ڈاکٹر بشریٰ تسنیم کا ادبی اور دینی سفر

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم کا ادبی اور دینی سفر

تحریکی اور ادبی گھرانے کی تربیت

ڈاکٹر بشریٰ‌تسنیم کا گھرانہ جماعت اسلامی کی تشکیل کے وقت سے ہی جماعت سے منسلک ہے ۔ تحریکی اور ادبی گھرانے میں تربیت پانے والی ہماری بہن درجن سے زیادہ کتابوں کی مصنفہ ہیں خواتین کی ملک گیر ادبی تنظیم ” حریم ادب “ کی رکن ہیں، وہ چھ برس تک اس کی سیکرٹری بھی رہ چکی ہیں، اس کے علاوہ ” ادارہ بتول “ کے بورڈ آف ٹرسٹیز کی ممبر بھی رہ چکی ہیں ۔ وہ مجلہ ” حریم “ کی ایڈیٹر بھی تھیں ۔ اور کئی جرائد ای میگزین میں اور میڈیا پہ پندرہ سال سے باقاعدگی سے کالم لکھتی ہیں۔

کم عمری سے تحریر و ادب کا سفر

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم نو برس کی تھیں جب پہلی تحریر لکھی جو بچوں کے میگزین میں شائع ہوئی، تب سے اب تک وہ ایسی تحریریں لکھ رہی ہیں جو معاشرے کے تمام افراد پر دین کی خوبصورتی کو واضح کرتی ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد لوگوں کو بتانا ہے کہ وہ کیسے ایک خوشگوار زندگی بسر کرسکتے ہیں۔ لکھنے کا شوق ہی تھا جس کے سبب انھوں نے گریجویشن بھی صحافت میں کی ۔

ممتاز اسلامی اساتذہ سے علمی تربیت

محترمہ بشریٰ تسنیم ممتاز اسلامی سکالرز حافظ عبدالسلام مدنی ( فاضل مدینہ یونیورسٹی) اور مولانا عبدالوکیل علوی ( ادارہ معارف اسلامی) کی شاگرد ہیں۔ ان قابل قدر استادوں کی خصوصی تربیت کا ثمر ہے کہ اب خود ڈاکٹر بشریٰ تسنیم کی شاگرد ہزاروں خواتین پاکستان، بھارت، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ،قطر ،اور برطانیہ میں معاشرے کی بہتری کے لئے کام کر رہی ہیں۔

عالمی سطح پر دعوتی اور علمی سرگرمیاں

ڈاکٹر بشریٰ تسنیم برطانیہ میں قیام کے دوران ’ مسلم ریڈیو اسٹیشن ‘ کے مختلف پروگرامز میں باقاعدگی سے بحیثیت مہمان شریک ہوتی تھیں۔ اسی طرح وہ دیگر مختلف ممالک میں سیمینارز میں شرکت اور مقالات پیش کرتی رہیں۔ سیاحت بھی ان کا شوق ہے 24 ملکوں کی سیاحت نے ان کے مشاہدے اور علم کو مزید نکھارا ہے ۔ ان کے سفر نامے بھی رسائل میں قسط وار شائع ہوئے ہیں اور کتابی شکل میں بھی ۔۔

دعوت، تربیت اور طب کے میدان میں خدمات

دعوت و تربیت کے میدان میں شبانہ روز جدوجہد کے علاوہ محترمہ بشریٰ تسنیم باقاعدہ ہومیوپیتھک ڈاکٹر بھی ہیں، اللہ تعالیٰ کا اس معالج پر خصوصی فضل و کرم ہے کہ دیس پردیس میں مریض ا ن سے طبی مشورے لیتے ہیں البتہ اب انہوں نے اپنے وقت کو کلی طور پہ قلم و قرطاس اور قرآنی کلاسز اور سوشل میڈیا پہ تربیتی کام کے لیے وقف کر رکھا ہے ۔۔

اختتامی دعا

اللہ تعالی ان کی کاوشوں کو قبول
فرمائے آمین