ڈاکٹر اقبال محسن: علم، ارضیات، کتابوں اور زندگی کے تجربات کی داستان
ڈاکٹر اقبال محسن کی زندگی علم، تحقیق، تدریس، مطالعے اور معاشرتی مشاہدے کا ایک طویل سفر ہے۔ ان کی گفتگو میں ایک طرف ارضیات جیسے سائنسی شعبے کی گہرائی نظر آتی ہے تو دوسری طرف کتابوں، زبان، تعلیم اور نوجوان نسل کے مستقبل کے بارے میں ایک استاد کی فکر بھی نمایاں ہوتی ہے۔ ان کے تجربات کراچی سے بلوچستان، چیکوسلواکیہ سے دوبارہ پاکستان واپسی اور یونیورسٹی کی تدریس تک پھیلے ہوئے ہیں۔
مکمل انٹرویو دیکھنے کے لیے نیچے وڈیو پر کلک کریں۔
ابتدائی زندگی اور کراچی سے تعلق
ڈاکٹر اقبال محسن نے اپنی گفتگو میں بتایا کہ ان کی پیدائش دیسنا میں ہوئی، جو پٹنہ سے تقریباً 60 میل کے فاصلے پر ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ ان کے مطابق اس وقت دیسنا میں جدید سہولیات بہت زیادہ نہیں تھیں، لیکن تعلیم کا ماحول خاصا مضبوط تھا۔ اسی علمی ماحول اور خاندان کی تعلیمی روایت نے ان کی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر اقبال محسن نے بچپن کا ایک بڑا حصہ کراچی میں گزارا۔ کراچی آنے کے بعد انہوں نے صدر کے علاقے میں تعلیم حاصل کی اور بعد میں بہار کالونی اور شیرشاہ سے بھی ان کا تعلق رہا۔ ان کے مطابق اسکول ان کی زندگی میں خاص اہمیت رکھتا تھا کیونکہ وہاں انہیں صرف نصابی تعلیم نہیں بلکہ مختلف سرگرمیوں، مباحثوں اور عملی زندگی سے متعلق بہت سی مہارتیں سیکھنے کا موقع ملا۔
تعلیم اور ارضیات کی طرف سفر
ڈاکٹر اقبال محسن نے ڈی جے کالج سے انٹرمیڈیٹ کیا اور بعد ازاں کراچی یونیورسٹی میں ارضیات کے شعبے سے وابستہ ہوئے۔ ان کے مطابق کالج کے زمانے میں ان کی دلچسپی صرف کتابی تعلیم تک محدود نہیں تھی بلکہ وہ مباحثوں، تقریبات اور دیگر سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ یونیورسٹی میں ارضیات کا شعبہ ان کے لیے ایک نئے علمی سفر کا آغاز ثابت ہوا۔
ڈاکٹر اقبال محسن کے لیے ارضیات محض ایک تعلیمی مضمون نہیں بلکہ عملی مشاہدے اور تحقیق کا میدان بھی تھا۔ انہوں نے ماسٹرز مکمل کرنے کے بعد اسی شعبے میں لیکچرار کی حیثیت سے کام شروع کیا۔ بعد میں انہیں چیکوسلواکیہ میں اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے لیے اسکالرشپ ملی، جس نے ان کے علمی سفر کو ایک نیا رخ دیا۔
چیکوسلواکیہ میں پی ایچ ڈی کا تجربہ
ڈاکٹر اقبال محسن نے چیکوسلواکیہ میں پی ایچ ڈی کے دوران نہ صرف تحقیق کی بلکہ ایک نئی زبان اور مختلف معاشرتی ماحول سے بھی واقفیت حاصل کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہاں پہنچنے کے بعد انہیں زبان سیکھنے کے لیے باقاعدہ تربیت دی گئی۔ ان کی زبان سیکھنے میں دلچسپی اتنی زیادہ تھی کہ کچھ عرصے بعد وہ مقامی زبان میں کافی روانی سے گفتگو کرنے لگے۔
ڈاکٹر اقبال محسن کے مطابق ان کے پروفیسر نے ان کی پی ایچ ڈی کے کام کے لیے پہلے ہی ایک تفصیلی خاکہ تیار کر دیا تھا۔ واپس آنے کے بعد انہوں نے اسی منصوبے کے مطابق تحقیق، فیلڈ سروے اور لیبارٹری کے کام کو آگے بڑھایا۔ اس تجربے نے ان کی تحقیقی صلاحیتوں کو مضبوط کیا اور انہیں عملی تحقیق کی اہمیت کا احساس دلایا۔
پاکستان واپسی اور بلوچستان یونیورسٹی
ڈاکٹر اقبال محسن 1970 کے آس پاس پاکستان واپس آئے اور اس وقت بلوچستان یونیورسٹی کے ابتدائی عملے کا حصہ بنے۔ انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی کے ابتدائی دنوں میں مختلف شعبوں کے چند اساتذہ کے ساتھ کام کا آغاز ہوا۔ ارضیات، کیمسٹری اور فزکس جیسے شعبوں نے ایک نئی یونیورسٹی کے علمی ڈھانچے کی بنیاد رکھنے میں کردار ادا کیا۔
ڈاکٹر اقبال محسن نے بلوچستان میں اپنے تدریسی تجربے کے ساتھ ساتھ معدنیات اور پہاڑوں کے سروے سے متعلق عملی کام بھی کیا۔ یونیورسٹی سے وابستگی سے قبل انہوں نے ایک کان کنی کمپنی میں بھی کام کیا، جہاں انہیں پہاڑی علاقوں کے سروے اور معدنی ذخائر کے مشاہدے کا موقع ملا۔ یہی تجربات بعد میں ان کی تدریس کے لیے بھی مفید ثابت ہوئے۔
ایک استاد کے طور پر ڈاکٹر اقبال محسن
ڈاکٹر اقبال محسن کی گفتگو کا ایک نمایاں پہلو استاد کے کردار کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر ہے۔ ان کے نزدیک اچھا استاد صرف کتاب کے صفحات پڑھانے والا شخص نہیں ہوتا بلکہ وہ طالب علم کی سوچ اور شخصیت کی تشکیل میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔ ان کے مطابق تدریس کے دوران وہ طلبہ میں علمی اور اخلاقی سوچ پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
ڈاکٹر اقبال محسن کے مطابق کئی سال گزرنے کے بعد بھی سابق طلبہ جب ان سے ملتے ہیں اور اپنی زندگی میں استاد کی کسی بات کے فائدے کا ذکر کرتے ہیں تو یہ ان کے لیے بڑی خوشی کی بات ہوتی ہے۔ ایک استاد کے لیے شاید یہی سب سے اہم کامیابی ہے کہ اس کے الفاظ کلاس روم سے نکل کر طالب علم کی عملی زندگی کا حصہ بن جائیں۔
کتابوں سے محبت اور مطالعے کا سفر
ڈاکٹر اقبال محسن نے اپنی گفتگو میں کتابوں اور مطالعے کے بارے میں بھی تفصیل سے بات کی۔ ان کے مطابق انہیں بچپن ہی سے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ بڑے بھائی کے ذریعے انہیں مختلف مصنفین سے تعارف حاصل ہوا اور بعد میں انہوں نے خود لائبریری سے کتابیں حاصل کرکے پڑھنا شروع کیا۔
ڈاکٹر اقبال محسن فکشن اور نان فکشن دونوں طرح کی کتابوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں اردو ادب کے کئی اہم نام سامنے آتے ہیں، جن میں میر، غالب، اقبال، فیض، احمد فراز اور پروین شاکر شامل ہیں۔ وہ ناول، سفرنامے، خودنوشت اور دیگر ادبی اصناف بھی پڑھتے رہے ہیں۔
مشتاق احمد یوسفی اور اچھے ادب کی اہمیت
ڈاکٹر اقبال محسن نے مشتاق احمد یوسفی کے اسلوب اور تحریری کام کو خاص طور پر سراہا۔ ان کے مطابق یوسفی صاحب اپنی تحریر پر طویل عرصے تک نظرثانی کرتے تھے اور یہی عمل ان کی نثر کو بہتر بناتا تھا۔ ان کے نزدیک اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جسے دوبارہ پڑھنے کی خواہش پیدا ہو اور جس سے قاری کو لطف کے ساتھ کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملے۔
ڈاکٹر اقبال محسن کے خیال میں مطالعہ صرف امتحان یا اقتباس حاصل کرنے کے لیے نہیں ہونا چاہیے۔ کتاب کو اس کی اپنی خوبی اور علمی یا ادبی قدر کی وجہ سے پڑھنا چاہیے۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ کتابیں ایسی ہیں جنہیں وہ بار بار پڑھتے رہے ہیں، کیونکہ ہر مرتبہ ان میں کوئی نئی بات محسوس ہوتی ہے۔
“بنجارے کا بینک بیلنس” اور تحریری سفر
ڈاکٹر اقبال محسن کی کتاب “بنجارے کا بینک بیلنس” بھی ان کے طویل تجربات، مشاہدات اور تحریری کام کا مجموعہ ہے۔ اس کتاب کے مواد میں مختلف موضوعات شامل ہیں اور یہ کسی ایک صنف تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق اس کتاب میں زندگی کے مختلف تجربات، یادیں، مضامین اور مشاہدات ایک جگہ جمع ہوگئے ہیں۔
ڈاکٹر اقبال محسن نے بتایا کہ ان کی تحریری سرگرمی خاص طور پر بعد کے برسوں میں زیادہ بڑھی۔ کووڈ کے دوران انہیں لکھنے کے لیے زیادہ وقت ملا اور انہوں نے مختلف موضوعات پر مضامین تحریر کیے۔ بعد میں ان کے کچھ مضامین کتاب کا حصہ بھی بنے۔ اس طرح ان کا تحریری سفر ان کی پیشہ ورانہ زندگی کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا رہا۔
سوشل میڈیا اور کتاب کا تعلق
ڈاکٹر اقبال محسن سوشل میڈیا کو کتاب کا مکمل متبادل نہیں سمجھتے۔ ان کے مطابق سوشل میڈیا مصنف اور قاری کے درمیان رابطے کا ایک نیا ذریعہ ہے۔ انہوں نے اپنی تحریروں اور ویڈیوز کو سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس سے انہیں نئے قارئین تک پہنچنے کا موقع ملا۔
ڈاکٹر اقبال محسن کے تجربے کے مطابق اگر کسی ویڈیو کو ہزاروں لوگ دیکھتے ہیں تو اس سے مصنف کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور یہی دلچسپی بعد میں کتاب کی صورت اختیار کرسکتی ہے۔ اس لحاظ سے سوشل میڈیا کتاب کے مقابلے میں نہیں بلکہ کتاب کی تشہیر اور قارئین تک رسائی کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔
اردو، تعلیم اور نئی نسل
ڈاکٹر اقبال محسن نے اردو زبان اور تعلیم کے مستقبل پر بھی اہم گفتگو کی۔ ان کے مطابق نئی نسل کے لیے زبان کو آسان اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرنا ضروری ہے۔ اگر زبان بہت مشکل ہوجائے تو نوجوان اس سے دور ہوسکتے ہیں، اس لیے بدلتے وقت کے ساتھ زبان کے انداز کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر اقبال محسن کا خیال ہے کہ زیادہ زبانیں سیکھنے سے انسان کی فکری دنیا وسیع ہوتی ہے۔ بیرون ملک رہنے والی نئی نسل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بہت سے نوجوان اردو بول اور سمجھ سکتے ہیں لیکن اردو پڑھنے اور لکھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ اسی لیے آڈیو اور ویڈیو جیسے ذرائع کو بھی زبان کے فروغ کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔
کراچی، ارضیات اور قدرتی خطرات
ڈاکٹر اقبال محسن نے کراچی کے جغرافیہ اور ارضیاتی خصوصیات پر بھی گفتگو کی۔ انہوں نے ٹیکٹونک پلیٹس، زلزلوں، سیلاب اور سونامی جیسے قدرتی عوامل کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ کسی شہر کی جغرافیائی ساخت کو سمجھنا قدرتی خطرات کے بارے میں آگاہی کے لیے ضروری ہے۔
ڈاکٹر اقبال محسن نے خاص طور پر یہ وضاحت کی کہ کراچی کا پورا شہر سطح سمندر سے نیچے نہیں ہے۔ ساحلی علاقوں اور شہر کے اندرونی حصوں کی بلندی میں فرق ہے۔ انہوں نے 1945 کے مکران ساحلی سونامی کا بھی حوالہ دیا اور بتایا کہ ماضی کے واقعات کو سمجھنا مستقبل کے قدرتی خطرات سے متعلق آگاہی میں مدد دے سکتا ہے۔
نوجوانوں کے لیے امید کا پیغام
ڈاکٹر اقبال محسن کی گفتگو کا اختتام نوجوانوں کے لیے ایک امید بھرے پیغام پر ہوتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کے موجودہ حالات، مایوسی اور مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے نوجوانوں کو اپنی کوششیں جاری رکھنے کی تلقین کی۔ ان کے مطابق حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور تبدیلی وقت کے ساتھ آتی ہے۔
ڈاکٹر اقبال محسن کے پیغام کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ نوجوان اپنے علم، محنت اور جذبے کو برقرار رکھیں۔ مواقع ہمیشہ ایک جیسے نہیں ہوتے، لیکن جب موقع ملے تو اسے استعمال کرنا چاہیے۔ ان کی طویل تدریسی اور تحقیقی زندگی میں بھی یہی تصور نمایاں نظر آتا ہے کہ علم حاصل کرنا اور اسے دوسروں تک پہنچانا ایک مسلسل عمل ہے۔
اختتامیہ
ڈاکٹر اقبال محسن کی زندگی ایک استاد، محقق، ماہرِ ارضیات اور قاری کے مختلف کرداروں کا مجموعہ ہے۔ دیسنا سے کراچی، کراچی سے بلوچستان، پھر بیرون ملک اعلیٰ تعلیم اور واپس پاکستان آکر تدریس تک ان کا سفر کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ ان کے تجربات یہ دکھاتے ہیں کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ سوچ، تحقیق، مطالعے اور تجربے کو زندگی کا حصہ بنانے کا عمل بھی ہے۔
ڈاکٹر اقبال محسن کی گفتگو میں کتاب، زبان، سائنس، تعلیم اور نوجوان نسل سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کا پیغام خاص طور پر نئی نسل کے لیے یہ ہے کہ بدلتے زمانے کے ساتھ نئے ذرائع کو اپنایا جائے، مگر علم، مطالعے اور اپنی زبان سے تعلق برقرار رکھا جائے۔ ان کی زندگی کا سفر اس بات کی مثال ہے کہ علم حاصل کرنے اور اسے دوسروں تک پہنچانے کا عمل عمر کے کسی خاص حصے تک محدود نہیں ہوتا


