علی محسن: ایک دردناک جدائی اور خدمتِ خلق کی روشن داستان

محسن

اقبال محسن صاحب صدمے کے بعد صدمہ

علی محسن کے انتقال کی خبر سن کر دل کو ایک دھچکا لگا۔ غالب یاد آگئے ، اپنی اہلیہ کے کمسن بھانجے عارف کی موت پر کہا تھا کے کا

ہاں اے پیر فلک جواں تھا عارف

 کیا بگڑتا ترا جو نہ مرتا کوئی دن اور

آخر میں یہی کہہ کر تسلی دی جاسکتی ہے ، کل نفس ذائقۃ الموت ( ہر شخص کو موت کا مزا چکھنا ہے )۔ پھر بھی کہنے پر مجبور ہیں کہ یہ بڑی بے وقت آئی۔ سورۃ رحمن میں ارشاد ربانی ہے ”کل من علیها فان ، ہر چیز کو فنا ہونا ہے سو حسن خاندان پر کڑا وقت آگیا۔ اللہ ا قبال بھائی کو صبر کی دولت سے ہمکنار کرے کہ بیٹے کی جدائی کا غم سہنا پڑا انہیں اس عظیم نقصان کو برداشت کرنے کی ہمت دے۔

دنیا میں ننانوے فیصد بیٹوں کے کاندھے پر باپ کا جنازہ ہوتا ہے لیکن یہاں صورتحال عجیب تھی کہ باپ اپنے بیٹے تو سپروزمین کر رہا تھا۔ کم عمری میں بچوں کے داغ مفارقت پر احسان دانش کہہ گئے ہیں

یہ پھول اپنی لطافت کی داد پا نہ سکا 

کھلا ضرور مگر کھل کے مسکرانہ سکا

علی محسن کی شخصیت اور اچانک رحلت

علی محسن کم سن تو نہ تھا، عمرا کیا ون (51) سال تھی، کہا جا سکتا ہے جوانی کی دہلیز سے گزر کر ضعیفی کے دروازے کو لبیک کہہ رہا تھا کہ سانس کی ڈور ٹوٹ گئی۔ یہ ڈور بیت مضبوط سمجھی جاتی ہے لیکن کبھی کبھی اتنی نازک کہ پتا بھی نہ چلے اور رک جائے۔ سات اور آٹھ اگست کی شب جو سویا تو ابدی نیند سو گیا ، نہ کسی کو جگایا، نہ کسی تکلیف کا اظہار کیا ، بس نیند ہی میں موت کی دستک پر لبیک کہا ع

موت سے کس کو رستگاری ہے آج وہ کل ہماری باری ہے

اقبال محسن سے ملاقاتیں اور ماضی کے یادگار ایام

غالباً 1972ء میں اقبال محسن رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ جامعہ بلوچستان سے منسلک تھے سو وہاں اپنی ذمہ داری ادا کرنے واپس چلے گئے۔ پہلی صاحبزادی کے بعد علی محسن دنیا میں تشریف لائے۔ کراچی میں ایک گلی کے فرق کے باوجود ان سے کوئی رابطہ تو کجا ملاقات یا سلام دعا بھی نہیں تھی۔ اس لئے کہ وہ دو سال ہی کے تھے کہ ہمیں گردش فلک کی دبئی لے گئے۔

اس کے بعد ہمارا چھٹی پر جب بھی آنا ہوا تو کبھی اقبال بھائی کراچی میں نہ ملے اور نہ ان کے اہل و عیال۔ غالباً 2002 ء میں اقبال محسن دنیا  کے ایک اور بڑا اور بڑاعظم میں گوناگوں اپنی ذمہ داری پوری کر کے جامعہ اردو کی وائس چانسلر شپ سے استعفیٰ دے کر فارغ ہوئے ایک شادی پر ملاقات ہوگئی ر ملاقات ہوگئی۔ سیکنڈ سے پیشتر پہچان لیا۔ اس کے بعد ملاقاتیں ہوتی رہی بقول اقبال عظیم 

ملاقاتیں بھی ہوتی ہیں مگر سنجیدہ سنجیدہ

ان سے پوچھا کہ شیخ الجامعہ کی حیثیت سے استعفی کیوں دیا تو کوئی اول جلول سا جواب دیا۔ اس حیثیت میں توسیع کے لیے تو لوگ ترلے منتیں کرتے ہیں۔ ایک شاعر و دانشور شیخ الجامعہ نے تو رحمن ملک کو ( جسے اکثر لوگ منھ لگانے کے قابل نہیں سمجھتے ) پی ایچ ڈی کی اعزازی سند بھی سی تھی۔ لیکن افسوس یہ داؤ بھی بروئے کار نہ آیا اور انہ بھی بروئے کار نہ آیا اور انہیں سبکدوش کر دیا گیا۔

اقبال بھائی کے چھوٹے بھائی نے بتایا کہ وہ سفارشوں سے بہت پریشان ہو گئے تھے۔ وزیر اور سفیر تو سفارشوں کے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں لیکن اقبال محسن تک سفارش پہنچانے والوں میں ایک کالم نگار جو اپنے دوحوں کی وجہ کر بہت پہچانے جاتے ہیں شامل تھے۔

علی محسن سے پہلی بالمشافہ ملاقات اور بذلہ سنجی

پھر چھ یا سات برس قبل کا ذکر ہے، اقبال بھائی سے ملنے گیا تو سامنے دالان میں علی محسن بیٹھے تھے، یہ ان سے بالمشافہ پہلی ملاقات تھی۔ ہم نے کہا اقبال بھائی سے کہئے محمود شرف آباد سے آیا ہے۔ حیرت سے پوچھا ” آپ تو بیمار تھے۔ ہمارا جواب تھا دیکھ لو بہت ہٹا کتا ، اتو کا پٹھا کھڑا ہوں۔ اس پر مسکراتے ہوئے فرمایا ” لگتا ہے آپ مرضِ عشق میں مبتلا ہیں۔

ہمارا جواب تھا اپنے مزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا ، ساتھ ہی کہا کہ اس کا علاج دنیا کے تمام طبیبوں بشمول حکیم لقمان کے پاس بھی نہیں تھا۔ جواب میں ایک طویل قہقہہ کے ساتھ کہا ابھی اطلاع دیتا ہوں۔ یہ قصہ بیان کرنے کا مقصد ہے کہ علی محسن میں بذلہ سنجی اور خوش مزاجی کوٹ کوٹ کر بھری تھی لیکن تمام تر ادب و آداب کے ساتھ۔

تعلیمی سفر، سماجی خدمات اور رفاہی کام

اس کے بعد کوئی ملاقات نہ ہو سکی۔ ان کی سرگرمیوں کا پتا چلتا رہا۔ یہ بھی علم ہوا کہ وہ این ای ڈی سے انجینئر نگ کر کے پھر امریکا سے ماسٹر کر کے دہران میں ملازمت کر رہے تھے۔ پھر کینیڈا کوچ کر گئے۔ کینیڈا میں ان کی سرگرمیاں کم نہ ہوئی۔ کبھی سیلاب زدگان کے لیے فنڈ جمع کر رہے ہیں تو کبھی پاکستان کے سرحدی علاقوں میں الخدمت کے تحت قائم کردہ یتیم خانوں کی سر پرستی میں خود اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔

ایک ملاقات میں اقبال بھائی نے بتایا کہ گلستان جوہر میں کا نٹننٹل بیکری سے جو دو طرفہ سڑک اندر آ رہی ہے، اس پر علی حسن اور اس کے تین ساتھی آنکھ کا ایک ہسپتال بنارہے ہیں۔ یہ ایک خیراتی ہسپتال ہوگا۔ عید الضحی کے موقع پر کینیڈا اور امریکا میں اپنے دوست احباب کی قربانیاں اور اس کا گوشت مفلوک الحال افراد تک پہنچانے میں ہمیشہ سر گرم رہا۔

اقبال محسن کی کتاب بنجارے کا بنک بیلنس کی تقریب رونمائی میں تقاریر کے بعد ایک فلم دکھائی گئی جو علی محسن اور ان کے ساتھیوں کے تعاون سے آبائی علاقوں میں مختلف یتیم خانے اور اسپتال زیر عمل ہیں اس کی تفصیل تھی۔

صلہ رحمی اور آخری ایام کا حاصل

قدرت کے کھیل بھی نرالے ہیں۔ اتنی ساری صلاحیتوں کے ساتھ اسے اولاد سے محروم رکھا۔ علی نے اس محرومی کا ازالہ اس طرح سے کیا کہ اپنے عزیز واقارب اور دوستوں کے سارے بچوں کو اپنی اولاد جان کر ان کی نشو و نما میں عملی تعاون جاری رکھا۔ یہ کام آخری سانس تک جاری رہا۔

علی محسن آخری دنوں تک خیر العمل میں مبتلا رہا۔ امید ہے کہ یہ ساری خدمات اس کے لیے آخرت میں کام آئے گی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ زندگی صرف عبادات کا نام نہیں ہے، اس کے ساتھ خلق خدا کی خدمت کرتے رہنی چاہیئے

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو

 ورنہ طاعت کے لیے کم نہ تھے کر و بیاں

ڈاکٹر اقبال محسن کی اہلیہ کا انتقال پر ملال

سوشل میڈیا اور خبروں کی تیز رفتار دنیا

کل بروز منگل (8) ستمبر ) شام نو بجے پریس کلب سے واپسی ہوئی ، وہاٹس اپ پر جمال محسن کی پوسٹ سے پتا چلا ڈا کٹرا قبال محسن کی اہلیہ دنیا سے جاچکی ہیں۔ یہ وہاٹس اپ بھی عجیب و غریب ایجاد ہے۔ ستر یا اسی ( برس پہلے تک ایک شہر سے دوسرے شہر تک خط کے ذریعے خبر دی جاتی تھی ، ہمیں یاد ہے 1957 میں حالانکہ ہم اس وقت چھ سال کے تھے کہ ہمارے تایا ( بہاریوں کی زبان میں بڑے ابا ) کی ہندوستان میں موت کی اطلاع ایک ماہ بعد ملی تھی۔

لیکن اب چند منٹوں میں پورے عالم میں نشر ہو جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد مرنے سے قبل ہی خبر آجائے ، جیسا کہ سوشل میڈیا پر اکثر ایسی افواہیں پھیلائی کاتی ہے۔ چند دنوں قبل وسیم اکرم اور ٹی وی کی اداکارہ ندا یا سر کے متعلق غلط ابلاع دی گئی تھی۔

آج سے پینتالیس سال قبل تاریخی طور پر کامیاب اردو ڈرامہ وارث کے مرکزی کردار چودھری حشمت ( محبوب والم ) کے انتقال کی خبر کثیر الاشاعت اخبار میں شائع ہوگئی۔ وہ ادا کار صبح اخبار کے دفتر پہنچ گئے۔ یہ سلسہ سوشل میڈیا پر جاری ہے 

شرم تم کو مگر نہیں آتی

بیماری، تیمار داری اور ناگہانی صدمات

اقبال بھائی کی اہلیہ کافی عرصہ سے موت و زندگی کے درمیان اٹکی ہوئی تھیں۔ چند مہینوں سے ان کی طبیعت قابو میں نہیں تھیں، کبھی گھر پر کبھی ہسپتال میں اور وہ بھی آئی سی یو میں گزر رہے تھے۔ ماں کی بیماری سے پریشان ہو کر بیٹا ( علی محسن ) کچھ تیمار داری اور کچھ دیکھ بھال کی غرض سے کراچی آیا۔ لیکن یہاں موت اس کا پیچھا کر رہی تھی ، موقع ملتے ہی اس نے آدبوچا۔

موت سے کس کو راست گاری ہے
 آج وہ کل ہماری باری ہے

نماز جنازہ اور تدفین کی اطلاع

اطلاع ملتے ہی فکر ہوئی کہ نماز جنازہ اور تدفین کا وقت اور قبرستان کا معلوم کیا جائے۔ اقبال بھائی کو فون کرنا مناسب نہیں لگا۔ ان کی بھیجی عذرا ( صبیح محسن کی بیٹی ) کو فون کیا ، جواب نہ ملنے پر صبیح بھائی مرحوم کی اہلیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ اتفاق سے ان کا نمبر کچھ عرصہ قبل مل گیا تھا۔ فون سے رابطہ ہوتے ہی کہا: نزہت بھا بھی ! میں شرف آباد سے محمود بول رہا ہوں، اقبال بھائی کی اہلیہ کے نماز جنازہ کا وقت معلوم کرنا چاہتا ہوں۔

جواب آیا کہ ان کی بیٹی ذریں بات کر رہی ہوں۔ انہوں نے بتایا کہ زیادہ امکان ہے کہ کل (بدھ) کی نماز ظہر میں ہو جائے ، تدفین جامعہ کراچی کے قبرستان میں ہوگی۔ لیکن ابھی سو فیصد یقینی نہیں ہے۔ ہم نے کہا جواب آخری فیصلہ ہو جائے تو اطلاع دے دینا۔ پندرہ منٹ بعد عذرا نے غالبا مس کال دیکھ کر فون کیا ، وہی خبر ملی۔

رات دس بجے عذرا کی طرف سے نماز جنازہ اور تدفین کی با ظابطہ اطلاع عذرا کی جانب سے ایک اعلامیہ کے ذریعے آئی جسے ہم نے فوراً گروپ شرف آبادیز پر کاپی کر دیا۔

دُور دراز مواصلات اور اقبال بھائی کی ڈھارس

آج (بدھ ) دن کے ساڑھے بارہ بجے اقبال بھائی کے گھر پہنچے تو جلد پتا چلا کہ وہ پریس نوٹ کی طرز کی اطلاع عذرا نے جرمنی سے دی تھی۔ وہ اپنی بیٹی کے پاس وہاں ہیں۔ عجیب حال ہو گیا ہے۔ بشیر بدر کہہ گئے ہیں

گفتگوان سے روز ہوتی ہے
 مدتوں سامنا نہیں ہوتا

بشیر بدر نے تو کسی اور ضمن میں کہا ہے لیکن اب سامنا تو کجا، یہ بھی نہیں بتا چلتا کہ کس شہر یا ملک سے بات ہو رہی ہے۔

اقبال بھائی کی زندگی میں المیوں کی بہتات ہو گئی ، ٹھیک ایک ماہ قبل کے المیے نے بیٹے کو جدا کر دیا اب یہ نا گہانی آن پڑی۔

وہاں پہنچ کر دیکھا اقبال بھائی تقریباً آٹھ ، دس سوگواران کے ساتھ بیٹھے تھے۔ بہت صبر کے ساتھ علی کے انتقال پر بھی صابر و شاکر تھے لیکن آج ذرا زیادہ ہی سنبھلے ہوئے تھے۔ وجہ شاید یہ ہو کہ علی کی مفارقت اچانک ہوئی، ایسا سانحہ تھا کہ سوچا بھی نہیں جا سکتا تھا۔ لیکن اس وقت کا المیہ کئی روز سے وارننگ دے رہا تھا۔

قبرستان کا سفر اور ایک غیبی مددگار

ہمارے ساتھ عجیب واقعہ ہوا۔ گھر سے دار الخیر میت کے ساتھ بس پر گئے، سوچا تھا کہ اسی پر قبرستان جائیں گے۔ لیکن عجیب بات ہوئی کہ بس چھوٹ گئی۔ ایک رکشا پکڑ کر جامعہ کراچی کے قبرستان جانے کی سوجھی۔ رکشا والے نے ہماری جلدی کی خاطر غلط راستہ اپنایا۔ آنے والی روڈ سے جانے کی طرف موڑ لیا۔ چند قدم آگے اتنارش تھا کہ ایک قدم آگے بڑھنا مشکل ہو گیا۔

رکشا چھوڑ کر ہم روڈ کی دوسری درست سمت میں چلے گئے تا کہ دوسرا رکشا پکڑ کر قبرستان پہنچ جائیں۔ مگر وہاں کوئی سواری دور دور تک نظر نہیں آئی۔ موٹر سائیکل، با ئیکیا  بھی نہیں ملی۔ کئی موٹر سائیکل کو ہاتھ کے اشارے سے روکنا چاہا کہ شیخ زید میموریل ہال تک پہنچا دو۔

حالات اور واقعات کے پس منظر میں کسی نے گھاس نہیں ڈالی۔ اچانک ایک موٹر سائیکل سوار نے قریب نے روک کر بیٹھنے کی دعوت سی۔ ہم نے کہا کہ مجھے شیخ زید ہال تک پہنچا دو، قبرستان ہم خود ڈھونڈ لیں گے۔ دو چار قدم چل کر اس نے پوچھا: ” آپ کا نام محمود ہے کیا ؟ ہم نے پریشان ہو کر کہا تمہیں کیسے معلوم –

جوب آیا کہ وہ ہارون الرشید صاحب (144 ، شرف آباد) کا عزیز ہے اور کوئی پندرہ سال قبل کسی کام کے سلسلے میں چند ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اس نوجوان نے ہمیں صرف جامعہ کے گیٹ تک نہیں چھوڑا بلکہ اندر لے جا کر قبرستان تک پہنچایا۔ قبرستان کی تلاش میں آدھا گھنٹہ لگ گیا۔ آخر پہنچ گئے۔ اللہ کی کرم نوزی کہ اس جوان کی شکل میں فرشتہ بھیجا جس نے منزل مقصود ( قبرستان ) تک پہنچا دیا۔

تعزیتی رسومات اور سماجی سوچ پر ایک نظر

بس سے واپسی ہوئی۔ اقبال بھائی سے اجازت طلب کی تو فرمایا : کھانا لگا ہوا ہے، کھا کر جائیں۔ ہمارا جواب تھا، ان لوگوں کے لیے مناسب ہے جو بہت دور رہتے ہیں ، ہم تو آدھے گھنٹے میں پہنچ جائیں گے۔ اس پر انہوں نے اصرار نہیں کیا صرف اتنا کہا اگر اصولی طور پر آپ ایسے موقعوں پر کھانا پسند نہیں کرتے تو آپ کی مرضی۔ اس غمزدہ ماحول سے واپسی کا سفر شروع کیا۔

نہ جانے مسلمانوں میں ہر جگہ کھانے کو اتنی اہمیت کیوں دی جاتی ہے۔ سوئم کا کھانا ، چہلم کا کھانا اور برسی کا کھانا۔ ابھی تو یہ بھی طے کرنا ہے کہ یہ سب مذہبی اجلاس ہیں یا ہمارے درمیان ہندوؤں کی پیروی میں اختیار کیا گیا ہے۔ گلستان جوہر میں اگر کوئی کیماڑی یا اس نوعیت کے فاصلے سے آیا ہو تو کسی قد روجہ سمجھ میں آتی ہے، اکثر جگہ ایک دو گلی کے لوگ بھی شریک ہو جاتے ہیں، وہ اس کھانے میں شرکت کو نیک کام سمجھتے ہوں یا ان کی فکر کیا ہے، علم نہ ہو سکا۔ اب پچھتر (75) سال کی عمر تک لاعلم ہیں تو اب سمجھنا مشکل ہے 

آخری وقت میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

یادِ رفتگاں اور تنہائی کا احساس

نواب مرزا شوق لکھنوی کہہ گئے ہیں

عشق سے ہے کون بشر خالی 
کر دیے اس نے گھر کے گھر خالی

اس غمزدہ ماحول میں ان کے اشعار کا ذکر آیا۔ ہم نے تو ایک شعر سنایا تھا جو اسی مضمون میں اوپر درج کیا گیا ہے۔ اقبال بھائی نے اس کا مطلع سنا دیا جو کسی قدر رومانی ہے۔ خدا نخواستہ گھر کا گھر خالی نہیں ہوا۔ صرف بیٹا اور بیوی گئی ہیں۔ ابھی بہو، بیٹی ، داماد اور نواسے نواسیاں سلامت ہیں۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے صحت کے ساتھ لیکن یہ پورا کنبہ کینیڈا میں مقیم ہے۔ اس موقع پر ایک اور شعر یاد آ رہا ہے۔

اب یاد رفتگاں کی ہمت نہیں رہی
 یاروں نے اتنی دور بسائی ہیں بستیاں