کراچی: ایک شہر جو اپنی یادداشت کے ملبے تلے دفن ہو رہا ہے
تحریر : شاہ ولی اللہ جنیدی
شہری شناخت اور اجتماعی یادداشت
شہر صرف آبادیوں کا مجموعہ نہیں ہوتے، وہ تہذیبوں کے آئینے، تاریخ کے امین اور قوموں کی اجتماعی یادداشت کے محافظ ہوتے ہیں۔ ان کی سڑکیں صرف راستے نہیں بلکہ زمانوں کی گواہ ہوتی ہیں، ان کی عمارتیں صرف اینٹ اور پتھر کا ڈھانچہ نہیں بلکہ نسلوں کی محنت، فکر اور ثقافت کا استعارہ ہوتی ہیں۔ جب کوئی شہر اپنی تاریخی شناخت سے محروم ہونے لگے تو درحقیقت وہ اپنی روح کھونے لگتا ہے۔ آج کراچی اسی کربناک مرحلے سے گزر رہا ہے۔
کراچی کا تاریخی سفر اور نوآبادیاتی دور کا طرزِ تعمیر
برصغیر کے ساحلی شہروں میں کراچی کا سفر ایک چھوٹی سی بندرگاہ سے عالمی اہمیت کے تجارتی مرکز تک محض اتفاق نہیں تھا۔ یہ ترقی منظم شہری منصوبہ بندی، اہلِ بصیرت منتظمین، دور اندیش تاجروں، ماہر معماروں اور انسان دوست شخصیات کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھی۔
انہی کوششوں نے کراچی کو وہ عظیم الشان عمارتیں عطا کیں جو آج بھی اس شہر کی تہذیبی شناخت کا سب سے روشن باب ہیں۔ ایمپریس مارکیٹ، فریئر ہال، میری ویدر ٹاور، سندھ ہائی کورٹ، ڈی جے سائنس کالج، کلفٹن ، سولجر بازار ، گارڈن ایسٹ کے قدیم بنگلے اور صدر کی تاریخی عمارتیں صرف نوآبادیاتی دور کی یادگاریں نہیں بلکہ کراچی کے اجتماعی حافظے کی زندہ دستاویزات ہیں۔
ترقی کے نام پر ماضی کا انہدام
افسوس یہ ہے کہ جس شہر نے اپنی شناخت انہی عمارتوں سے حاصل کی، آج وہی شہر ترقی کے نام پر اپنے ماضی کو مٹانے میں مصروف دکھائی دیتا ہے۔ کہیں تاریخی عمارتیں تجارتی مفادات کی بھینٹ چڑھ رہی ہیں، کہیں غیر قانونی تجاوزات نے ان کا حسن نگل لیا ہے، اور کہیں سرکاری غفلت نے انہیں خاموشی سے زوال کے سپرد کر دیا ہے۔ قوانین موجود ہیں، ادارے بھی قائم ہیں، لیکن قانون کی عملداری کمزور اور اداروں کی ترجیحات کہیں اور ہیں۔
محسنینِ کراچی کی تاریخ کا خاموش خاتمہ
اس سے بھی بڑا المیہ صرف عمارتوں کی شکست و ریخت نہیں بلکہ تاریخ کی خاموش تطہیر ہے۔ کراچی کی تعمیر و ترقی میں جن محسنین نے اپنی دولت, علم، انتظامی صلاحیت اور پوری زندگی صرف کی، ان کے نام بھی آہستہ آہستہ شہر کے نقشے سے غائب کیے جا رہے ہیں۔ سڑکوں، عمارتوں اور عوامی مقامات کے نام بدل دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ اجتماعی حافظے میں مداخلت ہے۔ مہذب قومیں اپنے محسنوں کے نام محفوظ رکھتی ہیں، کیونکہ نام صرف تختیوں پر کندہ الفاظ نہیں ہوتے بلکہ تہذیبی تسلسل کی علامت ہوتے ہیں۔
جدیدیت اور تاریخ میں توازن کا فقدان
اصل بحران درحقیقت سوچ کا بحران ہے۔ ہم نے ترقی کو ماضی سے لاتعلقی کا مترادف بنا لیا ہے، حالانکہ دنیا کی مہذب اقوام نے جدیدیت اور تاریخ کے درمیان ایک حسین توازن قائم کیا ہے۔ لندن، پیرس، استنبول، دہلی اور سنگاپور نے اپنے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھتے ہوئے جدید انفراسٹرکچر تعمیر کیا، جبکہ کراچی میں ہر نئی تعمیر کے ساتھ ماضی کا ایک اور باب بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ ترقی نہیں بلکہ شناخت کا تدریجی انہدام ہے۔ ؟
شہروں کی سڑکیں، عمارتیں اور عوامی مقامات محض راستے نہیں ہوتے، بلکہ وہ اپنے اندر تاریخ، تہذیب اور اجتماعی یادداشت کو سموئے ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے کراچی میں سڑکوں اور اداروں کے نام تبدیل کرنے کا ایسا سلسلہ شروع ہو چکا ہے جو اب ایک سنجیدہ روایت کے بجائے ایک غیر ضروری مشق معلوم ہونے لگا ہے۔
پریڈی اسٹریٹ سے شاہراہِ مراکش تک کا سفر
برطانوی دور میں کراچی کے پہلے انگریز کلکٹر کرنل پریڈی سے منسوب پریڈی اسٹریٹ، جو ایم اے جناح روڈ پر تبت سینٹر سے ریگل چوک تک جاتی ہے، کا نام کراچی میونسپل کارپوریشن (ساؤتھ) نے تبدیل کرکے شاہراہِ مراکش رکھ دیا۔ نئی تختیاں بھی نصب کر دی گئیں، تاہم گوگل میپ سمیت متعدد تاریخی ریکارڈز میں آج بھی اس کا پرانا نام موجود ہے، جو اس تبدیلی اور تاریخی شناخت کے درمیان موجود تضاد کی نشاندہی کرتا ہے۔
شخصیات کا احترام اور ناموں کا تضاد
اسی طرح قومی ترانے کے خالق ابوالاثر حفیظ جالندھری کے نام سے منسوب گلستانِ جوہر کی ایک شاہراہ کا نام تبدیل کرکے ممتاز پارلیمنٹرین پروفیسر غفور احمد کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔ بلاشبہ دونوں شخصیات قومی احترام کی مستحق ہیں، لیکن ایک عظیم شخصیت کے نام کو مٹا کر دوسری شخصیت کے نام سے منسوب کرنا کوئی مناسب روایت نہیں۔
دیپ چند اوجھا: ایک عظیم محسن کی خدمات کا مٹتا نشان
اسی نوعیت کی ایک مثال کراچی کے معروف سماجی رہنما دیپ چند اوجھا کی ہے۔ وہ 1908ء میں کراچی میونسپلٹی کے کونسلر منتخب ہوئے، بعدازاں اسکول بورڈ کے چیئرمین اور بمبئی کی قانون ساز کونسل کے رکن بھی رہے۔ 1938ء میں وفات کے وقت، 66 برس کی عمر میں، انہوں نے اپنی جائیداد کا ایک حصہ سکھ رام داس کے زیرِ انتظام ٹرسٹ کے نام وقف کیا تاکہ تپِ دق (ٹی بی) کے مریضوں کی خدمت کی جا سکے۔
اسی وقف کے نتیجے میں اوجھا ٹی بی سینیٹوریم قائم ہوا، جس نے برسوں انسانیت کی خدمت انجام دی۔ افسوس کہ ایسے محسنِ کراچی کے نام سے منسوب لسبیلہ سے گرومندر جانے والی سڑک کا نام تبدیل کرکے ایک انگریزی اخبار بزنس ریکارڈر کے نام پر رکھ دیا گیا۔
ناموں کی بار بار تبدیلی اور فکری بحران
نارتھ کراچی کی مرکزی شاہراہ بھی ناموں کی اس تبدیلی کی داستان سناتی ہے۔ پہلے یہ ملک کے پہلے آئین کے تحت منتخب ہونے والے صدر چوہدری فضل الٰہی کے نام سے منسوب تھی، پھر اسے سابق رکنِ قومی اسمبلی عثمان رمز کے نام سے موسوم کیا گیا، اور اب دوبارہ اس کا نام تبدیل کرکے ڈاکٹر عیسیٰ لیبارٹری کے بانی کے نام کی تختیاں نصب کر دی گئی ہیں۔
سوال یہ نہیں کہ کن شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ کیا ہر نئی شخصیت کو عزت دینے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ پہلے سے موجود تاریخی نام مٹا دیے جائیں؟ دنیا کے مہذب معاشرے اپنی تاریخ کو محفوظ رکھتے ہیں، اسے مٹاتے نہیں۔ نئی شاہراہیں، پارک، عمارتیں اور منصوبے نئی شخصیات کے نام سے منسوب کیے جا سکتے ہیں، مگر شہر کی تاریخی شناخت کو بار بار تبدیل کرنا دراصل اجتماعی حافظے کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔
نئی نسل کی بے خبری اور تعلیمی خلا
مزید تشویش ناک حقیقت یہ ہے کہ ہماری نئی نسل کو اپنے شہر کی تاریخ سے باقاعدہ متعارف ہی نہیں کرایا گیا۔ تعلیمی نصاب، شہری منصوبہ بندی، ذرائع ابلاغ اور سماجی مکالمے میں تاریخی شعور مسلسل نظرانداز ہوتا رہا، جس کے نتیجے میں ایک صدی پرانی عمارت بھی بہت سے لوگوں کی نظر میں محض خستہ حال تعمیر بن کر رہ گئی۔ جب قومیں اپنی تاریخ پڑھنا چھوڑ دیتی ہیں تو پھر وہ اسے بچانا بھی چھوڑ دیتی ہیں۔
بے ہنگم شہری پھیلاؤ بمقابلہ تاریخی ورثہ
کراچی کے مسائل یقیناً صرف تاریخی عمارتوں تک محدود نہیں۔ بڑھتی ہوئی آبادی، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، ٹریفک، ماحولیاتی آلودگی، ناقص بلدیاتی نظام اور منصوبہ بندی کا فقدان بھی سنگین چیلنج ہیں، مگر ان تمام مسائل کے درمیان تاریخی ورثے کا تحفظ بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ شناخت کے بغیر ترقی محض کنکریٹ کا جنگل پیدا کرتی ہے، شہر نہیں۔
وقت کا تقاضا: مشترکہ حکمتِ عملی کی ضرورت
اب بھی وقت ہے کہ حکومت، مقامی بلدیاتی ادارے، ماہرین آثارِ قدیمہ، معمار، جامعات، سول سوسائٹی اور شہری تنظیمیں مشترکہ حکمت عملی اختیار کریں۔ تاریخی عمارتوں کی بحالی کو قومی ترجیح بنایا جائے، ورثے کے تحفظ کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد ہو، شہریوں میں تاریخی شعور بیدار کیا جائے اور ان شخصیات کی خدمات کو دوبارہ اجاگر کیا جائے جنہوں نے کراچی کو عالمی شہر بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔
حرفِ آخر: روحِ شہر کو بچانے کا آخری موقع
کراچی کو صرف نئی شاہراہوں، فلائی اوورز اور بلند عمارتوں کی ضرورت نہیں، بلکہ اپنی گم ہوتی ہوئی یادداشت واپس لانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جب کوئی شہر اپنے معماروں کو فراموش کر دیتا ہے، اپنے محسنوں کے نام مٹا دیتا ہے اور اپنی تاریخی عمارتوں کو گرا دیتا ہے تو وہ صرف اپنا ماضی نہیں کھوتا بلکہ اپنے مستقبل کی بنیاد بھی کمزور کر دیتا ہے۔
اگر آج ہم نے اس شہر کی روح کو بچانے کا فیصلہ نہ کیا تو آنے والی نسلیں کراچی کو صرف ایک بے ہنگم آبادی کے طور پر جانیں گی، اس شہر کی تہذیبی عظمت، تاریخی وقار اور زندہ شناخت سے نہیں۔ اور تاریخ ہمیں ہمیشہ اسی بے حسی کے ساتھ یاد رکھے گی کہ ہم وہ نسل تھے جس نے ایک عظیم شہر کو اینٹوں سے نہیں، بلکہ یادداشت سے محروم ہونے دیا۔




