جوش ملیح آبادی کے پہلے مجموعہ کلام “روح ادب” کی اشاعت کو ایک سوچھ برس مکمل ہو گئے
عقیل عباس جعفرییہ جولائی 1920ء کا واقعہ ہے جب شاعر انقلاب جوش ملیح آبادی کا پہلا مجموعہ کلام ’’روح ادب‘‘ اشاعت کے مرحلے سے گزرا۔
جوش ملیح آبادی: ایک ادبی سفر کا آغاز
جوش ملیح آبادی 5 دسمبر 1894ء کو ملیح آباد میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق یوپی کے ایک جاگیردار گھرانے سے تھا۔ شعر و شاعری ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ ان کے والد نواب بشیر احمد خان، دادا نواب محمد احمد خان اور پردادا نواب فقیر محمد خان گویا سبھی صاحب دیوان شاعر تھے۔ 1903ء میں 9 برس کی عمر میں جوش نے پہلا شعر کہا۔
ابتدا میں عزیز لکھنوی سے اصلاح سخن لی۔ پھر یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اور خود اپنی طبیعت کو رہنما بنایا۔ برصغیر کی اردو شاعری کی روایت کے مطابق پہلے غزل لکھی مگر پھر وحید الدین سلیم کے مشورے پر نظم گوئی کو شعار بنایا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب برصغیر کی شعری فضا پر اقبال اور ٹیگور کے پرچم لہرا رہے تھے۔ جوش نے ان دونوں شاعروں کے اثرات قبول کیے۔ اور صرف 26 برس کی عمر میں اپنا پہلا مجموعہ کلام روح ادب ترتیب دینے میں کامیاب ہوگئے۔
“روح ادب” کی اشاعت اور تاریخی حقائق
جوش اپنی شہرہ آفاق خود نوشت ’’یادوں کی برات‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’میری سب سے پہلی، سترہ تصویروں والی، مصور تصنیف، روح ادب غالباً میتھوڈسٹ پریس، لکھنؤ سے رفیع احمد خان کے مقدمے اور حضرت اکبر (الٰہ آبادی) کی رائے کے ساتھ 1921ء یا 1922ء میں شائع ہوئی اور ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوگئی‘‘۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس مجموعہ کلام کا جو نسخہ ہمارے کتب خانے میں محفوظ ہے اس کے سرورق پر تحریر ہے ’’روح ادب۔ نتیجہ فکر، مصور جذبات، جناب شبیر حسن خان صاحب جوش، رئیس ملیح آباد (لکھنؤ)۔ جولائی 1920‘‘۔ دوسری بات یہ کہ اس مجموعہ کلام میں محمڈن کالج، علی گڑھ اور کیننگ کالج، لکھنؤ کے سابق آفیشنگ پروفیسر، رفیع احمد خان کے مقدمے کے علاوہ صرف اکبر الٰہ آبادی نہیں بلکہ (عبدالحلیم) شرر لکھنوی کی بھی دو صفحات پر مشتمل رائے موجود ہے۔
جوش صاحب کا منفرد اندازِ فروخت
یادوں کی برات میں جوش صاحب نے اس کتاب کے متعلق ایک دلچسپ بات لکھی ہے جس سے ان کی افتاد طبع اور شخصیت کے ابتدائی خطوط بھی اجاگر ہوتے ہیں کہ ’’اس کتاب پر لاگت آئی تھی چار روپے فی جلد اور فروخت کی گئی تھی، تین روپے فی جلد، میں نئی قسم کا تھا بیوپاری‘‘۔ کتاب کے آخری صفحے پر جوش صاحب کے دستخط بھی موجود تھے اور ساتھ ہی یہ سطر بھی ہے: “جس کتاب پر مصنف کے دستخط نہ ہوں وہ مال مسروقہ ہے‘‘۔
جوش ملیح آبادی پر سند کا درجہ رکھنے والے، نامور محقق ڈاکٹر ہلال نقوی نے اپنی کتاب جوش ملیح آبادی، شخصیت اور فن میں لکھا ہے کہ روح ادب کے ہر نسخے کے آخری صفحے پر جوش صاحب کے جو دستخط شائع ہوئے تھے ان میں شبیر حسن خاں بقلم خود لکھا ہوا تھا تاہم راقم کے کتب خانے میں روح ادب کا جو نسخہ موجود ہے اس کے صفحہ آخر پر جوش نے اپنے دستخط انگریزی زبان میں کیے ہیں۔
تصویری جدت اور مجموعے کی انفرادیت
ڈاکٹر ہلال نقوی اپنی اسی کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ روح ادب کو جوش نے مصور تصنیف اس لیے کہا ہے کہ اس میں 17 تصویریں بھی شامل تھیں۔ ان تصویروں کے بارے میں حبیب اللہ رشدی لکھتے ہیں: ’’اس زمانے میں قینچی سگریٹ بڑا مشہور تھا۔ اس سگریٹ کو بنانے والی کمپنی نے ایک جدت یہ کی تھی کہ سگریٹ کی ہر ڈبیہ میں کسی یورپی حسینہ کی تصویر ہوا کرتی تھی۔ اسی طرز پر روح ادب میں مشرقی حسن کے ساتھ تصویریں تھیں‘‘۔
روح ادب: موضوعات اور شعری رجحانات
یادوں کی برات میں جوش نے روح ادب کو اپنے دور تصوف وتقشف کی یادگار قرار دیا ہے۔ اس شعری مجموعے کی انفرادیت یہ بھی تھی کہ اس میں نثر کو بھی بہت اہمیت دی گئی تھی۔ مجموعے کے 97 صفحات پر ان کی نظمیں، غزلیں اور قطعات ہیں اور 56 صفحات نثر سے مخصوص ہیں جن پر ٹیگوریت کی پرچھائیاں دیکھی جاسکتی ہیں اس نثری اظہار پر بھی جوش کا شعری مزاج حاوی ہے۔
اس مجموعہ کلام میں غزلوں اور نظموں کے ساتھ ساتھ چند رباعیاں بھی موجود ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جوش نے اس صنف کو بہت کم عمری سے اپنایا تھا اور ان کی اپنی یہ رائے غلط ثابت ہوتی ہے کہ انھوں نے اپنی عمر کے چالیسویں برس میں رباعی کو اختیار کیا تھا۔ اس مجموعہ کلام میں دنیا کی بے ثباتی سے متعلق ایک نظم بھی موجود ہے جس کے حاشیے میں تحریر ہے کہ یہ بند مصنف کے ایک نوتصنیف مرثیے کے ہیں۔
اس مجموعے میں نفس مطمئنہ کے عنوان سے وہ نظم بھی شامل ہے جس میں حضرت علی کو محور فکر بنایا گیا ہے اور جس میں موت پر غالب آنے کو کردار کی عظمت قرار دیا ہے۔ اس مجموعے کا ایک بہت اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جوش نے اپنے اس پہلے شعری مجموعے میں سب سے پہلے جو شعر درج کیا ہے وہ خود ان کا نہیں غالب کا یہ معروف شعر ہے
“بقدر ذوق نہیں ظرف تنگنائے غزل کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے” اس شعر کے انتخاب سے اندازہ ہوتا ہے کہ جوش ابتدا ہی سے تنگ نائے غزل کی گلیوں سے نکل کر نظم کے وسیع میدانوں کی طرف آنے کے لیے مضطرب تھے۔
نوجوانی کی یادگار اور خود کلامی
جوش نے روح ادب کے دوسرے ایڈیشن میں ’’باز، گلبانگ پریشاں می زنم‘‘ کے عنوان سے جو دیباچہ تحریر کیا تھا اس میں اس کتاب کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’میرے کلام کا یہ سب سے پہلا مجموعہ ہے جو 17 رنگین و سادہ تصویروں کے ساتھ 1920ء میں ملیح آباد سے شائع ہوا تھا یہ میرے ان بیتے ہوئے دنوں کی سادہ اور رنگین یادگار ہے جو اب کبھی واپس نہیں آسکتے۔
اس کتاب میں میرا موسم بہار سانس لے رہا ہے اور میری مسیں بھیگتی ہوئی نوجوانی محو سرور ہے۔ ہرچند کہ دیباچے کی تحریر کے وقت بھی اپنے موسم بہار کے اختتام کو تسلیم نہیں کررہا ہوں لیکن وہ زمانہ ہی کچھ اور تھا۔ عنفوان شباب کی کلی کے چٹکتے وقت خون میں جو چہکا لگانے والی حرارت، جذبات میں جو شدت و شگفتگی موجود ہوتی ہے اور عقل میں ناتجربہ کاری کی بنا پر جو ایک کج روی و خامی پائی جاتی ہے اور ان کے لطیف امتزاج سے نوجوانی کے سر پر جو ایک افسوں بدوش و افسانہ بار گھٹا سی چھائی رہتی ہے
اس کی شرح تو خیر بڑی بات ہے اگر آگے چل کر کوئی اس موسم برق و باراں کے تصور تک کو اپنے دماغ میں اجاگر کرلے تو یہ سمجھیے کہ وہ غیر معمولی انسانوں سے بھی کچھ بڑھا ہوا آدمی ہے۔ اس کتاب میں میرا نو برس کی عمر سے لے کر 1920ء تک کا کلام ہے۔ میں نے نو برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ ’’شعر کہنا شروع کردیا تھا‘‘
یہ بات میں نے خلاف واقعہ اور غلط لکھی کیونکہ یہ کسی انسان کی مجال نہیں کہ وہ خود سے شعر کہے، شعر اصل میں کہا نہیں جاتا وہ تو اپنے کو کہلواتا ہے اس لیے صحیح طرز بیان اختیار کرکے مجھے یہ لکھنا چاہیے کہ نو برس کی عمر سے شعر نے مجھ سے اپنے کو کہلوانا شروع کردیا تھا۔
جب میرے دوسرے ہم سن بچے پتنگ اڑاتے اور گولیاں کھیلتے تھے، اس وقت کسی علیحدہ گوشے میں شعر مجھ سے اپنے کو کہلوایا کرتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ پتنگ اڑانے اور گولیاں وغیرہ کے فن سے میں اب تک ناواقف ہوں‘‘۔
صد سالہ یادگار اور ہماری غفلت
جوش ملیح آبادی کے پہلے مجموعہ کلام روح ادب کا پہلا ایڈیشن جولائی 1920ء میں شائع ہوا تھا، اس ماہ اس اشاعت کو 100 برس مکمل ہوگئے، ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ادب دوست اور جوش شناس اس صد سالہ یادگار کو جوش و خروش سے مناتے مگر شاید کسی کو یاد ہی نہیں کہ اب سے ایک سو چھ برس پہلے اردو ادب اور جوش کی زندگی میں کیا اہم واقعہ پیش آیا تھا۔





