فکر اقبال کی ایک نئی جہت
ڈاکٹرمعین الدین عقیل
عصرِ حاضر میں فکرِ اقبال کی عالمگیر اہمیت
علامہ اقبال اپنے دور اور عہد اور اردو و فارسی زبانوں کے ایسے منفرد و ممتاز اور فلسفی و دانش ور شاعر ہیں کہ جو اپنی ساری زندگی اوراپنی کل فکر و حیات میں اپنی حکمت و دانائی کے وسیلے سے اپنے ہر دور و ادوار کے انسانوں اور مخاطبین کواپنی دانش وفکر سے فیض یاب کرنے میں ہمہ وقت مصروف و منہمک رہے ہیں، تب ہی آج علوم ِ شرقی سے واقف یا دل چسپی رکھنے والا ہر تعلیم یافتہ فرد کسی نہ کسی حد تک اقبال اور ان کی شاعری اور اس میں موجود ان کی دانش و حکمت سے ضرور کسی نہ کسی حد تک واقف ضرور ہوتاہے
بل کہ کچھ باشعور و تعلیم یافتہ افراد اقبال کی فکروحکمت سے متاثر بھی ہوتے ہیں کہ اس کے مطابق اپنے اطراف کی دنیا اور معاشرت اور اس کے ماضی و مستقبل سے اپنا ربط و رشتہ بھی قائم کرنے سے نہیں چوکتے! یہی وجہ ہے کہ اقبال کی فکر و دانش اور علوم اسلامیہ سے ان کی نسبت و تعلق نے انسانوں کو اقبال کے فکری مطالعے و جائزے کے لیے جس حد تک عالمِ اسلام کے تمام مفکرین و دانش وروں کے مقابلے میں اقبال کو کہیں زیادہ اپنا موضوعِ مطالعہ بنایا کہ اطرافِ عالم اور خصوصاً مشرقی ممالک میں یہ سلسلہ روز بہ روز وسیع تر ہی ہوتارہاہے اور ہورہاہے۔
‘زبورِ عجم’ کا اسلوب اور شارحین کا بنیادی نکتہ
اقبال کی فکر و حکمت ان کے خطبات: ‘تشکیل جدید الہیات اسلام’ میں جس طرح اور جس صورت میں مدون و مرتب ہوئی ہے ،ان کے فارسی و اردو شعری مجموعوں میں کہیں زیادہ موثر و دل نشیں اسلوب میں ترتیب پائی ہے اور شائقین کو لبھانے کا بھی کام موثر صورت میں انجام دیتی ہے۔ چناں چہ ان کے متعدد شعری مجموعے فارسی و اردو میں اپنا کردار دلنشیں و موثر صورت میں انجام دے کر فکرِ اقبال کو مقبولِ عام بنانے میں اپنا کردار بڑی خوبی سے انجام دیتے رہے ہیں۔ ان سے قطع نظر ‘زبورِ عجم’ ، جو آج اس وقت زیرِ نظر سطور میں موضوع گفتگو ہے
ان کے بڑی حد تک دور آخر ہی کے کلام پر مشتمل کہا جاسکتاہے، یہ ایک تجرباتی صورت کو سامنے لاتاہے کہ دیگر مجموعوں کے مقابلے میں اس مجموعے میں اسلوب و ہئیت کے لحاظ سے یہ تجربہ نمایاں ہے کہ اس میں شامل غزلیں ، بقول ڈاکٹر عابد شیروانی صاحب، ایک دوسرے سے معنوی اعتبار سے قدرے مربوط ہیں اور دراصل یہ غزلیں ایک دوسرے کے سہارے آگے بڑھی ہیں۔
اس موقع پر فاضل مصنف نے کوشش کی ہے اور جو بہت مفید ہے کہ قاری کو فکراقبال سے قریب یا واقف کرانے کے لیے شعر میں موجود اہم یا بنیادی الفاظ سے متعارف کرایا جائے اور بنیادی الفاظ ہی پر مرکوز رہ کر شرح لکھی جائے جو قارئین کے ذہن نشیں ہوسکے۔ پھر ان تمام اشعار میں موجود اہم الفاظ کو پیش ِ نظر رکھ کر ان کی تشریح کی جائے جس سے الفاظ اپنے سیاق و سباق کے ساتھ قارئین پر واضح ہوسکیں۔
ڈاکٹر عابد شیروانی کا طرزِ فکر اور تصنیفی خدمت
اپنے ایک مخصوص طرزِ فکر و اسلوب کے اعتبار سے فاضل مصنف نے اپنی اس زیر تذکرہ تصنیف کو اقبال کی معروف تخلیق ‘زبورِ عجم’ پر منحصر رکھا ہے جب کہ’ زبور ِ عجم’کی تخلیقی اہمیت کے پیشِ نظر چند دیگر مصنفین اور دانش وروں نے بھی عہد ِسابق میں بڑی صراحت و وضاحت کے ساتھ اس کی شرحیں تصنیف کی ہیں جب کہ اس کےایک جزو کو فاضل مصنف نے بہ ایں صورت زیرِ نظر اشاعت میں پیش کیاہے اور یقین ہے کہ جلد اگلی اشاعت بھی اسی پر مشتمل ہوگی اور قارئین ان دونوں سے لطف بھی اٹھائیں گے اور کماحقہٗ مستفید بھی ہوں گے۔
زیر تذکرہ تصنیف کے فاضل مصنف ڈاکٹر عابد شیروانی صاحب بظاہر ایک قانون دان اور وکالت کے پیشے سے منسلک ہیں اور ایک بھرپور سماجی زندگی گزارتے اور ساتھ ہی تصنیف و تالیف کے شغل سے بھی وابستہ ہیں اور بالخصوص اقبال کی حیات و فکر کی تعبیر و تشریح سے متعلق موضوعات و عنوانات پر حد درجے غور و فکر پر مشتمل موضوعات کو اپنی تخلیق و تصنیف کا موضوع بناتے اور اپنے قارئین کو اپنی فکر و دانش اور اپنے نتائج ِ فکر و آگہی سے ممنون و شکر گزار کرتے رہتے ہیں۔
موصوف کی ان تصانیف اور ان کے افکارو خیالات کے فیض رساں ان کے ہم پیشہ معاصرین تو ہوتے ہی ہوں گے جب کہ ان کے موضوعاتِ تصنیف و تخلیق تو عام اقبال پسند قارئین اور شائقینِ علم و ادب ایک عام توجہ اپنے پیش کردہ موضوعات کے طفیل ضرور حاصل کرتے ہوں گے اور واقعہ یہ بھی کم تعجب خیز نہیں کہ ایک دور جو ملک کے ممتاز قانون دانوں پر مشتمل ہوتاتھا
بے حد وقیع قانون داں بھی علم و ادب کے میدان میں اپنی دل چسپیوں، اپنی تصنیف و تالیف اور اپنی فکر وآگہی سے ملک و قوم کا نام روشن کرتے رہے ہیں، اس زیرِ نظر تصنیف کے فاضل مصنف واقعتاً اسی قبیل میں اپنا نام شامل کرنے یا شمار کروانے کے واقعتاً حق دار ہیں!
کتاب کا علمی و ادبی مقام اور مبارک باد
زیرِ نظر تصنیف اپنے موضوعات کے ساتھ ساتھ اپنے میں شامل فکر و حکمت کے طفیل بھی ایک بڑی کشش اپنے مخصوص قارئین کے لیے ایسی رکھتی ہے کہ جس کے طفیل نہ صرف یہ تصنیف اپنا ایک وقار اور اپنی ایک اہمیت کی یوں حامل ہے کہ جن کے طفیل اس تصنیف کو ایک خاص توجہ اور اہمیت ایسی حاصل رہے گی کہ اقبالیات میں اس تصنیف کو، فاضل مصنف کی سابقہ تصانیف کی طرح، ایک قدروقیمت کا ہر طبقے اور ہر حلقے میں حامل ضرورسمجھا جائے گا۔
صرف یہی نہیں کہ اس تصنیف کی مذکورہ حاضر صفات اس تصنیف کو ایک وقعت و فضیلت عطا کرتی ہیں بل کہ مصنف کا اسلوب اور فنی و تخلیقی نکات بھی اس تصنیف کو یہ امتیاز عطا کرتی ہیں کہ آج شاذ ہی کسی مصنف کو ان صبر آزما مراحل سے اس طرح گزرنا پڑتا ہوگا جن سے فاضل مصنف نے اس تصنیف میں یقیناً سامنا کیاہے۔ ان مراحل اور ایسی آزمائشوں سے گزرنے پر فاضل مصنف ڈاکٹر عابد شیروانی صاحب یقیناً حقیقی مبارک باد کے حق دار ہیں۔
لہٰذا اس تصنیف کے موضوع و معیار کو دیکھتے ہوئے اس کے قارئین کو اس کتاب کےممکنہ اگلے حصے کا انتظار رہے گا۔




