استاد کا رویہ

استاد کا رویہ

ایک استاد کا رویہ، جو عمر بھر یاد رہ گیا

کل ایک صاحب کی ویڈیو دیکھی، جس میں انہوں نے بتایا کہ ان کے استاد کے رویے نے ان کی روح کو اس قدر زخمی کر دیا کہ اس کی کسک آج تک وہ محسوس کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پانچویں کلاس میں انہوں نے شب و روز کی محنت سے بورڈ کے امتحان میں صوبہ بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ جب پہلے دن وہ خوشی خوشی کلاس میں گئے تو سب سے آگے کی پہلی نشست پر بیٹھے کہ استاد انہیں دیکھ کر خوش ہوں گے۔
مگر۔۔۔ جب استاد کلاس میں داخل ہوئے تو ان کی پہلی نظر ان پر ہی پڑی۔ انہیں دیکھ کر غصے سے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ ان صاحب کے چہرے پر پیدائشی بدنما داغ تھے۔ استاد نے ان کے چہرے پر کئی تھپڑ مارے، یہاں تک کہ چہرہ لہو لہان ہوگیا۔ پھر حکم دیا کہ کلاس کی پچھلی نشست پر بیٹھیں تاکہ ان کا چہرہ نظر نہ آئے۔وہ اس دکھ اور بے عزتی کو آج تک محسوس کرتے ہیں۔

استاد شخصیت بناتا بھی ہے اور بگاڑتا بھی

 

واقعی استاد شخصیت بناتا بھی ہے اور بگاڑتا بھی ہے۔
“A Teacher makes and breaks the personality of a student.”
میرے ساتھ بھی ہونے والا استاد کا رویہ ملتا جلتا ہے۔ اس لیے سوچا کہ اسے قلم بند کر دوں، شاید یہ بات کسی سخت گیر استاد کے دل میں اتر جائے اور پھر کوئی طالب علم ڈاکٹر بننے سے محروم نہ رہ جائے۔

بچپن کی ذہانت اور کامیابی

میں بچپن سے بہت ذہین ہوں۔ اسے میرا تکبر نہ سمجھا جائے بلکہ آگاہی دے رہی ہوں۔ اب میری عمر ایسی ہے کہ مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اللہ پاک نے ذہانت دی ہے، میرا کوئی کمال نہیں۔
میں کے جی ٹو سے، یعنی جب سے اسکول میں داخل ہوئی، امتحان میں ہر سال پہلا انعام لیتی رہی۔ پھر ہم کراچی آگئے۔
ماڑی پور، سینٹ پیٹرک اسکول برانچ میں کلاس چہارم میں داخل ہوئی۔ ہر ٹیسٹ میں پورے نمبر یا کبھی کچھ کم بھی آتے رہے۔ سالانہ امتحان میں پانچ مضامین میں میرے نمبر سب کلاس میں سب سے زیادہ تھے۔

پشاور میں نیا مرحلہ

پھر ہم پشاور چلے گئے۔ وہاں میرا رزلٹ دیکھ کر ہی مجھے ڈبل پروموشن مل گئی۔ چوتھی کلاس پڑھی نہیں۔
حساب مشکل ہوگیا۔ مجھے کبھی گھر میں یا اسکول میں ایسی ڈانٹ نہیں پڑی تھی۔ نویں کلاس میں ایک دن حساب کے سوال غلط ہونے پر پوری کلاس کے سامنے ٹیچر نے ڈانٹا۔
میٹرک میں سائنس لینے کے لیے حساب کا مضمون لینا لازمی تھا۔ ٹیچر وہی ہوتیں میٹرک تک۔ اس لیے ان سے بچنے، یا یوں کہیں کہ بے عزتی سے بچنے کے لیے، میں نے نویں کلاس میں سائنس کے بجائے آرٹس لینا پسند کیا۔

ایک ڈانٹ نے حساب سے نفرت پیدا کردی

لیکن ہوا یہ کہ ان کی ڈانٹ یا اپنی بے عزتی، کہہ لیجیے، برداشت نہ کرسکی اور حساب سے اس درجہ نفرت ہوگئی کہ اب تک 2+2 بھی مشکل لگتا ہے۔
مجھے افسوس صرف کلاس میں اپنی بے عزتی کا ہے، جو برداشت نہ کرسکی۔
ایک استاد کی ایک سخت بات، ایک تحقیر آمیز جملہ یا سب کے سامنے کی گئی بے عزتی کسی بچے کے دل و دماغ پر ایسا نقش چھوڑ سکتی ہے جو برسوں نہیں مٹتا۔

جب خود استاد بنی

اس لیے جب خود ٹیچر بنی تو بچوں کے دل اور نفسیات کا خیال رکھا۔
دل بہت نازک ہوتا ہے۔ ایک دفعہ ٹوٹ جائے تو پھر اس کی چوٹ عمر بھر کسک دیتی ہے۔
اس لیے استاد کو شفیق اور مہربان ہونا چاہیے۔
استاد کا کام صرف کتاب پڑھانا نہیں، بلکہ بچے کے اندر اعتماد پیدا کرنا بھی ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کی کمزوری کو اس کی تحقیر کا ذریعہ نہیں بناتا، بلکہ اسے بہتر بنانے کا راستہ دکھاتا ہے۔

اپنے سابقہ طلبہ سے معذرت

لہٰذا میں جب سابقہ طلبہ سے ملتی ہوں تو معافی مانگتی ہوں کہ اگر کبھی جانے انجانے میں ان کا دل دکھایا ہو یا سزا دی ہو۔
کیونکہ شاید استاد کے لیے وہ ایک معمولی سا لمحہ ہو، لیکن شاگرد کے لیے وہ پوری زندگی کی یاد بن سکتا ہے۔
</div>

  • Tanveer Rauf

    مسز تنویر روف ایک باصلاحیت، باوقار اور تجربہ کار شخصیت ہیں جنہوں نے پینسٹھ سالہ زندگی کو حوصلے، دانشمندی اور استقامت کے ساتھ گزارا ہے۔ وہ ماضی کی تلخیوں پر نہ رکنے بلکہ آگے بڑھنے اور بہتر مستقبل کی طرف دیکھنے پر یقین رکھتی ہیں۔
    تعلیم کے شعبے میں تین دہائیوں سے زائد عرصے سے وابستہ، انہوں نے پرائمری سے یونیورسٹی سطح تک طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت کی ہے۔ مختلف ثقافتوں، زبانوں اور لوگوں سے ملنے کا شوق رکھنے والی مسز تنویر روف سفر کو علم اور دلوں کے قریب آنے کا ذریعہ سمجھتی ہیں۔
    وہ پُراعتماد، خوش مزاج اور ہر ماحول میں خود کو ڈھال لینے والی خاتون ہیں۔ پاکستان کی علاقائی زبانوں پر عبور اور دنیا بھر میں پھیلے دوست ان کے انسانی تعلقات کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔ایک اچھی معلمہ ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک اچھی مصنفہ اور مترجم بھی ہیں آپ کے سوانح عمری کے دو حصہ "زندگی خوبصورت ہے" اور "بڑھاپا بھی خوبصورت ہے" شائقینِ کتب میں مقبول ہوا اور اس کے علاوہ بھی آپ کی تصانیف اور تراجم بھی شائع ہوچکی ییں

    View all posts