خوجی ایک حقیقت تھا:طالب علم کی مدد کا دلچسپ اور سبق آموز قصہ

خوجی ایک حقیقت تھا: ایک طالب علم کی مدد کا دلچسپ اور سبق آموز قصہ

خوجی ایک حقیقت تھا — یہ جملہ بظاہر ایک ادبی کردار کے بارے میں محسوس ہوتا ہے، لیکن اس دلچسپ قصے میں یہی خیال ایک حقیقی انسان کے کردار سے جڑ جاتا ہے۔ شاہ  محی الحق فاروقی صاحب کی کتاب ”سرگزشت“ میں شامل یہ واقعہ مختصر ہونے کے باوجود انسانی ہمدردی، دوستی، تعلیم اور بے غرض مدد کی ایک خوبصورت تصویر پیش کرتا ہے۔

مکمل قصہ سننے کے لیے نیچے وڈیو پر کلک کریں

 

خوجی اور اردو ادب

اردو ادب سے واقف افراد کے لیے خوجی کوئی نیا نام نہیں۔ پنڈت رتن ناتھ سرشار کی مشہور تصنیف ”فسانۂ آزاد“ میں خوجی ایک نمایاں اور یادگار کردار کے طور پر سامنے آتا ہے۔ راوی کے زمانۂ طالب علمی میں بھی اردو کی نصابی کتابوں میں خوجی کے مختلف کارنامے پڑھنے اور سننے کو ملتے تھے، لیکن ایک حقیقی واقعے نے بعد میں ان کے تصور کو بدل دیا کہ خوجی ایک حقیقت تھا۔

راوی نے دسویں جماعت کے زمانے میں خوجی سے متعلق ایک بالکل مختلف نوعیت کا واقعہ دیکھا۔ اس واقعے نے انہیں یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ شاید خوجی صرف افسانوی کردار نہیں بلکہ حقیقی زندگی میں بھی ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو دوسروں کی مشکلات دور کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کرتے ہیں۔ یوں ادبی خوجی اور حقیقی زندگی کے ایک مددگار انسان کے درمیان ایک دلچسپ تعلق قائم ہوگیا۔

اکرام الحق کی زندگی میں مشکل وقت

یہ قصہ راوی کے عزیز بھائی اکرام الحق سے متعلق ہے۔ اکرام نے انٹرمیڈیٹ کا امتحان دیا تھا اور ان کے نتیجے کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ مگر نتیجہ آنے سے تقریباً دو دن پہلے ان کے والد، سب انسپکٹر نعیم الحق صاحب، اچانک انتقال کر گئے۔

اکرام اچھے نمبروں سے کامیاب ہوگئے، لیکن والد کے انتقال کے بعد ان کے سامنے تعلیم جاری رکھنے کا مسئلہ کھڑا ہوگیا۔ یونیورسٹی کی تعلیم کے اخراجات اور مستقبل کی فکر خاندان کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن گئی۔ ایسے حالات میں کسی طالب علم کے لیے صرف کامیابی کافی نہیں ہوتی، بلکہ اسے آگے بڑھنے کے لیے مالی اور اخلاقی سہارا بھی درکار ہوتا ہے۔ اسی مرحلے پر اس قصے میں خوجی ایک حقیقت تھا کا پہلو سامنے آتا ہے۔

کلکتہ سے آنے والا خط

والد کے انتقال کے کچھ دن بعد اکرام کے نام کلکتہ سے ایک کاروباری لفافہ موصول ہوا۔ لفافہ کھولا گیا تو اس میں ایک لیٹر ہیڈ پر لکھا ہوا خط موجود تھا۔ خط سیٹھ احمد خوجی کے سیکریٹری کی طرف سے تھا۔

خط میں بتایا گیا تھا کہ عبدالرحمن صدیقی صاحب کی سفارش پر سیٹھ احمد خوجی نے اپنے تعلیمی ٹرسٹ سے اکرام الحق کی یونیورسٹی تعلیم کے لیے دو سال تک ماہانہ چالیس روپے کا وظیفہ منظور کیا ہے۔ یہ خبر خاندان کے لیے حیران کن بھی تھی اور خوشی کا باعث بھی۔

سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ اکرام کے لیے اتنی دور بیٹھے لوگوں نے مدد کا انتظام کیسے کیا؟ خاندان کے افراد نہ سیٹھ احمد خوجی کو جانتے تھے اور نہ ہی عبدالرحمن صدیقی صاحب سے واقف تھے۔ یہی وہ مقام تھا جہاں اس واقعے کی اصل کہانی آہستہ آہستہ سامنے آنا شروع ہوئی اور معلوم ہوا کہ خوجی ایک حقیقت تھا۔

وظیفے نے شک ختم کر دیا

شروع میں خاندان کے افراد کو یہ خیال بھی آیا کہ شاید کسی نے مذاق کیا ہو یا کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی ہو۔ لیکن تقریباً ایک ہفتے بعد منی آرڈر کے ذریعے پہلے مہینے کا وظیفہ بھی پہنچ گیا۔

اب کسی شک کی گنجائش نہیں رہی تھی۔ اکرام کے لیے واقعی تعلیمی وظیفے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ایک ایسے وقت میں جب والد کے انتقال کے بعد ان کی تعلیم خطرے میں پڑ سکتی تھی، کسی نے ان کے مستقبل کے بارے میں سوچا تھا۔ اس مدد کی اصل وجہ اور پس منظر ابھی مکمل طور پر واضح نہیں ہوا تھا، لیکن اس واقعے سے یہ ضرور ثابت ہوگیا کہ خوجی ایک حقیقت تھا۔

عبدالرحمن صدیقی کا خط

کچھ عرصے بعد اس قصے کا ایک اور دلچسپ حصہ سامنے آیا۔ ایک دن راوی اور چند دوسرے لڑکے ڈاک خانے گئے۔ ان کی ذمہ داری تھی کہ اپنے جاننے والوں کے خطوط ڈاک خانے سے لے کر ان تک پہنچائیں۔

اسی دوران انہیں قمر چچا کے نام کلکتہ سے ایک خط ملا۔ لفافے پر کلکتہ کا نام دیکھ کر ان کا تجسس بڑھ گیا۔ انہوں نے شرارتاً لفافہ کھول لیا۔ خط عبدالرحمن صدیقی صاحب کا تھا۔

خط کے آخر میں بہت مختصر انداز میں لکھا تھا کہ جس لڑکے کے لیے قمر چچا نے لکھا تھا، انہوں نے اس کے لیے ایک صاحب سے بات کر دی ہے اور امید ہے کہ کچھ نہ کچھ انتظام ہوجائے گا۔

یہ مختصر سا جملہ دراصل اکرام الحق کے وظیفے کی پوری کہانی کا اہم سرا تھا۔ اب معلوم ہوگیا کہ قمر چچا نے اکرام کے لیے عبدالرحمن صدیقی صاحب سے مدد کی درخواست کی تھی اور انہوں نے آگے سیٹھ احمد خوجی سے بات کی تھی۔ یوں آخرکار وہ راز کھل گیا کہ خوجی ایک حقیقت تھا۔

ایک غیر معمولی بے تکلف شخصیت

عبدالرحمن صدیقی صاحب کا خط بھی اپنے انداز میں غیر معمولی تھا۔ اس میں انتہائی بے تکلف زبان استعمال کی گئی تھی۔ راوی اور دوسرے لڑکوں نے پہلی مرتبہ کسی شخص کو تحریری شکل میں اتنے بے تکلف انداز میں گفتگو کرتے دیکھا۔

جب قمر چچا نے خط پڑھا تو وہ مسکرائے اور اسے پھاڑ کر پھینک دیا۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ عبدالرحمن صدیقی اور قمر چچا کے درمیان تعلق رسمی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ پرانی دوستی اور بے تکلفی پر قائم تھا۔ یہی بے تکلف تعلق شاید اس بات کی وجہ بھی بنا کہ اکرام کی مشکل کے وقت مدد کرنے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کی گئی۔

عبدالرحمن صدیقی اور قمر چچا کی دوستی

قصے کے مطابق عبدالرحمن صدیقی صاحب خلافت تحریک کے معروف رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے اور سندھ سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ علی گڑھ کے سابق طلبہ میں بھی ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ قمر چچا اور عبدالرحمن صدیقی کے تعلقات بھی علی گڑھ کے زمانے سے چلے آرہے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ دونوں کے سیاسی خیالات مختلف ہوگئے۔ عبدالرحمن صدیقی مسلم لیگ سے وابستہ ہوگئے جبکہ قمر چچا کانگریس کے ساتھ رہے۔ تاہم سیاسی اختلاف کے باوجود ان کی ذاتی دوستی برقرار رہی۔ یہی تعلق بعد میں اکرام الحق کی تعلیم کے لیے مدد کا سبب بنا۔ اس طرح خوجی ایک حقیقت تھا صرف ایک ادبی خیال نہیں بلکہ کئی حقیقی انسانی تعلقات سے جڑی ہوئی کہانی بن جاتا ہے۔

تعلیم کی مدد کیوں اہم ہے؟

اس قصے کا سب سے اہم پہلو ایک طالب علم کی تعلیم کا تحفظ ہے۔ اکرام نے انٹرمیڈیٹ میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کی تھی اور ان کے سامنے یونیورسٹی کی تعلیم کا راستہ تھا، لیکن والد کے انتقال نے مالی حالات کو مشکل بنا دیا۔

ایسے موقع پر اگر کسی طالب علم کو صرف مالی مشکلات کی وجہ سے تعلیم چھوڑنی پڑے تو اس کی صلاحیتیں ضائع ہوسکتی ہیں۔ اکرام کے لیے منظور ہونے والا وظیفہ اسی مشکل کو دور کرنے کی کوشش تھا۔ اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ کسی مستحق اور قابل طالب علم کی مدد کرنا دراصل اس کے مستقبل کو سنوارنے میں حصہ لینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس پوری داستان میں خوجی ایک حقیقت تھا کا تصور ایک مثبت انسانی کردار کی علامت بن جاتا ہے۔

کہانی کا اصل سبق

اس واقعے کو صرف ایک دلچسپ قصہ سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ اس میں انسان دوستی کا ایک گہرا پیغام موجود ہے۔ مدد کرنے والے شخص نے اکرام کے مستقبل کے لیے اپنا کردار ادا کیا، جبکہ شاید اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کی مدد کو برسوں بعد ایک دلچسپ قصے کے طور پر یاد کیا جائے گا۔

حقیقی زندگی میں ایسے لوگ ہمیشہ نمایاں نہیں ہوتے۔ وہ خاموشی سے دوسروں کے لیے آسانیاں پیدا کرتے ہیں اور اکثر ان کے اچھے کام کا چرچا بھی نہیں ہوتا۔ اسی لیے یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوجی ایک حقیقت تھا اور حقیقی دنیا میں بھی ایسے کردار موجود ہوسکتے ہیں جو دوسروں کے لیے امید کا ذریعہ بن جائیں۔

ادب اور حقیقت کا خوبصورت تعلق

ادب میں تخلیق کیے گئے کردار کبھی کبھی ہماری حقیقی زندگی کے لوگوں کو سمجھنے کا ایک ذریعہ بن جاتے ہیں۔ خوجی بھی ایسا ہی ایک کردار تھا جسے راوی نے بچپن اور طالب علمی کے زمانے میں کتابوں میں پڑھا تھا۔ لیکن جب انہیں ایک ایسے شخص کے عمل کا علم ہوا جو دوسروں کی مدد کرنے میں غیر معمولی تھا تو انہیں محسوس ہوا کہ افسانوی کردار اور حقیقی زندگی کے کرداروں میں بعض اوقات حیرت انگیز مماثلت پیدا ہوجاتی ہے۔

اسی لیے یہ کہنا کہ خوجی ایک حقیقت تھا محض لفظی بات نہیں بلکہ اس قصے کا مرکزی احساس ہے۔ ایک ادبی کردار نے راوی کے ذہن میں جو تصور پیدا کیا تھا، حقیقی زندگی کے ایک واقعے نے اسے ایک نئی معنویت دے دی۔

اختتامیہ

آخرکار یہ قصہ ہمیں ایک ایسے طالب علم کی داستان سناتا ہے جس کی تعلیم والد کے انتقال کے بعد مشکلات میں گھر گئی، لیکن ایک پرانے تعلق، ایک سفارش اور ایک تعلیمی ٹرسٹ کے ذریعے اس کے لیے مدد کا راستہ نکالا گیا۔ سیٹھ احمد خوجی کی طرف سے وظیفے کا انتظام اور عبدالرحمن صدیقی کی سفارش اس کہانی کے اہم حصے ہیں۔

اس واقعے کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں دوستی، انسان دوستی، تعلیم کی اہمیت اور بے غرض مدد سب ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ شاید اسی لیے راوی کو محسوس ہوا کہ خوجی ایک حقیقت تھا — کیونکہ حقیقی زندگی میں بھی ایسے کردار موجود ہوتے ہیں جو دوسروں کی مشکل گھڑی میں ان کے لیے امید بن جاتے ہیں۔

یہ قصہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ کسی کی تعلیم جاری رکھنے میں مدد کرنا صرف ایک مالی تعاون نہیں بلکہ اس کے مستقبل کو بہتر بنانے کی کوشش ہے۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص کسی ایک مستحق طالب علم کی مدد کا ذمہ لے تو بہت سے خواب ادھورے رہنے سے بچ سکتے ہیں۔ یہی اس دلچسپ قصے کا سب سے خوبصورت اور دیرپا سبق ہے۔