کثیرالمنزلہ عمارت میں ریستوران کے مطبخ اور عوامی تحفظ کا سوال
آج کل ہر کوئی مہنگائی سے پریشان ہے کیونکہ ہر چیز بہت مہنگی ہے لیکن اگر آپ کو یہ بتایا جائے کہ ایک چیز اس ملک میں بہت ہی ارزاں ہے اور وہ ہر گذرتے دن کے ساتھ مزید سستی ہوتی جارہی ہے تو شاَید آپ کو یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کیونکہ وہ چیز اس ملک کے عوام کی جان ہے کہ جس کی کسی کی نظر میں کوئی وقعت نہیں ہے۔
خود جن کی جان ہے ُان کی اپنی نظر میں بھی اس کی کوئی قدر نہیں اور وہ بھی ُاس کو ہر وقت ہتھیلی پر لئے پھرتے ہے کہ کمبخت جائے تو جان چھوٹے۔ حکومت کے پاس عوام کو سہولتیں دینے اور ُان کی زندگی آسان کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں لیکن اگر حادثے میں مر جائے تو دینے کیلئے دس لاکھ ہے۔
عنوان اور حقیقت کا تضاد: خاموش بموں پر کھڑی عمارات
آپ یقیناً سوچ رہے ہونگے کہ عنوان کچھ اور ہے اور یہاں بات کچھ اور ہورہی ہے۔ اس لئے عنوان پر واپس آتے ہے کہ آج کل کثیر المنزلہ عمارات کی زمینی منزل یا تہہ خانے تجارتی مقاصد کیلئے استعمال ہوتے ہیں اور ان میں قائم اداروں کی غفلت اور لاپرواہی کے نتیجے میں پوری عمارت اور ُاس کے مکین خطرات سے دوچار ہوجاتے ہیں۔ ابھی حال ہی میں شہیدِ ملت روڈ پر ایک بڑے ڈیپارٹمینٹل اسٹور میں آتشزدگی کے نتیجے پوری عمارت خالی کروائی گئی تھی اور عمارت کے مکینوں کی جان اور مال دونوں خطرات سے دوچار ہوگئے تھے
لیکن ایک ایسی جگہ جہاں ہر وقت آگ جلتی رہتی ہے اور وہاں ہر وقت آتشزدگی کا بھی خطرہ رہتا ہے وہ ان کثیرالمنزلہ عمارتوں میں قائم ریستورانوں کے مطبخ ہے اور جہاں بڑے بڑے گیس کے سلینڈر خاموش بم کی طرح پڑے ہوتے ہیں اور خدا معلوم کب اچانک پھٹ پڑے یہ کوئی خیال یا تصواراتی چیز نہیں کیونکہ ایسے حادثے ہمارے ملک میں بےشمار دفعہ ہوچکے ہیں لیکن مجال ہے جو ہم نے ُان سے کوئی سبق لیا ہوں وجہ شاَید یہی ہے کہ ہماری حکومت کی نظر میں ہمارے لوگوں کی جان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔
قوانین کی بھر مار اور عمل درآمد کا المیہ
ایسا نہیں ہے کہ اس حوالے سے ہمارے ملک میں کوئی قوانین نہیں ہیں بلکہ قوانین کی بھرمار ہیں لیکن عمل درآمد صفر بٹا صفر ہے۔ بقول مرحوم رمیز اللہ والا کے کہ کسی بھی معاشرے میں قوانین کی بھرمار ُاس معاشرے کے قانون شکن ہونے کی دلیل ہے قانون پسند ہونے کی بالکل بھی نہیں۔ اس پیمانے پر ہم اگر اپنے معاشرے کو جانچے تو شاَید ہمارے پاس ہر چیز کا قانون موجود یے لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ اس پر عمل درآمد کب اور کن حالات میں ہوتا ہیں۔
ہماری پیاری صوبائی حکومت تو اتنی معصوم ہے کہ باقائدہ اشتہار یا خبر دے کر یہ بتاتی ہے کہ کسی کو بھی ناجائز تجاوئیزات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اب کوئی ُان سے پوچھے کہ کیا آپ پہلے اجازت دیتے تھے یا اس سلسلے میں کیا آپ کو درخواستیں موصول ہوئی ہے کہ آپ نے یہ بیان جاری کرنے کی ضرورت محسوس کی، اب یہ کمبخت ضرورت ہی تو ہے جو یہ سب کام کرواتی ہے اشتہار والا بھی اور اس سے پہلے اور بعد والا بھی، باقی آپ سب سمجھدار ہیں۔
عوامی شکایات اور ‘پائیدار’ حل کا تماشہ
اس تحریر کی تحریک کی وجہ ایک خبر بنی کہ جس میں لکھا تھا شہیدِ ملت اور ٹیپو سلطان پر کچھ عمارتیں جن کی زمینی منزل پر ریستوران بنے ہوئے ہیں اور ُان کے مطبخ ُان عمارتوں کے تہہ خانوں میں ہیں، ُان عمارتوں کے مکینوں نے انتظامیہ سے درخواست کی اِن ریستوران کے مطبخ سے اِن عمارتوں کو خطرات لاحق ہے تو انتظامیہ اس کا قانون کے مطابق کو حل نکالے۔ اب اگر ایمانداری سے دیکھا جائے تو کام پورا ہوا ہے انتظامیہ نے قانون کے مطابق اطلاع نامہ (نوٹس) بھجوایا جس کا اِن ریستوران کے مالکان نے حل نکال لیا، حل کو دیرپا اور پائیدار بنانے کیلئے بانیِ پاکستان کی تصاویر سے بھی مدد لی گئی
(راوی اس پر بالکل خاموش ہے کہ حل قانونی تھا یا قانون سے بالا بالا، راوی کی خاموشی بھی حل کا حصہ معلوم ہوتی ہے) جس کے بعد عمارتوں کے مکین کے علاوہ سب خاموش ہے اور قانون نے تو آنکھوں پر کالی پٹی بھی باندھی ہوئی ہے۔ یہ ساری عمارتیں ایک خاموش ٹائم بم پر کھڑی ہوئی ہیں کسی کو نہیں پتہ کون کب پھٹ جائے۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ جیسے ہم نے پہلے اپنے بچوں کو سی این جی سیلنڈروں والی گاڑیوں میں بٹھایا ہوا تھا اور پتہ نہیں کتنے حادثات کے بعد حکومت کو تبدیلی کا خیال آیا۔
جمہوریت کا انتقام یا اصلاحِ احوال کی ضرورت؟
آخر ہم اور کتنے حادثوں کے بعد سدھرے گے یا حادثات بھی اس سارے کھیل کا حصہ ہے اگر ایسا ہے تو عوام کو ایک دفعہ ہی بتادیا جائے کہ اشرافیہ کی دلچسپی صرف حکومت میں ہے عوام جائے بھاڑ میں، عوام میں حکومت کی دلچسپی صرف محصولات کی حد تک ہیں۔ پچھلے دنوں سماجی ذرائع ابلاغ پر ایک تصویر بہت پھیلائی گئی تھی کہ جس میں ایک شخص پورا پانی میں ڈوبا ہوا تھا صرف ہاتھ باہر تھے اور لکھا تھا کہ “فکر کی کوئی بات نہیں میں خیریت سے ہوں سارے بل اور محصولات ادا کر دیئے ہیں”
۔ واقعی جمہوریت بہترین انتقام ہے جو یہ حکمران ہم سے نسل در نسل لے رہے ہیں۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجئے اور اس کا کوئی سدباب کیجئے۔ اگر یہ ریستوران رکھنے ضروری ہے تو اس کی باقائدہ جانچ پڑتال کا نظام بنائے۔ یہ نظام “مہینہ وصولی” کی حد تک نہ ہوں بلکہ حقیقتاً ایسا ہوں کہ جو اس بات کو یقینی بنائے کہ تمام حفاظتی نظام فعال ہے اور تمام لوگوں کی حفاظت کو یقینی بنایا ہوا ہے۔
مجھے نہیں پتہ یہ تحریر اربابِ اختیار تک پہنچتی بھی یا نہیں ہاں یہ ضرور ہے کہ آج کل سماجی ذرائع ابلاغ مواصلات کا ایک بہت ہی موثر ذریعہ ہے اور اسی پر اعتماد کرتے ہوئے یہ تحریر لکھی ہے اور اللہ سے اچھے نتیجہ کیلئے دعاگو ہوں





