ایک پاسپورٹ، ایک غلطی، اور قبول ہونے والی دعا
برطانیہ سے پاکستان واپسی کا سفر
میں یونائٹڈ بینک کی ملازمت میں جنوری 1978 کو پاکستان سے ٹرانسفر ہوکر برطانیہ آ گیا تھا۔ یہاں پر مختلف عہدوں پر مختلف نوعیت کے فرائض انجام دینے کے سولہ سال بعد میرا واپس پاکستان ٹرانسفر ہو گیا۔ یہ جون 1993 تھا، جب مجھے ٹرانسفر کے احکامات ملے۔
بینک کے مجوزہ قوانین کے مطابق میں نے جولائی سے اکتوبر تک چار ماہ کی چھٹی کی درخواست دی۔ اس دوران میرے سولہ سال پر محیط کام سمٹ نہیں سکے تھے، لہٰذا میں نے دو ماہ کی مزید چھٹی کی درخواست دی، جو بغیر تنخواہ کے منظور ہو گئی۔
دسمبر میں، میں نے پاکستان جانے کا ارادہ کیا۔ سوچا کہ جاتے ہوئے عمرہ کرتا ہوا چلا جاؤں۔ لہٰذا میں نے لندن، جدہ، کراچی کی سیٹیں بک کروا لیں اور جدہ میں اپنے بھتیجے ذہین کو بھی اپنے ارادے سے مطلع کر دیا۔
جدہ ائیرپورٹ پر پہلی الجھن
جب میں جدہ کے ہوائی اڈے پر اترا، تو امیگریشن کی قطار میں میرے آگے ایک صاحب کھڑے تھے اور پیچھے ایک خاتون۔
جب میرے آگے والے صاحب کاؤنٹر سے فارغ ہو کر چلے گئے، تو امیگریشن آفیسر نے مجھے بلایا۔ میں نے اپنا پاسپورٹ اس کے آگے رکھ دیا۔ اس نے پوچھا کہ کیا میں نے لینڈنگ کارڈ پر کیا ہے؟ میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔
جہاز میں لینڈنگ کارڈ تقسیم تو ہوئے تھے، لیکن میں نے اس وجہ سے نہیں بھرا کہ سعودی عرب میں، میں ٹرانزٹ میں تھا اور مجھے یہاں عارضی طور پر ٹھہر کر کراچی جانا تھا۔
اس نے مجھے لینڈنگ کارڈ اور بال پوائنٹ پین دے کر کہا کہ اسے پر کر کے دو، اور پاسپورٹ اپنے پاس رکھ لیا۔
میں ایک سائڈ پر کرسی پر بیٹھ کر لینڈنگ کارڈ پر کرنے لگا۔ میرے پیچھے جو خاتون کھڑی تھیں، وہ کاؤنٹر پر چلی گئیں۔
اس کے فارغ ہونے کے بعد جب میں دوبارہ کاؤنٹر پر گیا، تو اس نے لینڈنگ کارڈ پڑھ کر میرے پاسپورٹ پر اسٹیمپ لگا کر مجھے دے دیا۔
عمرے کی تیاری اور اچانک صدمہ
میں سامان لے کر باہر آیا، تو ذہین میاں موجود تھے۔ انہوں نے بتایا کہ گھر میں اکیلے ہیں کیونکہ ان کے بیوی بچے کراچی گئے ہوئے ہیں۔
وہ مجھے ایک ریسٹورنٹ میں کھانا کھلا کر گھر لے گئے اور آرام کرنے کے لیے کہا کیونکہ اگلی صبح مجھے مکہ مکرمہ عمرے کے لیے جانا تھا۔
میں اگلی صبح اٹھا، فجر کی نماز پڑھی اور احرام باندھ کر بریف کیس میں سے پاسپورٹ نکال کر دیکھا، تو میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔
وہ میرا پاسپورٹ نہیں تھا۔
وہ اس خاتون کا پاسپورٹ تھا، جو قطار میں میرے پیچھے کھڑی تھی۔
پریشانی اور فوری دوڑ دھوپ
میں بھاگتا ہوا ذہین کے کمرے کی طرف گیا اور اسے جگا کر سارا ماجرا سنایا۔ وہ بھی پریشان ہو گیا۔
اس نے کہا:
’’چچا جان! آپ نے کاؤنٹر چھوڑنے سے پہلے اپنا پاسپورٹ کیوں چیک نہیں کیا؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’بیٹے! کاؤنٹر چھوڑنے سے پہلے کون اپنا پاسپورٹ کھول کر چیک کرتا ہے کہ یہ اسی کا پاسپورٹ ہے یا کسی اور کا؟ ظاہر ہے آفیسر نے میرا پاسپورٹ ہی مجھے دیا ہوگا۔‘‘
اس نے کہا:
’’اچھا، کچھ کرتے ہیں۔‘‘
ائیرپورٹ اور ہیڈ آفس کے چکر
اس نے اپنے مینیجر کو فون کیا اور بتایا کہ گھر میں مسئلہ ہو گیا ہے، اس لیے دفتر دیر سے پہنچے گا۔
ہم دونوں بغیر کچھ کھائے پیے ائیرپورٹ پہنچے۔ وہاں ایک آفیسر کو قصہ بتایا۔
اس نے کہا کہ ہمیں ہیڈ آفس جانا ہوگا۔
ہم ہیڈ آفس گئے۔ وہاں حیرت کا اظہار کیا گیا کہ ایسا واقعہ پہلے کبھی پیش نہیں آیا۔
انہوں نے مجھ سے بنیادی معلومات لیں۔
نام۔
تاریخ پیدائش۔
شہریت۔
فلائٹ نمبر۔
ٹرمنل۔
سیٹ نمبر۔
واپسی کی تاریخ۔
پھر کہا کہ مسافروں کی آمد کی فہرست سے اپنے نام کی فوٹو کاپی لا کر دیں۔
عارضی اجازت نامہ
فوٹو کاپی مشین کہیں نہیں ملی۔
آخر ہم اصل فہرست ہی لے کر واپس پہنچے۔
انہوں نے ایک سرٹیفکیٹ تیار کیا، اس پر دستخط کیے، اسٹیمپ لگایا اور کہا:
’’چونکہ آپ کے چچا نے احرام باندھا ہوا ہے اور عمرے کی نیت کر چکے ہیں، اس لیے انہیں عمرہ کرنا ہی ہوگا۔ ہم یہ عارضی اجازت نامہ دے رہے ہیں تاکہ یہ مکہ جا سکیں اور واپس آسکیں۔‘‘
ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر وہ خاتون جلد پاسپورٹ واپس نہ لائیں، تو فلائٹ منسوخ کروا کر انتظار کرنا ہوگا۔
مکہ مکرمہ میں ایک ہی دعا
ذہین نے مجھے ٹیکسی اسٹینڈ پر چھوڑ دیا۔
میں مکہ پہنچا۔
پہلے عمرہ ادا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعا مانگی۔
لیکن عجیب بات یہ تھی کہ میں اپنے اہل خانہ اور دوستوں کی سب دعائیں بھول گیا تھا۔
بس ایک ہی دعا زبان پر تھی۔
’’یا اللہ، میرا پاسپورٹ واپس مل جائے۔‘‘
سعی کے بعد کھانا کھایا، آرام کیا، پھر دوبارہ مسجد الحرام گیا۔
مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں۔
وہاں بھی صرف ایک ہی دعا مانگی۔
پاسپورٹ کی واپسی۔
مدینہ منورہ میں بھی وہی التجا
اگلے روز کوچ کے ذریعے مدینہ منورہ پہنچا۔
ہوٹل میں سامان رکھا۔
مسجد نبوی حاضر ہوا۔
روضہ مبارک کی زیارت کی۔
ریاض الجنہ میں وقت گزارا۔
لیکن یہاں بھی میری زبان پر ایک ہی دعا تھی۔
’’یا اللہ، میرا پاسپورٹ واپس مل جائے۔‘‘
خوشخبری جس نے سب بدل دیا
اگلے روز واپس جدہ آیا۔
ٹیلی فون بوتھ سے ذہین کو فون کیا۔
اس نے خوشخبری سنائی
’’چچا جان! مبارک ہو۔ ہیڈ آفس سے فون آیا تھا۔ وہ خاتون اپنا پاسپورٹ لے گئی ہے اور آپ کا پاسپورٹ چھوڑ گئی ہے۔‘‘
یہ سن کر میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔
میں جذبات سے مغلوب ہو گیا۔
میں نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:
’’اللہ تعالیٰ کا مجھ پر احسان ہے۔ میری پریشانی دور کر دی۔ میں نے مکہ اور مدینہ میں بس یہی ایک دعا مانگی تھی۔‘‘
سکون کا لمحہ
میں فوراً گھر پہنچا۔
ہم دونوں ہیڈ آفس گئے۔
سرٹیفکیٹ واپس کیا۔
اپنا پاسپورٹ وصول کیا۔
میری جان میں جان آئی۔
آفیسر بھی مسکرا رہے تھے۔
وہ اس عجیب واقعے پر ہنس رہے تھے کہ ایک غیر معمولی واقعے کا مثبت انجام اتنی جلدی نکل آیا۔
ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور واپس آگئے۔
گھر آکر میں نے احرام اتارا۔
غسل کیا۔
نماز پڑھی۔
اور دو رکعت نماز شکرانہ ادا کی۔
زندگی کا سیکھا ہوا سبق
اگلے دن میری جدہ سے کراچی کی فلائٹ تھی۔
ذہین مجھے ائیرپورٹ چھوڑنے گیا۔
اس دن کے بعد سے میں نے اپنی زندگی کا ایک اصول بنا لیا ہے۔
ائیرپورٹ پر کاؤنٹر چھوڑنے سے پہلے ہمیشہ اپنا پاسپورٹ کھول کر چیک کرتا ہوں کہ وہ میرا ہی ہے یا کسی اور کا۔
یہی نصیحت میں نے اپنے جاننے والوں کو بھی دی ہے۔
کیونکہ ایک حقیقت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے۔
دودھ کا جلا، چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔




