حقوق العباد، عدل، ظلم اور احسان: ایک فکری جائزہ
حقوق العباد اور ہم
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے۔ اس عبادت سے متعلق فرائض اور ذمہ داریوں کو حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ علما اور مشائخ ہمیں ان فرائض کی تعلیم اور اہمیت سے مسلسل آگاہ کرتے رہتے ہیں، اس لیے آج کی تحریر کا موضوع حقوق اللہ نہیں بلکہ حقوق العباد ہیں۔
حقوق العباد کی اصل روح
انسان چونکہ ایک سماجی مخلوق ہے، اس لیے اس کے باہمی تعلقات کو منظم رکھنے اور معاشرے میں انصاف قائم رکھنے کے لیے کچھ اصول، قوانین اور آداب مقرر کیے گئے ہیں جنہیں حقوق العباد کہا جاتا ہے۔ جب انسان کے اندر کا سماجی شعور کمزور پڑنے لگتا ہے تو اس کی خود غرضی، خواہشات اور حیوانی رجحانات طاقتور ہونے لگتے ہیں۔
یہی رجحانات جب بے لگام ہو جائیں تو ظلم، ناانصافی اور بدامنی جنم لیتی ہے۔ انسان دوسروں کو تو دھوکا دے سکتا ہے، قانون سے بھی بچ سکتا ہے، لیکن اپنے ضمیر کو کبھی دھوکا نہیں دے سکتا۔ وہ بخوبی جانتا ہے کہ اس نے کس کا حق مارا، کہاں انصاف کیا اور کہاں ظلم کیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حقوق العباد کا توازن بگڑ جاتا ہے۔
ایک سادہ مگر جامع نظریہ
اب میں جو نظریہ بیان کرنے جا رہا ہوں، وہ میرا وضع کردہ نہیں بلکہ میرے عزیز دوست عمران اعوان کا ہے، جسے ان کی اجازت سے آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ انہوں نے حقوق العباد، بلکہ بڑی حد تک دینی تعلیمات کا خلاصہ صرف تین الفاظ میں بیان کیا ہے:
عدل، ظلم اور احسان
عدل : جو آپ کا حق ہے اور آپ کو مل جائے۔
ظلم : جو آپ کا حق نہیں، لیکن آپ اسے حاصل کر لیں۔
احسان : جو آپ کا حق نہ ہو، لیکن اس کا اصل حقدار خوش دلی سے آپ کو دے دے۔
بظاہر یہ تین الفاظ بہت سادہ ہیں، لیکن اگر ان پر غور کیا جائے تو انسانی معاشرے کی پوری اخلاقیات انہی کے گرد گھومتی نظر آتی ہے۔
قطار کی ایک سادہ مثال
فرض کریں آپ ایک قطار میں کھڑے ہیں، اگرچہ ہم من حیث القوم قطار بنانے پر کم یقین رکھتے ہیں اور اس پر عمل اس سے بھی کم کرتے ہیں۔
اگر آپ اپنی باری آنے پر خدمت حاصل کرتے ہیں تو یہ عدل ہے، جسے آپ میرٹ بھی کہہ سکتے ہیں۔
اگر آپ تعلقات، طاقت، عہدے یا اثر و رسوخ کے ذریعے قطار میں آگے آ جاتے ہیں تو آپ نے وہ چیز حاصل کی جو آپ کا حق نہیں تھا۔ یہ ظلم ہے۔
اور اگر آپ جلدی میں ہیں اور آپ کا دوست اپنی باری چھوڑ کر آپ کو اپنی جگہ دے دیتا ہے جبکہ خود آخر میں جا کھڑا ہوتا ہے، تو یہ اس کا آپ پر احسان ہے، کیونکہ وہ مقام آپ کا حق نہیں تھا۔
زندگی میں ہر جگہ یہی اصول
اگر ہم چاہیں تو اس فلسفے کو اپنی زندگی کے ہر شعبے پر لاگو کر سکتے ہیں۔ گھر ہو یا دفتر، کاروبار ہو یا تعلیمی ادارہ، عدالت ہو یا بازار، ہر جگہ صرف یہی تین امکانات موجود ہوتے ہیں: عدل، ظلم یا احسان۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مشہور قول ہے: “ریاست کفر کے ساتھ قائم رہ سکتی ہے، لیکن ظلم کے ساتھ نہیں۔”
شاید اس فلسفے کی روشنی میں اس قول کی معنویت مزید واضح ہو جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے کا المیہ
آج ہمارے معاشرے پر نگاہ ڈالیں۔ کہیں حرام کمائی سے حلال گوشت تلاش کیا جا رہا ہے۔ کہیں سفارش میرٹ کو نگل رہی ہے۔ کہیں سڑکوں پر قانون شکنی اور بدتمیزی معمول بن چکی ہے۔ کہیں ناقص تعمیرات عوام کی جان و مال سے کھیل رہی ہیں۔
کہیں طاقتور کمزور کا حق چھین رہا ہے۔
یہ فہرست بہت طویل ہے، حالانکہ یہ سب کچھ اسی اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ہو رہا ہے جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا۔
ایک سوال، جو ہر روز خود سے پوچھنا چاہیے
اللہ تعالیٰ اور فطرت کے قوانین اٹل ہیں۔ ہم وقتی طور پر دوسروں کو دھوکا دے سکتے ہیں، لیکن نہ اپنے ضمیر کو اور نہ ہی اُس ذات کو جو دلوں کے حال جانتی ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ ہم نے کیا حاصل کیا؟
اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے وہ کیسے حاصل کیا؟
اگر عدل کے ذریعے ملا تو یہ کامیابی ہے۔
اگر ظلم کے ذریعے ملا تو یہ وقتی فائدہ مگر دائمی خسارہ ہے۔
اور اگر کسی نے اپنا حق چھوڑ کر ہمیں نوازا ہے تو وہ اس کا احسان ہے، جس کی قدر کرنا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔
اختتامیہ
اگر ہم روزانہ صرف ایک سوال اپنے آپ سے پوچھنا شروع کر دیں: “کیا یہ عدل ہے، ظلم ہے یا احسان؟”
تو شاید ہماری سوچ، ہمارا کردار اور ہمارا معاشرہ بدلنا شروع ہو جائے۔ آخرکار دنیا کی ہر عدالت سے بچنا ممکن ہو سکتا ہے، لیکن اُس عدالت سے نہیں جہاں نہ سفارش چلے گی، نہ طاقت، نہ دولت اور نہ عہدہ؛ وہاں صرف اعمال کا وزن ہوگا، حقوق کا حساب ہوگا اور انصاف کا فیصلہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق اللہ کے ساتھ ساتھ حقوق العباد ادا کرنے، عدل پر قائم رہنے، ظلم سے بچنے اور ایک دوسرے کے ساتھ احسان کا معاملہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)




