مُدتوں تک جو پڑھایا کیا اُستاد مجھے
اُستاد اور علم وآگہی کا سفر
عالمی یوم اُستاد ہر برس پانچ اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔ مدتوں استاد کی پڑھائی گئی بے شمار نصابی کتابوں اور کتاب میں غیر موجود لیکن زندگی گزارنے کے لیے مشعل راہ بننے والے ان گنت اسباق کو ازسرِ نویاد کرنے کا دن، جو آج بھی ذہن کے کسی گوشے میں موجود ہیں اور ان اساتذہ کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع جنہوں نے علم و آگہی کے سفر میں ہماری رہنمائی کی، جن کے پند و نصائح اور سکھائی گئی مہارتیں بہت سا وقت گزرنے کے بعد بھی کسی نہ کسی صورت میں ہمارے ساتھ موجود ہیں۔
اُستاد کو یاد کرنے کا ایک دن
ہماری زندگیوں پر والدین کے بعد جن ہستیوں کا سب سے زیادہ اثر ہوتا ہے ان میں اساتذہ کا مقام نہایت اہم ہے۔ یہ اثر مثبت اور منفی دونوں طرح کا ہو سکتا ہے۔ وقت کی دوڑ میں ہم میں سے بعض کو اپنے اُستاد کا پڑھایا ہوا سبق تو یاد نہیں رہتا، مگر اُستاد یاد رہ جاتے ہیں۔ کبھی چہرہ، کبھی آواز، کبھی تختہ سیاہ پر لکھی ہوئی کوئی سطر، کبھی کسی شعر کی تشریح کا انداز، اور کبھی کوئی حسبِ حال نصیحت جو ہو سکتا ہے اُس وقت خاص سمجھ میں نہ بھی آئی ہو، مگر کبھی نہ کبھی، زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ضرور یاد آجاتی ہے۔ کتابیں پرانی ہو جاتی ہیں، نصاب بدل جاتے ہیں، سکول اورکلاس روم کا ساتھ چھوٹ جاتا ہے، حاضری کا رجسٹر بھی کہیں پیچھے رہ جاتا ہے، مگر اُستاد کی کہی ہوئی کوئی بات، کوئی ایک بات دل و دماغ میں اپنا ٹھکانہ بنا لے تو پھر اسے نکالنا آسان نہیں ہوتا۔
5 اکتوبر کو دنیا بھر میں یومِ استاد منایا جاتا ہے۔ اس دن اُستاد کے مقام اور اس کے پیشے کی اہمیت پر بات ہوتی ہے۔ 2026 میں اس دن کو 1966ء کی آئی ایل او/یونیسکو سفارشات کے ساٹھ برس مکمل ہونے سے بھی نسبت ہے، اور اس سال کا عالمی موضوع بھی اُستاد کے مقام، وقار اور پیشہ ورانہ حیثیت کے تحفظ سے متعلق ہے۔ مگر اُستاد کو یاد کرنے کے لیے ایک دن بہرحال کم ہے کیونکہ اس کے پڑھائے گئے اسباق کسی ایک دن کے لیے نہیں ہوتے بلکہ عمر بھر کو محیط ہوتے ہیں۔

علم سے کچھ آگے
یومِ اُستاد کے حوالے سے کچھ لکھنے کا سوچا تو خیال آیا کہ ہمارے شعر و ادب میں اُستاد کا تذکرہ بڑے دل چسپ پیرائے میں آیا ہے۔ شعرا، ادبا مشرق سے تعلق رکھتے ہوں یا مغرب سے، اپنے اپنے زاویہء نظر سے اُستاد کاکردار اپنی تخلیقات میں پیش کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک سرسری نظر دوڑائی تو خاصی منفرد مثالیں دکھائی دیں۔ اب اس مضمون کے عنوان کو ہی لیجیے یہ حفیظ جالندھری کے ایک شعر کا مصرعِ اُولیٰ ہے۔ مصرعِ ثانی کی یہاں نہ ضرورت ہے نہ ہی محل تو اسے فی الحال رہنے دیتے ہیں اور کچھ چیدہ چیدہ مثالوں پر نظر ڈالتے ہیں۔
پنڈت برج نارائن چکبست کہتے ہیں:
ادب تعلیم کا جوہر ہے، زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمتِ اُستاد کرتے ہیں
چکبست نے اُستاد کے ساتھ ساتھ شاگرد کو بھی نہیں بُھلایا اور دونوں کو موضوع شعر بنا ڈالا۔ ’’ادب‘‘ کا یہ مفہوم اپنے اندر بہت کچھ سمیٹے ہوئے ہے۔ یہاں ’’ادب‘‘ محض آدابِ مجلس نہیں، ایک تہذیبی تربیت اورقدیم روایت ہے۔ علم آدمی کو بہت کچھ جاننے والا بنا سکتا ہے، مگر تہذیب اسے یہ سکھاتی ہے کہ اس علم کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ شعر سے استاد اور شاگرد کے درجات کا فرق بھی نمایاں ہے جو ہماری قدیمی مشرقی روایات کا آئینہ دار ہے۔ اُستاد سے ملنے والی اصل میراث کتابی علم سے زیادہ آدمی کا برتاؤ ہوتی ہے۔
اُستاد ہمارا
علم و فن، شعر و ادب کی روایت کا رشتہ عام اساتذہ و تلامذہ سے بھی پرانا ہے۔ راسخؔ عظیم آبادی نے اپنے کلام میں میر تقی میرؔ سے اپنے تلمذ کا بارہا اظہار کیا۔ ایک شعر دیکھیے:
شاگرد ہیں ہم میرؔ سے اُستاد کے راسخؔ
اُستادوں کا اُستاد ہے اُستاد ہمارا
یہ صرف عقیدت کا اظہار نہیں،میرؔ کی شاعرانہ عظمت اور ایک ادبی و علمی روایت کا اعتراف بھی ہے۔ ایک اُستاد سے شاگرد تک پہنچنے والی چیز صرف معلومات نہیں ہوتیں، ذوق بھی ہوتا ہے، زبان بھی اور نظر بھی۔ اُستاد سے فیض یاب ہو کر اس کے علم، ذوق اور فن کی میراث کو آگے بڑھایا جاتا ہے۔
اور بات تو یہ بھی ہے کہ اُستاد بھی ایک دن میں اس درجے تک نہیں پہچ جاتے اُنہیں بھی اول اول کسی کا شاگرد بن کر سیکھنے کی ابتدا کرنا ہوتی ہے۔ سوچیے زرا اُستاد خود بھی کہاں سے آتا ہے؟ اس کے پیچھے کوئی اُستاد ہوتا ہے، اور اس کے پیچھے ایک اور۔ اُسْتاذُ اْلاَساتِذَہ کی ترکیب سے تو آپ بخوبی واقف ہوں گے، عربی الاصل ترکیب ہے، لغوی معنوں میں استادوں کے استاد۔ یعنی علماء کے اُستاد یا بہت بڑے عالم کے لیے مستعمل ہے۔اس سے وہی اُستاد اور شاگرد کے تسلسل کی روایت جھلکتی ہے جس کا ہم ابھی ذکر کر چکے ہیں
اب ذرا ملاحظہ کیجیے علامہ محمد اقبال نے کیا فرمایا ہے:
خرد کو غلامی سے آزاد کر
جوانوں کو پیروں کا اُستاد کر
اُستاد اور شاگرد کے تعلق کی یہ جہت صرف ایک فلسفی شاعر کی بلند خیالی کا ہی نتیجہ ہو سکتی تھی۔
ماسٹر منگل سنگھ اور ایک یاد رہ جانے والی آواز
اردو ادیبوں نےاپنے قلم سے کچھ غیر معمولی اُستادوں کو اُردو ورثے کا یادگار حصہ بنا دیا ہے۔ پہلے ذکر ہو جائے ماسٹر منگل سنگھ کا جو شہاب نامہ کے صفحات میں محفوظ ہوگئے۔ یہ اُستاد کا ایک ایسا روپ ہے جو حقیقی زندگی میں آپ کو آج بھی کہیں نہ کہیں ضرور مل جائے گا۔ جس پر پیشہ ورانہ ذمے داریوں کا بوجھ اس کی علمی و ذہنی استطاعت سے کہیں زیادہ ہے اور وہ اپنے عجزِ ہنر کو زورِ بیان سے سنبھالنے کی مہارت رکھتا ہے۔ ماسٹر منگل سنگھ کے سامنے مرزا غالب کا شعر آتا ہے جس کی تشریح سکول کے بچوں کے سامنے وہ اپنے ہی انداز میں پیش کرتے ہیں۔
سادگی و پُرکاری، بے خودی و ہشیاری
حُسن کو تغافل میں جرات آزما پایا
اردو زبان کے شعر کی پنجابی میں کی گئی تشریح کا اصل لُطف تو آپ کو شہاب نامہ پڑھ کر ہی معلوم ہو گا، تاہم تشریح مکمل ہوتے ہوتے ماسٹر منگل سنگھ کا دل چسپ لب و لہجہ اصل واقعہ بن جاتا ہے :
’’لئو اینی جئی گل سی، غالب شعر بناندا بناندا مر گیا۔ میں شعر سمجھاندے سمجھاندے مر جانا اے۔ تہاڈے کوڑھ مغزاں دے پلے ککھ نئیں پَینا۔ اگے چلو۔‘‘
غالب کا شعر اپنی جگہ، مگر یہاں یاد رہنے والی چیز ماسٹر منگل سنگھ کی آواز ہے جو برسوں پہلے شہاب نامہ پڑھے جانے کے باوصف آج بھی روزِ اول کی طرح تازگی و دل چسپی سے معمور ہے۔ یہ مُصنف کی تحریر کا کمال ہے یا ماسٹر منگل سنگھ کی ’سادہ و پُرکار‘ تشریح کا جادو۔۔۔ فیصلہ آپ خود کیجیے گا۔
گڈریا
اُستاد کی شخصیت کا ایک انوکھا رُوپ اشفاق احمد کے افسانے ’گڈریا‘ میں جلوہ گر ہے۔ داؤ جی ایک سخت گیر لیکن غیر روایتی اُستاد ہیں، حصولِ علم سے گریزاں رہنے والوں کو پڑھانے کی سعی لاحاصل میں مسلسل مصروف و کوشاں، اُن کی دنیا میں علم، زبان، اُستاد اور روحانی عقیدت کی سرحدیں ایک دوسرے میں مدغم ہوجاتی ہیں۔ یہ کردار اُردو ادب کے یادگار کرداروں میں سے ایک ہے۔
گاؤں کا اسکول ماسٹر
اولیور گولڈ اسمتھ کے The Deserted Village میں بھی ایک گاؤں کا ماسٹرموجود ہے۔ سخت گیر، ذرا رعب دار، مگر علم کا ایسا خزانہ کہ گاؤں والے حیران رہ جاتے ہیں:
“And still they gazed, and still the wonder grew,
That one small head could carry all he knew.”
گولڈ اسمتھ کا یہ اُستاد بھی بالآخر اسی دنیا میں رہ جاتا ہے جہاں شہرت عارضی ہے اور آدمی کا نام مٹ سکتا ہے۔ مگر علم کا چراغ، اگر کسی دوسرے تک پہنچ گیا ہو، تو اتنی آسانی سے نہیں بجھتا۔
استاد بھی سیکھتا ہے

ایک دل چسپ اور مُنفرد آواز امریکی شاعر لیزلی پِنکنی ہِل کی نظم سے بلند ہوتی ہے۔ لیکن ٹھہریے، بلند ہونا اس آواز کے لیے موزوں الفاظ نہیں ہیں، دراصل اس نظم میں انکسار اور عاجزی کے اوصاف فراواں ہیں۔ نظم The Teacher (1911) میں اُستاد کی تصویر ایک ایسے شخص کی ہے جو ہر روز بچوں کو راستہ دکھانے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے، مگر اس ذمہ داری کے لیے خود بھی رہنمائی کا محتاج ہے۔ نظم کی ابتدا ہی اس عاجزانہ سوال سے ہوتی ہے کہ آخراُستاد کون ہوتا ہے بچوں کو راستہ دکھانے والا؟ نظم کے اختتامی حصے میں شاعر دعا کرتا ہے کہ بچے اُستاد کو بھی ایک ایسی قوت ۔۔۔یعنی خدا۔۔۔ پر بھروسا کرتے دیکھیں جو اسے اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق دیتی ہے۔ یہاں اُستاد محض علم منتقل کرنے والا نہیں، اُس کا اپنا کردار بھی سبق کا حصہ ہے۔ بچے صرف وہ نہیں دیکھتے جو اُستاد انہیں پڑھاتا ہے، یہ بھی دیکھتے ہیں کہ اُستاد خود کس طرح جیتا، سوچتا اور اپنے کام کی ذمہ داری اٹھاتا ہے۔
‘‘ایک اُستاد، ایک شاگرد اور’’ پروفیسر بلیکی
کرشن چندر کے ادبی سفر کے آغاز میں اُن کے فارسی کے اُستاد بلاقی رام نندہ کا ایک قطعی مختلف مگر دل چسپ کردار ہے۔ کرشن چندر نے آٹھویں جماعت میں فارسی کا مضمون رکھا (ایک روایت کے مطابق دسویں جماعت میں) فارسی کے اُستاد نہایت سخت گیر تھے اور آئے دن کرشن چندر کی پٹائی کرتے جس پر وہ تنگ آگئے اور اپنے اُستاد پر طنزیہ تحریر لکھ ڈالی۔۔۔۔ ’’پروفیسر بلیکی‘‘، اور اسے دیوان سنگھ مفتوں کے ہفت روزہ ریاست میں بغرضِ اشاعت بھیج دیا جہاں وہ شائع ہوگئی۔ لوگوں نے یہ مضمون بے حد پسند کیا لیکن اُن کے والد ناخوش تھے لہٰذا اُنہیں خوب ڈانٹ ڈپٹ کا سامنا کرنا پڑا ۔
یہ کیسی عجب بات ہے کہ اُستاد کے سخت رویے کے ردِعمل میں ایک نوعمر طالب علم کی تخلیقی صلاحیتوں کو اظہار کی راہ مل جائے۔ ایک دوسری دل چسپ بات کرشن چندر کی شاعری کی کوششوں کا اِبتدا ہی میں بے ثمر ثابت ہونا ہے جب ایک دوسرے اُستاد دینا ناتھ شوقؔ نے اُن کی شاعری دیکھ کراس قدر مذاق اُڑایا اور برا بھلا کہا کہ کرشن کو شاعری سے توبہ کرنا پڑی۔ یہاں ہم دیکھتے ہیں کہ کرشن چندر کے تخلیقی سفر کا آغاز اُستاد کی حوصلہ افزائی کے بجائے پٹائی اور حوصلہ شکنی کے نتیجے میں ہوا۔ اور اُن کا مزاحمتی جذبہ اُن کے مستقبل کی تشکیل اور صورت گری میں اہم ثابت ہوا۔
پطرس کا اُستاد اور قدر دانی کا مذاق
پطرس بخاری کے ’’انجام بخیر‘‘ میں اُستاد کی دنیا اور بھی دل چسپ ہے۔ ایک تنگ و تاریک کمرہ، پرانی میز، لرزہ براندام کرسی اور ہر طرف ڈھیر کی ہوئی کتابیں۔ گھر میں مال و دولت نام کی کوئی چیز نہیں، کتابیں ہی اس کا اصل بلکہ واحد اثاثہ ہیں۔مہینے کی آخری تاریخ ہے اور گھر میں ٹیوشن پڑھنے والے شاگرد فیس ادا کرنے آتے ہیں۔ پھر گھریلو ملازم کو اُس کی تنخواہ دی جاتی لیکن اُسے پوری رقم ملنا نصیب نہیں ہوتی، بیس روپے کُل تنخواہ میں سے محض تین اٹھنیاں اور باقی کے لیے انتظار کا مشورہ۔ ابھی یہ قصہ ختم نہیں ہوتا کہ محکمۂ تعلیم کا ایک افسر ’شاہی و سرکاری‘ تحفوں کے صندوقوں سمیت حاضرِخدمت ہوتا ہے—نقدی، سونا، ہیرے، جواہرات ــــ بادشاہ، ولی عہد، وائسرائے اور کمانڈر اِن چیف کی طرف سے اُستاد کی علمی خدمات کے اعتراف میں بھیجا گیا ہے۔
پطرس کا طنز یہاں بہت آہستہ آہستہ کھلتا ہے۔ نہایت لطیف، شیریں اور ملفوف لیکن صاف سجھائی دیتا طنز۔۔۔ جس اُستاد کے گھر میں ملازم کی تنخواہ کے پیسے نہیں، اس کی قدر دانی کے لیے ہیرے جواہرات کے صندوق بھیجے گئے ہیں، ہے نا اچنبھے کی بات؟؟ یہ صندوق نوجوان مگر نادار معلم پر شادیء مرگ کی کیفیت طاری کر دیتے ہیں، اِس اَن ہونی کی تاب نہ لاتے ہوئے، وہ راہیء مُلکِ عدم ہو جاتا ہے۔
اب اس کے بعد کیا کہا جائے؟ یہی کہ اگر مضمون ابھی تک نہیں پڑھا تو اب پڑھنے میں تاخیر نہ کیجیے گا۔
اسکول ماسٹر (بننے) کا خواب
یوسفی صاحب کے بشارت صاحب کا قصہ ذرا اور رنگ لیے ہوئے ہے۔ اُن کی بچپن کی سب سے بڑی آرزو مداری بننے کی تھی۔ ڈگڈگی بجائیں، بندر بھالو نچائیں اور ’’بچہ لوگ‘‘ سے تالیاں بجوائیں۔ پھر عقل آئی تو مداری کی جگہ اسکول ماسٹر نے لے لی۔ لیکن خواب نے اپنی شکل بدلنے سے انکار کر دیا۔ اب بشارت صاحب کے خواب میں اسکول ماسٹر ہے، مگر ایسا ماسٹر جو مکھن زین کی پتلون، سولا ہیٹ، سلیم شاہی جوتے، ریشمی ازاربند، پان کی ڈبیا اور فٹن کے ساتھ اسکول پہنچتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے مداری کا تماشا کسی سڑک کنارے مجمع لگانے کے بجائے صرف جگہ بدل کر اسکول میں آ گیا ہو۔
اور پھر یوسفی صاحب کا وہ جملہ:
’’بچہ اب سیانا ہو گیا تھا۔ بچپن رخصت ہو گیا، پر بچپنا نہیں گیا۔‘‘
یہ شاید بشارت صاحب کے خواب کی سب سے خوب صورت تشریح ہے۔ آدمی بڑا ہو جاتا ہے، مگر اس کے اندر کا بچہ اتنی آسانی سے بڑا نہیں ہوتا۔
اُستاد کا ایک اور نام
شیخ سعدی شیرازی نے اُستاد کا دائرہ کمرہء جماعت سے بھی باہر نکال دیا کہتے ہیں :
همه قبیلهٔ من عالمانِ دین بودند
مرا معلّمِ عشق تو شاعری آموخت
ایک طرف علم کی پوری روایت، دوسری طرف معلمِ عشق۔ شاعر کہتا ہے کہ میرا سارا قبیلہ دین کے عالموں پر مشتمل تھا، لیکن تمھارے عشق نے مجھے شاعری سکھا دی۔
دیکھا جائے تو ہماری زندگی میں ایسے کئی اُستاد ہوتے ہیں جنہیں ہم نے کبھی اُستاد کہا یا سمجھا ہی نہیں۔ کوئی کتاب، کوئی شاعر، کوئی دوست، کوئی واقعہ، کوئی محبت، کوئی غم۔ یہ سبھی کسی نہ کسی انداز میں کچھ نہ کچھ سکھانے کا ذریعہ بن جاتے ہیں تو پھر اُستاد ہی کہلائیں گے—زندگی کبھی کبھی عجیب لوگوں اور عجیب چیزوں کو ہمارے اُستاد بنا دیتی ہے اور ہمیں معلوم تک نہیں ہوتا۔ ویسے یہ فہرست خاصی طویل ہو سکتی ہے اس میں آن لائن وسائل کو بھی شامل کر لیجیے اور ہاں سب سے بڑا اور سخت گیر اُستاد تو خود زندگی ہے، اس کے تو سارےانداز ہی نرالے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ امتحان پہلے، سبق بعد میں۔
جو سبق رہ جاتا ہے

اُستاد کی اصل میراث صرف اُس کا پڑھایا ہوا سبق یا چند کتابیں نہیں، اصل چیز وہ سوال ہے جو اُستاد نے ذہن میں چھوڑ دیا، کسی کتاب تک پہنچنے کا راستہ بتا دیا، کوئی شعر یا نظم جسے دوبارہ پڑھنے کی عادت ڈال دی، یا وہ آزادی جس کے بعد آدمی ہر بات کو صرف اس لیے درست نہیں مانتا کہ اسے کسی اُستاد، کتاب یا بڑے آدمی نے کہہ دیا ہے۔ سوال کرنے اور سوچنے کی عادت سکھا دی ہو۔ سوچ کو نیا رخ، نیا موڑ، نیا راستہ دکھا دیا ہو۔ سیکھنے، جاننے، تلاش کرنے کی جستجو سے آشنا کر دیا ہو۔
اچھا اُستاد آخرکار اپنے شاگرد کو اپنے بغیر سوچنے اور سوالوں کے جواب تلاش کرنے کے قابل بناتا ہے۔
تب بھی اُستاد کی ضرورت کم نہیں ہوتی، صرف ایک نئے، زیادہ جاننے والے استاد کی تلاش اور اگے بڑھ جانے کی ضرورت ہوتی ہے۔



