الوداع قمر بھائی! کرکٹ صحافت کا ایک عہد اپنے اختتام کو پہنچ گیا

کرکٹ صحافت کا ایک عہدِ رفتہ

پاکستان کی اسپورٹس جرنلزم ایک ایسے درخشاں باب سے محروم ہوگئی ہے جس کی روشنی نصف صدی سے زائد عرصے تک نہ صرف پاکستان بلکہ عالمی کرکٹ صحافت کو منور کرتی رہی۔

قمر احمد مرحوم کی وفات محض ایک سینئر صحافی کا انتقال نہیں بلکہ کرکٹ رپورٹنگ، تجزیے اور تاریخ نویسی کے ایک عہد کا اختتام ہے۔ وہ ان خوش نصیب لوگوں میں شامل تھے

جنہوں نے کھیل کو صرف دیکھا نہیں بلکہ اسے جیا، سمجھا اور آنے والی نسلوں تک پوری دیانت داری کے ساتھ منتقل کیا۔

ایک کھلاڑی سے ممتاز تجزیہ نگار تک کا سفر

قمر احمد کا شمار دنیا کے صفِ اول کے ممتاز کرکٹ رائٹرز، مبصرین اور تجزیہ نگاروں میں ہوتا تھا۔ وہ محض قلم کے آدمی نہیں تھے بلکہ عملی میدانِ کرکٹ سے بھی ان کا گہرا تعلق تھا۔

انہوں نے قائداعظم ٹرافی کے سترہ فرسٹ کلاس میچز کھیلے، حیدرآباد کرکٹ ٹیم کی قیادت کی اور کھیل کی باریکیوں کو ایک کھلاڑی کی نظر سے بھی سمجھا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تحریروں اور تجزیوں میں صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ کھیل کی روح بولتی تھی۔

عالمی سطح پر صحافتی خدمات

بطور صحافی ان کی خدمات غیر معمولی اور تاریخ ساز ہیں۔ انہوں نے دنیا بھر میں چار سو سے زائد ٹیسٹ میچز اور چھ سو سے زائد ایک روزہ بین الاقوامی مقابلوں کی رپورٹنگ کی، جبکہ نو آئی سی سی ورلڈ کپ ٹورنامنٹس کو اپنی غیر معمولی صحافتی بصیرت سے محفوظِ تاریخ بنایا۔

کرکٹ صحافت میں اس قدر وسیع تجربہ اور مسلسل عالمی موجودگی بہت کم لوگوں کے حصے میں آئی ہے۔ ان کی رپورٹنگ محض خبروں تک محدود نہیں ہوتی تھی بلکہ وہ کھیل کے پس منظر، کرداروں اور تاریخ کو بھی اپنے منفرد اسلوب میں قارئین کے سامنے رکھتے تھے۔

بین الاقوامی تعلقات اور علمی شخصیت

قمر احمد کو دنیا بھر کے نامور کرکٹرز اور صحافی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ویوین رچرڈز، مائیکل ہولڈنگ، ڈیوڈ گاور، سنیل گاوسکر اور بے شمار بین الاقوامی شخصیات سے ان کے دوستانہ تعلقات تھے۔

یہ تعلقات کسی رسمی تعارف کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی علمی شخصیت، پیشہ ورانہ دیانت اور خوش اخلاقی کا اعتراف تھے۔ وہ جہاں بھی جاتے، پاکستان کی کرکٹ صحافت کے معتبر نمائندے سمجھے جاتے۔

غیر معمولی حافظہ اور نایاب یادداشت

ان کی شخصیت کا ایک اور قابلِ رشک پہلو ان کا غیر معمولی حافظہ تھا۔ ان کے ذاتی کتب خانے میں کرکٹ پر نایاب کتابوں اور تاریخی ریکارڈ کا بیش قیمت ذخیرہ موجود تھا، مگر اس سے بھی زیادہ قیمتی خزانہ ان کے ذہن میں محفوظ وہ یادیں، واقعات اور مشاہدات تھے

جو 89 برس کی عمر میں بھی حیرت انگیز تازگی کے ساتھ ان کی گفتگو کا حصہ بنتے تھے۔ ماضی کے کسی بھی میچ، کھلاڑی یا واقعے کا حوالہ وہ اس طرح دیتے تھے جیسے کل ہی کی بات ہو۔

نئی نسل کے لیے شفقت اور رہنمائی

قمر بھائی کی سب سے بڑی خوبی ان کا انکسار تھا۔ وہ اپنے سے کم عمر صحافیوں سے کبھی فاصلہ نہیں رکھتے تھے۔ نئی نسل کی رہنمائی کرنا، صحافت کے بنیادی اصول سمجھانا، خبر اور تجزیے کا فرق واضح کرنا اور پیشہ ورانہ دیانت کی تلقین کرنا ان کی زندگی کا معمول تھا۔

جب میں اپنی کتاب “کراچی کے نان مسلم کرکٹرز” پر اُن کے تاثرات حاصل کرنے کے لیے قمر احمد بھائی کی خدمت میں پریس کلب حاضر ہوا تو انہوں نے نہایت محبت، شفقت اور خلوص سے میرا استقبال کیا۔

ایک معتبر سند: قمر احمد کی رائے

کتاب کا مطالعہ کرنے کے بعد انہوں نے میرے بارے میں جو رائے قلم بند کی، وہ میرے لیے کسی اعزاز اور سند سے کم نہیں۔ انہوں نے لکھا: “شاہ ولی اللہ جنیدی وہ محقق ہیں جنہوں نے مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے کراچی کے کرکٹرز پر اپنی تحقیق کے سلسلے میں مجھ سے رجوع کیا۔

انہوں نے جو تحریری مواد میرے حوالے کیا، اسے پڑھ کر میں دنگ رہ گیا۔ کراچی کے ماضی اور حال کے کرکٹرز کے حوالے سے میں ہمیشہ خود کو ایک مکمل اور مستند ذریعہ سمجھتا رہا ہوں،

لیکن شاہ ولی اللہ جنیدی کی کراچی کے غیر مسلم کرکٹرز پر مرتب کی جانے والی کتاب دیکھ کر مجھے محسوس ہوا کہ اس میدان میں وہ مجھ سے کئی قدم آگے ہیں۔ اٹھارویں صدی سے لے کر آج تک کراچی کے کرکٹرز پر یہ معلومات سے بھرپور اور حیران کن تحقیق ہے۔

قومی سطح پر قدر شناسی کا تقاضا

افسوس اس بات کا ہے کہ جس شخصیت کو دنیا بھر میں عزت، احترام اور پذیرائی حاصل رہی، اسے اپنے ہی وطن میں وہ مقام نہ مل سکا جس کا وہ حقیقی معنوں میں حق دار تھا۔ یہ ہماری قومی روایت کا ایک افسوسناک پہلو ہے کہ ہم اپنے محسنوں کی قدر اکثر ان کی رخصتی کے بعد کرتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی اور وفاقی حکومت، نیز پاکستان کرکٹ بورڈ، قمر احمد مرحوم کی بے مثال خدمات کا سرکاری سطح پر اعتراف کریں۔ انہیں بعد از وفات ایک اعلیٰ سول اعزاز سے نوازا جائے اور کراچی کے کسی کرکٹ اسٹیڈیم، پریس باکس، میڈیا سینٹر یا کرکٹ اکیڈمی کو ان کے نام سے منسوب کیا جائے۔

اختتامیہ

قمر احمد چلے گئے، مگر ان کا قلم، ان کی دیانت، ان کی شائستگی، ان کی یادداشت اور کرکٹ سے ان کی بے مثال محبت ہمیشہ زندہ رہے گی۔ کرکٹ کی تاریخ لکھی جائے گی تو قمر احمد کا نام احترام، وقار، علم اور پیشہ ورانہ دیانت داری کی علامت کے طور پر ہمیشہ سنہری حروف میں درج رہے گا۔ الوداع قمر بھائی!

قمر