سال 2027 کی دہلیز پر عدالت سے سود ختم، مگر کیا قوم ربا چھوڑنے کو تیار ہے؟
یہ ہمارے تعلیمی نظام کا ایک المیہ ہے کہ پاکستان کے اسکولوں میں چھٹی جماعت کے طلبہ کو مرکب سود کا حساب تو سکھا دیا جاتا ہے، مگر اعلیٰ تعلیم، حتیٰ کہ ماسٹرز کی سطح تک پہنچنے کے باوجود انہیں یہ نہیں بتایا جاتا کہ نفع کن اصولوں پر قائم ہوتا ہے
تجارت میں اس کا حقیقی ضابطہ کیا ہے، اور مالی معاملات میں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ افسوس ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ ہماری درسگاہوں میں طلبہ کو قرض اور مالی معاونت کے درمیان فرق نہیں سمجھایا جاتا۔
ربا کیا ہے؟ سود اور نفع میں کیا امتیاز ہے؟ یہ بنیادی سوالات آج بھی علمی بحث سے باہر دکھائی دیتے ہیں۔ معاشیات کو صرف اس محدود تعریف تک مقید کر دیا گیا کہ “انسانی خواہشات لامحدود ہیں جبکہ وسائل محدود ہیں”، مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ وسائل کے حصول اور استعمال میں حلال اور حرام کی تمیز ہی ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔
قدرتی وسائل دراصل اللہ تعالیٰ کی بے شمار نعمتیں ہیں، مگر ان سے فائدہ اٹھانا انسان کی محنت، جستجو اور عقل پر منحصر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ابھی ان وسائل میں سے آٹے میں نمک کے برابر بھی دریافت نہیں کر سکا۔ اللہ تعالیٰ کے خزانے بے حساب ہیں، اور انسان کی کوشش ابھی سمندر میں ایک قطرے کے برابر ہے۔
اسلامی بینکاری اور معاشی نظام کی اصل حقیقت
آج بہت سے لوگ اسلامی بینکاری سے فائدہ اٹھانے کی خواہش تو رکھتے ہیں، مگر اس حقیقت سے ناواقف ہیں کہ اسلامی معیشت محض بنکاری کا نام نہیں بلکہ معاشیات اور مالیاتی نظام اور اس کے اصولوں کے عملی نفاذ کا ایک مکمل نظام ہے۔ معاشیات اور مالیاتی نظام دراصل ایسے اصولوں کا عملی اظہار ہے جو قرض پر نہیں بلکہ صلاحیت، اشیاء، شراکت، جائیداد اور حقیقی اثاثوں پر قائم ہوتے ہیں۔
مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشی شعور میں عواملِ پیداوار کا بنیادی تصور بھی تقریباً ناپید ہو چکا ہے، حالانکہ ایک مضبوط معاشی نظام میں یعنی انسان قوت ہے، سرمایہ ذریعہ ہے، اشیاء ضرورت ہیں اور خدمات عملی استعمال ہیں اور یہی وہ ستون ہیں جن پر ہر مستحکم معیشت قائم ہوتی ہے۔
پاکستان میں بڑی تعداد یہ سمجھتی ہے کہ شاید2027 میں روایتی بینکاری کو اسلامی بینکاری میں تبدیل کر دینے سے سب کچھ بدل جائے گا۔ مگر حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ ربا صرف سود کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا معاشرتی اور معاشی فساد ہے جو انسانی معاملات کے بے شمار پہلوؤں میں سرایت کر چکا ہے۔
جہاں ربا موجود ہو، وہاں انصاف کمزور پڑ جاتا ہے، معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے اور مالی جرائم جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ جب تک ربا کی جڑیں معاشرے، تجارت، قانون اور مالی رویوں سے مکمل طور پر ختم نہیں ہوتیں، اس وقت تک اسلامی معیشت کا حقیقی نفاذ ممکن نہیں۔
کیونکہ پاکستان میں اگر عدل، دیانت اور معاشی استحکام پر مبنی ایک حقیقی اسلامی معاشرہ قائم کرنا ہے تو سب سے پہلے ربا کے ہر روپ کو پہچاننا، اس کے اثرات کو سمجھنا، اور اسے جڑ سے ختم کرنا ہوگا۔ تبھی ایک ایسا معاشرہ وجود میں آئے گا جہاں معاشرتی انصاف، مالی پاکیزگی اور اقتصادی توازن محض نعرے نہیں بلکہ زندہ حقیقت ہوں گے۔
اسلامی معاشی نظام: عدل اور توازن کا ضابطہ
اسلامی معاشی نظام ایسا مکمل ضابطۂ حیات ہے جو انسان، معاشرہ، وسائل اور ذمہ داری کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ اسلام نے معیشت کو صرف مال و دولت تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اخلاق، عدل، امانت اور اجتماعی بھلائی کے ساتھ جوڑا۔
پاکستان میں مکمل اسلامی بینکاری کا قیام صرف بینکوں کے نام یا نظام بدلنے سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے پورے معاشرے کو اللہ کے احکامات، عدل اور سماجی ذمہ داری کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔
اسلامی قانون کسی انسان یا ادارے کا محتاج نہیں؛ یہ اللہ کا ابدی حکم ہے۔ پاکستان میں حقیقی اسلامی معاشی نظام اسی وقت قائم ہوگا جب نظام کے ساتھ سوچ، کردار اور طرزِ زندگی بھی تبدیل ہوگا اور اس نظام کو پاکستان کے معاشی نظام کے طور پر سمجھنا اور قبول کرنا ناگزیر ہے
کیونکہ یہی نظام حقیقی تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔ اسلامی معیشت کے ذریعے عواملِ پیداوار کے چاروں ستون پاکیزگی، عدل اور توازن کے ساتھ استوار ہوں گے۔ یہ چار بنیادی عواملِ پیداوار درج ذیل ہیں:
اول: انسان قوت ہے
اسلامی نقطۂ نظر میں انسان محض ایک مزدور، صارف یا پیداوار کا ذریعہ نہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین پر خلیفہ اور ذمہ دار ہستی ہے۔ انسان ہی وہ قوت ہے جو سوچتا ہے، منصوبہ بناتا ہے، محنت کرتا ہے اور وسائل کو کارآمد بناتا ہے۔ اگر انسان نہ ہو تو نہ سرمایہ معنی رکھتا ہے، نہ اشیاء کی اہمیت باقی رہتی ہے اور نہ خدمات کا کوئی وجود ہوتا ہے۔
قرآنِ کریم انسان کی محنت اور جدوجہد کو بنیادی حیثیت دیتا ہے۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ انسان کی اصل طاقت اس کی جسمانی قوت، ذہنی صلاحیت، اخلاقی کردار اور دیانت داری میں پوشیدہ ہے۔
ایک باکردار، تعلیم یافتہ اور باصلاحیت انسان ہی معاشرے کو ترقی دیتا ہے۔ اسی لیے اسلام علم، ہنر، محنت اور کردار سازی کو بنیادی اہمیت دیتا ہے۔ سماجی معیشت میں انسان کا کردار تین جہتوں میں ظاہر ہوتا ہے، یعنی:
فکری قوت: سوچ، تدبر اور منصوبہ بندی
جسمانی قوت: محنت، پیداوار اور تعمیر
اخلاقی قوت: دیانت، انصاف اور امانت
اگر انسان کی تربیت درست نہ ہو تو سرمایہ بھی فساد پیدا کرتا ہے اور وسائل بھی ظلم کا سبب بن جاتے ہیں۔
دوم: سرمایہ ذریعہ ہے
اسلامی تعلیمات کے مطابق سرمایہ مقصد نہیں بلکہ ایک ذریعہ ہے۔ مال انسان کی خدمت کے لیے ہے، انسان مال کی غلامی کے لیے نہیں۔ جب سرمایہ کو مقصد بنا لیا جائے تو معاشرے میں لالچ، استحصال، سود اور ناانصافی جنم لیتی ہے۔ اسلام مال کو اللہ کی امانت قرار دیتا ہے۔ انسان صرف اس کا نگہبان ہے۔ اس لیے سرمایہ کا استعمال جائز، منصفانہ اور اجتماعی بھلائی کے لیے ہونا چاہیے۔
سرمایہ ان مقاصد کے لیے استعمال ہونا چاہیے یعنی تجارت اور صنعت کے قیام کے لیے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے، ضرورت مندوں کی مدد کے لیے اور معاشرے میں خوشحالی پھیلانے کے لیے۔ اسلام سودی نظام کی حوصلہ شکنی کرتا ہے
کیونکہ سرمایہ کو محنت اور حقیقی تجارت سے جدا کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس اسلام شراکت، مضاربت، مشارکت اور تجارت کو فروغ دیتا ہے تاکہ سرمایہ گردش میں رہے اور دولت چند ہاتھوں میں محدود نہ ہو۔
سوم: اشیاء ضرورت ہیں
اشیاء انسانی زندگی کی بنیادی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ خوراک، لباس، رہائش، تعلیم، علاج اور دیگر ضروریات انسانی زندگی کا حصہ ہیں۔ اسلام اشیاء کی پیداوار، تجارت اور استعمال کو جائز قرار دیتا ہے
مگر اس کے ساتھ اعتدال اور ذمہ داری بھی سکھاتا ہے۔ اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت پیدا نہ کی جائے، ناپ تول میں کمی نہ کی جائے اور غیر معیاری یا نقصان دہ اشیاء فروخت نہ کی جائیں۔
اشیاء کا مقصد صرف منافع کمانا نہیں بلکہ انسانی ضروریات پوری کرنا بھی ہے۔ اگر معاشرہ ضرورت کی اشیاء کو صرف کمائی کا ذریعہ بنا لے تو غربت، مہنگائی اور استحصال پیدا ہوتا ہے۔ اسلام اشیاء کے استعمال میں میانہ روی کی تعلیم اس طرح دیتا ہے کہ “کھاؤ، پیو مگر فضول خرچی نہ کرو۔” یعنی اشیاء ضرورت پوری کرنے کے لیے ہیں، خواہشات کی غلامی کے لیے نہیں۔
چوتھا: خدمات عملی استعمال ہیں
خدمات دراصل انسانی صلاحیتوں کا عملی اظہار ہیں۔ تعلیم دینا، علاج کرنا، تعمیر کرنا، رہنمائی کرنا، حفاظت کرنا، نقل و حمل مہیا کرنا، یہ سب خدمات ہیں جو معاشرے کو متحرک رکھتی ہیں۔ اسلام خدمت کو عبادت کا درجہ دیتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، لوگوں میں بہترین وہ ہے جو لوگوں کو سب سے زیادہ فائدہ پہنچائے۔
اسلامی معیشت میں خدمات کی بنیاد پانچ اصولوں پر قائم ہے یعنی دیانت داری، مہارت، انصاف، امانت داری اور انسانی خدمت۔ جب خدمات اخلاص اور ذمہ داری کے ساتھ انجام دی جائیں تو معاشرہ مضبوط ہوتا ہے، لیکن جب خدمت بھی دھوکہ، رشوت یا ذاتی مفاد کا شکار ہو جائے تو سماجی نظام کمزور ہو جاتا ہے۔
اسلام ان چاروں عوامل کو ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح دیکھتا ہے کیونکہ انسان محنت کرتا ہے، سرمایہ وسائل فراہم کرتا ہے، اشیاء ضروریات پوری کرتی ہیں اور خدمات زندگی کو رواں رکھتی ہیں۔
جب یہ چاروں عوامل عدل، امانت، حلال رزق اور خوفِ خدا کے اصولوں کے تحت کام کریں تو ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں غربت کم ہوتی ہے، استحصال ختم ہوتا ہے اور معاشی انصاف قائم ہوتا ہے۔ یہی اسلامی سماجی معیشت کا اصل مقصد ہے۔
اصل تبدیلی اندر سے جنم لیتی ہے
اسلامی بینکاری کے نفاذ سے قبل، اور اعلیٰ عدالت کے احکامات پر عمل درآمد سے پہلے، یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ آیا محض بینکاری کے ڈھانچے کو اسلامی شکل دے دینا کافی ہے یا نہیں؛ کیونکہ بینکاری خود ایک انسان کا بنایا ہوا نظام ہے، جبکہ اسلام صرف مالی معاملات کا نہیں بلکہ مکمل طرزِ زندگی کا نام ہے۔
اس لیے کسی نظام کا نام بدلنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اسلامی طرزِ حیات، اس کے اصولِ عدل، دیانت اور سماجی ذمہ داری کو دل سے قبول کریں۔ جب تک فرد، معاشرہ اور ادارے اپنی قانونی، تجارتی، مالیاتی اور سماجی زندگی کو اسلامی اصولوں کے مطابق پاکیزہ نہیں بناتے، اس وقت تک حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
دنیا میں بعض غیر مسلم اقوام، جیسے جاپان، اپنے نظم، دیانت اور عملی اخلاق کے ذریعے یہ ثابت کر چکی ہیں کہ مضبوط قومیں اصولوں پر کھڑی ہوتی ہیں۔ ہمیں ان کے عقائد نہیں بلکہ ان کے عملی کردار، ذمہ داری اور اخلاقی نظم سے سبق لینا چاہیے۔
یہی وہ راستہ ہے جس کی رہنمائی اسلامی معیشت کرتی ہے، تاکہ پاکستان کی مالی اور سماجی زندگی سے ربا اور سود کا خاتمہ ہو اور ایک ایسا معاشرہ قائم ہو جہاں عدل بھی زندہ ہو اور برکت بھی قائم ہو۔ کیونکہ صرف رنگ بدلنے سے چہرہ نہیں بدلتا، اصل تبدیلی اندر سے جنم لیتی ہے۔




