محمود احمد لئیق- ایک تعارف

محمود احمد لئیق

محمود احمد لئیق: ایک خاموش مسافر کی داستان

پیدائشی نام: محمود احمد
قلمی نام: محمود احمد
تاریخ و شہرِ پیدائش: 15 اگست 1952، کراچی
تعلیم: بی ایس سی، جامعہ کراچی
پہلی ملازمت: اسٹیٹ بینک، کیش ڈپارٹمنٹ

محمود احمد لئیق کی زندگی بظاہر ایک عام آدمی کی زندگی دکھائی دیتی ہے، مگر اس کے اندر کئی زمانوں کی کہانیاں، سیاسی ہنگاموں کی یادیں، دبئی کی زندگی، مشاعروں کی محفلیں، صحافت سے شغف اور کتابوں سے محبت چھپی ہوئی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی داستانِ زندگی محض ذاتی حالات کا بیان نہیں بلکہ ایک پورے عہد کی جھلک بھی پیش کرتی ہے۔

کراچی سے دبئی تک

محمود احمد لئیق نے 1970 سے 1977 تک بھرپور طور پر سیاسی کارکن کا کردار ادا کیا۔ وہ جیالوں کا دور تھا۔ ہر وقت گرفتاری کا خدشہ رہتا تھا۔ ایک مرتبہ تھانے میں چند گھنٹے گزارنے کے بعد جان چھوٹی تو والدہ مرحومہ کی تشویش اور خوف مزید بڑھ گیا۔

بالآخر والدہ نے اپنے بھانجے پر بہت دباؤ ڈالا کہ محمود احمد لئیق کو دبئی بلا لیا جائے۔ وہ پہلے ہی وہاں ملازمت کر رہے تھے

30 اپریل 1977 کو کرفیو کے سائے میں بچ بچا کر دبئی روانہ ہوگئے۔ وہاں ایک امریکی کمپنی میں ملازمت مل گئی اور یوں زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا۔

مشاعروں کی محفلیں اور ایک شاعر نہ ہونے کا اعتراف

دبئی میں قیام کے دوران مشاعروں میں ایک سامع کی حیثیت سے شریک ہوتے رہے۔ کلام سنانے کی نوبت کبھی نہیں آئی، اس لیے کہ وہ شاعر نہیں ہیں۔

ساحر لدھیانوی کا ایک مشہور فلمی نغمہ یاد آتا ہے:

میں شاعر تو نہیں مگر اے حسین
جب سے دیکھا ہے میں نے تجھ کو
مجھ کو شاعری آگئی

محمود احمد لئیق اپنی مخصوص شگفتگی سے کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے ایسا کوئی حسین چہرہ اب تک نظر نہیں آیا کہ شاعری سیکھ پاتے، اور اب تو کوئی امکان بھی نہیں۔ چوہتر برس کی عمر میں شاید یہ شکوہ بھی اپنی جگہ ایک خوب صورت مزاح ہے۔

پھر ایک مصرعہ یاد آتا ہے:

آخری عمر میں کیا خاک مسلماں ہوں گے

دبئی کے بین الاقوامی مشاعرے

1981 میں وسیم احمد صاحب نے پہلا بین الاقوامی مشاعرہ کرایا۔ محمود احمد لئیق ایک کارکن کی حیثیت سے ان کے ساتھ رہے۔ انتظامیہ سے ان کا کوئی تعلق نہیں تھا، مگر مسلسل تین برس تک مشاعروں کے انعقاد میں ساتھ دیتے رہے۔

اس کے بعد وسیم احمد صاحب پاکستان روانہ ہوگئے۔ ستمبر 1983 کا گلف ایئر کا حادثہ ایک ایسا سانحہ تھا جسے بہت سے لوگ آج بھی یاد کرتے ہیں۔ اس حادثے میں وسیم صاحب کی ہمشیرہ، ان کے شوہر اور بچے بھی جاں بحق ہوئے۔ اس سانحے کے بعد وسیم صاحب کو فوری طور پر پاکستان جانا پڑا اور پھر وہ واپس نہ آسکے۔

مشاعروں کا سلسلہ جاری رہا

1986 کے بعد یہ بیڑا سلیم جعفری نے اٹھایا۔ محمود احمد لئیق کے مطابق ان سے ذہنی ہم آہنگی پیدا نہ ہوسکی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کے بہت سے اسباب تھے جن کا ذکر مناسب نہیں۔ سلیم جعفری اب اللہ کے حضور پیش ہوچکے ہیں اور ان کے لیے مغفرت کی دعا ہی مناسب ہے۔

اس کے بعد ڈاکٹر زیدی صاحب میدان میں آئے اور چند مشاعرے کرائے۔ رفعت علوی صاحب نے بھی چند شائقین کو جمع کیا، ان سے مالی تعاون حاصل کیا اور ایک دو مشاعروں کا اہتمام کیا۔ یہ کوئی تجارتی سرگرمی نہیں تھی، بلکہ بعض اوقات نقصان کا سودا ثابت ہوئی، خاص طور پر رفعت علوی اور دوسرے ارکان کے لیے۔

ان مشاعروں کے علاوہ چند شعری نشستیں بھی منعقد ہوئیں۔ طارق سبزواری، عنایت علی خان، ہندوستان کے منظر بھوپالی اور حمایت علی شاعر کو بلانے کا اہتمام کیا گیا۔ محمود احمد لئیق اس سلسلے میں رفعت علوی کی سربراہی میں انتظامی کارکن کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔

رفعت علوی شارجہ میں ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کے دن گزار رہے ہیں۔

صحافت سے شغف اور کتابوں سے دوستی

صحافت سے محمود احمد لئیق کی دلچسپی 1970 ہی سے تھی، لیکن انہوں نے کبھی اسے پیشے کے طور پر اختیار نہیں کیا۔

دبئی سے مستقل واپسی کے بعد دوستوں کے ساتھ کراچی پریس کلب آنا جانا شروع ہوا۔ وہاں اہلِ علم کی صحبت نصیب ہوئی اور مطالعے کا شوق مزید بڑھتا گیا۔

کتابوں سے یہ تعلق وقت کے ساتھ اتنا گہرا ہوا کہ ان کی ذاتی لائبریری میں تقریباً دو ہزار کتابیں جمع ہوگئیں۔ اب کتابیں خریدنا بھی بند کردی ہیں، وجہ یہ ہے کہ کتابیں رکھنے کی جگہ باقی نہیں رہی۔

یہ بھی شاید کتاب سے محبت کی ایک عجیب منزل ہے کہ آدمی کتابیں خریدتے خریدتے ایک دن اس مقام پر پہنچ جائے جہاں گھر میں کتاب کے لیے جگہ کم پڑ جائے۔

’’بھٹو دور کی جھلکیاں‘‘ سے تحریری سفر

تقریباً بارہ یا تیرہ برس قبل پانچ جولائی کے دن ٹیلی وژن پر ایسے پروگرام پیش کیے گئے جن میں شرکاء یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ جیالوں کے دور میں پاکستان میں دودھ اور شہد کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔

محمود احمد لئیق نے وہ زمانہ اپنی آنکھوں کے سامنے گزرتے دیکھا تھا۔ چنانچہ انہوں نے قلم اٹھایا اور ’’بھٹو دور کی جھلکیاں‘‘ کے عنوان سے ایک مضمون لکھ ڈالا۔

مضمون ماہنامہ اردو ڈائجسٹ کو بھیج دیا گیا۔ اتفاق سے وہ ادارے کے معیار پر پورا اترا اور رسالے میں اسے سولہ صفحات کی جگہ ملی۔

اس وقت اختر عباس صاحب اردو ڈائجسٹ کے مدیر تھے۔ ان کی حوصلہ افزائی کے نتیجے میں محمود احمد لئیق کے کئی مزید مضامین شائع ہوئے۔ ان میں بعض مضامین مزاحیہ انداز میں لکھے گئے تھے۔ چند ادیبوں اور شاعروں پر بھی مضامین لکھے جو شائع ہوئے۔

بعد میں مختلف اخبارات اور رسائل میں بھی ان کے مضامین شائع ہوتے رہے۔

ایک سادہ سا اعتراف

اپنی داستان بیان کرتے ہوئے محمود احمد لئیق بڑے سادہ انداز میں کہتے ہیں:

بس اتنی سی ہے داستاں اپنی
ورنہ ہم کہاں کے دانا تھے، کس ہنر میں یکتا تھے

شاید یہی سادگی ان کی داستان کو زیادہ دل نشیں بناتی ہے۔ ایک ایسا شخص جس نے سیاسی ہنگاموں کا زمانہ دیکھا، دبئی میں زندگی گزاری، مشاعروں کی انتظامی سرگرمیوں میں حصہ لیا، اہلِ علم کی صحبت اختیار کی، ہزاروں کتابوں سے دوستی کی اور بالآخر قلم کے ذریعے اپنے عہد کی یادیں محفوظ کرنے لگا۔

پیرزادہ قاسم کا شعر ہے:

درد کی کائنات میں مجھ سے بھی دوشنی رہی
ورنہ مری بساط کیا، اک دیا بجھا ہوا

محمود احمد لئیق کے خیال میں پہلے مصرعے کو ہٹا دیا جائے اور دوسرے مصرعے سے ’’ورنہ‘‘ بھی نکال دیا جائے تو شاید ان کی بہتر عکاسی ہوجاتی ہے:

مری بساط کیا، اک دیا بجھا ہوا

شاید ایک انسان کی پوری زندگی کو اس سے زیادہ سادگی سے بیان کرنا مشکل ہو۔ ایک خاموش سا دیا، جو اپنے حصے کی روشنی دیتا رہا؛ کبھی سیاسی زندگی میں، کبھی مشاعروں کی محفلوں میں، کبھی کتابوں کے درمیان اور کبھی قلم کے ذریعے۔