ہمدرد پبلک اسکول کے طالب علم اور کراچی کی صبح کا احوال
ہمدرد پبلک اسکول اور اساتذہ سے محبت کا رشتہ
ہمدرد پبلک اسکول حکیم محمد سعید شہید کا لاڈلا کارنامہ ہے۔ خوش قسمتی سے میرا بھی جسمانی روحانی تعلق اس اسکول اور اساتذہ اور ساتھیوں اور طلباء سے آج تک اسی طرح قائم ہے۔ آپ قارئین یقین کریں کے وہ بچے اب اپنے بچوں کے باپ بن ہیں مگر انکی اپنے اساتذہ سے وہی احترام کا رشتہ بھی اور رابطہ بھی قائم ہے۔
چند مثالیں اس لئے دینا چاہتی ہوں کہ موجودہ دور کے طالب علم بھی انکی پیروی کریں تو نہ صرف اللہ پاک کے سامنے بلکہ اپنے والدین کے لئے بھی فخر کا باعث بنیں گے۔
ایک طالب علم ڈاکٹر کی محبت اور خلوص
میرے دانت اب تو دکھانے کے بھی نہیں رہے۔ خیر جی تکلیف بہت بڑھی تو معلوم کیا کہ کوئ ہمدرد پبلک اسکول کا طالب علم ڈانٹ دکھانے کے بجائے دیکھتا بھی ہے تو معلوم ہوا تین سرجن بھائوں میں سے ایک ڈینٹسٹ سرجن بھی ہے ۔ اطمنان ہوا۔ واہب زیدی کو کو فون کیا تو مارے خوشی کے ہم دونوں کا بہت اچھا حال تھا۔
وقت نہیں دیا اسنے بلکہ مجھ سے پوچھا کہ میڈم آپ کب اور کس وقت آسکتی ہیں۔ مجھے بتا دیں۔ میں پہنچ جاوگیا۔ وہ دوسرے ہسپتال میں کام کرتا ہے اس لئے۔ ہم محبت کا سمندر دل میں لئے انکے کلینک پہنچے تو انکو چشم براہ پایا۔ اس چھوٹے نونہال کو ڈاکٹر کے روپ میں دیکھ کر دل شاد ہو گیا۔
بہت احتیاط اور مہارت سے انہوں نے معانی کیا اور بار بار آنے کا مشورہ دیا۔ فیس میں بہت رکعت بھی کی۔ مجھے تکلیف ہوئ تو اپنا سامان لیکر میرے گھر آگیا۔ اور تکلیف رفع کی۔ دل سے دعایئں نکلیں۔ انکے دوسرے سرجن بھائ کا ذکر خیر ابھی انتظار کریں
صبح نیند سے بیدار ہونے کا طلسماتی ذریعہ
کراچی شہر جہاں اور بہت سی باتوں، روائتوں میں مشہور ہے وہاں اسکو روشنیوں کا شہر بھی کہتے تھے۔ مگر اب یہ شہرت کھو چکا ہے۔ رفتہ رفتہ کراچی پاکستان کے تمام قبیلوں، ذاتوں، زبانوں کا شہر بن گیا ہے۔ کراچی غریب کی ماں ہے۔ ہر صوبے، علاقے کے غریب یہاں آجاتے ہیں اور کراچی ایک ماں کی طرح سب کو آغوش میں سمیٹ لیتا ہے۔
سب سگے بچوں کی طرح پلتے ہیں۔ کوئ پلوں کے نیچے ڈیرے جما لیتے ہیں تو کوئ دور دراز کچی آبادیوں میں رہائش اختیار کر لیتے ہیں۔ چنگچی رکشہ سب کی عام سواری ہے۔ کراچی سب غریبوں امیروں، بھکاریوں، لٹیروں، نشیئیوں، غرض ہر طبقے کا سستا مہنگا گھر ہے۔ کوئ بھوکا نہیں سوتا۔
دوسرے صوبوں سے آئے ہوے بہت آسانی سے ٹھیلا خرید لیتے ہیں۔ اور ٹیکنالوجی کا استعمال بہت خوب کرتے ہیں۔ ایک گاڑی کی بیٹری فل چارج کرکے ٹھیلے پر رکھ لی اور پیدل چلنے کی عادت تو ہوتی ہی ہے
ان کو تعلیم و تربیت، احساس کی قطعی ضرورت نہیں۔ بس مائک پر آواز کروائیے اور پھر جو بھی کچھ بیچنا ہو یا خریدنا ہو تو جناب صبح تیل کنگھی اور ناشتے پانی سے فار غ ہوکر اپنے کوچے سے نکل پڑتے ہیں۔
کراچی کی صبح اور گلی محلوں کا شور
ان کو تو گاوں میں رہنے سے سورج طلوع ہونے سے پہلے ہی اٹھنے کی عادت ہوتی ہی ہے۔ جب کہ کراچی رات بھر جاگتا ہے صبح آنکھ نہیں کھلتی تو یہ بھائ لوگ اپنا ٹھیلا لیکر گلی گلی گھومتے ہیں۔ جو بیچنا ہوتا ہے وہ ریکارڈڈ ہوتا ہے بس وہ چلا دیتے ہیں تو اپنا گلہ بھی نہیں پھاڑنا پڑتا چاروں طرف اور مفت کے نظارےبھی۔
ہاں ان کی صور پھونکتی آواز سے کوئ کتنی بھی گہری نیند میں ہو وہ تڑپ کر آنکھ کھول دیتا ہے۔ کلمہ پڑھنے کے بجائے مغلظات بکتا ہوا کروٹ لیکر پھر سونے کی کوشش کرتا ہے مگر اتنی دیر میں دوسرا پھر تیسرا چنگھاڑتا کان پھاڑتا ٹھیلا لئے آتا ہے اور آتا ہی چلا جاتا ہے۔
جب تک کے بندہ گالیاں بکتا ہوا اپنی فطری ضروریات سے فارغ ہونے بیت الخلاء کوسٹا ہوا آجاتا کیونکہ وہاں نل سے پانی نہیں ہوا نکلتی ہے۔ یہ کان پھاڑ دینے نیز دل کی دھڑکن بند ہو جانے والے صور کی اس کیفیت سے ڈیفنس میں رہنے والے فیضیاب نہیں۔
وہ لوگ اگر مستفید ہونا چاہتے ہیں تو بخوشی ہمارے علاقے میں بس جایئں۔ مگر انکی نہ اتنی ہمت نہ اوقات۔ افسوس کے سوا اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس وڈیو کو دیکھیں اور لطف اندوز ہوں۔ پھر نہ کہئے گا ہمیں کیوں نہیں بتایا۔




