تہذیبی و ثقافتی پس منظر
برصغیر کی تہذیبی روایت میں بعض اشیاء وقت کی گرد سے محفوظ رہتی ہیں۔ وہ اپنی مادی حیثیت سے آگے بڑھ کر اجتماعی حافظے، روحانی وابستگی اور سماجی وقار کی علامت بن جاتی ہیں۔ بتاشا بھی انہی خاموش علامتوں میں سے ہیں۔ چینی کے پگھلے ہوئے قطرے جب ٹھنڈک پا کر شفاف بلور کی صورت اختیار کرتے ہیں تو وہ محض مٹھاس نہیں رہتے بلکہ ایک پورے عہد کی نمائندگی کرنے ہیں۔
چینی کے بلبلے یا بلبلوں کی طرح کے ہونے کی وجہ سے اس کا نام “بتاشا” رکھا گیا ہے۔ بتاشے کا تعلق سلطنتوں سے نہیں، بلکہ ثقافت سے ہے ۔ یہ کسی خاص سلطنت (جیسے مغل یا مراٹھا) کی ایجاد نہیں تھے بلکہ یہ برصغیر کی مقامی ثقافت کا حصہ تھے، جو ہر طبقے اور علاقے میں استعمال ہوتے تھے وہ ایک ایسا عہد تھا جہاں خوشی کا اظہار نمائش سے عاری اور خلوص سے معمور ہوتا تھا۔
خوشی اور غم کی تقریبات میں بتاشوں کی اہمیت
بتاشے عموماً دو ہی صورتوں میں دستیاب ہوتے تھے: چھوٹے، جو بچوں کی ننھی ہتھیلی میں سما جائیں، اور بڑے، جو کسی بھرپور ہتھیلی یا بالوشاہی کے ہم قامت ہوں۔ یہ نذر و نیاز، تبرک، منگنی، ختنہ، ولادت اور دیگر خوشی و غم کی تقریبات کا لازم حصہ تھے۔ مٹھائی کی نسبت کم قیمت ہونے کے باوجود، ان میں سفید پوشی کا وقار اور تہذیبی رکھ رکھاؤ پوری آب و تاب سے موجود رہتا تھا۔
رسمِ نکاح کے بعد آج کی طرح میوہ جات کی تھیلیاں تقسیم نہیں کی جاتیں تھیں۔ اس دور میں بتاشے اور چھوہارے بانٹے جاتے تھے۔ کسی گھر میں بچے کی پیدائش ہو، منگنی طے پائے یا کوئی خوش خبری ملے۔ محلے اور رشتے داروں میں بڑے سائز کے بتاشے بانٹ کر خبر دی جاتی کہ اس گھر میں مسرت نے ڈیرہ ڈال لیا ہے۔
بچپن کی یادیں اور عقیدت کے مراکز
بزرگانِ دین کے مزارات کے باہر بتاشوں کی دکانیں محض کاروباری مراکز نہیں تھیں، وہ عقیدت کے پڑاؤ تھے۔ ہماری بچپن کی یادوں میں جمعرات کا دن آج بھی ایک میٹھی چمک رکھتا ہے۔ بچپن میں اکثر گلی محلوں میں جمعرات کے دن یہ بتاشے بانٹے جاتے تھے.
اچانک محلے کے کسی گھر کی دہلیز پہ خالہ، باجی یا کوئی گھر کا بزرگ بتاشے کی بھری سینی یا تسلا تھامے کھڑا دکھائی دیتا تھا اور بچوں کو آواز دے کر بلاتا تھا اور انھیں بتاشے تقسیم کرتا تھا اور دیکھتے ہی دیکھتے گلی میں ایک معصوم سا ہنگامہ برپا ہو جاتا۔ یہ شور دراصل خوشی کا اعلان ہوتا تھا۔
روزمرہ زندگی میں رچ بس جانے والی مٹھاس
اکثر گھروں میں یہ بتاشے دہی میں ڈال کر بچوں کو کھلائے جاتے، چائے کی پیالی انہی سے میٹھی کی جاتی، اور یوں مٹھاس محض ذائقے تک محدود نہ رہتی بلکہ روزمرہ زندگی میں رچ بس جاتی تھی۔ ٹین کے کنستروں میں محفوظ یہ بتاشے مہینوں تک استعمال ہوتے رہتے، اور ہر بار اپنی موجودگی سے کسی نہ کسی خوشی کی یاد تازہ کر دیتے۔
مذہبی محافل اور تبرک کی روایت
جبکہ میلاد النبی ﷺ کی محفلوں اور مجالس میں بتاشوں کی تقسیم ایک قدیم اور محبت بھری روایت تھی ۔ ان محفلوں میں حضور اکرم ﷺ کی ولادت باسعادت کا ذکر خیر کیا جاتا، نعتیں پڑھی جاتیں اور آخر میں شرکاء میں بتاشے تقسیم کیے جاتے تھے۔ اسی طرح ایام محرم کی مجالس کے اختتام پر بتاشے تبرک کے طور پر تقسیم ہوتے تھے۔
خاص طور پر بچوں میں ان بتاشوں کا بے حد شوق ہوتا اور وہ میلاد اور مجالس کی محفلوں کا شدت سے انتظار کرتے تھے۔ مساجد ومدرسہ میں کسی طالبعلم کا ناظرہ قرآن مجید مکمل ہوتا تو خوشی میں ایک یا دو کلو بتاشے تقسیم کئے جاتے تھے۔
روحانیت اور خلوص کا استعارہ
بچپن میں 11 ربیع الاول کی رات ہمارے گھر کا ماحول ایک خاص روحانی وقار اختیار کر لیا کرتا تھا۔ اس رات خواتین کا میلاد منعقد ہوتا، جس کی فضا درود و سلام کی خوشبو سے معمور رہتی۔ رات بھر نعتوں کی مدہم گونج، ذکر کی روانی اور عقیدت کی خاموش آنچ دلوں کو منور کیے رکھتی۔ یہ محفل آقائے دوجہاں ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے وقت، صبحِ صادق کے قریب، درود و سلام پر ختم ہوتی۔
یوں گویا رات عبادت میں ڈھل کر سحر کی روشنی میں تحلیل ہو جاتی۔ اس میلاد کے اختتام پر بتاشوں کی تقسیم ایک لازمی اور دل کو چھو لینے والی رسم ہوتی۔ والدِ بزرگوار سید شاہ محمد خلیل اللہ جنیدی مرحوم انہیں خاص اہتمام سے نمائش ایم اے جناح روڈ، اور کبھی لیاقت آباد کی مارکیٹ سے خرید کر لاتے۔
شفاف، چمکتے ہوئے بتاشے محض مٹھاس نہیں ہوتے تھے بلکہ اس شبِ مقدس کی برکت، محبت اور خلوص کا استعارہ بن جاتے۔ جب وہ بچوں کے ہاتھوں میں رکھے جاتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے عقیدت کی مٹھاس ہماری یادوں میں گھول دی گئی۔
جدید دور اور دیرپا محبتوں کا فلسفہ
برانڈڈ دوکانوں کی مٹھائی کی نسبت دیر پا محبتوں کی مٹھاس بانٹنے کیلئے بتاشے کا انتخاب نہایت ہی موذوں ہوتا تھا۔ آج کے دور کی برانڈڈ اور مہنگی مٹھائیاں چند دنوں میں اپنی افادیت کھو دیتی ہیں، مگر بتاشے دیرپا محبتوں کی مٹھاس تھے۔ وہ ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ خوشی منانے کے لیے بھاری اخراجات نہیں، بلکہ نیت کی سچائی درکار ہوتی ہے۔
ایک چھوٹا سا میٹھا دانہ بھی دلوں کے فاصلے کم کر سکتا ہے اور مسکراہٹوں کو جنم دے سکتا ہے۔ اگرچہ وقت کے ساتھ محفلوں کے انداز اور تبرک کی صورتیں بدل گئی ہیں، مگر بتاشوں کی یاد آج بھی ہمارے اجتماعی حافظے میں محفوظ ہے۔
یہ یاد ایک ایسے دور کی نمائندہ ہے جو سادہ تھا، خالص تھا اور محبت سے معمور تھا۔ جہاں خوشی بانٹنے کے لیے بس ایک صاف دل اور تھوڑی سی مٹھاس کافی ہوا کرتی تھی۔
ادبی و لسانی پہلو
بتاشے سے منسوب اردو زبان میں کئی دلکش اور بامعنی محاورے پائے جاتے ہیں، جیسے “بتاشے کی طرح گھل جانا” اور “بتاشے کی طرح بیٹھ جانا”۔ یہ محاورے کسی شے کے نہایت سرعت سے زائل ہو جانے، کمزور پڑنے یا بالکل مٹ جانے کے مفہوم میں استعمال ہوتے ہیں۔ عموماً ان کا اطلاق ایسے افراد یا حالات پر کیا جاتا ہے جن کا اثر و رسوخ، دولت یا طاقت اچانک زوال کا شکار ہو جائے۔ چونکہ بتاشا پانی میں پڑتے ہی یا منہ میں رکھتے ہی لمحوں میں تحلیل ہو جاتا ہے، اسی لیے اسے ان چیزوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جو آنِ واحد میں اپنی وقعت، حیثیت اور پہچان کھو بیٹھتی ہے۔
ہندوستان کی معروف مصنفہ مسز برکت رائے گیتا نے بچوں کے لیے نظموں کی ایک خوب صورت کتاب “بچوں کے بتاشے” تصنیف کی ہے یہ کتاب 1942ء میں کندن باغ، بیگم پیٹھ، حیدرآباد دکن سے ادارۂ ادبیاتِ اردو، حیدرآباد دکن کے تعاون سے شائع ہوئی ہے۔ تصنیف بچوں کے ادب میں ایک اہم اضافہ سمجھی جاتی ہے اور اپنے سادہ اسلوب، دل کش موضوعات اور تربیتی پہلوؤں کے باعث خاص اہمیت رکھتی ہے۔
شاعری کے آئینے میں
بقول شاعر: ابصار عبدالعلی
بازار سے آئے ہیں چینی سے بنائے ہیں میٹھے ہیں کرارے ہیں لے لو یہ بتاشے ہیں گنبد سے یہ لگتے ہیں ابلے ہوئے انڈے ہیں جو بیچ سے کاٹے ہیں لے لو یہ بتاشے ہیں رنگ روئی سا ان کا ہے حلوائی نے دھنکا ہے اسکول میں بانٹے ہیں لے لو یہ بتاشے ہیں منہ میں انہیں رکھو تو ان کا مزہ چکھو تو یہ کھیل تماشے ہیں لے لو یہ بتاشے ہیں
بقول شاعر: ٹی این راز
چٹخارے لیا کرتا ہوں اکثر میں غموں سے دنیا ہے یہ چینی کا بتاشا مرے آگے




