کراچی کے باسیوں کا المیہ: خواجہ میر درد کے شعر سے

کراچی

کراچی کے باسیوں کا المیہ: خواجہ میر درد کے شعر سے کے-الیکٹرک تک

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

 ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

خواجہ میر درد دہلی میں پیدا ہو ہوئے اور سنہ 1785 میں دہلی ہی میں انتقال کر گئے، لیکن اوپر دیئے ہوئے شعر کو پڑھ کر اور دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ وہ پاکستان کے شہری اور کراچی کے رہائشی تھے۔ اب وہ کراچی میں کہاں رہتے تھے؟ نارتھ کراچی، گلستانِ جوہر یا ڈیفنس اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ اب کراچی الیکٹرک (کراچی برقی) کراچی کے تمام باسیوں کو ایک آنکھ سے دیکھتی ہے۔

یہ ویسی ہی ایک آنکھ ہے جیسے اسرائیلی وزیراعظم موشے دایان کی ہوتی تھی لیکن موشے دایان اس ایک آنکھ سے کم از کم اسرائیل کے لوگوں کو پیار سے دیکھتا تھا لیکن کراچی والوں کو یہ سہولت کراچی برقی سے حاصل نہیں ہے بلکہ کراچی برقی کا زور چلے تو وہ کراچی والوں کی آنکھیں ہی نکلوادے تاکہ کوئی ُاس کے بھیجے ہوئے ظالمانہ اور سفاکانہ بل نہ دیکھ سکے بس خاموشی اور بےبسی سے ُان بلوں کی ادائیگی کرتا رہے۔

کراچی برقی کے ظالمانہ بل اور موشے دایان کی ایک آنکھ کا تقابل

ویسے صاحب ایک کراچی برقی کو کیا الزام دے پوری حکومت بشمول اپنے تمام اداروں کے داستان امیر حمزہ کے تیسرے حصے “پراسرار جزیرہ” کی طفیلی مخلوق کی مانند قوم کے کندھوں پر سوار ہیں اور ُاترنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ اس وقت ملک میں افراطِ زر تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے۔

پٹرولیم کی مصنوعات کی قیمتوں کی وجہ سڑک پر گاڑیوں کی تعداد میں کمی واقع ہوگئی ہے اور لوگوں نے ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا اور خوشی غمی میں شرکت کو گاڑیوں میں پیٹرول کی موجودگی سے مشروط کردیا ہے اور بہت سے لوگ ایسا ہوتا اپنی زندگی میں پہلی بار دیکھ رہے ہیں اور اس سے زیادہ برُے وقت کیلئے خود کو تیار کر رہے ہیں۔

پٹرول کی گرانی اور کراچی کی سڑکوں پر ٹریفک کی صورتحال

موجودہ حکومت بار بار لوگوں کو یہ باور کروا رہی ہے کہ مشکل وقت ہے اور لوگوں کو قربانی دینی چاھئے وغیرہ وغیرہ مگر کوئی یہ بات بتانے کو تیار نہیں کہ مشکل وقت آیا کیسے؟ دہایوں سے تو یہی جماعتیں ملک کے اقتدار پر قابض ہے تو پھر ذمدار بھی یہی ہوئی۔ دوسری طرف جب قوم اِن کے، اِن کی اولادوں کے اور اِن کے حواریوں کے اثاثوں کو دیکھتے ہیں تو ان حالات میں بھی ان میں دن دُگنا اور رات چَوگُنا اضافہ ہوا ہے

تو اس سے یہی سمجھ آتا ہے کہ یہ کوئی کام دن میں دو دفعہ اور رات میں چار دفعہ کرتے ہیں جب قوم سوئی ہوئی ہوتی ہے (ویسے قوم تو نجانے کب سے سوئی ہوئی ہے اور اللہ جانے کب ُاٹھے گی یا شائد کبھی بھی نہ ُاٹھے) تو اسی طرح ان کے اثاثاجات میں اضافہ ہوتا ہے اور ریاست فقر کی طرف گامزن رہتی ہے۔

حکومتی اشرافیہ کے اثاثے اور  عوام سے قربانی کا مطالبہ

آپ اللہ کو حاضر و ناظر مان کر اور اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائے کہ ان کے چہروں کو دیکھ کر آپ کو یہ لگتا ہے کہ یہ ہمارے لیے ذرہ برابر بھی پریشان ہے۔ ِان میں سے کچھ تو ضروری اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی اطلاع ایسی مکروہ ہنسی کے ساتھ دیتے ہے گویا ہمارے زخموں پر نمک چھڑک رہے ہوں۔

زخموں پر نمک چھڑکنے سے یاد آیا اور ویسے بھی اس مضمون کا آغاز کراچی برقی سے ہوا تھا تو آج کل کراچی برقی نے شہر میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور یہ سلسلہ رات میں بھی بلا تعطل جاری ہیں۔ رات میں جب شہر کی تمام بازار اور دفاتر بند ہوتے ہیں لوڈشیڈنگ کی منطق خارج از عقل لگتی ہے ماسوائے اس کے کہ اس کا مقصد یہ ہوں کہ کراچی کے شہری رات کو بھی سکون سے نہ رہے تو اور بات ہے۔

کراچی میں رات کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور حکومتی بے حسی

یہ شہر ویسے بھی نفسیاتی امراض کے حامل لوگوں کا شہر ہے جو دن میں روزگار اور پانی ڈھونڈتے ہیں اور اب کراچی برقی کی مہربانی سے رات کو بھی نہ سو سکے گے۔ ویسے تو ہمیں پتہ ہیں کہ غالب کے عہد میں لیکن چونکہ غالب ویسے بھی اپنے وقت سے پہلے کے شاعر تھے شائد اسی لئے ہمارے حالات پر پہلے سے کہہ گئے ہے۔ ہندوستان میں بجلی نہیں آئی تھی لیکن چونکہ غالب ویسے بھی اپنے وقت سے پہلے کے شاعر تھے شائد اسی لئے ہمارے حالات پر پہلے سے کہہ گئے ہے۔

کہوں کس سے میں کہ کیا ہے،شبِ غم بُری بلا ہے

 مجھے کیا بُرا تھا مرنا، اگر ایک بار ہوتا

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

کراچی