پاکستان میں تاریخ کا قتل — ڈاکٹر کے کے عزیز

کے کے عزیز

پاکستان میں تاریخ کا قتل — ڈاکٹر کے کے عزیز کی کتاب کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ

کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ ایک قوم اپنے بچوں کو برسوں تک ایسی تاریخ پڑھاتی رہے جس میں بعض واقعات غلط بیان کیے گئے ہوں، بعض کرداروں کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہو اور بعض اہم حقائق سرے سے غائب ہوں؟ اور اگر کوئی مؤرخ ان کتابوں کا جائزہ لے کر یہ سوال اٹھائے کہ ہم اپنی نئی نسل کو تاریخ پڑھا رہے ہیں یا ایک مخصوص تصورِ تاریخ یاد کروا رہے ہیں، تو کیا ہوگا؟

The Murder of History in Pakistanپاکستان کے معروف مؤرخ ڈاکٹر کے کے عزیز نے اپنی کتاب

 میں یہی سوال اٹھایا ہے۔ اس کتاب کا موضوع محض تاریخی غلطیوں کی نشان دہی نہیں بلکہ پاکستان کے نظامِ تعلیم، نصابی کتابوں کی تیاری، ریاستی اثرورسوخ اور نئی نسل کی فکری تربیت کا جائزہ بھی ہے۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

کے کے عزیز

کتاب کا تعارف

The Murder of History in Pakistan: A Critique of History Textbooks Used in Pakistanکتاب کا مکمل انگریزی عنوان

 ہے۔ اس کے مصنف کے کے عزیز ہیں۔ فراہم کردہ کے دیباچے پر 2 فروری 1993، لاہور درج ہے۔ یہ نسخہ ثانی ایچ پنہور کی تیار کردہ ڈیجیٹل بازاشاعت ہے اور اس میں 231  صفحات ہیں۔ اصل مطبوعہ نسخے کی اشاعتی تفصیلات کو اس بازاشاعت سے الگ سمجھنا ضروری ہے۔

مصنف دیباچے میں بتاتے ہیں کہ انہوں نے جماعت اول سے چودھویں تک استعمال ہونے والی معاشرتی علوم، مطالعۂ پاکستان اور تاریخ کی 66 نصابی کتابوں کا جائزہ لیا۔ ان کا مقصد غلط تاریخ کی صرف شکایت کرنا نہیں تھا بلکہ غلطیوں کی نوعیت، اسباب اور تعلیمی و سماجی نتائج کا مطالعہ بھی تھا۔

مصنف کا تعارف: ڈاکٹر کے کے عزیز

کے کے عزیز پاکستانی تاریخ نویسی اور تاریخی تحقیق سے وابستہ ایک نمایاں نام ہیں۔ زیرِ نظر کتاب میں وہ خود اپنے علمی اور تدریسی تجربے، بیرونِ ملک مطالعے اور تدریس، اور پاکستانی مؤرخین اور نصابی کتابوں پر سابقہ کام کا ذکر کرتے ہیں۔

ان کے نزدیک مؤرخ کا فرض محض ماضی کے واقعات دہرانا نہیں بلکہ ان کی صحت، پس منظر، تعبیر اور شواہد کو پرکھنا بھی ہے۔ ان کا اسلوب واضح، سخت، طنزیہ اور بعض مقامات پر خاصا تلخ ہے۔ وہ تاریخ نویسی میں سرکاری مصلحت اور سیاسی وفاداری کے بجائے علمی دیانت کو بنیادی اہمیت دیتے ہیں۔

 کتاب کا مرکزی خیال

کے کے عزیز کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ نصابی کتابیں جب تحقیق اور تاریخی تنقید کے بجائے سرکاری ترجیحات کے تابع ہو جائیں تو طالب علم کے سامنے ماضی کی نامکمل تصویر آتی ہے۔

کے کے عزیز کے مطابق مسئلہ صرف غلط تاریخ یا غلط نام کا نہیں۔ اصل خطرہ یہ ہے کہ بچہ کسی بیان کو اس لیے درست سمجھنے لگے کہ وہ نصابی کتاب میں چھپا ہوا ہے۔ اس طرح سوال کرنے، مختلف شواہد دیکھنے اور آزادانہ نتیجہ اخذ کرنے کی صلاحیت کمزور پڑ سکتی ہے۔

یہ کتاب بنیادی طور پر 1990 کی دہائی کے اوائل تک کی نصابی صورتِ حال کا مطالعہ ہے۔ اسے آج کے تمام پاکستانی نصاب کی براہِ راست تحقیق سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

 باب اول: The Prescribed Myths — نصاب میں شامل تاریخی تصورات

کتاب کا پہلا باب سب سے زیادہ تفصیلی ہے۔کے کے عزیز مختلف جماعتوں، زبانوں اور علاقوں کی نصابی کتابوں سے مثالیں جمع کرتے ہیں۔

وہ دکھاتے ہیں کہ ابتدائی جماعتوں میں بچوں کو پیچیدہ تاریخی مسائل بہت مختصر اور قطعی جوابات کی صورت میں پڑھائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کے قیام کو صرف ایک شخصیت کے عمل کے طور پر بیان کرنے پر وہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا ایک وسیع سیاسی اور آئینی جدوجہد کو ایک جملے میں سمیٹ دینا مناسب ہے؟

مصنف قائداعظم کی تاریخی اہمیت سے انکار کرنے کے بجائے قیامِ پاکستان کے قانونی، سیاسی، سماجی اور اجتماعی پہلوؤں پر توجہ دلاتے ہیں۔

وہ اس امر پر بھی تنقید کرتے ہیں کہ بعض کتابوں میں مخصوص شخصیات کی تعریف تو ملتی ہے لیکن ان کے سیاسی کردار کے اختلافی یا پیچیدہ پہلو غائب ہوتے ہیں۔

اس باب کی اہم خوبی یہ ہے کہ مصنف عمومی الزامات لگانے کے بجائے زیرِ مطالعہ کتابوں، ان کے مصنفین، جماعتوں اور صفحات کی نشان دہی کرتے ہیں۔ تاہم ان کے اپنے بعض فیصلے بھی سخت اور بحث طلب ہیں۔

 باب دوم: The Calamity of Errors — غلطیوں کا المیہ

دوسرے باب میں مصنف پہلے باب میں سامنے آنے والی غلطیوں کی درجہ بندی اور تصحیح کرتے ہیں۔

وہ تاریخی تاریخوں، شخصیات کی تعلیم، سیاسی جماعتوں کے مقاصد، تحریکِ پاکستان، قراردادِ لاہور، 1857 کے واقعات اور دیگر موضوعات پر نصابی بیانات کا جائزہ لیتے ہیں۔

قراردادِ لاہور ان کی بحث کی ایک نمایاں مثال ہے۔ مصنف 23 مارچ کو قرارداد پیش ہونے اور 24 مارچ کو اس کی منظوری کے فرق پر زور دیتے ہیں۔ اسی طرح وہ قرارداد کے اصل الفاظ اور بعد کی مقبول تشریحات میں امتیاز کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہاں ایک اہم اصول سامنے آتا ہے: کسی تاریخی دستاویز کے متعلق فیصلہ کرتے وقت اس کے اصل متن، اجلاس کی کارروائی اور معاصر شواہد کو دیکھنا چاہیے۔

مصنف بعض نصابی کتابوں میں 1971 کے سانحے کی ایسی وضاحت پر بھی تنقید کرتے ہیں جس میں داخلی سیاسی مسائل کو نظر انداز کرکے تقریباً پوری ذمہ داری بیرونی مداخلت پر ڈال دی جاتی ہے۔

اس باب کی اہمیت اس لیے ہے کہ یہ تاریخ کو محض یادداشت کا مضمون سمجھنے کے بجائے شواہد کی جانچ کا موضوع بناتا ہے۔

 باب سوم: The Road to Ruin — تباہی کی طرف سفر

تیسرے باب میں بحث انفرادی غلطیوں سے آگے بڑھ کر نظامِ تعلیم کی مجموعی صورتِ حال تک پہنچتی ہے۔

مصنف سوال کرتے ہیں کہ نصابی کتابوں کی طباعت، زبان، ترتیب، پیشکش اور مواد کے معیار پر مناسب توجہ کیوں نہیں دی جاتی؟ وہ سمجھتے ہیں کہ بچے کی کتاب دلچسپ، واضح اور اس کی ذہنی عمر کے مطابق ہونی چاہیے۔

اس باب کا ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ناقص نصاب صرف معلومات کی کمی پیدا نہیں کرتا بلکہ مطالعے سے بے زاری اور رٹے کی عادت بھی پیدا کر سکتا ہے۔

مصنف ان تاریخی واقعات اور شخصیات کی طرف بھی توجہ دلاتے ہیں جنہیں ان کے مطابق نصابی تاریخ میں مناسب جگہ نہیں ملی۔ خاص طور پر بنگال کی سیاسی و فکری تاریخ، علاقائی تحریکوں اور مختلف سیاسی رجحانات کو نظر انداز کرنے کا معاملہ اٹھاتے ہیں۔

وہ تاریخ کو ایک مسلسل ارتقا پذیر عمل سمجھتے ہیں جس میں اختلافات، غلط فیصلے، کامیابیاں اور ناکامیاں سب شامل ہیں۔

باب چہارم: The Burden of Responsibility — ذمہ داری کس پر ہے؟

چوتھے باب میں کے کے عزیز ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں: اگر نصابی کتابوں میں اتنی غلطیاں ہیں تو ان کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟

ان کے نزدیک سب سے بڑی ذمہ داری حکومتی اور تعلیمی اداروں کی ہے، اس کے بعد کتابوں کے مصنفین اور اساتذہ کی۔

وہ نصابی کتابوں کی تیاری، منظوری، نگرانی اور تدریس کے پورے انتظامی ڈھانچے کو موضوع بناتے ہیں۔

مصنف کے استدلال کے مطابق جب حکومت نصابی کتاب کو تعلیمی وسیلے کے بجائے اپنی پسندیدہ تاریخی تعبیر کی ترویج کا ذریعہ بناتی ہے تو علمی آزادی متاثر ہوتی ہے۔

وہ یہ بھی واضح کرتے ہیں کہ غلط معلومات کا اثر صرف اسکول تک محدود نہیں رہتا۔ انہی کتابوں سے تعلیم حاصل کرنے والے لوگ آگے چل کر استاد، صحافی، مصنف، سرکاری افسر اور معاشرے کے مؤثر افراد بنتے ہیں۔ یوں ایک غلط بیانی کئی نسلوں تک منتقل ہو سکتی ہے۔

 کتاب کی نمایاں خوبیاں

اس کتاب کی سب سے بڑی طاقت اس کا نصابی مواد پر براہِ راست انحصار ہے۔ کے کے عزیز 66 کتابوں کا جائزہ لے کر اپنی تنقید کے لیے ایک وسیع بنیادی مواد فراہم کرتے ہیں۔

دوسری خوبی ان کا یہ اصرار ہے کہ تاریخی دعوے کا ثبوت ہونا چاہیے۔ کسی واقعے کی مقبولیت اس کی صحت کی ضمانت نہیں۔

تیسری خوبی یہ ہے کہ وہ تاریخ کو قومی شناخت، زبان، تعلیم، سیاست اور شہری شعور سے جوڑتے ہیں۔

کتاب کا طنزیہ اور بے باک انداز اسے محض خشک تحقیقی مطالعہ نہیں رہنے دیتا۔ کئی مقامات پر قاری محسوس کرتا ہے کہ مصنف ایک سنجیدہ علمی مسئلے پر شدید اضطراب میں مبتلا ہے۔

کتاب کی حدود اور تنقیدی جائزہ

کتاب کی اہمیت کے باوجود اسے تنقید سے بالاتر نہیں سمجھنا چاہیے۔

اول، یہ اپنے زمانے کے نصابی مواد کا مطالعہ ہے۔ بعد کی تعلیمی اصلاحات یا موجودہ نصاب کے بارے میں نتیجہ نکالنے کے لیے نئی تحقیق ضروری ہے۔

دوم، مصنف کی بعض تاریخی تعبیریں، بالخصوص سیاسی شخصیات کے باہمی تعلقات اور بعض متنازع واقعات سے متعلق آرا، مزید آزاد شواہد اور دوسرے مؤرخین کے مطالعے کا تقاضا کرتی ہیں۔

سوم، بعض مقامات پر ان کا سخت لہجہ تحقیقی استدلال پر غالب محسوس ہوتا ہے۔ ان کے طنز سے تحریر میں جان تو پیدا ہوتی ہے لیکن مخالف نقطۂ نظر کی پوری نمائندگی ہمیشہ نہیں ہو پاتی۔

چہارم، مصنف نے نصابی کتابوں کے متن کا تفصیلی جائزہ لیا ہے، لیکن طلبہ کی ذہنی تشکیل پر ان کتابوں کے حقیقی اثرات جانچنے کے لیے الگ تعلیمی اور سماجی تحقیق کی ضرورت ہے۔

ان حدود کے باوجود کتاب تاریخ نویسی، نصابی پالیسی اور تعلیم میں علمی دیانت کے متعلق اہم سوالات اٹھاتی ہے۔

آج کے پاکستان کے لیے اس کتاب کا پیغام

اس کتاب کو پڑھتے ہوئے ایک سوال بار بار سامنے آتا ہے: ہم اپنے بچوں کو معلومات دے رہے ہیں یا سوچنے کا طریقہ سکھا رہے ہیں؟

اگر ایک طالب علم کسی تاریخی دعوے کے بارے میں یہ پوچھ سکے کہ اس کا ثبوت کیا ہے، دوسرے مؤرخین کیا کہتے ہیں اور اصل دستاویز میں کیا لکھا ہے، تو وہ محض امتحان کی تیاری نہیں بلکہ تاریخ کو سمجھنا شروع کرتا ہے۔

اساتذہ کے لیے اس کتاب کا سبق یہ ہے کہ نصابی عبارت آخری فیصلہ نہیں ہوتی۔ والدین کے لیے پیغام یہ ہے کہ بچوں کے سوالات کی حوصلہ افزائی کی جائے۔ اور نصاب بنانے والوں کے لیے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ علمی تحقیق، شواہد اور مختلف تاریخی نقطہ ہائے نظر کو مناسب جگہ دی جائے۔

مجموعی رائے: کیا یہ کتاب پڑھنی چاہیے؟

The Murder of History in Pakistan ہر اس قاری کے لیے اہم مطالعہ ہے جو پاکستان کی تاریخ، تعلیمی نظام اور قومی بیانیے کی تشکیل کو سمجھنا چاہتا ہے۔

یہ کتاب پڑھنے والے کو تمام تاریخی سوالات کے حتمی جواب نہیں دیتی۔ بلکہ اس کی اصل اہمیت یہ ہے کہ وہ قاری کو پہلے سے دیے گئے جوابات پر دوبارہ غور کرنے کی دعوت دیتی ہے۔

اسے پڑھتے ہوئے کے کے عزیز کے اپنے دعووں کو بھی اسی تنقیدی معیار پر جانچنا چاہیے جس کا مطالبہ وہ نصابی مصنفین سے کرتے ہیں۔

آخر میں سوال صرف یہ نہیں رہتا کہ ہماری تاریخ کی کتابوں میں کیا لکھا ہے۔ سوال یہ بن جاتا ہے کہ کیا ہم اپنی نئی نسل کو ماضی کی حقیقت جاننے کا حوصلہ دے رہے ہیں؟

تاریخ سے محبت کا مطلب ہر روایت کو درست مان لینا نہیں۔ تاریخ سے محبت کا مطلب یہ بھی ہے کہ جہاں ضرورت ہو، ہم اپنی پسندیدہ روایت سے سوال کرنے کی جرأت رکھیں۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں