے تجربے نے یہ سکھایا کہ یہ راستہ اتنا سادہ نہیں۔
یہ پلیٹ فارمز صرف تب آپ کی آواز کو آگے بڑھاتے ہیں جب:
– یا تو اشتہارات کے لیے ڈالر خرچ کریں،
– یا پھر چٹپٹا، سنسنی خیز مواد بنائیں جو خود بخود وائرل ہو جائے۔
– یا پھر پروڈکشن کوالٹی بہت عمدہ ہو
ورنہ الگورتھم آپ کی پوسٹ کو نہ سرچ انجن میں دکھاتا ہے، نہ ہی آپ کے بیشتر فالوورز تک نوٹیفیکیشن پہنچنے دیتا ہے۔ ہاں، کبھی کبھار شاباشی ضرور دیتا ہے کہ “یہ پوسٹ اچھی جا رہی ہے، مزید ڈالر خرچ کرو تو مزید لوگوں تک پہنچا دوں”۔
پاکستان میں تقریباً 5 سے 6 کروڑ فعال یوٹیوب صارفین ہیں، جبکہ فیس بک پر 10 کروڑ کے قریب اکاؤنٹس ہیں جن میں سے ایک بڑی تعداد فعال ہے۔ دنیا بھر میں فیس بک کے 3 ارب سے زائد ماہانہ فعال صارفین ہیں، جو روزانہ کروڑوں پوسٹس اور تصاویر شیئر کرتے ہیں۔ یوٹیوب پر ہر منٹ میں 500 گھنٹے سے زائد ویڈیو مواد اپ لوڈ ہوتا ہے۔ یعنی ایک دن میں لاکھوں گھنٹے کی ویڈیوز۔ اگر کوئی شخص یہ سب دیکھنا چاہے تو اسے ہزاروں سال درکار ہوں گے۔
ایسی صورتحال میں آپ کی آواز کہاں سنائی دیتی ہے؟
پروڈکشن کی لاگت اور شوقیہ جذبہ
اچھی کوالٹی کی ویڈیو بنانا بھی آسان نہیں۔ ایک پیشہ ورانہ پوڈکاسٹ یا انٹرویو کے لیے ساؤنڈ پروف سٹوڈیو، کیمرے، لائٹنگ، ایڈیٹنگ اور اسکرپٹنگ پر لاکھوں روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ کراچی سے لاہور جانے کے لیے جہاز خریدنے جیسا معاملہ۔
تھرڈ پارٹی سٹوڈیو میں دو گھنٹے کی ریکارڈنگ کے 12,000 سے 30.000 روپے تک چارجز عام ہیں جس کی وجہ ان کے پاس مہنگے کیمرے ایکوپمنٹ اور ٹیکنیکل اسٹاف ہےب۔ جب آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو یہ اخراجات برداشت کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
لوگ اکثر سمجھتے ہیں کہ یوٹیوب سے بہت کمائی ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یوٹیوب خود اشتہارات لگاتا ہے اور اس کی کمائی رکھتا ہے۔ ہم نے چینل مونیٹائز نہیں کیا اور نہ ہی کرنے کا ارادہ ہے۔ ویڈیوز صرف اس لیے یوٹیوب پر رکھی جاتی ہیں کہ یہ واحد جگہ ہے جہاں اتنا بڑا ڈیٹا مفت رکھا جا سکتا ہے اور لوگ تلاش کر کے دیکھ سکتے ہیں۔
واٹس ایپ گروپس کا سہارا بھی لیا، مگر وہاں بھی پوسٹس کی بھرمار میں اچھا مواد بھی گم ہو جاتا ہے۔
شوقیہ سے شروع، اب ایک نئی راہ
مگر آج کل ریلز اور شارٹس کی بھرمار نے توجہ چند منٹوں تک محدود کر دی ہے۔ لوگ لمبی ویڈیوز کم دیکھتے ہیں۔
ZIKREKITAB.COM — ایک نیا آغاز
اب وقت تھا کہ ہم ایک الگ، آزاد جگہ بنائیں جہاں ہم خیال لوگ اپنے خیالات، ویڈیوز اور بلاگز کے ذریعے آگے بڑھ سکیں۔
کوشش ہے کہ ذکر کردار کی ٹیم کا کردار صرف سہولت کاری کا ہو۔ مہمان اور میزبان کوئی اور ہوں، ذکر کتاب صرف سہولت فراہم کرے ۔ جیسے حال ہی میں ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر صاحبہ کا انٹرویو، جو پروفیسر شفیق سہیل نے لیا اور ذکر کتاب کا کردار پسِ پردہ سہولت کار کا تھا
اس ویب سایٹ کا سب سے بڑا مقصد کتاب زندگی کے حوالے سے اب تک آنے والے تین درجن سے زائد معروف ادیبوں شاعروں دانشور ہوں سابق طالب علم رہنما سینیر بنکروں اور کارپوریٹ قائدین کے انٹرویوز کو ترتیب سے ایک جگہہ محفوظ کرنا ہے تاکہ جب کوئی چاہے تو سہولت سے ساری قسطیں دیکھ لے
*یہ ویب سائٹ ابھی ابتدائی شکل میں ہے*۔ وقت اور تجربے کے ساتھ بہتر ہوتی جائے گی۔ اپ کے مشوروں کا انتظار رہے گا
اگر آپ ذکر کتاب کے اس سفر کا حصہ بننا چاہیں، اپنے خیالات شیئر کرنا چاہیں، یا سہولت کاری میں مدد کرنا چاہیں تو ضرور اس سفر میں شامل ہوں
ہمیں اپ کی تجاویز اور قیمتی مشوروں کا انتظار رہے گا جسے اپ واٹس ایپ نمبر 03028223238 پر یا ہمارے جی میل ایڈریس askzikrekitab@gmail.com پر بھیج سکتے ہیں
یہ کارواں جاری رہے گا، ان شاء اللہ



