مادر علمی جامعہ کراچی 1951 سے 2025 تک

رشتہ

مادر علمی جامعہ کراچی 1951 سے 2025 تک

کتاب کا تعارف

“مادر علمی جامعہ کراچی 1951 سے 2025 تک” ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ کی تحقیق و تدوین سے شائع ہونے والی یہ اہم کتاب جامعہ کراچی کے حوالے سے ایک منفرد مقام رکھتی ہے۔

یہ کتاب جو 215 صفحات پر مشتمل ہے اور جنوری 2026 میں شائع کی گئی۔ کتاب کی قیمت 1000 روپے ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

جامعہ

اس کتاب کو جامعہ کراچی کے شعبہ تصنیف و تالیف و ترجمہ نے شائع کیا ہے، جبکہ اس اشاعتی کاوش میں انجمن ترقی نسواں، کراچی اسٹڈیز سوسائٹی، ایسوسی ایشن آف سوشل ورک پروفیشنلز (المنائی کراچی یونیورسٹی) اور شعبہ سماجی بہبود جامعہ کراچی کا علمی اشتراک شامل ہے۔

یہ اشاعت تحقیق، سماجی علوم اور علمی روایت کے فروغ کی جانب اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔


ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ: ایک علمی شخصیت

ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ پاکستان کی ممتاز ماہرِ سماجی علوم، محقق، مصنفہ اور خواتین کے حقوق کی مؤثر و معتبر نمائندہ ہیں۔

وہ پاکستان کی جامعات کی تاریخ میں شعبۂ سماجی بہبود میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی خاتون ہونے کا اعزاز رکھتی ہیں، جبکہ اسی شعبے میں پہلی میریٹوریس پروفیسر بھی ہیں۔

انہوں نے جامعہ کراچی میں تدریس، تحقیق اور انتظامی ذمہ داریوں کے دوران انہوں نے ہزاروں طلبہ کی رہنمائی کی، درجنوں ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز کی علمی تربیت کی، اور خواتین، سماجی بہبود، جینڈر اسٹڈیز اور کراچی اسٹڈیز پر 22 سے زائد اہم کتب تصنیف کیں۔

ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ علمی قیادت، خواتین کی خودمختاری، سماجی انصاف اور تحقیق کے فروغ کے لیے اپنی گراں قدر خدمات کے باعث پاکستان کی ممتاز علمی شخصیات میں ایک منفرد مقام رکھتی ہیں۔


جامعہ کراچی کے قیام کی تاریخی داستان

اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں جامعہ کراچی کی پوری تاریخ کوزے میں دریا کی طرح سمو دی گئی ہے اور لکھا ہے کہ 30 ستمبر 1950 کو جامعہ کے قیام کے لیے دستور ساز اسمبلی میں ایک مسودہ قانون پیش کر دیا گیا۔

یہ مسودہ قانون ڈاکٹر محمود حسین اور ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے تعاون اور کوششوں کا نتیجہ تھا۔

یہ مسودہ 10 اکتوبر 1950 کو اسمبلی میں منظور ہوا جس کے بعد 23 اکتوبر 1950 کو اُس وقت کے گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کی رسمی منظوری کے بعد باقاعدہ ایکٹ بنا اور اس کا نوٹیفکیشن 15 فروری 1951 کو حکومت پاکستان کے گزٹ میں شائع کر دیا گیا۔

جب مسودہ قانون دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا گیا تو کچھ حلقوں نے اس تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اختلاف بھی پیدا کیا۔

جب جامعہ کے قیام کے لیے مالیات کا مرحلہ در پیش آیا تو یہ بھی مشکل ہی سے طے پایا اور وزیر مالیات کسی نہ کسی طرح جامعہ کے لیے بجٹ میں رقم مختص کرنے پر آمادہ ہوئے، جب کہ بعض اراکین اسمبلی اور مسلم لیگ کے سرکردہ رہنماؤں نے پر زور حمایت کی۔

ایک ہندو رکن اسمبلی پروفیسر راج کمار چکرورتی نے اختلاف کرنے والوں کی کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ:

“ہم اس تمنا میں برابر کے شریک ہیں کہ یہ جامعہ قائم ہو، ہم اس میں تعاون کے لیے تیار ہیں اور اس مبارک دن کے متمنی ہیں جب ہماری آئندہ نسل اس درخت کے پھلوں سے مستفیض ہو گی جس کا بیج آج ہم بو رہے ہیں۔”


جامعہ کراچی کی پہلی عمارتیں اور آغازِ تعلیم

جس کے بعد جامعہ کے لیے عمارتوں کے حصول کا مرحلہ تھا۔ یہ مشکل کام تھا، بے سر و سامانی کے عالم میں کسی نئی جگہ پر جامعہ کے لیے عمارات تعمیر کرنا مشکل بھی تھا اور وقت بھی زیادہ لگتا۔

اس کا حل یہ نکالا گیا کہ شہر کے ایک قدیم علاقے رنچھوڑ لائن میں 7 عمارتوں کا انتخاب کیا گیا۔

یہ قدیم طرز کی عمارتیں بہت بہتر حالت میں نہ تھیں اور کئی عمارتوں میں مہاجرین آباد تھے۔

عمارتیں حاصل کر کے ان کی صفائی کی گئی، مرمت اور تزئین کا کام آئندہ کے لیے رکھ چھوڑا گیا اور عزم و ہمت کے بل بوتے پر 20 جون 1951 کو کلاسوں کا آغاز کر دیا گیا۔

جس میں ابتدا میں 13 استاد اور 51 طالب علم تھے۔


جامعہ کراچی کے مستقل کیمپس کی تلاش

پھر ایک بڑا مشکل مرحلہ تھا جامعہ کے لیے اپنی زمین لے کر اس پر اپنی بلڈنگیں بنانے کا۔ اس کے بارے میں اس کتاب میں اختر حسین رائے پوری صاحب کا ایک مضمون شامل ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:

جامعہ کراچی کے قیام کے لیے پارلیمنٹ نے قانون منظور کر لیا۔۔۔ سب سے پہلے زمین کی تلاش شروع ہوئی۔۔۔ جامعہ کو ایک وسیع قطعہ اراضی کی ضرورت تھی۔

کراچی کے چیف کمشنر اے ٹی نقوی صاحب تھے۔

میں نے اُن سے بات کی تو وہ نقشہ کراچی کا دیکھ کر کہنے لگے، 1400 ایکڑ زمین تو مل جائے گی مگر شہر سے دور ہو گی۔۔۔

ایک دن مجھے اپنی موٹر میں بٹھا کر اسی طرف لے چلے جہاں اب جامعہ کراچی واقع ہے۔ یہ غالباً 1952 کا ذکر ہے۔

جیل پر جا کر آبادی ختم ہو گئی اور جب ہم وہاں سے داہنی طرف مڑے تو یک ہو کا عالم تھا۔ ایک لق دق صحرا جہاں آدمی نہ آدم زاد۔

نقوی صاحب موٹر چلاتے ہوئے دور تک چلے گئے۔ آٹھ دس میل تک، اور میں بہت پریشان ہو گیا۔

میں نے کہا نقوی صاحب ہم کہاں آگئے؟

جب وہاں ٹھہرے تو کہنے لگے:

“بھئی یہ آگئے۔۔۔”

چھڑی انہوں نے ہوا میں گھمائی اور دائرہ بنایا، کہنے لگے:

“یہ 1400 ایکڑ زمین جامعہ کو مل سکتی ہے۔”

وہ کہنے لگے:

“ابھی جامعہ بنتے بنتے اور عمارتوں کی تعمیر میں بہت وقت لگے گا اور تب تک شہر بڑھتے بڑھتے جامعہ کے قریب آجائے گا اور ایک دن وہ آئے گا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جامعہ کو شہر گھیر لے۔”


جامعہ کراچی کے وائس چانسلرز کی مکمل تاریخ

اس کتاب میں آپ کو 23 جون 1951 کو مقرر ہونے والے پہلے شیخ الجامعہ سے لے کر 16 مئی 2019 کو مقرر ہونے والے بیسویں شیخ الجامعہ سب کا مکمل تعارف بمعہ رنگین تصاویر کے مل جائے گا۔

ان میں شامل ہیں

پروفیسر اے بی اے حلیم،
پروفیسر بشیر احمد ہاشمی،
پروفیسر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی،
ڈاکٹر محمود حسین،
پروفیسر ڈاکٹر سلیم الزماں صدیقی،
پروفیسر ڈاکٹر احسان رشید،
پروفیسر ڈاکٹر سید معصوم علی ترمذی،
ڈاکٹر جمیل جالبی،
پروفیسر ڈاکٹر منظور الدین احمد،
ڈاکٹر سید ارتفاق علی،
پروفیسر ڈاکٹر عبدالوہاب،
پروفیسر ڈاکٹر حفیظ احمد پاشا،
ڈاکٹر ظفر ایچ زیدی،
پروفیسر ڈاکٹر ظفر سعید سیفی،
پروفیسر ڈاکٹر پیر زادہ قاسم رضا،
پروفیسر ڈاکٹر محمد قیصر،
پروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان،
پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی۔


جامعہ کراچی: یادوں کے دریچے سے

محترم نسرین اسلم شاہ کی مرتب کردہ کتاب “مادرِ علمی جامعہ کراچی” میں شامل یہ یادیں نہ صرف جامعہ کے ماضی کی عکاس ہیں بلکہ ان میں طالب علمی کے دور کی وہ بے ساختہ چاشنی موجود ہے جو ہر قاری کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیر دیتی ہے۔

جامعہ کراچی کا ماضی صرف تعلیمی سرگرمیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ ان رنگا رنگ یادوں کا مجموعہ ہے جن میں شرارتیں، ہنگامے اور دوستیوں کے ان مٹ نقوش ثبت ہیں۔

 


ہاسٹل زندگی اور دلچسپ واقعات

اس دور کی یادیں تازہ کرتے ہوئے ڈاکٹر رفیع شیخ لکھتے ہیں کہ امتحانات کے دنوں میں ہاسٹل کی رونق دیدنی ہوتی تھی۔

وہ ہاسٹل کے ڈائننگ ہال کے قصے سناتے ہوئے کہتے ہیں کہ طلباء کا طنز و مزاح اتنا شگفتہ ہوتا تھا کہ میز پر پیش کردہ مسور کی پتلی دال کو دیکھ کر بیرے سے یہ مطالبہ کر دیا جاتا کہ:

“دال کے ساتھ چائے کی چھلنی کیوں نہیں لائے؟”

تاکہ ٹھوس اجزاء کو مائع سے الگ کیا جا سکے۔


جامعہ

طلبہ کی شرارتیں اور یادگار قصے

راشدہ نثار کے نزدیک جامعہ کا دور ایک سنہری عہد تھا۔

وہ اپنی شرارتی ٹولی کا ذکر کرتے ہوئے بتاتی ہیں کہ وہ طالب علمی کے دور میں کس طرح اپنی سادگی اور سفید پوشی کی آڑ میں بڑے بڑوں کے خاکے اڑایا کرتے تھے۔

ان کا ایک ساتھی ایم اے کے بعد استاد بن کر رعب جمانے لگا تو انہوں نے افواہ پھیلا دی کہ:

“موصوف کی ایک آنکھ پتھر کی ہے۔”


سال 1954 کا پہلا واک آؤٹ

صبیح محسن ہمیں ان دنوں میں لے جاتے ہیں جب کراچی میں واک آؤٹ کی روایت کا آغاز ہوا۔

سال 1954 میں جب بی ایس سی کے طلباء نے مشکل پرچے پر احتجاجاً واک آؤٹ کیا تو دوبارہ پرچہ آسان آیا۔

مگر اگلے سال جب یہی حربہ آزمایا گیا تو شیخ الجامعہ اے بی اے حلیم نے سب کو فیل قرار دے دیا۔


جامعہ کا سفر: جوئے شیر لانے کے مترادف

حمزہ فاروقی لکھتے ہیں کہ اس زمانے میں شہر سے جامعہ تک کا سفر جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

کھٹارا بسوں میں طلباء کے 3 طبقات ہوا کرتے تھے:

شستوں پر براجمان مراعات یافتگان

راہداری میں کھڑے ایستادگان

پائیدان پر لٹکنے والے افتادگان


ڈاکٹر پیرزادہ قاسم کا حیرت انگیز واقعہ

اس کتاب میں شامل ایک بہت خوبصورت اور قدرے طویل مضمون ڈاکٹر پیرزادہ قاسم صاحب کا بھی ہے۔

ڈاکٹر صاحب ایک قصہ گو کے انداز میں کراچی یونیورسٹی کا ایک حیرت انگیز قصہ سناتے ہیں۔

جنوری 1965 کی ایک سرد رات، کراچی یونیورسٹی کے کانوکیشن میدان سے گزرتے ہوئے، مجھے ایک دراز قد اور باوقار بزرگ کا ساتھ ملا۔

انہوں نے بتایا کہ 1952 میں شعبہ جات کے قیام کا آغاز ہوا، اور 1953 میں پہلی بار اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات منعقد ہوئے۔

مگر ان کی گفتگو کا سب سے روشن باب 18 جنوری 1960 کی وہ صبح تھی، جب جامعہ کراچی اپنی پرانی عمارتوں سے نکل کر نئے کیمپس میں منتقل ہوئی۔

یہ ایک عام منتقلی نہیں تھی؛ اس قافلے کی قیادت مولانا احتشام الحق تھانوی کر رہے تھے۔

یہ ایک نہایت تقدس مآب منظر تھا جہاں طلباء، اساتذہ اور معززینِ شہر تلاوتِ کلامِ پاک کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔

کانوکیشن میدان میں پہنچ کر جب یہ جلوس رکا، تو وہاں ہزاروں سر ایک بار پھر بارگاہِ ایزدی میں جھک گئے۔

اس موقع پر دعائیں مانگی گئیں کہ اس نئی جامعہ کو علم کا گہوارہ بنایا جائے اور ہمیشہ آباد رکھا جائے۔

جب وہ بزرگ 5 نمبر فیکٹری کے قریب بس سے اترنے لگے تو میں نے نام پوچھا۔

انہوں نے کہا

“روحِ عصر۔۔۔ بس یہی میرا نام ہے۔”

جب وہ اوجھل ہوئے اور ڈرائیور نے حیرت سے کہا کہ

“آپ تو بس میں اکیلے ہی سوار ہوئے تھے۔”

تب مجھ پر عقدہ کھلا کہ وہ کوئی عام انسان نہیں بلکہ اس تاریخی لمحے کی جیتی جاگتی روح تھی جو مجھے ماضی کی یاد دلانے آئی تھی۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

جامعہ