میں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کی

 !!!!میں نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں تقریر کی

آج کل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہے، جس میں دنیا بھر کے مختلف سربراہانِ مملکت خطاب کررہے ہیں۔ کل رات میں نے خواب میں دیکھا کہ دیگر سربراہانِ مملکت کی طرح مجھے بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کی دعوت دی گئی ہے۔ دعوت دینے والے سے میں نے پوچھا: “بھائی! میں نہ تو سکندر ہوں، نہ سلطان اور نہ ہی کہیں کا راجہ، تو پھر میری یہ عزت افزائی کیوں؟ میرے پاس تو آپ کا کوئی کام بھی پھنسا ہوا نہیں ہے؟”

! اس پر انہوں نے کہا

“آپ شانتی نگر کے تو راجہ ہیں اور دنیا بھر میں خواہ مخواہ امن کے خواب بھی دیکھتے رہتے ہیں، تو بس اب آپ آئیے اور تقریر کیجیے۔”

میں نے دل میں سوچا کہ یہ خود ہی چاہ رہے ہیں کہ “آ بیل مجھے مار”۔ حالانکہ موجودہ دور میں تو شاید یہ محاورہ بھی بدل گیا ہے اور “جا بیل اسے مار” ہوگیا ہے۔ تو ان حالات میں بیل بننے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ چنانچہ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں پہنچا اور فی البدیہہ جو تقریر کی، وہ کچھ یوں تھی:

لیگ آف نیشنز سے اقوام متحدہ تک کا سفر اس امید پر کیا گیا تھا کہ یہ ادارہ دنیا کے تنازعات کو حل کرنے میں انصاف کے ساتھ اپنا کردار ادا کرے گا اور دنیا کو ایک پُرامن جگہ بنانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔ لیکن بعض ادارے اپنے آغاز ہی میں ایسے سقم اور بنیادی نقائص لے کر وجود میں آتے ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی افادیت پر سوال اٹھنے لگتے ہیں۔

موجودہ حالات میں اقوام متحدہ بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑی دکھائی دیتی ہے۔ اگرچہ یہ ادارہ ابھی زندہ ہے، اس کے دفاتر قائم ہیں، اجلاس ہورہے ہیں، قراردادیں منظور ہوتی ہیں اور تقاریر بھی جاری ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ ادارہ دنیا کے تنازعات کو حل کرنے کے اپنے بنیادی مقصد میں واقعی اتنا ہی مؤثر ہے جتنا اس کے قیام کے وقت اس سے توقع کی گئی تھی؟

آغاز کے سقم سے میری مراد کیا ہے؟

اقوام متحدہ کے چارٹر نے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کو ویٹو کا حق دے کر ابتدا ہی میں عالمی طاقت کے عدم توازن کو ادارے کے نظام کا حصہ بنا دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بعض اہم معاملات میں دنیا کے بیشتر ممالک کی اجتماعی رائے بھی کسی ایک مستقل رکن کی مخالفت کے سامنے بے اثر ہوسکتی ہے۔

یہ بلاشبہ اقوام متحدہ کے نظام کی ایک حقیقت ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نظام کے سب سے بڑے محافظ وہی ممالک بھی رہے ہیں جو اپنے اپنے ملکوں میں جمہوریت، مساوات اور عوام کی رائے کو بنیادی اصول قرار دیتے ہیں۔ لیکن جب معاملہ عالمی طاقت اور اپنے مفادات کے تحفظ کا ہو تو جمہوری اصولوں کی تشریح بھی شاید جغرافیہ اور طاقت دیکھ کر بدل جاتی ہے۔!

 ! جمہوریت کی ماں بھی شاید وہاں پہنچ کر خاموش ہوجاتی  ہے

عالمی سیاست کی اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوگی کہ جس دنیا نے اقوام متحدہ کو امن، انصاف اور عالمی تعاون کا ادارہ بنایا، اسی دنیا نے اس کے نظام میں ایسی طاقت کا دروازہ بھی رکھا کہ چند ممالک کی مرضی پوری دنیا کی اجتماعی خواہش پر بھاری پڑ سکتی ہے۔

اور پھر ذرا اقوام متحدہ کے موجودہ صدر دفتر کی جگہ کی تاریخ بھی دیکھ لیجیے۔ جس مقام پر آج دنیا کے امن اور عالمی تعاون کی بات ہوتی ہے، وہاں کبھی مذبح خانے، صنعتی سرگرمیاں اور ریلوے سے متعلق تنصیبات موجود تھیں۔ بعد میں اسی جگہ دنیا کے سب سے بڑے عالمی ادارے کا مرکز قائم ہوا۔ ویسے بھی تاریخ کبھی کبھی اپنے لطیفے خود لکھتی ہے۔

یہاں John D. Rockefeller Jr. کی جانب سے اقوام متحدہ کے لیے زمین کے حصول میں دیے گئے 8.5 ملین ڈالر کے عطیے اور اس پوری پیش رفت کا ذکر بھی کیا جاسکتا ہے، مگر اسے فی الحال رہنے دیتے ہیں، کیونکہ خواب میں بھی تقریر کا وقت محدود ہوتا ہے

! عالمی ادارے یا عالمی مفادات کے محافظ

اب یہ کوئی راز نہیں کہ دنیا کے بڑے عالمی ادارے طاقت، سیاست اور عالمی مفادات کے پیچیدہ نظام سے الگ نہیں۔ اقوام متحدہ ہو، عالمی مالیاتی ادارے ہوں یا عالمی معیشت کو متاثر کرنے والے دوسرے بڑے ادارے، ان سب کے فیصلوں پر طاقتور ممالک کے اثر و رسوخ کی بحث ہمیشہ موجود رہی ہے۔

دنیا کی حماقت شاید یہ ہے کہ وہ ان اداروں سے انصاف کی ایسی توقع کرتی ہے جیسے عالمی سیاست میں طاقت، مفاد اور مصلحت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہ ہو۔

آپ آج تک دیکھ لیجیے کہ اقوام متحدہ نے کتنے عالمی تنازعات کو مستقل طور پر حل کرایا؟ کشمیر، فلسطین، بوسنیا، چیچنیا اور دنیا کے کئی دوسرے تنازعات ہمارے سامنے ہیں۔ کہیں قراردادیں منظور ہوئیں، کہیں مذمت ہوئی، کہیں مذاکرات کی اپیل کی گئی، مگر کئی تنازعات آج بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔

ہاں، بڑے اور طاقتور ممالک جب چاہیں، جہاں چاہیں، اپنی مرضی کے مطابق عالمی سیاست کا رخ ضرور بدل لیتے ہیں۔

اسی لیے شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ اگر مسئلہ دو چھوٹے ملکوں کا ہو تو مسئلہ غائب ہوجاتا ہے، اگر مسئلہ ایک چھوٹے اور ایک بڑے ملک کے درمیان ہو تو چھوٹا ملک غائب ہوجاتا ہے، اور اگر مسئلہ دو بڑے ممالک کے درمیان ہو تو اقوام متحدہ ہی غائب ہوجاتی ہے!

اب وقت آگیا ہے کہ دنیا کے چھوٹے ممالک بھی اس حقیقت کو سمجھیں کہ عالمی اداروں پر انحصار کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی سلامتی، سفارت کاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی صلاحیتیں بھی مضبوط کرنا ہوں گی۔

فلسطین کا مسئلہ اس حقیقت کی ایک تلخ مثال ہے۔ دہائیوں سے قراردادیں، مذاکرات، اپیلیں اور اجلاس ہوتے رہے، مگر فلسطینی عوام کے بنیادی حقوق اور ایک پائیدار سیاسی حل کا سوال آج بھی اپنی جگہ موجود ہے۔

تو پھر ہم کب تک ان اداروں سے وہ توقعات وابستہ کیے رکھیں گے جنہیں پورا کرنے کی سیاسی طاقت شاید ان کے پاس ہے ہی نہیں؟

اقوام متحدہ کو شاید “اقوام متحدہ” کے بجائے “اقوامِ غیر متحدہ” کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

بس فرق اتنا ہے کہ ابھی اس کا شیرازہ بکھرا نہیں، صرف اس کی بنیادوں پر سوال اٹھنے شروع ہوگئے ہیں۔

اور اگر کبھی ایسا ہوا کہ اقوام متحدہ اپنے انجام کو پہنچی تو مجھے یقین ہے کہ یہ کام بھی باہر سے آنے والے کسی دشمن کے ہاتھوں نہیں بلکہ اس کے اپنے طاقتور مستقل ارکان کے ہاتھوں ہوگا، کیونکہ دنیا کی تاریخ یہی بتاتی ہے کہ بڑے ادارے اکثر باہر کے دشمنوں سے کم اور اندر کے تضادات سے زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔

اب اس کے بعد میری آنکھ بھی نہیں کھلی کہ میں آپ کو بتا سکوں کہ میں واپس آیا بھی یا وہیں رکھ لیا گیا!

جیسے ہی مجھے اپنی کوئی اطلاع ملے گی، میں آپ تمام دوستوں کو فوراً مطلع کروں گا۔ تب تک کے لیے اجازت دیجیے۔

میرا ویسے بھی اللہ ہی حافظ ہے