ابن آس کی مکمل تفصیلی زندگی کی کہانی: مزدور ادیب سے عظیم مصنف تک
ابن آس محمد ایک ایسے مصنف ہیں جن کی زندگی خود ایک مکمل ناول کی مانند ہے۔ شاہ محی الحق فاروقی اکیڈمی میں ریکارڈ کیے گئے ان کے طویل انٹرویو میں انہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز کھل کر بیان کیے۔ ابن آس خود کو “مزدور ادیب” کہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ وہ صرف مزدور شاعر نہیں بلکہ مزدور ادیب ہیں۔ اس بلاگ میں ہم ابن آس کی زندگی کو ان کے اپنے الفاظ اور تفصیلات کے ساتھ بیان کریں گے تاکہ قارئین ان کی حقیقی جدوجہد کو محسوس کر سکیں۔
ابن آس کا تعارف اور ملاقات کا آغاز
ابن آس محمد سے ملاقات شاہ محی الحق فاروقی اکیڈمی کے سلسلے میں ہوئی۔ انٹرویو کے آغاز میں انہیں کتاب اور صاحب کتاب کے طور پر پیش کیا گیا۔ ابن آس نے بتایا کہ ان کی کتنی کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور کتنی کہانیاں انہوں نے لکھیں ہیں، یہ خود انہیں بھی یاد نہیں۔ البتہ یہ یقین ہے کہ انہوں نے بچوں کے لیے ہزاروں کہانیاں تحریر کی ہیں۔ ابن آس نے ڈرامے، غزلیں، حمد و نعت اور مختلف ادبی اصناف میں بھی کام کیا مگر سب سے زیادہ توجہ بچوں کے ادب پر دی۔
ابن آس کا بچپن اور غریب آباد کی زندگی
ابن آس نے بتایا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی کے جس کمرے میں چونا خالی کرتے ہوئے ان کی آنکھیں پھٹ گئیں تھیں، وہیں بعد میں اردو ڈیپارٹمنٹ کے اندر بیٹھے ہوئے بچوں پر تانیب دے رہے تھے۔ ان کی شخصیت موجود ہے جو مزدور ادیب ہے۔ ابن آس نے بچپن کراچی کی بستی غریب آباد میں گزارا جہاں چھوٹے چھوٹے گھر تھے اور مالی حالات بہت خراب تھے۔ والد کی طبیعت خراب ہو گئی تو گھر میں مجبوری پیدا ہو گئی۔ ابن آس نے بتایا کہ مجھے کتابیں اور اسکول کی تعلیم خیر بات کرتے ہوئے چھوڑنی پڑی۔
ابن آس کا بارہ سال کی عمر میں مزدوری کا آغاز
ابن آس نے واضح کیا کہ بارہ سال کی عمر میں مجبوری کے تحت مزدوری شروع کر دی۔ وہ اڈے پر بیٹھ کر راج مزدوری کرنے لگے۔ ابن آس نے بتایا کہ وہ شیف چوکر بہترین کاریگر تھے اور کئی عمارتیں بنائیں۔ پانچویں سکوائر سے لے کر سوک سینٹر تک ایک بانڈ نیوار بنائی۔ میرے ہاتھ کی لگائی گئی بھرائی سوک سینٹر کے ساتھ اکیلے میں بھی ہوتی تھی۔ میرے ساتھ میں کاریگر تھے اور اسی گریڈ میں میرے ہاتھ کی لگائی گئی۔ اس کا بیسمنٹ میرے ہاتھ کی بنایا۔ اس کے ساتھ اس کی بیس ایک مزجد ہے بڑی مزجد۔ اس مزجد کے سیٹو سے لے کے اس کے پلاسٹر تک سارا کام میرے ہاتھ۔ تقریباً وہ ڈیڑھ پاکستان کے سامنے ہوئی۔ جی جی بالکل ہوئی۔ اس کا پلاسٹر اور اس کی پوری چنائی۔ اس کی پوری سیٹو کا کام۔ سارا میرے ہاتھ تک کیا ہوتا۔ میرا ٹھیک ہوتا۔ اپنی ہاتھ سے بنائی۔ وہ آخری میرا کام تھا۔
ابن آس کی تعمیراتی کاموں کی تفصیلات
ابن آس نے مزید بتایا کہ اس کے بعد میں نے موجودہ تقریباً چھوڑ دی تھی اور کبھی کبھی اپنے بھائیوں کے ساتھ میرے بھائی بھی یہ کام کرتے ہیں۔ تو ان کے ساتھ ایک بھائی تو اپنے ساتھ کبھی کبھی جاتا تھا۔ جب میں دو بھائی گئے تھا اس زمانے میں بھی جاتا تھا۔ اور اپنے ساتھ بھائی جاتا تھا۔ تو اس موجودہ کے دوبارہ چودہ سال کے پیورے میں اس طرح کا کام کیا۔ سڑک بنائی ہے۔ آپ کے جو واٹر بورڈ ایک دوسرے ایک بار میں اس کے ساتھی کے آپ اس کے سائٹ جنگل یہ جاتے ہیں۔ تو اندر جو پستی ہے واٹر بورڈ کوارٹر ہیں۔ ان کے کوارٹر کے ساری گلیاں سارے سڑکے میرے ہاتھ کی بنی ہوئی ہیں۔ جو میں نے بنائی ہے۔ واٹر بورڈ کے دوارے اس کے بارے میں واٹر بورڈ کی میرے ہاتھ کی بنی ہوئی ہیں۔ اس کے ساتھ جو نالا جس کا پانی آتا ہے جو اندر سے ریفائن ہوتا ہے۔ پانی وہ نالا میرے ہاتھ کی بنائی ہے۔ بڑا کام کیا۔ میں نے اس کے ساتھ مرشدہ بنائی۔ مرشدہ بہتی مشہور جیو مرشدہ اس کے ساتھ میرے ہاتھ کی بنی ہوئی ہیں۔ تو اس کا بھی بہتری گاری کرنا اور بہت۔ میں نے یہ سمجھ لیں نو جوانی جو ہے لڑکے پر نوجوان۔ وہ مزدوری گھردوں پر گزاری۔ ریم یہ سمجھ لیں کہ پوری تک کا کام۔ کوئی ایسا کام نہیں ہے اس شعبے کے اندر بجلی کے کام سے لے کر کتنا سے لے کر شرجوں کے کام سارے کام آتے ہیں۔ سب کیا۔ 12-14 سال کے تو ادب والا جو سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا تھا۔
ابن آس کا لکھنے کا شوق بچپن سے
ابن آس نے بتایا کہ جب میں تیسری کلاس میں تھا تو میں نے پہلی کہانی لکھی تھی اور سپیدہ میں سوتی تھی ہمارے اسکول میں وہ روٹی پڑھاتی تھی۔ تو انکو یقینی نہیں آیا کہ میں نے لکھی تھی لیکن انکو یہ تو پتا تھا کہ میں روٹی پڑھتی تو وہ واقعی پہلا میرے اسکول میں میرا گواہ تھی کہ یہ لکھ سکتا۔ روزے کے پشکوس کا رنگ تھا تو کہانی لکھنے کا شوق وہ میرا تھا۔ اور میرا تھا تیسری کلاس میں مسلسل لکھتا تھا اور بہت لکھتا تھا۔ مجھ سے میں تقریباً بریروئڈ میں یہ کہانی لکھ لیتا تھا۔ اچھا ٹیچر اس زمانے میں یہ ہوتا تھا کہ ٹیچر بورڈ میں سوال و جواب لکھتی تھی بچے کافی میں ہوتا تھے۔ تو بچے کافی سے وہ ہوتا رہتے تھے۔ میں کیا کہتا تھا تو میں اس کو پڑھتا تھا اور مجھے یاد رہتا تھا۔ بچے ہوتا رہتے تھے۔ میں کہانی کی طرح ہوتا تھا۔ اچھا اور وہ اس زمانے کی تقریباً یعنی سمجھیں کہ اسی بیشتر یا نمی بیشتر کہانیاں۔ وہ کلاس کے دوستوں کے ناموں سے چھپتی ہیں۔ میرے نام سے نہیں چھپتی ہیں۔ اچھا ہاں میرے ایک دوست تھا مجھے نہیں پتا تھا کہ کیسے چھپتی ہیں۔
ابن آس کا فری لانسنگ اور صحافت کا آغاز
ابن آس نے بتایا کہ وہاں سے پروفیشنل میں صحافت سے بی پیسے کمانے لگا۔ فری لانسنگ لکھ کر ترجمہ بیٹھ کے ترجمہ سیکھا میں نے پھر ترجمہ بیٹھ کے کہانی لکھی ڈائجسٹو میں لکھنے لگا۔ سسپینس میں جا سووسی میں سرگوش میں دوسرے جو ڈائجسٹو پیسے لے دیتے تھے۔ اور جو خواتین کے اسطاقی لسانے تھے نا فیشن کے ان میں فی آرٹیویلز دو سو روپیا دو سو روپیا ملتے تھے۔ اور جو لوگ تنخواہ میں ملتے ہیں پانچ دس آرٹیا کمانے دس آرٹیا تنخواہ ہوتی۔ بہت اچھے ایڈیٹر بھی زمانے میں اچھا اور سیلاوی بیس آرٹیا صرف فری لانسنگ لکھ کر کمانے لکھا۔ اچھا اور سیلاوی الگ ہوتی تھی۔ مجھے اس طرح میری ایک زندگی ایک ذہنت شروع ہو گئی۔ تو یہ ایک اسٹرنگل کی کہانی ہے۔ تو جو پڑھ کر پیسے نکل گئے ہوتے۔ اگر اللہ شکر کرے تو میرے بچے یہ مستری میں پڑھتے ہیں۔ جو میں نہیں پڑھ سکا میرے بچے پڑھتے ہیں۔ جو بعد میں مجھے پڑھائی آگے جاری کی۔ پھر بیٹے تک میں نے کیا اور میری بیٹی کدا ہونے کے بعد میں نے پھر دوبارہ میٹرک کیا اندر کیا پھر بیٹے کیا میں نے۔ بیٹی میرے خیال چار سال کے ہوئی ہے اس کے بعد پھر میں نے کیا۔ پھر وہ بیٹے کے بعد پھر روکے پھر ایک گیپ آگیا بیج میں کیونکہ بچے چار ہوگئے بڑے ہوگئے۔ مجھ سے وہی زندگی کی پوری کہانی جو ہے۔ ہاں ہاں ہاں کوئی سننتی نہیں بھی ہے۔
ابن آس کی کتابیں اور کہانیوں کی تعداد
ابن آس نے بتایا کہ آپ نے تعریف میں بتایا تھا کہ میری کہانی کتابیں جو میری کتابی شکل میں جو آئی ہیں وہ انیس ہیں۔ انیس انیس کتابیں میری آ چکی ہیں جس کے اندر تین شاید کہانی کے مجموعے ہیں۔ باقی وہ یہ نوبلٹ کا کتاب ہے۔ اور وہ اتفاق سے یہ ساری کتابیں جو آئی ہیں یہ بچوں کی آئی ہیں۔ بڑوں کے افسانوں کے بڑے کوئی مجموعہ نہیں آیا۔ ابھی بڑوں کا نوبل کا کوئی کتابی شکل میں شکل میں نہیں آیا۔ اس انیس میں دس تو وہی ہیں جو پچھلے سال سے آئی ہیں۔ ہاں ہاں ملا گئے وہ ملا گئے۔ اچھا اس کے علاوہ جو مختلف جسائل میں میری کہانیاں جو کستوار جو سبھی ہیں۔ وہ مجھ سے نوبل جو ہے کستوار جو ابھی کتابی شکل میں نہیں آئے۔ وہ ہوں گی مجھے کہہ رہا ہے چونتیس پینتیس نوبل وہ ہیں۔ اس کے علاوہ کوئی اٹھارہ کتابیں جو تھیں جو نیشنل بک پبلیکیشن کے لیے میں نے تیار کی تھی۔ وہ چھکنی آسانیسوں میں بارہ کتابوں میں نام ملتا تھا۔ مجھے مجموعہ تھے بارہ۔ اس کے علاوہ کہانیوں کی دادار جو ہے۔ وہ ایک ادادہ کے مطابق چھ ہزار سے کتنی زیادہ ہوتی ہے۔ اچھا تو وہ میں نے ضمان کرنا شروع کر دیئے۔ اس کے علاوہ انشاءاللہ کتابوں میں کچھ چھکانگ کرنا چاہتا ہوں۔ دوسرا علاوہ یہ ہے کہ یہ ساری ڈیٹائل میری کیا کہتے ہیں اس کو ویکی پی ٹی پر پڑی گئی تو یہ ویکی پی ٹی پر میں پوری تمام کہانی کی فیرش مل رہا ہوں بہت زیادہ۔ انشاءاللہ تیار کرتے کہ میری سے ہزار کہانی کی فیرش پوری انشاءاللہ مل جائے گا۔
ابن آس کا ڈراموں اور فلموں کا کام
ابن آس نے بتایا کہ تو یہ آپ کو بہت زیادہ کچھ چھکانگ کی سے ہزارے میں کس ہزارے میں کس ہزارے میں کس جگہ چھیپی ہے۔ وہ میں جمع کر رہا ہوں اور وہ اس کی فیرش مل رہی ہے۔ اسی طرح ڈرامی میرے دھائی سو سے زیادہ ہو چکے ہیں۔ اور ڈراموں کی فیرش تو آپ کو مل جائے کہ مل گئی ہے۔ تقریباً اس میں جو سنگل پلائز ہیں اور جو فلمیں ہیں ٹیلی فلمیں وہ ابھی آگئی ہیں۔ سیریلز اور اس کے سارے ڈیٹائل وہاں موجود ہیں۔ وہ ستر کے قریب ٹیلی فلموں کی ڈیٹائل بھی موجود ہیں۔ تو جو ویب کے لیے کام کر رہا ہوں ویب کے لیے نکل رہا ہوں۔ وہ بھی اس کی ٹیٹروں میں وہاں مل جائے گی۔ تو جو ڈائریکشن کا کام کیا۔ وہ بھی اس کی ٹیٹروں میں مل جائے گی۔ جو میری زندگی جو میں بتا رہا ہوں۔ یہ سب ٹیٹر آپ نے یہ میں نے ویکیو میڈیا پر دلوا دیا کیسے کے ذریعے۔ تو یہ تو یہ سنگل کی زندگی۔ اچھا آپ نے جو اپنا ابتدائی سفر ہے۔ اور جو اب تک کا سفر ہے۔ اس کا ایک تھوڑی سی سمجھھی تو دیان کی ہے۔ ایک چیز جو میں زیادہ انٹریسٹ سے جس میں مجھے انٹریسٹ ہے معلوم کرنا چاہوں گا۔ کہ افسانہ نگار، ڈراما نگار، بچوں کا رائٹر یہ وہ اپنے آپ کو کس جگہ زیادہ کمفرٹیبل محسوس کی ہے اور کیوں؟ دیکھنا بارہ یہ ہے کہ جب سے میں صحافتی زندگی میں آیا تو صحافت میرا ذریعہ معاشی بنی ہوں۔ اچھا اور جو رسائل میں ہے، ڈائجیسٹوں میں لکھا وہ بھی میرا ذریعہ معاشی کے لیے بہت پتہ دانا والا کام ہے۔ سارا تو جو معاشی ضرورت میں بھی لکھے دانا والی چیزیں۔ مجھے ان جو عجیب صدا پر وہاں نہیں دیکھا۔ خاص طور پر جو عجیب رسائل میں افسانہ چھپے ہوئے۔ وہ ایک الیہدہ کام ہے۔ لیکن بچوں جو کام ہے۔ جس سے مجھے کوئی مالی منفیت کبھی نہیں ہوئی زندگی میں۔ وہ ہمیشہ شوق رہا۔ اور کیونکہ میں نکل کے آیا تھا بچوں کے ڈر سے۔ تو مجھے سب سے زیادہ مزا بچوں کے ذریعہ بچوں کی چیزیں لکھنے میں آتا ہے۔ اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ میری سرمایہ کامی ہے۔ باقی چیزوں سے میں کھاتا ہوں، یہ میری سرمایہ کھاتی ہیں۔ ابھی بھی حالاتک ٹائم نہیں ملتا مجھے لیکن میں کوشش کرتا ہوں کہ جیسے ٹائم ملتا میں بچوں کے ذریعہ بچوں کے ذریعہ لکھتا ہوں۔ اور ہر وقت کوئی نہ کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو میں بچوں کے ذریعہ لکھ رہا ہوتا ہوں۔ جس کا مالی منفیت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اور مجھے لگتا ہے کہ یہی اگر میں کبھی زندہ رہا یا ہوتا نہیں بھی کسی عدید کے لیے کہ ہوتا ہے کہ کیا چیز اس کی زندہ لے جائے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ بچوں کے ذریعہ بچوں کے ذریعہ بچوں کے ذریعہ۔
ابن آس کا کتابوں کا شوق اور ڈنگو
ابن آس نے بتایا کہ مجھے جب ایسے گھر میں رہنے کے قابل ہوں کہ مجھ پر تین گھڑیاں بند تھی تو پھر مجھے بیہ امی سے کہو کتابیں دے دیں کہاں بولی میں بند تھی۔ لازم اپنے گھر میں رکھو تاں امی تو کو مجھے بیج دی۔ تو بڑی اچھوش میں بہت ساری ایسی میری تحریریں تھی جو سفیر بی تھی۔ وہ پہلندے بولتے تھے لگتی ہے پھر ڈھیر تھے۔ وہ سارے تھے۔ تو پھر لیکن ساتھ ساتھ کتابیں تو خریدنی کا عمل میرا جان بھی رہتا تھا۔ پرانی بھی اور نئی بھی میں خریدتا رہتا تھا۔ کتابوں کا میرا شوق تھا۔ میری باڈی آمدنی ہمیشہ کتابوں کے اندر خرج ہوتی رہی۔ تو ادھر بھی گھر میں کتابیں جمع ہو گئی تھی۔ تو یہ گھر شفٹ کرتے تھے۔ ہم کرائے کے لیے۔ تو ہر سال کے بعد جب ہم گھر شفٹ کرتے تھے۔ تو وہ کتابوں کی دارہ تو ایک سلوکی بڑھ جاتی تھی۔ تو ایک ہمارا ڈنگو ہم نے کبھی بنایا بی نہیں کھانا۔ کتابیں بھری ہوتی تھی اور وہ اتنی بہتر تھی۔ وہ غلط طریقے سے لکھی ہوتی تھی۔ وہ گھر کی طرح ہوتی تھی۔ سیکا بار کی رویا ہوتی ہے۔ بیگم ٹنگ کیسے۔ تو یہاں پر جب بی لاسٹ میرا کرتا۔ مہاں پر میں نے وہ کتابیں میری ڈنگو بھری ہوتی۔ اور بیگم بڑی تکلیم میں لے دیتی۔ کہ ہم ڈنگو نہیں ہیں ہمارے پاس بھی۔ تو جب میرے پاس کچھ پیسے آیا۔ میں نے پیسے کمائے۔ جامو سے ایک سلسلہ شروع ہوا۔ زیادہ پیسے کمانے کا۔ اس سے پہلے تو زیادہ صاحب کی کیوں۔ حدیث کی زندگی۔ فیلانس کی کیا ہوتا ہے۔ بنتو مولد ہوتا ہے۔ بنتو مولد ہوتا ہے۔ تو جامو سے کچھ پیسے جب کمائے۔ تو میں نے پہلا گھر کھانی دائی۔ فلیٹ کھانی دائی۔ میں نے دو۔ تو بیٹ کا ڈنگ پرانا سا تھا۔ وہ اور سستا تھوڑا سا مل گئے تھا۔ مجھے تو کتابیں لائے۔ میں نے وہاں رکھی۔ اور اس کے میں نے اپنا کتاب کارو مانا لیا۔ تو میری ایک جگہ بنتی۔ مثال جو بیگم جی کہتی ہے کہ آپ نے رہنے کیلئے گھرنے کھانی دا۔ کتاب کتنی جی۔ ترکتی کیلئے تو کتابیں لائے۔ تو میں اتنھر وہاں تک لے جاتا ہوں۔ لیکن آج کل مجھے میں کام ہو رہا ہوں۔ کیونکہ لیپ ٹاپ نے بہت ساری چیزیں وہاں پر دینے کی۔ ابھی بھی میں ہاتھ سے لکھتا ہوں اور کاغذ پر لکھتا ہوں۔ اکثر چیزیں کہانیاں خاص طور پر بچ چکی۔ جو میں ہاتھ سے لکھ رہا ہوتا ہوں۔ پھر اس کو ٹائپ کرتا ہوں دوبارہ۔ ٹائپ کرتا ہوں۔ میں اس کو ایلٹ کر دیتا ہوں۔ یاد آتی ہے۔ سلسلہ آتی ہے جاری ہے۔ تو وہ کاغذ رکھ کے درمیان کتاب کے درمیان بیٹھنے کا نشہ ہے۔ وہ نشہ اس کا تو کوئی بدل ہی نہیں ہے۔ مجھے آپ بنایاں۔ وہ کتابیں نہ بھی پڑھ رہا ہوں۔ مجھے ایک رومنٹ جگہ ہے۔ نا آپ کے لئے مجھے کتاب۔ آپ کے قریب کتابیں ہیں۔ جس سے میں ابھی کتابوں کے درمیان بیٹھے رہا ہوں۔ یہ جو ایک رومانسی ہے۔ اس سے بڑا میں رومانسی ہونے نہیں سکتا۔ میسی کاغذ کی خوشبو کا تو میرا ذاتی بھی تجربہ یہ ہے کہ آپ کمپیوٹر پر لیپٹوک پر کمیپوز کر کے اپنی تحریر لکھ سکتے ہیں۔ لیکن اس میں وہ آمد نہیں ہوتی۔ جو کاغذ پنسل سے لکھنے میں آمد ہوتی۔ آپ کا سلسلہ جو ہے۔ وہ آمد کا سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ اور کمپیوٹر پر لکھنے میں ذرا صرف پوٹ جاتا ہے۔ ہم ذرا صرف اپنا رخ چینج کرتے ہیں۔
ابن آس کے موجودہ منصوبے اور خیالات
ابن آس نے بتایا کہ مسلسل کتابیں کتابیں کتابیں کتابیں۔ ابن آس کا ایک اور محبت ہے۔ کتابوں کے حوالے سے۔ ابن آس نے کچھ پبلک پلیسز کے اوپر چھوٹی چھوٹی لائبریز بنانے کا خواب دیکھا۔ تھوڑا سا اس خواب کے بارے میں بتائیں۔ اصل میں میں نے ایک خواب نہیں دیکھا۔ میں نے مجھے لگا کہ اپنی زندگی میں کچھ ٹالنٹ بنانا چاہیے۔ ایک اسٹرنٹ کیس پر آگے مجھے لگا کہ کچھ ایسے دو چار کام کرنے چاہیے جو خوران ناکام ہو جائیں۔ لیکن آپ کے پاس ایک ٹالنٹ بنانا چاہیے کہ میں یہ کرنا چاہتا ہوں۔ تو وہ دو تین پوجیکٹ تھے وہ میرے ایک پوجیکٹ اچھے اتفاقی طور پر وہ تینوں اس طرح شروع نہیں ہوئے۔ جس طرح میں سوچ رہا تھا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ میں میں بتاؤں کبھی آپ کو۔ پہلا پوجیکٹ میں نے شروع کیا۔ فلم لیٹریچر کے نام سے۔ مجھے ایسا کام کرنا ہے جو فلم لیٹریچر کی تین مجھے جتنی بکری میں سب جمع کرنی ہو جائے۔ ایک پھر دوسرا پوجیکٹ میں نے شروع کیا بچوں کا ادب کے نام سے اس پر بڑا کام کیا لوگوں نے اس پر شمولت کی۔ پیسے بھی پہنچے وہ سب میرے پاس چیزیں۔ جمع ہو گئی ہیں اس کی بڑی کام شروع کیا۔ اور ثالثاً یہ تیسری چیز سامنے آئی جو ابن آسفی لائبری کا پوجیکٹ تھا۔ یہ میں نے سوچا۔ یہ جو لائبری پوجیکٹ ہے اس میں بھی ہم جارہے ہیں۔ تو میں باقی جب سے چیزیں کر رہا ہوں۔ کچھ لوگ رہے ہیں لیکن اس کے اندر کچھ اپنا تعاون بھی دیا اور لائبریس ڈولیسش اس کے ساتھ چلتا ہے۔ کیونکہ اس میں انویسمنٹ زیادہ ہے۔ وہ پوجیکٹ کچھ ایوں ہے کہ ہم نے سوچا کہ مختلف لائبریس سے جو لائبری ختم ہو چکا ہے۔ کتابوں تک رسائی مشکل ہو گئی۔ یہ لوگوں کی کتابیں ہیں۔ جن کو کتاب پڑھنے شوق ہیں ان کے لئے کتاب مہنگی ہیں۔ جن کو شوق نہیں ہیں ان کے لئے بہت سستی ہیں۔ کوڑیوں کے لئے بہت طریقے سے۔ تو ان لوگوں تک کتاب پہنچائی جائے۔ اور ریڈنگ بیڈ بڑھائی جائے۔ اور وہ ریڈنگ بیڈ اس طرح نہ بڑھائی جائے کہ جی آپ کتاب پڑھیں۔ وہ تو سبھی کہتے ہیں اتنے کوئی نہیں پڑھتا۔ کتاب ان کی دستیسی تک پہنچا دی جائے۔ اور وہ پہنچانے کا آسان طریقہ۔ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو گھر میں لائبری ہونا چاہیے۔ اچھا لیکن ان کو اردو پڑھنا آتی تھی۔ تو وہ ان کی بھی کچھ کتابیں پڑھی رہتی تھی۔ حالانکہ مزدور آدمی تھے۔ اڈے میں بیٹھ کے مزدوری کرنے والے تقیداری کرتے تھے۔ جملہ بہت اچھا بولتے تھے۔ جو میں نے دماغ میں بیٹھ گیا تاستہ۔ جملہ کہتے تھے جس آدمی کے لئے کتابیں نہ ہونا اس پر کوئی بھروسہ مکرنا۔ یہ ایک ایسا جملہ تھا پتہ نہیں نہیں پڑھا تھا انہوں نے کہیں سوچا تھا۔ کہ ان کے دماغ میں بات آگئی تھی۔ یا کسی نے ان سے کہا تھا۔ یہ کچھ نہیں پتہ۔ لیکن وہ افضل بولتے تھے کہ مجھ سے کسی کے بارے بات ہوئی تو بولتے تھے کہ مجھ سے بات کرو۔ اس کے گھر میں دیکھو کتابیں ہیں۔ کتابیں ہیں تو بھروسہ کرنے رہا ہوں۔ مجھ سے ان کے دماغ میں مزدور آدمی دماغ میں بات کرتی تھی۔ کہ جس آدمی کا تعلق کتابوں سے ہوگا وہ دھوکہ نہیں دے سکتا۔ کیونکہ اس کے بعد شہور ہوگا۔ اس کے بعد علم ہوگا۔ اس بچے برے کا پتہ ہوگا۔ وہ قصدہ دھوکہ نہیں دے سکتا۔ اس کے ساتھ کچھ نسیب ہو سکتا ہے۔ اس کے ساتھ اس سے کسیوں تقلیب ہو سکتی ہے۔ لیکن وہ قصدہ نہیں کرے گا۔ کیونکہ اس کے بعد علم ہوگا۔ یہ ایک مزدور آدمی کی بات۔ تو میرے ذہن میں یہ آیا کہ گھروں میں لمحی تلقی کے کنچے تھوڑا ختم ہو گیا ہے۔ تو ایسی جگہ پر جہاں پر لوگ بیٹھ کے انتظار کر رہے ہوتے ہیں اپنی باری کا۔ وہ ڈینٹسٹ کی دوکان کی ہو سکتی ہے۔ شاپ ہو سکتی ہے جو کھلنے کی ہو سکتا ہے۔ وہ کوئی ویڈنگ لوم ہو سکتا ہے۔ اور وہ کوئی نائی کی دوکان ہو سکتی ہے۔ تو نائی کی دوکان پر وہ لوگ بیٹھے رہے ہوتے ہیں۔ جو میڈر گلاس ہوتے ہیں۔ جو اب تو بر ایئر گلاس کے لوگ بھی ہیں۔ لیکن وہ ظاہر ان کے اپنے وہاں پر چیزیں نہیں چلتی۔ لیکن میڈر گلاس کے لوگوں کیونکہ ان کے اندر اُرگیا بڑھنے کی رواب ہوتی ہے۔ اور ان کو کتاب پڑھنا ہوتی ہے۔ ان کو کتاب پڑھنا ہوتی ہے۔ وہ لوگ بڑے بنتے ہیں۔ ہم تور پر تے بڑے لوگ ہیں آپ دیکھیں کہ میڈر گلاس سے نکلتے ہیں۔ کیونکہ وہ پڑھتے ہیں ان میں سے چیزیں نکلتی ہیں۔ تو ہم نے
ابن آس کی کہانی سے حاصل ہونے والے سبق
ابن آس کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل ہوں، مستقل محنت اور شوق کامیابی کی ضمانت ہیں۔ ان کی کہانی نوجوانوں کو یہ باور کراتی ہے کہ مزدوری کرنے والے بھی مصنف بن سکتے ہیں۔ ابن آس ثابت کرتے ہیں کہ پڑھنے کا شوق انسان کو کسی بھی مقام تک پہنچا سکتا ہے۔ غربت، تعلیم کی کمی اور مزدوری کے باوجود انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بچوں کے ادب کو اپنا مشن بنایا۔
نتیجہ: ابن آس کی میراث
ابن آس کی زندگی ایک روشن مثال ہے۔ ایک ان پڑھ مزدور کے بیٹے سے مشہور مصنف، ڈراما نگار اور صحافی بننے تک کا سفر حوصلہ افزا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی ابن آس کی طرح اپنے شوق کو زندہ رکھیں اور محنت کرتے رہیں۔ ان کا انٹرویو ضرور سنیں اور ان کی تحریروں سے مستفید ہوں۔ ابن آس کی یہ کہانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خواب دیکھنا اور ان کے پیچھے لگنا کبھی بے کار نہیں جاتا۔


