مصنوعی ذہانت: انسان کی حلیف یا حریف

مصنوعی ذہانت

ذہانت، حماقت اور وقت کا فیصلہ

کہتے ہیں کہ ذہانت چاہے کتنی ہی مصنوعی کیوں نہ ہوجائے، حماقت ہمیشہ فطری ہی رہے گی۔ اب انسان نے مصنوعی ذہانت کا آغاز کرکے ذہانت دکھائی ہے یا حماقت کی ہے، اس کا فیصلہ تو وقت کرے گا۔ تاہم ہم مصنوعی ذہانت کا ماضی کھنگال کر، حال کے حالات دیکھ کر مستقبل کے حوالے سے ایک رائے قائم کرسکتے ہیں، جو صحیح بھی ہوسکتی ہے اور غلط بھی۔

مصنوعی ذہانت کے ابتدائی نقش اور تاریخی سفر

مصنوعی ذہانت کا آغاز 1940ء کی دہائی میں اس وقت ہوا جب ریاضیاتی استدلال اور ڈیجیٹل زبان پر مبنی پروگراموں کے مطابق چلنے والے ڈیجیٹل کمپیوٹرز نے جنم لیا۔ 1950ء میں ایلن ٹورنگ نے ٹورنگ ٹیسٹ کی تجویز پیش کی تاکہ یہ جانچا جاسکے کہ آیا کوئی مشین ایسا ذہین رویہ ظاہر کرسکتی ہے جو انسان کے رویے سے بظاہر مختلف محسوس نہ ہو۔ 1956ء میں ڈارٹ ماؤتھ کانفرنس میں “Artificial Intelligence” کی اصطلاح باقاعدہ طور پر سامنے آئی۔

1960ء سے 1970ء کی دہائی کے دوران مصنوعی ذہانت پر ہونے والی ابتدائی تحقیق زیادہ تر علامات اور منطقی قواعد کے ذریعے مسائل حل کرنے پر مرکوز رہی۔ اسی دور میں ELIZA جیسے پروگرام اور مختلف ماہر نظام سامنے آئے جنہوں نے پہلے انسان کو حیران کیا اور شاید مستقبل میں پریشان بھی کریں۔

“AI Winter” — تحقیق و ترقی میں جمود کا دور

یہ سفر اتنا سیدھا سادہ بھی نہیں تھا۔ مصنوعی ذہانت سے جب حسبِ منشا نتائج حاصل نہ ہوسکے تو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور تحقیق میں کمی کے ادوار بھی آئے۔ مصنوعی ذہانت کی تاریخ میں ان ادوار کو “AI Winter” کہا جاتا ہے۔

موجودہ دور: سہولت اور انسانی معاونت

موجودہ دور کو انسان کے “مزے کا دور” بھی کہا جاسکتا ہے، جس میں مصنوعی ذہانت کھل کر انسان کی مدد کررہی ہے۔ چاہے طب کے شعبے میں تشخیص کا معاملہ ہو، سائنس کے پیچیدہ مسائل ہوں، قانون، انجینئرنگ یا دیگر شعبوں کے مشکل کام ہوں، مصنوعی ذہانت انسان کیلئے ایک طاقتور معاون بن چکی ہے۔ وہ کام جنہیں پہلے دنوں، ہفتوں یا مہینوں میں مکمل کیا جاتا تھا، ان میں سے بہت سے کام اب سیکنڈوں یا منٹوں میں انجام دیے جاسکتے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ انسان کا یہ “مزے کا دور” مستقل رہے گا یا اس میں کسی تغیر کا امکان بھی ہے؟

مصنوعی ذہانت کی چار بنیادی اقسام

اس سوال کا جواب دینے سے پہلے مصنوعی ذہانت کی اقسام پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔ عام طور پر مصنوعی ذہانت کو چار تصوراتی اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلی، ردعمل دینے والی مشینیں، جو مخصوص کاموں کیلئے بنائی جاتی ہیں اور ماضی کے تجربات کو محفوظ کرکے ان سے سیکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتیں۔

دوسری، محدود یادداشت رکھنے والی مشینیں، جو ماضی کے کچھ ڈیٹا یا تجربات سے استفادہ کرکے فیصلے یا پیش گوئیاں کرسکتی ہیں۔ موجودہ مصنوعی ذہانت کی بیشتر عملی مثالیں اسی نوعیت کے نظام سے تعلق رکھتی ہیں۔

تیسری قسم “Theory of Mind” یعنی ذہنی نظریے سے متعلق مشینیں ہیں، جو مستقبل میں انسان کے جذبات، ارادوں اور خیالات کو سمجھنے کی صلاحیت رکھ سکتی ہیں۔ چوتھی قسم “Self-Aware AI” یعنی خود آگاہ مصنوعی ذہانت ہے، جس میں مشین کو اپنے وجود اور اپنی ذات کا شعور حاصل ہونے کا تصور کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک بات واضح کرنا ضروری ہے کہ تیسری اور چوتھی اقسام ابھی عملی حقیقت نہیں ہیں بلکہ زیادہ تر نظریاتی تصورات ہیں۔

تاہم مستقبل میں ان کے ممکنہ امکانات پر بحث ضرور جاری ہے کہ جس میں سائنسی عنصر کے ساتھ ساتھ اخلاقی عنصر بھی شامل ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم تیسری اور چوتھی قسم کی مشینوں کے حوالے سے درپیش خدشات کی بات کریں، پہلے پہلی اور دوسری قسم کو دیکھتے ہیں، جنہوں نے بلاشبہ انسانی زندگی میں سہولیات کے انبار لگا دیے ہیں۔

سہل پسندی اور انسانی صلاحیتوں کی تنزلی کا خطرہ

انسان نے اپنی محنت طلب ذمہ داریاں اور پیچیدہ مسائل مشینوں کے سپرد کرنا شروع کردیئے ہیں اور اسے اپنی کامیابی سمجھ رہا ہے۔ لیکن کہیں ایسا تو نہیں کہ سہولت کی یہ عادت آہستہ آہستہ انسان کو سہل پسند بنا دے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلسل مشینوں سے مدد لیتے لیتے انسان کی اپنی تخلیقی صلاحیتیں، غوروفکر اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت کمزور پڑنے لگیں؟ اصل سوال شاید یہی ہے۔

مصنوعی ذہانت کا خطرہ صرف یہ نہیں کہ مشین انسان سے زیادہ کام کرسکتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ کہیں انسان اپنی وہ صلاحیتیں ہی استعمال کرنا چھوڑ نہ دے جنہوں نے اسے مشین بنانے کے قابل بنایا تھا اور شاید یہی وہ مقام ہوگا جہاں سے مستقبل کی تیسری اور چوتھی قسم کی مصنوعی ذہانت کے حوالے سے ہمارے خدشات زیادہ اہم ہوجائیں گے۔

بعض ماہرین نے اس امکان پر بھی بحث کی ہے کہ اگر کبھی مشینیں انسانی ارادوں کو سمجھنے، اپنے فیصلے کرنے اور اپنے مفادات کا تعین کرنے کی سطح تک پہنچ گئیں تو انسان اور مشین کے درمیان تصادم کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔

تسخیرِ فطرت سے تسخیرِ مشین تک

ذرا تصور کیجیے، جو مشین انسان کے خیالات، جذبات یا ارادوں کو سمجھنے کی صلاحیت رکھتی ہو، اس کیلئے ان خیالات پر ردعمل دینا کتنا آسان ہوسکتا ہے۔ جب سے انسان کا وجود اس زمین پر آیا ہے، اس نے فطرت کو مسخر کرنے کی کوشش کی ہے۔

وہ اب تک فطرت کو مکمل طور پر مسخر تو نہیں کرسکا لیکن اس کی علامات اور قوانین کو سمجھنے میں کافی کامیاب ہوا ہے۔ مٹی، آگ، پانی اور دیگر عناصرِ فطرت کے ساتھ اس نے محیرالعقول کارنامے سرانجام دیے ہیں۔ لوہے کو اپنے ہاتھوں کا غلام بنایا، پہاڑوں کو کاٹا، سمندروں کو عبور کیا اور آسمانوں کو تسخیر کیا۔

لیکن اس دفعہ مقابلہ کسی ایک عنصر سے نہیں بلکہ ایک ایسی قوت سے ہے جسے خود انسان نے سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت دینے کی کوشش کی ہے اور یہاں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہے۔ اگر انسان نے مشین کو اتنی طاقت دے دی کہ وہ انسان کے فیصلوں کو سمجھ سکے، ان کا تجزیہ کرسکے اور شاید ایک دن اپنے فیصلے بھی کرسکے تو پھر اس طاقت کی لگام کس کے ہاتھ میں ہوگی؟

طاقت کا استعمال اور ممکنہ تصادم

انسان نے طاقت ہمیشہ اپنے مقاصد کیلئے استعمال کی ہے۔ کبھی دوسرے انسانوں کو شکست دینے کیلئے، کبھی انہیں زیر کرنے کیلئے اور کبھی اپنے مفادات کے تحفظ کیلئے۔ اگر مشین کبھی یہ سمجھنے کے قابل ہوگئی کہ طاقت کا استعمال کس طرح کیا جاتا ہے تو پھر وہ طاقت صرف انسان کے خلاف ہی کیوں نہ استعمال کرے جو اس زمین پر فساد پھیلا رہا ہو؟ یقیناً یہ ابھی ایک مفروضہ ہے، لیکن مستقبل کے سوالات ہمیشہ موجودہ دور کے مفروضوں ہی سے جنم لیتے ہیں۔

ہالی ووڈ کا تخیل اور حقیقی دنیا کے خدشات

اگر آپ نے “Matrix” سیریز کی فلمیں نہیں دیکھی ہیں تو ضرور دیکھیے گا۔ اس سیریز کی ابتدائی تین فلمیں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ یوں سمجھ لیجیے کہ جس خدشے کا اظہار آج بعض سائنس دان اور ماہرین کررہے ہیں، اس کا ایک تخیلاتی منظرنامہ اس سیریز میں پہلے ہی دکھایا جاچکا ہے۔ اس سیریز میں انسانیت کو مشینوں سے بچانے کیلئے “Neo” آجاتا ہے۔ ہماری دنیا میں کیا ہوگا؟

اخلاقی و قانونی حدود اور مستقبل کا فیصلہ

مشینیں مددگار رہیں گی یا حریف بن جائیں گی؟ اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت ہی کرے گا، لیکن ایک بات ضرور سوچنے کی ہے۔ طاقت کو جب یہ احساس ہوجائے کہ کسی اور کی بالادستی اس کی اپنی طاقت کی مرہونِ منت ہے تو طاقت کو زیادہ عرصے تک زیرِ دست رکھنا آسان نہیں رہتا۔ دنیا کی تاریخ میں انسان نے اس کی بہت سی مثالیں دیکھی ہیں۔

اسی لیے مصنوعی ذہانت کا مستقبل صرف مشینوں کی ترقی پر منحصر نہیں ہوگا بلکہ اس بات پر بھی منحصر ہوگا کہ انسان اس طاقت کیلئے اخلاقی، قانونی اور عملی حدود کس حد تک متعین کرتا ہے۔ جب تک مشین انسان کی معاون ہے، معاملہ انسان کے اختیار میں ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوگا جب معاون اور فیصلہ کرنے والے کے درمیان فرق ختم ہونے لگے۔

انسان کو مشین کے ہاتھ میں لگام دینے سے پہلے خوب سوچ لینا چاہیے، کیونکہ جب تک لگام انسان کے ہاتھ میں ہے، مشین مددگار ہے۔ لیکن اگر علامتی طور پر یہ لگام مشین کے ہاتھ میں آگئی تو پھر مشین پہلے حریف بنے گی اور اس کے بعد حریف سے فاتح یا مفتوح کا سفر کیا ہوگا، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ البتہ تخلیق، غوروفکر اور محنت سے عاری انسان کے مشینوں سے جیتنے کے کیا امکانات ہوسکتے ہیں، یہ فیصلہ میں آپ کی صوابدید پر چھوڑتا ہوں۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں