ایک استاد کی داستان
بعض شخصیات اپنی زندگی صرف اپنے لیے نہیں بلکہ معاشرے، طلبہ اور آنے والی نسلوں کے لیے وقف کر دیتی ہیں۔ ظہیر بٹ صاحب بھی ایسی ہی بے مثال شخصیات میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی تعلیم، خدمت اور اصول پسندی کے لیے وقف کیے رکھی۔
ایک قابلِ احترام شخصیت سے تعارف
ظہیر بٹ صاحب میرے بھی بہت ہی اچھے اور قابلِ احترام دوستوں میں سے ہیں، اگرچہ مجھ سے کافی سینئر بھی ہیں۔ سب سے بڑا اتفاق یہ رہا کہ ان کے ریٹائرمنٹ کے تقریباً تین سے چار سال بعد میں نے خود اسی اسکول کا چارج بحیثیت ہیڈ ماسٹر سنبھالا اور تقریباً گیارہ سال تک اسی اسکول میں خدمات انجام دیتا رہا۔
بٹ صاحب بڑی ہی ملٹی ڈائنامک شخصیت کے مالک ہیں۔ اپنی ہیڈ ماسٹری کے زمانے میں، میں اکثر اپنی ملازمت کے سلسلے میں ان سے رہنمائی حاصل کرنے کے لیے ملاقات کرتا رہتا تھا۔ وہ واقعی ایسی شخصیت ہیں جن کے بارے میں بے ساختہ یہی کہا جا سکتا ہے
جن سے مل کر زندگی سے پیار ہو جائے وہ لوگ
شاید آپ نے دیکھے نہ ہوں مگر ایسے بھی ہیں۔
اصول پسندی اور بے مثال کردار
ان کی کچھ خصوصیات مجھے آپ کے اندر بھی نظر آتی ہیں، مثلاً کسی اصولی بات پر ڈٹ جانا، پیچھے نہ ہٹنا، دلیل سے بات کرنا اور حق بات پر ثابت قدم رہنا۔ وہ انتہائی ایماندار، دیانت دار اور بے لوث انسان تھے۔ نفع و نقصان کی پروا کیے بغیر اپنے اصولی موقف پر قائم رہنا ان کی بنیادی خصوصیات میں شامل تھا۔
اسکول اور طلبہ سے بے لوث محبت اور اسکولوں میں خدمات
وہ اپنے اسکول اور بچوں سے اس قدر محبت کرتے تھے کہ اسکول کے اوقات کے بعد بھی دیر رات تک اسکول میں بیٹھ کر کام کرتے رہتے تھے۔وہ نہایت سماجی شخصیت کے مالک تھےجب ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں پرائیویٹ اسکول قومیائے گئے تو وہ بھی ایک پرائیویٹ ادارے، غالباً برائٹر گرامر ایلیمنٹری اسکول، سے گورنمنٹ اسکول میں منتقل ہوئے۔
بعد میں یہی ادارہ کراچی ایلیمنٹری گورنمنٹ بوائز اسکول کہلایا، جہاں وہ بحیثیت ہیڈ ماسٹر اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے رہے۔ آج یہی اسکول اس علاقے کا ایک بڑا گورنمنٹ سیکنڈری اسکول بن چکا ہے، جو بلاک این میں ڈگری گرلز کالج اور کمپری ہینسو گرلز ہائر سیکنڈری اسکول کے درمیان واقع ہے۔
طلبہ کے مستقبل کے لیے جرات مندانہ فیصلہ
اس زمانے میں ایلیمنٹری اسکول صرف آٹھویں جماعت تک ہوتے تھے علاقے کے بچوں کی سہولت کے لیے انہوں نے حکومتی اجازت کے بغیر ہی اپنے اسکول میں نویں اور دسویں جماعت کی کلاسیں شروع کر دیں۔ بچوں کے امتحانی فارم غالباً علیمیہ گورنمنٹ اسکول، نارتھ ناظم آباد کے ذریعے رجسٹر کروائے جاتے، لیکن تعلیم اپنے ہی اسکول میں دی جاتی تھی۔
انہوں نے اپنے اساتذہ کو بھی ان کلاسوں کو پڑھانے کا پابند بنایا، حالانکہ یہ ان کی سرکاری ذمہ داری میں شامل نہیں تھا۔یہ ان کی بہترین انتظامی صلاحیت اور عوامی خدمت کا زندہ ثبوت تھا۔
اسکاؤٹنگ اور فنی تعلیم کا فروغ اور تاریخی خدمات
اس دور میں نارتھ ناظم آباد کے ایم بلاک، این بلاک، ایچ بلاک، ضیاء الدین ہسپتال سے کیفے پیالہ اور بفر زون تک کوئی بھی گورنمنٹ سیکنڈری اسکول موجود نہیں تھا۔پرائیویٹ اسکول قومیائے جا چکے تھے اور نئے پرائیویٹ اسکول کھولنے کی اجازت بھی نہیں تھی۔ایسے حالات میں ان کا یہ فیصلہ ہزاروں غریب اور متوسط طبقے کے بچوں کے لیے ایک نعمت ثابت ہوا۔
وہ صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں رہے۔انہوں نے اسکول میں اسکاؤٹنگ کی سرگرمیوں کو بھرپور انداز میں فروغ دیا، کیونکہ وہ اسے بچوں کی کردار سازی کا اہم ذریعہ سمجھتے تھے۔اسی طرح انہوں نے اپنی ذاتی رقم سے مختلف ٹیکنیکل آلات خرید کر اسکول میں فراہم کیے تاکہ بچے میٹرک کے بعد کوئی ہنر سیکھ کر روزگار حاصل کر سکیں۔
یہ تمام سہولیات اس وقت حکومت کی جانب سے دستیاب نہیں تھیں۔
مثالی نظم و نسق اوراساتذہ کے حقوق کی جدوجہد
ان کے اسکول کا انتظام اس قدر مضبوط تھا کہ محکمۂ تعلیم کے افسران بھی ان کے اسکول آنے سے پہلے پوری تیاری کرتے تھے۔ان کی انتظامی صلاحیت سب کے لیے مثال تھی۔جب قومیائے گئے اسکولوں کے اساتذہ کو نہ مناسب گریڈ مل رہے تھے اور نہ ہی بروقت تنخواہیں، تو انہوں نے خاموش رہنے کے بجائے عملی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔
انہوں نے نیشنلائزڈ اسکولوں کے اساتذہ کی ایک تنظیم قائم کی اور اس کے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے۔ڈسٹرکٹ ایجوکیشن افسر، سیکریٹری تعلیم اور وزیرِ تعلیم سمیت اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کرکے اساتذہ کے مسائل کے حل کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔ یہاں تک کہ دوسرے شہروں کے اساتذہ بھی ان سے رہنمائی لینے لگے۔
گھریلو ذمہ داریوں کے باوجود خدمت
اس وقت ان کی اپنی گھریلو ذمہ داریاں بھی بہت زیادہ تھیں۔بچے زیرِ تعلیم تھے اور دیگر مسائل بھی موجود تھے، لیکن انہوں نے کبھی بھی اساتذہ اور طلبہ کے حقوق کے لیے اپنی جدوجہد میں کوتاہی نہیں کی۔ وہ صاف گو انسان تھے۔ جو دل میں ہوتا، وہی زبان پر ہوتا۔ ان کی یہی بے باکی آج بھی اساتذہ برادری میں یاد کی جاتی ہے۔
شریکِ حیات کی جدائی کا صدمہ
اپنی تمام سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ وہ اپنے گھر اور بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی بھرپور توجہ دیتے رہے۔ آج ماشاء اللہ ان کے تمام بچے امریکہ اور یورپ میں کامیاب زندگی گزار رہے ہیں۔ لیکن ریٹائرمنٹ سے کچھ عرصہ پہلے ان کی شریکِ حیات انتقال کر گئیں، جس کا انہیں شدید صدمہ پہنچا۔
وہ اپنی اہلیہ سے بے انتہا محبت کرتے تھے۔ ان کے انتقال کے بعد وہ زیادہ سنجیدہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنی سماجی سرگرمیاں محدود کر دیں۔ تقریباً روزانہ نمازِ عصر کے بعد مغرب تک اپنی اہلیہ کی قبر پر جاتے، وہاں قرآن مجید کی تلاوت کرتے، پھر مغرب اور عشاء کی نماز مسجد میں ادا کرکے گھر واپس آتے۔
چونکہ ان کے تمام بچے بیرونِ ملک تھے، اس لیے وہ زیادہ تر وقت عبادت اور مسجد کی خدمت میں گزارنے لگے۔یہ معمول آج بھی جاری ہے۔ بچوں نے بہت اصرار کے بعد ان کی دوسری شادی کروائی۔ ان کی دوسری اہلیہ بھی ایک پرائیویٹ اسکول کی پرنسپل تھیں اور نہایت اچھی خاتون تھیں۔
لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ چند برس بعد وہ بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئیں اور بٹ صاحب دوبارہ تنہا رہ گئے۔
آج کی مصروفیات
اگرچہ ان کے بچے آج بھی انہیں اپنے ساتھ بیرونِ ملک لے جانا چاہتے ہیں، لیکن وہ مستقل طور پر وہاں رہنا پسند نہیں کرتے۔ اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لیے وہ قلندریہ مسجد کی انتظامی کمیٹی کے رکن ہیں اور اپنا زیادہ تر وقت عبادت، مسجد کی خدمت اوردینی سرگرمیوں میں صرف کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ظہیر بٹ صاحب کی تمام مشکلات کو آسانیوں میں بدل دے، انہیں صحت، سکون اور عافیت والی زندگی عطا فرمائے، دنیا و آخرت میں سرخرو کرے، آمین ثم آمین۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسے بے مثال لوگ اپنی زندگی، اپنا آرام اور اپنا وقت خلقِ خدا کی خدمت میں گزار کر اپنے رب کے حضور سرخرو ہو جاتے ہیں۔




