راگ رنگ کی ایک رات
انتخاب مضامین موسیقی: شاہد احمد دہلوی
ترتیب و تدوین: عقیل عباس جعفری
ناشر: ورثہ پبلیکیشنز1/94، 26 اسٹریٹ۔ ڈی ایچ اے کراچی
دہلی کے نامور فنکار اور ان کا زوال
دہلی میں یوں تو بے شمار فنکار تھے، مگر گانے والوں میں مظفر خان، چاند خان، رمضان خان اور بندو خان، جبکہ ستار بجانے والوں میں برکت اللہ خان اور تال کے سازندوں میں اللہ دیئے خان پکھاوجی اور نٹو خان طبلہ نواز پورے ہندوستان میں ممتاز سمجھے جاتے تھے۔ ان تمام فنکاروں کا تعلق دیسی ریاستوں سے تھا۔
یہ آخری دور کے فنکار نا قدری کی وجہ سے گرتے گرتے اتنے پست ہو گئے تھے کہ ان میں سے اکثر کو نانِ شبینہ (ایک وقت کی روٹی) بھی میسر نہ ہوتی تھی۔ ورنہ محمد شاہ بادشاہِ دہلی کے زمانے میں نعمت خان سدارنگ کی یہ کیفیت تھی کہ وہ سوائے بادشاہ کے کسی اور کے ہاں گانے نہیں جاتا تھا۔ خود اس کے گھر میں روزانہ محفل ہوتی تھی بلکہ موسیقی کپیشکش: ذکرِ کتابا دربار سجتا تھا۔ دربار کے رتن تان سین نے تو وہ رتبہ پایا کہ ان کا نام ضرب المثل بن گیا۔
آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے درباری گائیک تان رس خان کو گاؤں گراؤں انعام میں ملے ہوئے تھے۔ دہلی میں چکلی گراں سے آگے دائیں ہاتھ کو “گلی تان رس خان” موجود ہے، جس میں تان رس خان کی عظیم الشان حویلی آج بھی اپنی خستہ حالی پر آنسو بہا رہی ہے۔
مکمل ویڈیو دیکھنے کے لیئے اس امیج کو پریس کریں
کرفیو1947 کا اور تاریخی محفلِ موسیقی
سال 1947 کے فسادات میں جب چھرے گھوپے جا رہے تھے اور شام کے 6 بجے سے صبح کے 6 بجے تک کا کرفیو لگا ہوا تھا، دہلی کے ایک منچلے (رئیس زادے) کو سوجھی کہ ایک ایسا جلسہ تان رس خان کی حویلی میں منعقد کیا جائے جہاں تمام اہل کمال اپنے فن کا مظاہرہ کریں۔
انہوں نے اس فن میں اتنا درد حاصل کر لیا تھا کہ تمام کام کرنے والوں نے انہیں گرو مان لیا تھا، اس لیے ان کی ڈیوٹی گانے بجانے والوں کا مرکز بن گئی تھی۔ انہی کی کوششوں سے لوگوں میں اختلافات دور ہو گئے اور ان میں یگانگت پیدا ہو گئی تھی، ورنہ خوف تو ایک ایک کو کھائے جا رہا تھا اور شیر بکری ایک گھاٹ پانی پی رہے تھے۔
ان رئیس زادے کی یہ تدبیر کام کر گئی اور سب فنکار 6 بجے سے پہلے پہلے تان رس خان کی حویلی میں جمع ہو گئے۔ چاندنی کا فرش لگا ہوا تھا، دو چار بڑے بوڑھے مہمانوں کی پذیرائی کر کے انہیں ہنستے بولتے بڑے دالان اور پچھلے دالان میں بھیج رہے تھے جہاں دیگیں چڑھی ہوئی تھیں۔
استاد عمری رکابدار، جو دور دور باراتوں میں کھانا پکانے کے لیے بلائے جاتے تھے اور دہلی کے اسی علاقے کے رہنے والے تھے، انہوں نے اپنی خدمات مفت پیش کی تھیں۔ 6 بجے کے بعد نہ تو کوئی اندر آ سکتا تھا، نہ ہی اندر سے باہر کوئی جا سکتا تھا؛ لہٰذا دروازے بند کر دیے گئے، جلسہ شروع ہو گیا اور برف کے پانی سے تواضع ہوتی رہی۔
دونوں دالان میں دسترخوان بچھ گئے اور زردہ، بریانی، قورمہ اور شیر مال چنا گیا۔ سب نے خوب سیر ہو کر کھایا۔ کھانے کے بعد آخر میں استادوں کی باری آئی۔ باری باری انہوں نے بھی علم و فن کا مظاہرہ کیا۔ محفل میں غرض مند کوئی نہیں تھا، اس لیے سب کو خوب خوب اور با موقع داد ملی۔
استاد گامے خان اور لال قلعے کا تاریخی واقعہ
آخرمیں استاد گامے خان جوڑے لے کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ حاضرین تین گھنٹے تک طبلہ سن سن کے اکتا چکے ہیں، لہٰذا انہوں نے باجے کے ساتھ اس کا بیان شروع کیا۔ استاد گامے خان کے رشتہ دار طبلہ نواز تھے، وہ لال قلعے میں پکھاوج اور طبلہ بجایا کرتے تھے اور لال قلعے کے اکثر شہزادے ان کے شاگرد تھے۔ استاد گامے خان نے دہلی کا خاص بول سنایا جسے “چڑیا کی آواز” کہتے ہیں۔ پورب کا بول بتایا اور جب وہ سننے پر آئے تو ان سے منسوب ایک عجیب و غریب واقعہ پیش کیا۔
پرندے کے چپ ہونے کا واقعہ
ان کے دادا شہزادوں کو تعلیم دینے لال قلعے روزانہ بعد نمازِ مغرب جایا کرتے تھے۔ ایک دن صاحب عالم کی ڈیوڑھی پر پہنچے تو دربان نے کہا: “استاد! صاحب عالم اپنے آنگن کے شاہکار سے محظوظ ہو رہے ہیں۔” تھوڑی دیر بعد صاحبِ عالم نے بلایا۔ دادا جی سلام کرتے آگے بڑھے۔ آنگن میں اندھیرا تھا اور نگاہ روبرو ہونے کی وجہ سے دادا جی نے دیکھا نہیں؛ وہ اونچے پورے قد کے انسان تھے، جب داخل ہوئے تو ان کا سر آنگن کے پنجرے سے ٹکرا گیا۔ پنجرے میں ایک چڑیا (یا جانور) تھی۔
صاحبِ عالم نے دیکھا اور کہا: “استاد! تمہاری ٹکر سے جانور بھڑک کر خاموش ہو گیا، اب یہ نہیں بولے گا۔”
دادا جی نے عرض کیا: “حضور کے اقبال سے بولے گا!”
مگر چڑیا نے چپ سادھ لی۔ صاحبِ عالم نے غصے میں کہا: “استاد! اگر یہ نہ بولا تو آج تمہاری خیر نہیں!”
دادا جی کے پیروں تلے زمین نکل گئی۔
طبلے کی گت اور شاہی عتاب
یہ سن کر دادا جی نے سامنے سے ٹیبل کی جوڑی اٹھائی اور محراب میں پنجرے کے نیچے بیٹھ کر ایک گت بجانی شروع کر دی۔ اللہ کی شان! چند منٹ کے بعد چڑیا نے چہچہانا شروع کر دیا۔ صاحبِ عالم کی باچھیں کھل گئیں اور بولے:
“سبحان اللہ استاد! آج جیسا طبلہ ہم نے سنا، نہ کسی نے سنا ہوگا نہ کوئی سنے گا، اور ہم چاہتے ہیں کہ آئندہ بھی کوئی ایسا طبلہ نہ سننے پائے”
یہ کہہ کر آواز دی: “ارے کوئی ہے؟ استاد کے ہاتھ کچل دو!”
حکم کی دیر تھی کہ دادا جی کے ہاتھ کچل کر بھرتا کر دیے گئے۔ فریاد کرتے، زبردست مارے اور روئنے نہ دیا۔ اسی حالتِ بےچارگی میں وہ ڈولی میں پڑ کر اپنے پیر و مرشد داتا ملن شاہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ مرشد نے کیفیت سنی اور حال دیکھا تو ان کی آنکھوں سے جلال ٹپکنے لگا۔ اسی حالتِ جذب میں دادا جی کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اور بولے: “جا! تو اچھا ہو جائے گا۔” ان کی دعا اور اللہ کے فضل سے دادا جی کے ہاتھ کچھ عرصے بعد ٹھیک ہو گئے۔
استاد گامے خان نے یہ واقعہ سنانے کے بعد کہا: “میرے بزرگوں سے یہ گت سینہ بہ سینہ مجھ تک پہنچی ہے، آج یہاں سبھی موجود ہیں، میں وہ گت سناتا ہوں۔” یہ کہہ کر استاد نے ہاتھ چھیڑا، رفتہ رفتہ لے بڑھتی گئی اور سچ مچ یہ معلوم ہونے لگا جیسے چڑیا چہچہا رہی ہے۔ سب نے کہا: “سبحان اللہ! ماشاء اللہ! بے شک یہ وہی گت ہو سکتی ہے۔” کسی نے سچ کہا: “بے جان بولتا ہے مسیحا کے ہاتھ میں۔”
استاد بندو خان اور “دیپک راگ” کا مناظرہ
جلسے کی تمام تفصیلات کو چھوڑ کر صرف ایک واقعہ ایسا ہے جس کا بیان خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔ استاد بندو خان سارنگی نواز بھی ایک طاقِ روزگار شخص تھے۔ انہوں نے اپنے لیے بانس کی ایک ایسی سارنگی بنائی تھی کہ وہ جتنی چھوٹی تھی، اتنی ہی اس کی آواز بلند تھی۔
تار اور سر ملا کر استاد بولے: “آج میں بھی آپ حضرات کو ایک راگ سناؤں گا۔ آپ لوگوں نے ‘دیپک راگ’ کا نام تو بہت سنا ہوگا مگر کسی کو گاتے بجاتے نہیں سنا ہوگا۔ میں آج آپ کو دیپک راگ سناؤں گا۔”
استاد چاند خان کا اعتراض
استاد چاند خان، جو موسیقی کے عالم بھی ہیں اور استاد بندو خان کے ماموں زاد بھائی اور خلیفہ بھی، تڑپ کر بول اٹھے:
“نہیں بھائی صاحب! دیپک نہ بجائیے، کچھ اور بجا لیجیے۔”
بندو خان نے مسکرا کر کہا: “چاند خان! ڈرو مت، دیپک سے آگ نہیں لگے گی۔”
چاند خان صاحب نے کہا: “بھائی! سنتے ہی چلے آئے ہیں کہ دیپک سے بجھے ہوئے چراغ جل اٹھتے ہیں اور آگ لگ جاتی ہے۔ یہ آگ لگ جانا کوئی اچھی بات تھوڑی ہے، اس لیے یہ راگ متروک ہو چکا ہے۔ ہم اگر دیپک کی تاثرات کو نہ بھی مانیں، تب بھی یہ تو مانتے ہیں کہ دیپک منحوس راگ ہے۔ اس کے گانے بجانے سے ضرور کوئی نقصان پہنچ جاتا ہے۔”
بندو خان صاحب نے کہا: “چاند خان! تم تو پنڈت ہو، کتابیں پڑھ پڑھ کر عجیب عجیب باتیں سناتے ہو۔”
رئیس زادے کی وضاحت اور راگ کا اختتام
دو بڑے استادوں میں اختلاف کو بڑھتے دیکھ کر رئیس زادے نے بیچ میں آ کر کہا:
“آپ دونوں حضرات صحیح فرما رہے ہیں، مگر ہمارے اعمال اس درجے غلط ہو گئے ہیں کہ دعا میں بھی اثر نہیں رہا۔ دراصل دیپک شام کا ایک راگ ہے جو چراغ جلتے ہی بجایا جاتا ہے، اسی وجہ سے اس کا نام دیپک (چراغ) رکھا گیا ہے۔ دیپک سے چراغ نہیں جلتے بلکہ چراغ جلتے ہی دیپک گایا جاتا ہے۔ اب رہ گیا سانحہ، تو باتیں بھی سچی ہو جایا کرتی ہیں۔”
یہ بات سن کر لوگوں کی سمجھ میں آ گئی، مگر چاند خان صاحب پھر بھی دیپک کو منحوس ہی بتاتے رہے۔ بندو خان صاحب نے کہا: “اچھا سن لو، تو آئندہ نہیں بجائیں گے۔”
یہ کہہ کر انہوں نے دیپک شروع کر دیا۔ راگ میں کوئی غیر معمولی بات نہ تھی، سیدھا سادھا راگ خان صاحب نے خوب جی لگا کر بجایا۔ مگر جب تک بجاتے رہے، خواہ مخواہ طبیعت مکدر رہی، شاید وہ وہم اپنا کام کر گیا تھا۔ انہوں نے اپنی سارنگی رکھی تو صبح کی اذان ہونے لگی۔
اذان کی آواز سن کر سب ہنسنے بولنے لگے اور ہوش میں آئے۔ صبح 6 بجے جب کرفیو ختم ہوا تو صحبتِ شب برخواست ہوئی اور سب اپنے اپنے گھروں کو سدھارے۔
دیپک راگ کی نحوست اور دہلی کی تباہی
دہلی میں فسادات بڑھتے ہی چلے گئے۔ ستمبر کے پہلے ہفتے میں دہلی میں آگ لگنی شروع ہوئی۔ مسلمان مارے جا رہے تھے، ان کے گھر لٹ رہے تھے۔ کرول باغ ختم ہوا، سبزی منڈی ختم ہوئی، پہاڑ گنج ختم ہوا، اور آدھا شہر جل کر خاکستر ہو گیا۔
ہم سب بھی جان بچا کر کسی نہ کسی طرح پاکستان پہنچ گئے۔ بندو خان صاحب بھی لاہور پہنچے اور ایک سال کے بعد کراچی آ گئے۔ کراچی میں ان کی ویسی قدر نہ ملی، ہار کر لالو کھیت کے ویرانے میں پڑ رہے۔
چاند خان صاحب دہلی ہی میں رہ گئے۔ سالہا سال بعد جب ان سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں دہلی کا وہ آخری جلسہ یاد دلایا۔ وہ سرد آہ بھر کر رہ گئے اور بولے:
“بھائی صاحب! آپ نے دیکھ لی دیپک کی نحوست؟ دہلی کو لوکا (آگ) لگ گیا ہے۔ ہم دہلی ہی میں ہیں مگر ہمارے دلوں میں شراپ کی آگ لگی ہوئی ہے۔”
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے





