ناکامی سے مت ڈریے، شاید آپ کامیابی سے صرف ایک قدم دور ہیں
کیا خبر، جس ناکامی سے آپ آج ٹوٹے ہوئے ہیں، وہی کل آپ کی کامیابی کی پہلی سیڑھی ثابت ہو؟ ہم اکثر ناکامی کو اختتام سمجھ لیتے ہیں۔ ایک نوکری نہیں ملی تو خواب چھوڑ دیا، کاروبار میں نقصان ہوا تو دوبارہ کوشش نہ کی، امتحان میں ناکام ہوئے تو خود کو دوسروں سے کم سمجھ لیا۔ لیکن سچ یہ ہے کہ ہمیں ناکامی سے زیادہ لوگوں کے فیصلے کا خوف ہوتا ہے۔ ہمیں ڈر لگتا ہے کہ اگر ہم ناکام ہوگئے تو لوگ کیا کہیں گے؟ اور یہی خوف بہت سے خوابوں کو جنم لینے سے پہلے ہی مار دیتا ہے۔
ناکامی کامیابی کی دشمن نہیں، استاد ہے
حقیقت یہ ہے کہ ناکامی کامیابی کی دشمن نہیں، بلکہ اس کی استاد ہے۔ ناکامی ہمیں وہ کچھ سکھاتی ہے جو کامیابی اکثر نہیں سکھا پاتی۔ یہ ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے، ہماری کمزوریوں سے آگاہ کرتی ہے اور ہمیں اپنا راستہ بہتر بنانے کا موقع دیتی ہے۔ ذرا اپنے اردگرد دیکھیے۔ ہمارے شہروں میں کامیابی کی ایسی بے شمار کہانیاں بکھری ہوئی ہیں جن کے پہلے صفحات پر ناکامی لکھی ہوئی تھی۔
نوکری کی تلاش اور مسلسل کوشش
وہ نوجوان جو یونیورسٹی سے ڈگری لے کر مہینوں نوکری کے لیے درخواستیں بھیجتا ہے۔ ایک انٹرویو، دوسرا انٹرویو، پھر تیسرا۔ کہیں جواب نہیں آتا اور کہیں صاف انکار مل جاتا ہے۔ گھر والے فکر مند ہیں اور دوست ملازمتیں حاصل کرکے آگے بڑھ رہے ہیں۔ لیکن وہ ہمت نہیں ہارتا۔ وہ کوئی نئی مہارت سیکھتا ہے، اپنا طریقہ بدلتا ہے اور اگلے انٹرویو کے لیے پھر کھڑا ہوجاتا ہے۔ ایک دن وہی شخص اپنی پہلی تنخواہ ہاتھ میں لیے گھر واپس آتا ہے۔یہ صرف نوکری کی کہانی نہیں، حوصلے اور مسلسل کوشش کی کہانی ہے۔
کاروبار میں ناکامی، مگر ہمت برقرار
اسی شہر میں ایک شخص اپنی جمع پونجی سے چھوٹی سی دکان کھولتا ہے۔ پہلے مہینے گاہک کم آتے ہیں۔ دوسرے مہینے اخراجات بھی پورے نہیں ہوتے۔ کبھی سامان خراب ہوجاتا ہے، کبھی مقابلے کی دکان گاہک کھینچ لے جاتی ہے۔ وہ چاہے تو شٹر گرا کر گھر بیٹھ جائے۔مگر وہ اپنی غلطیوں کو سمجھتا ہے۔ گاہکوں کی ضرورت دیکھتا ہے۔ کام کا انداز بدلتا ہے اور دوبارہ کوشش کرتا ہے۔کاروبار شاید پہلی بار نہیں چلا، مگر آدمی چلتا رہا۔اور اکثر کامیابی کی اصل کہانی یہی ہوتی ہے۔
فری لانسنگ کا خواب اور پہلا کلائنٹ
کسی فلیٹ کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھا ایک نوجوان رات گئے تک لیپ ٹاپ پر کام سیکھ رہا ہے۔ وہ فری لانسنگ شروع کرنا چاہتا ہے۔ کئی جگہ درخواست بھیجتا ہے، مگر کوئی جواب نہیں آتا۔ کچھ لوگ اس کا کام دیکھ کر انکار کردیتے ہیں۔ کبھی انٹرنیٹ مسئلہ بن جاتا ہے، کبھی بجلی چلی جاتی ہے اور کبھی حوصلہ جواب دینے لگتا ہے۔ مگر وہ اگلی صبح پھر لیپ ٹاپ کھولتا ہے۔ کیونکہ اسے معلوم ہے کہ پہلا کلائنٹ نہ ملنا، آخری موقع کھو دینا نہیں ہے۔
گھر سے کاروبار شروع کرنے والی ماں
اور پھر وہ ماں ہے جو گھر کے اخراجات میں ہاتھ بٹانے کے لیے گھر سے کھانا بنا کر بیچنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ ابتدا میں صرف چند آرڈر ملتے ہیں۔ کبھی گاہک خوش نہیں ہوتا، کبھی منافع بہت کم رہتا ہے۔ لیکن وہ رکتی نہیں۔ وہ اپنی ترکیب بہتر کرتی ہے، پیکنگ بدلتی ہے اور لوگوں تک اپنا کام پہنچاتی ہے۔ چند ماہ بعد اسی کے موبائل پر آرڈرز کی گھنٹی بجنے لگتی ہے۔ اس کامیابی کے پیچھے کوئی جادو نہیں تھا۔ صرف ناکامی سے سیکھنے اور دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ تھا۔
ایک امتحان زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا
ایک طالب علم کو بھی دیکھیے۔ وہ ایک امتحان میں ناکام ہوجاتا ہے۔ اسے لگتا ہے کہ سب دوست آگے نکل گئے اور وہ پیچھے رہ گیا۔ کچھ لوگ طعنہ بھی دیتے ہیں۔ مگر وہ اپنی کتاب دوبارہ کھولتا ہے۔ اس بار وہ اپنی غلطیوں کو سمجھ کر تیاری کرتا ہے۔ کیونکہ اسے آخرکار یہ بات سمجھ آجاتی ہے کہ ایک امتحان پوری زندگی کا فیصلہ نہیں کرتا۔ ناکامی ایک نتیجہ ہوسکتی ہے، لیکن یہ زندگی کا آخری فیصلہ نہیں۔
کتنے خواب صرف لوگوں کے خوف سے مر جاتے ہیں؟
شاید ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو کسی ایک ناکامی کے بعد خاموشی سے اپنے خواب چھوڑ بیٹھ ہیں۔ کسی نے کاروبار کا خواب چھوڑ دیا۔ کسی نے لکھنے کا۔ کسی نے تعلیم جاری رکھنے کا۔ کسی نے نئی مہارت سیکھنے کا۔
اور کسی نے صرف اس لیے کوشش نہیں کی کہ کسی نے کہہ دیا تھا: “تم سے نہیں ہوگا۔” یہ چند الفاظ بعض اوقات انسان کے اندر موجود برسوں کی امید کو خاموش کردیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہمیں اپنی زندگی کا فیصلہ دوسروں کے چند جملوں پر چھوڑ دینا چاہیے؟
لوگ کیا کہیں گے؟
یاد رکھیے، لوگ آپ کی ناکامی پر کچھ دن بات کریں گے۔ پھر وہ اپنی زندگی میں مصروف ہوجائیں گے۔ لیکن اگر آپ صرف لوگوں کے خوف کی وجہ سے کوشش ہی نہیں کریں گے تو اس کا افسوس شاید آپ کو برسوں رہے گا۔ دوسروں کی رائے وقتی ہوسکتی ہے، مگر اپنے ادھورے خواب کا افسوس بہت دیر تک ساتھ رہ سکتا ہے۔ اس لیے اپنے فیصلے لوگوں کے تبصروں سے نہیں، اپنے مقصد سے کیجیے۔
ناکامی آئے تو کیا کریں؟
ناکامی سے گھبرانے کے بجائے اس سے سیکھنے کی کوشش کیجیے۔ نوکری نہ ملے تو نئی مہارت سیکھیے۔ کاروبار نہ چلے تو طریقہ بدلیے۔ امتحان میں ناکامی ہو تو دوبارہ پڑھیے۔ ایک راستہ بند ہو تو دوسرا تلاش کیجیے۔ غلطی ہوئی ہے تو اسے تسلیم کیجیے۔ لیکن خود کو ناکام انسان سمجھنے کی غلطی نہ کیجیے۔ ناکامی ایک واقعہ ہے، آپ کی شناخت نہیں۔
کامیابی شاید صرف ایک کوشش دور ہو
ناکامی کا مطلب یہ نہیں کہ آپ ختم ہوگئے ہیں۔ کبھی کبھی اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ آپ کو کامیابی تک پہنچنے کا بہتر راستہ تلاش کرنا ہے۔ ممکن ہے جس دروازے کو آپ نے بند سمجھ لیا ہے، وہ دراصل آپ کو کسی دوسرے دروازے کی طرف بھیج رہا ہو۔ ممکن ہے آج کی ناکامی کل کی کامیابی کی بنیاد بن جائے۔ اور ممکن ہے آپ کامیابی سے صرف ایک کوشش دور ہوں۔
گرنا قبول ہے، رک جانا نہیں
زندگی میں کامیاب وہ لوگ نہیں ہوتے جنہیں کبھی شکست نہیں ہوئی۔ کامیاب وہ ہوتے ہیں جو شکست کے بعد بھی اپنے آپ پر یقین رکھنا نہیں چھوڑتے۔ اس لیے ناکامی سے مت ڈریے۔ گر جائیے، مگر دوبارہ اٹھ کھڑیے۔ راستہ بدل لیجیے، مگر منزل نہ چھوڑیے۔ غلطی سے سیکھیے، مگر کوشش نہ چھوڑیے۔ اور آج اپنے آپ سے ایک وعدہ کیجیے: گرنا قبول ہے، مگر رک جانا قبول نہیں۔ شاید آپ کی اگلی کوشش ہی وہ کوشش ہو جس کا انتظار آپ کی کامیابی کو ہے۔




