سفرنامہ امریکا (قسط اول): قطر سے میامی تک ایک خوشگوار سفر کا آغاز

امریکا کا سفر (قسط اول)— ویزا سے میامی اور اورلینڈو تک

خوشی کی خبر اور ویزے کی شروعات

فروری 2026ء کی ابتداء تھی۔ ہم رمضان بسر کرنے کے لیے اپنے بیٹے اور بہو کے پاس عرب ریاست قطر جانے کے لیے پر تول رہے تھے کہ بھتیجے ڈاکٹر فیصل کی اہلیہ تسنیم کی واٹس ایپ کی پوسٹ سے پتا چلا کہ ان کے بیٹے کی جون کے وسط میں شادی خانہ آبادی طے پائی ہے۔

پورا پروگرام تفصیل سے دیا ہوا تھا جس کے مطابق 19 جون کو نکاح، 20 جون کو رخصتی اور 21 جون کو ولیمہ طے پایا تھا۔ یہ سن کر بلکہ پڑھ کر دل مچلنے لگا۔ وہی کیفیت تھی:

ایسا تڑپا ہے یہ دل جو پہلے کبھی دھڑکا بھی نہ تھا

غضب یہ کہ ہمیں اطلاع ہم چاروں یعنی ہماری اہلیہ، بیٹے اور بہو کو ایک ہی وقت دی گئی تھی۔ اس سے قبل کچھ حسنِ اتفاق کہ صاحبزادے نے کچھ کوششوں سے ہم دونوں کا رہائشی ویزا اقطر کا لگوا دیا تھا۔ اس ویزے کی بدولت ہمیں ہر مرتبہ قطر کے سفر کے لیے تفریحی ویزا (Visit Visa) لینے کی ضرورت نہیں تھی۔

دو سال تک آنا جانا ہو سکتا تھا۔ اسی سہولت کی بدولت ہم یہاں قطر سے امریکی ویزے کی درخواست دے سکتے تھے۔ پاکستان سے اس معاملے میں کیا کیا مراحل (Formalities) پیش آ سکتی تھیں اس سے بے خبر تھے بلکہ (متن کے اس حصے میں چند الفاظ اصل اسکین میں غیر واضح ہیں) اپنی منظورِ نظر تک ندی سے راستہ بنانا آسان تھا۔ اسی لیے اس طرف بھی توجہ نہیں دی، لیکن اب اس نئی شکل میں بقول حمایت علی شاعر:

اب تو آرزوئے زیست بھی پلٹی ہے سینے میں

سفارت خانے کا انٹرویو اور پانچ سالہ ویزا

قطر میں رمضان 18 فروری سے شروع ہو گیا اور ہم نے ویزے کے حصول کے لیے کوششوں کا آغاز کر دیا، ہم نے کیا خاک بیٹا اور بہو کا کاغذی کاروائی شروع کر دی۔ سنتے تھے کہ سفارت خانے کے انٹرویو میں بڑے مشکل سوالات پوچھے جاتے ہیں کہ جس کے مقابلے پر پولیس کی تفتیش بھی ماند پڑ جائے۔ تعلیمی قابلیت اور بینک اکاؤنٹ کا پچھلے چھ ماہ کی لین دین (Account) کی تفصیل درج ہو۔

ہمارے پاس تو تعلیمی سند کوئی نہ تھی، اگر تھی تو پاکستان میں، جس کے متعلق غالب کہہ گئے ہیں: بعد مرنے کے گھر سے یہ ساماں نکلا اور قطر میں بینک کا کوئی اکاؤنٹ تھا ہی نہیں تو دکھاتے کیا۔

بیٹے سمیر احمد نے اپنے بینک اکاؤنٹ کی دستاویز حوالے کر دی کہ اگر پوچھے تو دکھا دی جائے۔ ہمارا کہنا تھا کہ آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوئی حد ہوتی ہے، انٹرویو لینے والا سفارت خانے کا عملہ برسوں کا تجربہ رکھتا ہے، بھلا وہ کس طرح میرے اکاؤنٹ کے متبادل کے طور پر بیٹے کی دی ہوئی بینک کی دستاویز قبول کرے گا۔

سمیر کا کہنا تھا کہ ہمیں انہوں نے ایسا اسپانسر کیا ہے اور ہم تو یہاں کوئی ملازمت نہیں کرتے اور نہ کوئی آمدنی کا ذریعہ ہے تو بینک کی کوئی دستاویز کہاں سے آئے گی۔ خیر دل کڑا کر کے ہم اس مہم جوئی پر آمادہ ہو گئے۔

امریکی سفارت خانے میں انٹرویو

سفارت خانے سے انٹرویو کی تاریخ اور وقت لیا اور امریکی ویزا حاصل کرنے کے جہاد میں کود پڑے۔ سوچتے رہے کہ اس جہاد میں کوئی خطرہ نہیں ہے، نہ شہادت ملے گی، نہ غازی بننے کا امکان ہے اور نہ ہی ہتھیار ڈال کر نیازی بننے کا شرف مل سکتا ہے۔ خیر انٹرویو کی تاریخ پر میدانِ کارزار میں حاضر ہو گئے۔ عجیب سماں تھا، ہم سے قبل گنتی کے چند افراد اس سعادت کو حاصل کرنے کے لیے موجود تھے۔

ہمارا نمبر جلد آ گیا۔ ایک چھوٹے کمرے میں ایک طرف ہم میاں بیوی اور دوسری طرف وہ خاتون تھی جو سوال کے لیے تیار تھیں۔ بیچ میں معاشرے کی دیوار تو نہ تھی لیکن شیشے کی دیوار تھی جس میں اتنا اہتمام کیا گیا تھا کہ فریقین تک ایک دوسرے کی آواز پہنچ سکے۔

سنتے تھے کہ پوچھا جاتا ہے کہ آپ کس زبان میں گفتگو کرنا پسند کریں گے، پاکستان میں تو اردو مترجم کا انتظام ہو یا ہے سوچا قطر میں تو مترجم عربی کا ہوگا۔ ہماری بدقسمتی کہ ایک لمبا عرصہ دبئی میں گزارنے کے بعد عربی کے بارے میں وہی حال تھا: “زبان یار من ترکی و من ترکی نمی دانم”۔

پانچ سالہ امریکی ویزا مل گیا

اس کی تفصیل اتنی ہے کہ چند خیر مقدمی الفاظ، ایک سے سو تک کی گنتی اور چند وہ الفاظ جو طیش اور غضب ناک ہونے پر کہے جاتے ہیں۔

خیر اس خاتون نے اس بارے میں کچھ دریافت نہیں کیا۔ پہلا سوال انگریزی میں آیا کہ آپ کی تعلیم کتنی ہے۔ ہم نے بتایا کہ بی اے ایس سی پاس ہیں۔ بیگم سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بی اے پاس کیا ہے۔

بس اسی ایک سوال پر یہ مکالمہ ختم ہو گیا اور پاسپورٹ جو پہلے طلب کیا تھا، اپنے پاس ہی رکھا اور کہا کہ فون کر کے بتائیں گے۔ بس اتنا ہی مکالمہ ہوا۔ شاید یہ انسانی تاریخ کا واحد انتظار تھا جو جوشِ وصل کی طرح مختصر رہا۔ شاعر حضرات تو وصل کی طوالت کی تمنا رکھتے ہیں لیکن ہم اس پر ہی مطمئن تھے۔

باہر آئے تو بیٹے اور بہو کو بہت مطمئن پایا، ان کا کہنا تھا کہ ویزا ملنے کا کافی امکان ہے اس لیے کہ جن کی درخواست مسترد کی جاتی ہے ان کا پاسپورٹ اسی وقت واپس کر دیا جاتا ہے۔ ویزے کی درخواست پر ٹیلیفون نمبر بیٹے سمیر احمد کا دیا ہوا تھا۔ کوئی چار دن بعد وہ ہمارا پاسپورٹ سفارت خانے سے لے کر آئے جس پر پانچ سال کا ملٹی پل (Multiple) ویزا لگا ہوا تھا۔

ویزے کا حصول ہوتے ہی ایسے ایسے منصوبے بیگم نے بنانے شروع کر دیے کہ شیخ چلی کو بھی مات کر دیا۔ ہم نے اس میں کوئی دخل نہ دیا، سوچا خوش ہونے کا موقع ہے، اس میں کیا جاتا ہے۔ باقی عاقبت کی خبر خدا جانے، یہ واہ غالب کہہ گئے ہیں:

شوق ہر رنگ میں رقیبِ سر و سامان نکلا 

آگے دیکھیے ہوتا ہے کیا

میامی ایئرپورٹ اور دوستانہ مہمانی

اس وقت تو فکر تھی کہ جلد از جلد کراچی پہنچا جائے۔ اس بڑھاپے میں عجیب کیفیت پیدا ہو گئی تھی۔ پوری دنیا دیکھنے گھومنے کا شوق بھی ہے اور ہر جگہ کچھ دن گزر جانے کے بعد گھر کی یاد ایسی آتی ہے کہ اڑ کر جانے کا دل چاہتا ہے، وہی غالب کہہ گئے ہیں۔

یہی فکر تھی کہ کچھ دنوں کے بعد عید الاضحی کی آمد ہے اور اس سلسلے میں کئی مشاغل جو اپنے ذمہ کئی سالوں سے لے رکھے ہیں، ان کی منصوبہ بندی کرنی ہے، یہی سوچ کر 16 اپریل کو کراچی کا رخ کیا۔

بیٹے نے بہت تاکید کی تھی کہ امریکا کے ویزے کے متعلق کسی کو کچھ نہ بتایا جائے، لیکن تاڑنے والے کی نظر رکھتے ہیں۔ دوستوں نے کسی نہ کسی طرح سے جان لیا، اس میں کچھ ہماری خطا بھی تھی۔

اپنے آئندہ پروگرام کے متعلق جب بتایا کہ جون میں دوبارہ قطر جانے کا ارادہ ہے، اس پر سوالات اٹھنے شروع ہو گئے کہ ہمیشہ تو رمضان میں ہی جاتے ہیں، اس مرتبہ بے وقت کی راگنی کیوں۔ یہی کہا گیا کہ اس موسم میں اس قدر گرمی پڑتی ہے کہ اللہ کی پناہ۔ غرض کہ جتنی حوصلہ شکنی کی جا سکتی تھی کی گئی، لیکن دل اپنا پرانا تھا، پھر بھی ان بے سرو پا دلیلوں سے کچھ اثر نہ لیا اور بقول اپنے یک تار، اتنے پہلو دکھانے پر بھی نہ آیا۔ مرحوم شاعر دوست یاد آتے رہے:

کچھ اور بڑھائے ہیں طلاطم نے عزائم

ٹوٹی ہیں چٹانیں مرے اعصاب نہ ٹوٹے

قطر سے امریکا کا سفر

آخر 12 جون 2026ء کو قطر کا رخ کیا، وہاں سے چار دنوں بعد 16 تاریخ کو امریکا کا سفر اختیار کیا۔ پندرہ (15) گھنٹوں کا سفر انگریزی میں suffer محسوس ہوا۔ اس سے پہلے 2004ء میں ایک قرعہ اندازی کے ذریعے نیوزی لینڈ کا تفریحی دورہ کیا تھا۔ اکیس (21) گھنٹوں کی فلائٹ تھی، لیکن دو جگہوں پر یعنی سنگاپور اور آسٹریلیا کے شہر برسبین (Brisbane) میں دو دو گھنٹوں کا وقفہ (Stop Over) ملا تھا۔

طیارے سے باہر جانے کی اجازت تھی سو باہر نکل کر چہل قدمی کی۔ لیکن یہ گھنٹے کس کیفیت میں گزرے، یوں سمجھیں قفس میں گزرے۔ خوش قسمتی سے فضائی میزبانوں میں ایک کیرالہ کا جوان بھی تھا۔ بڑی روانی سے اردو بول رہا تھا، اس کی رنگت بڑی صاف تھی۔

اپنے دبئی میں طویل قیام کے دوران کیرالہ کے لوگوں سے، جنہیں عام طور پر ملباری کہا جاتا ہے، ان سے بڑی قربت رہی تھی۔ اس کا فائدہ اٹھا کر اپنے دبئی کے گزرے ہوئے ایام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: “حیرت ہے کیرالہ میں اتنی صاف رنگت کے افراد بھی ہوتے ہیں”۔ ہنستے ہوئے اس کا جواب تھا: “بہت کم ہوتے ہیں لیکن بالکل نایاب نہیں ہیں”۔ اس مکالمے کا اثر یہ ہوا کہ بار بار کھانے کے اقسام کی بہتات ہو گئی۔ اکثر ہمیں معذرت کرنی پڑی۔

میامی ایئرپورٹ پر آمد

شام کے چار بجے میامی (Miami) ایئرپورٹ پر طیارہ رکا۔ بیٹے سمیر نے ٹکٹ کے ساتھ ویل چیئر کا اندراج کرا رکھا تھا، سو ہم دونوں کے لیے کرسی موجود تھی۔ اسے کھینچنے کے لیے دو ہسپانوی خواتین کی خدمات رکھی گئی تھیں۔ سمیر تو پیدل ہی چلتے رہے۔ بہت لمبا فاصلہ تھا۔ بعد میں امریکا کے کئی شہروں کے دوروں کا موقع ملا۔ ہر ایئرپورٹ پر بڑے فاصلے کے بعد باہر کی دنیا تک رسائی ہوتی ہے۔

امریکی امیگریشن کا تجربہ

امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے تو صرف ایک سوال پوچھا گیا کہ کتنے عرصہ یہاں رہنا چاہتے ہیں۔ ہمارا جواب تھا دو مہینے، سمیر نے دس دن کہا۔ آفیسر نے ہمارے پاسپورٹ کو کمپیوٹر پر اسکین کیا۔ شاید وہ ویزے کی جانچ کر رہے تھے کہ اصلی ہے یا نہیں۔ پاسپورٹ ہمارے حوالے کیا گیا لیکن کہیں کوئی مہر نہیں لگائی گئی۔ انتہائی حیرت ہوئی، یہ تو سنا تھا کہ امریکا سے باہر جانے پر پاسپورٹ پر مہر نہیں لگائی جاتی لیکن یہاں تو داخلے پر بھی نہیں تھی۔

پرانے دوست سے امریکا میں ملاقات

باہر نکلے تو ہمارے پرانے دوست شاہد احمد موجود تھے۔ نوّے میل (145 کلومیٹر) دور ویسٹ پام بیچ (West Palm Beach) سے صرف ہمارا استقبال کرنے اور ساتھ لے جانے آئے تھے۔

شاہد ہمارے ستر سال سے ہم محلہ ہیں، جامعہ کراچی میں ہم ساتھ ہی ایک شعبہ میں زیرِ تعلیم تھے۔ پچاس سال قبل وہ اسکالرشپ پر امریکا گئے تھے، شاید پی ایچ ڈی کرنے۔ اب پتا نہیں پی ایچ ڈی کی یا نہیں لیکن بہت جلد ایک امریکی حسینہ کی زلفِ گرہ گیر کا شکار ہو گئے۔

ان کی امریکا روانگی کے چند ماہ بعد ہمارا آب و دانہ دبئی منتقل ہو گیا، جس کے باعث ملاقاتیں بہت کم ہو پاتی تھیں۔ ہم چھٹی پر آتے تو وہ نہ ہوتے اور وہ آتے تو ہم نہیں ہوتے تھے۔ خدا بھلا کرے جمال محسن کا، جنہوں نے واٹس ایپ پر شرف آباد کا گروپ قائم کر دیا۔ اب اس کے ذریعے رابطہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہو گیا (اگلی سطر کا شعر اصل اسکین میں غیر واضح ہے)۔

شاہد کا گھر امریکی حساب سے بہت بڑا ہے۔ پانچ بیڈروم پر مشتمل ہے، ڈرائنگ روم بھی لق و دق حد تک طویل ہے۔ بہت ساری نعمتوں کے ساتھ اللہ نے اولاد سے محروم رکھا ہے۔ شاہد نے اپنے بھائی بہنوں کا جتنا خیال کیا ہے اس قدر شاید ہی کوئی رکھ سکے۔

چار بہنوں کو بلا کر سیٹ کیا، پانچویں بہن آئیں لیکن انہیں یہ سرزمین نہ بھائی اور واپس چلی گئیں۔ ایک بھائی بھی ہے، پورا خاندان آدھا کلومیٹر کے اندر آباد ہے۔ ایک رات ان کے گھر پر گزاری، صبح کا ناشتہ ان کی بہن نے مدعو کر کے رکھا تھا۔ امریکی سرزمین پر خالص پاکستانی ناشتہ طعام فرمایا۔

اورلینڈو آمد اور شاندار استقبال

سمیر نے اپنی منزل اورلینڈو (Orlando) کے سفر کے لیے رینٹ اے کار شاہد کے چھوٹے بھائی طاہر کے ساتھ جا کر حاصل کر لی۔ اس مقام سے تقریباً دو میل ہمیں سمیر پہلے آ چکے تھے۔ دوسرا گوگل نقشہ مدد گار ثابت ہوا، اس لیے کوئی دشواری نہ ہوئی۔

اورلینڈو میں پرتپاک استقبال

اورلینڈو پہنچے تو ایسا فقید المثال استقبال ہوا جیسا شاید بارات کا بھی نہیں ہوتا۔ بارات کا خیر مقدم تو صف آرا ہو کر کیا جاتا ہے لیکن یہاں چاروں طرف سے امڈ آئے۔ متوقع شادی کی تقاریب کے آغاز میں دو دن باقی تھے لیکن گھر مہمانوں سے بھرا ہوا تھا۔

فیصل کے چھوٹے بھائیوں میں سے ایک، مشہود، تو اسی شہر میں رہتے تھے، لیکن شادی کے گھر کی رونق سے استفادہ کرنا تو سب کا حق ہوتا ہے سو مشہود بھی بیوی بچوں کے ساتھ موجود تھے۔ دوسرا بھائی اپنے بچوں کے ساتھ امریکی ریاست مشی گن سے آئے ہوئے تھے۔ بہن اور ان کا خاندان شکاگو سے شریک تھے۔ ابھی بہت سے مہمانوں کی آمد متوقع تھی۔

چھ سات کمروں کا گھر قطعاً کافی تھا۔ ہم نے ایک چھوٹے سے دار المطالعہ (Study Room) پر قبضہ کرنا مناسب سمجھا۔ رشتہ میں بڑا ہونے کے باعث کسی مداخلت کا امکان نہیں تھا، ایسا ہی ہوا، کسی نے احتجاج نہیں کیا۔ اس کمرے میں اتنا سامان، جس میں مہمانوں کے سوٹ کیس بڑی تعداد میں اوپر نیچے دھرے تھے، کہ علاوہ اتنی ہی جگہ تھی کہ دو قدم چل کر باہر جا سکتا تھا۔

دو طرف دیواریں، تیسری طرف دروازہ تھا، چوتھی طرف بھی اگر دیوار ہوتی تو قبر کا سا ساماں ہوتا۔ یہ جگہ ہمیں بہت راس آئی، کسی کا آنا جانا ممکن نہیں تھا۔ پورے گھر سے الگ تھلگ سکون تھا، ایک ہنگامے سے دوسری طرف:

ایک ہنگامے پر موقوف ہے گھر کی رونق

دوسرے دن خاتونِ خانہ نے ہم سے کہا کہ اگر اس کمرے میں آرام نہیں ہے تو ایک اور کمرے کا بندوبست کر دیتے ہیں وہیں آرام سے رہیں۔ ہم نے کہا اس کونے میں آرام بہت ہے: کونے میں قبر کے آرام بہت ہے

امریکا میں ایک مختلف سہولت کا تجربہ

سمیر میاں چاہتے تھے کہ گاڑی چند دنوں اور رکھیں۔ ہم نے کچھ مشورہ دینا مناسب نہیں سمجھا، اس لیے کہ ماضی کا تجربہ بتاتا تھا کہ ایسا کرنا بے سود ہے۔ البتہ فیصل کا مشورہ کارگر ثابت ہوا۔ اس کا کہنا تھا کہ اتنی گاڑیاں گھر پر موجود ہیں، مزید ایک گاڑی کرائے پر رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ شکر ہے ان کے دماغ میں آ گئی اور وہ گاڑی واپس کرنے پر تیار ہو گئے۔

ایک انوکھی بات پتا چلی کہ گاڑی واپس کرنے کے لیے میامی (Miami) جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میامی سے لی گئی گاڑی اورلینڈو کی اسی کمپنی کی شاخ میں واپس کی جا سکتی ہے۔ ایسی عجیب و غریب سہولت دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی۔ اندازہ ہوا کہ وہاں کے تمام ادارے (سرکاری اور غیر سرکاری) عوام کو سہولت فراہم کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارے اداروں کا رویہ ہے، اس پر غور کرنے سے بھی پسینہ آتا ہے

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں