کراچی کے مسائل اور سسر و بہو کے رشتے کی ایک انمول کہانی

کراچی

کراچی کا زوال اور ہماری ذمہ داری

دل تو بچہ ہے، دل تو پاگل ہے۔ چاند استعارہ ہے خوبصورتی کا، محبت کا اور روشنی کا۔ اس لئے ہر بچے، بڑے عورت مرد، سب کو پیارا ہے۔ انسان پر ہی موقوف نہیں چکور بھی اسکی عاشق ہے سمندر کی لہریں بھی چاند کی پورن ماشی کو

اسکے مدہوش کن حسن کے عشق میں اچھل اچھل کر اسکو چھونا، چومنا چاہتی ہیں۔ مگر ناکام ہو کر سمندر کے مد و جزر میں گم ہوجاتی ہیں۔ پھر بچہ بھی اگر چاند کو کھیلنے کے لئے مانگتا ہے مچلتا ہے تو اسکو چندا ماما دور کے، سنا کر بہلا دیا جاتا ہے۔

چاند اور سمندر کی لہریں کراچی کے بے وقوف عوام ہیں۔ بچے کا شعور بیدار نہیں اور لہروں کا دماغ نہیں۔ مگر کراچی کی عوام کم عقل بھی نہیں اور نہ ہی بے بس ہے۔ پھر وہ کراچی کو چاند جیسا دیکھنا کیوں چاہتی ہے؟ ایک زمانہ تھا کراچی کی تو سڑکیں رات کو دھلا کرتی تھیں۔ روشنیوں کا شہر یا عروس البلاد کہلاتا تھا۔ مانا کہ آبادی کم تھی وسائل بھی تھے۔

لیکن اصل وجہ احساس تھا حب الوطنی تھی۔ وطن کو اپنا گھر سمجھتے تھے۔ بھائی چارہ تھا. مختلف قوموں، مذہب رنگ نسل کے لوگ جب بھی تھے۔ مگر سیاست کی غلاظت کی ذہنوں تک رسائی اس شدت سے نہیں پہنچی تھی۔

کراچی اس وقت بھی سب کی ماں تھا۔ محلے والے اپنے محلوں، گلی کوچوں کو صاف رکھتے تھے۔ شام کے وقت بزرگ گھر کے باہر بیٹھ کر بچوں کو کھیلتا دیکھ کر لطف اندوز ہوتے۔ ایک کی خوشی یا غم سب کا سانجھا تھا۔

اب ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ حکومت تو اندھی گونگی بہری ہے۔ اس کی ہوس تو بڑھتی جا رہی ہے۔ وہ تو قاصر ہے۔ مگر ہم؟ ہم؟ ہم ٹوٹی سڑکوں، گہرے گڑھوں میں جاں ہتھیلی پر رکھ کر کیوں سفر کرتے ہیں؟ ہم جلدی میں کیوں رہتے ہیں؟ ٹوٹی سڑک کے بجائے بہتر سڑک پر کیوں نہیں جاتے۔

پھر صاحب حیثیت حضرات مل کر اپنی گلی محلے کی مرمت صفائی کرا دیں۔ حکومت کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟ اپنی گلی تو صاف رکھ سکتے ہیں۔ گلی میں ہوٹل کھل جاتے ہیں۔ وہ زنجیر لگا کر آدھی سڑک گھیر لیتے ہیں۔ مگر سب گونگے بہرے بن گئے۔ کوئی آواز نہیں اٹھاتا۔

لگتا ہے مایوسی اس درجہ بڑھ گئی کہ حواس شل ہوگئے، بس جو سانس آرہا ہے آنے دو جاتا ہے تو جائے۔ کھیلنے کو چاند نہ مانگو کراچی کو سنوارو۔ کراچی والو جاگو خدا کے لئے۔ اپنی مدد آپ کرو ورنہ شاید سانس بھی نہ لے سکیں ہم۔ آٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے۔ پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے

رشتوں کی فطرت اور سسر و بہو کا تعلق

وہ لڑکی کہاں ہے؟ کہتے سنتے چلے آئے ہیں کہ بہو کبھی بیٹی نہیں بن سکتی۔ ڈراموں میں کہانیوں میں اور ارد گرد دیکھا بھی ہے۔ اچھے برے ہر جگہ ہر رشتے میں ہوتے ہیں۔ کوئی خاص یا انہونی بات نہیں ہے۔ میں نے اپنی زندگی میں اب تک ہر رشتے کو مختلف مزاج، انداز اور رویوں میں دیکھا بھی ہے اور پرکھا بھی ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی عجیب بات نہیں۔ معاشرہ بنتا ہی ایسے ہے۔

اور پھر روییوں، اخلاص، اعمال ہی کا تو حساب ہوگا۔ عام عورت ہوتی ہی جذباتی اور بچپن فطرت ہے۔ والدین کی توجہ کسی بیٹی یا بیٹے کی طرف زیادہ ہوجائے تو دوسرا بچہ تنک جاتا ہے۔ چہ جائے کہ بہو۔ نند سے بھی اسی لئے جلپا ہوتا ہے کہ ساس بیٹی کو زیادہ مانتی ہے۔ خیر یہ تو عام بات ہے۔

مستند یہ ہے کہ ہر رشتے میں دوسری صنف میں زیادہ کشش ہوتی ہے۔ ساس کو داماد، بہو سے زیادہ عزیز ہوتا ہے، بھائی کو بھائی سے زیادہ بہن سے محبت ہوتی ہے۔ اسی طرح سسر اور بہو میں زیادہ قربت ہوتی ہے۔ یہ مقناطیسیت قدرتی چیز ہے۔ آج آپ کو ایک ایسے ہی سسر اور بہو کا مخلص اور پاکیزہ قصہ سناؤں گی۔

میں اس بہو کو کئی برس سے جانتی ہوں۔ وہ ایک بزنس لیڈی ہیں۔ خود اپنے ہاتھ سے اعلیٰ معیاری چیزیں نہایت صفائی سے تیار کرتی ہیں۔ صفائی سلیقہ انکی پہچان ہے۔ ان کے کوئی اولاد نہیں ہے مگر ساس کی خدمت بھی ایسے کی کہ وہ کہتی تھیں کہ میری 7 بیٹیاں اور دو بیٹے ہیں مگر میرے پاس صرف تم ہو، میرے 9 بچوں میں سے کوئی میرے پاس نہیں۔

تم نے جس طرح میری خدمت دیکھ بھال کی ہے تو لگتا ہے میں نے تمہیں جنم دیا ہے۔ ساس نے دم بھی ان خاتون کے ہاتھوں میں دیا۔ پھر سسر صاحب بڑھاپے اور بیماری میں ان کے پاس ہی رہتے ہیں۔ بیٹا اور بیٹیاں بہت خدمت کرتی ہیں مگر جو اطمینان سکون اپنی بہو کے رویے سے ملتا ہے وہ کسی سے نہیں ملتا۔

بے لوث خدمت اور انسانیت کی معراج

خاتون نے اپنا بزنس بھی بند کردیا کہ سسر صاحب کی تیمار داری کرنی ہے۔ سسر صاحب عمر کے اس حصے میں ہیں جہاں مشکل سے ہی کوئی پہنچتا ہے۔ لہذا بلکل بچے کی طرح ہو گئے ہیں۔ بہو کو ماں سمجھتے ہیں۔ ہسپتال میں ICU میں بھی بہو چاہئے۔ ہسپتال کا عملہ کہتا کہ ہم سے تو یہ نہیں۔

سنبھلتے۔ میڈم آپ ہی دیکھیں۔ ناک میں نلکی لگانی ہو، یا انجکشن حد یہ ہے کہ پیمپر بھی نرس بدلتا تو آواز دیتے کہ دیکھو یہ ٹھیک کر رہا ہے۔ دن اور رات کے دو لڑکے نرس ہیں۔ مگر بہو کو بلکل چھوٹے بچے کی طرح ہر وقت اپنے پاس دیکھنا چاہتے ہیں۔ جوس، سوپ سب اسی کے ہاتھ سے پینا۔

نظر نہ آئے تو کہتے ہیں وہ لڑکی کہاں گئی، بلاؤ۔ بیچاری قالین پر سوجاتی ہے انکے کمرے میں جب وہ سوتے ہیں ایسی بے لوث خدمت گزار نہ بیٹی ہو سکتی ہے نا بیٹا۔ علاج پر لاکھوں کا خرچہ ہے۔

اب چند پہلے بہو نے اپنا کام دوبارہ شروع کیا ہے۔ اللہ پاک اس خاتون کو اتنا نوازے جتنا اسکی سوچ میں بھی نہ ہو۔ آمین۔ یہ ایسی زندہ مثال ہے جو نہ دیکھی کبھی نہ سنی یا اللہ ہمیں بھی ایسا بے لوث خدمت گزار بنا دے آمین۔

مزے کی بات یہ ہے کہ کسی نے ان صاحبہ سے پوچھا کہ کیا سسر آپکے پاس رہتے ہیں تو بولیں کہ وہ ہم سے بڑے ہیں ہم ان کے پاس رہتے ہیں۔ وہ کیوں ہمارے پاس رہیں گے۔ کیا کسی نے بہو کے منہ سے ایسا جملہ سنا؟

پھر یہ بھی کہتی ہیں کہ رات بھر جائے نماز پر نفل پڑھنے سے بہتر ہے کہ کسی کی تیمارداری کر لی جائے یا تکلیف دور کردی جائے کیونکہ کہتے ہیں، تو مہربانی کر اہل زمین پر، اللہ مہربانی کرے گا آسمان پر۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

کراچی