محبت کا جلال اور مہمان نوازی کا لطف
صبح بخیر میرے عزیزو، اللہ پاک کی رحمتیں ہوں آپ سب پر۔
میری ایک بیٹی شاہانہ عتیق اور ان کے شوہر عتیق کا محبت سے کھلایا گیا کھانا، کیا ہوشربا کھانا تھا! کیا لذت تھی، کیا خوشبو اور کیا سلیقہ تھا۔ پھر عتیق بیٹے نے خود بھگارے بینگن پکائے تھے، پامپلیٹ مچھلی ان کی باورچی خانے کی منتظمہ نے تلی تھی۔ عتیق خود کانٹے نکال کے گوشت میری پلیٹ میں ڈالتے رہے، شاہانہ نے مرغ بریانی بنائی تھی اور بہو نے سلاد اور دہی کا بہترین کچھ بنایا تھا (مجھے اس کا نام نہیں آتا)۔
سب نے اتنی محبت سے کھلایا کہ ہم بھی کھاتے چلے گئے، نہ اپنی عمر کو خاطر میں لائے اور نہ ہی آگے کا سوچا۔ پھر انہوں نے کھانا بھی میرے ساتھ پیک کیا، مجھے گاڑی میں بٹھا کر بلایا بھی تھا اور واپس گھر بھی بھجوایا۔
ایک بات بتا دوں، عتیق میاں کا کچھ عرصہ پہلے ہی دل کھولا گیا ہے، یعنی بائی پاس ہوا ہے۔ مگر ان جیسا اخلاق، مہمان نوازی اور اخلاص اس دور میں نایاب ہے۔ میں واقعی خوش قسمت ہوں۔
جب شکم صاحب نے ہنگامہ برپا کیا
تو جناب! گھر آکر ہمارے شکم صاحب نے وہ ہنگامہ کیا کہ کچھ نہ پوچھیں؛ بادلوں کی طرح گڑگڑاہٹ اور طیش اتنا کہ توبہ ہی بھلی۔ واش روم کے اتنے چکر لگوائے کہ جب تک کھایا پیا سب صاف نہ ہو گیا، معافی نہ ملی۔
پھر بدن کوئی پیچھے رہنے والا تھا؟ وہ بھی غصے سے آگ بگولہ ہو گیا۔ اس نے حکم دیا کہ اب منہ میں رزق نہیں بلکہ تھرمامیٹر آتا جاتا رہے گا۔ غذا کے بجائے گولیاں کھانی ہوں گی اور نمکو والا پانی ہی پینا پڑے گا۔۔ ارے بھئی، مت ماری گئی ہے، کیا کہتے ہیں اس کو جو پانی میں ڈال کر پیا جاتا ہے تاکہ منرلز کی کمی نہ ہو؟ (او آر ایس)۔
تو جناب! یہ مصروفیت رہی۔ سوتے سوتے ہی وقت کٹا۔
طبیعت کی بحالی اور واپسی
طبیعت بحال ہوتے ہی میں نے سب سے پہلے لیموں اور لہسن کا اچار ڈالا۔
اب آپ کی خدمت میں حاضر ہوں۔



