مسلم لیگ: الف سے ی تک

مسلم لیگ

مسلم لیگ: الف سے ی تک

مسلم لیگ پاکستان کی خالق جماعت ہے اور کانگریس ہندوستان کی خالق جماعت۔ پاکستان بنتے ہی مسلم لیگ مختلف دھڑوں میں تقسیم ہونا شروع ہوگئی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ ایک وقت میں ایسا لگتا تھا کہ بہت جلد مسلم لیگ “ق” بھی مزید دھڑوں میں تقسیم ہونے والی ہے۔ ان حالات میں پہلے تو سوچا کہ انہیں مشورہ دیا جائے کہ ایک دھڑا “ق” رکھ لے اور دوسرا “گ” بن جائے، کیونکہ ق کے بعد گ ہی آتا ہے۔ پھر سوچا کہ شاید انہیں “گ” پسند نہ آئے، حالانکہ وہ بالکل حسبِ حال ہے۔

اگر گ پسند نہیں آرہا اور دونوں کاف ہی رکھنے پر بضد ہیں تو ایک “قاتل” والا ق رکھ لے اور دوسرا “کتے” والا ک رکھ لے۔ بخدا اس میں کسی کی تذلیل یا سبکی کا کوئی پہلو نہیں، کیونکہ ابتدائی جماعتوں میں ہمیں “ک سے کتا” ہی پڑھایا گیا تھا۔ اس کا ایک مثبت پہلو یہ بھی ہوسکتا ہے کہ شاید اس طرح مسلم لیگ کے کردار میں کچھ وفاداری بھی سرایت کر جائے، جو اب تک ناپید یا مفقود دکھائی دیتی ہے۔

مستقبل میں اگر دونوں دھڑے رجوع کرکے دوبارہ ایک ہونا چاہیں تو پھر کاف کے کاف اور مسلم لیگ تو ویسے بھی اپنی ہی ہے!

جس جماعت نے ملک بنایا، وہ خود کیوں بکھر گئی؟

اب لوگ یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اگر مسلم لیگ واقعی ایک حقیقی سیاسی جماعت تھی تو قائدِ اعظم کی رحلت کے فوراً بعد سوکھے پتوں کی طرح کیوں بکھرنے لگی؟ 1954ء کے انتخابات میں جگتو فرنٹ نے مشرقی پاکستان میں مسلم لیگ کا تقریباً صفایا کردیا اور مسلم لیگ 315 میں سے صرف 9 نشستیں حاصل کرسکی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی مسلم لیگ کی بنیاد 1906ء میں مشرقی پاکستان ہی کے شہر ڈھاکہ میں نواب سلیم اللہ خان کی حویلی، احسن منزل، میں رکھی گئی تھی۔ آج وہی احسن منزل بنگلہ دیش میں ایک میوزیم کی حیثیت رکھتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جس جماعت نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی جدوجہد کی، وہ پاکستان بننے کے چند ہی برس بعد اپنے ہی عوام میں اتنی غیر مقبول کیوں ہوگئی؟

مسلم لیگ یا اقتدار کی داشتہ؟

اس سوال کا ایک نہایت دلچسپ اور تلخ جواب مجھے جناب جوہر میر کی کتاب “مہاسپہ” میں ملا۔ وہ لکھتے ہیں: “پاکستان میں قائد اعظم کی رحلت کے بعد صرف قیادت کا مسئلہ ہی نہیں پیدا ہوا، مسلم لیگ کے سیاسی کردار کی تبدیلی کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا تھا۔ مسلم لیگ نے بیوگی کی عدت کے رسمی اور قانونی دن بھی ابھی پورے نہ کئے تھے کہ اسے افسر شاہی نے اپنی داشتہ بنالیا۔

مسلم لیگ نے اپنے لئے یہ نیا تشخص بھی قبول کرلیا۔ چوہدری محمد علی کے بستر سے ایوب خان کی خواب گاہ تک اور قیوم خان کے حجرے سے دولتانہ کے کوٹھے تک، خلیق الزماں کی بیٹھک سے پیر پگارا کے اصطبل تک کوئی پلنگ، کوئی بستر، کوئی صوفہ اور کوئی گدیلا ایسا نہ تھا کہ جس پر مسلم لیگ نے استراحت نہ کی ہو۔ یہ مسلم لیگ کی اپنی بدچلنی کا نتیجہ ہو یا مسلم لیگ کو بدچلن بنانے والوں کا کارنامہ ہو۔ آج کا پاکستان اپنی شناخت کے جس بحران سے دوچار ہے، یہ اسی کا نتیجہ ہے۔”»

تخم میں خرابی تھی یا سیاسی موسم ہی خراب تھا؟

اب اس اقتباس کو پڑھ کر آدمی سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر مسلم لیگ کے “تخم” میں ہی کوئی خرابی تھی یا اسے حالات نے اسے ایسا بنا دیا تھا؟ ورنہ پاکستان بننے کے فوراً بعد ایک ایسی جماعت جو آزادی کی تحریک کی قیادت کررہی تھی، اتنی جلدی بے وفا، آوارہ اور بدچلن کیسے ہوگئی؟

یا پھر مسئلہ مسلم لیگ میں نہیں، ہماری سیاست کے اس مزاج میں تھا جس نے سیاسی جماعتوں کو عوام کی نمائندگی کے بجائے اقتدار تک پہنچنے اور اقتدار کے ساتھ رہنے کا ذریعہ بنا دیا؟

کہیں آزادی بھی ایک منصوبہ تو نہیں تھی؟

کبھی کبھی ایک اور خیال بھی ذہن میں آتا ہے، اگرچہ اسے محض خیال ہی سمجھا جائے کہ کہیں انگریزوں نے مسلمانوں سے بدلہ لینے کے لیے مسلم لیگ کے ذریعے یہ ملک تو نہیں بنوایا تھا؟ تاکہ آزادی تو مل جائے، مگر اقتدار ایسے ہاتھوں میں رہے جو اس ملک کے لوگوں کو حقیقی آزادی کا مزہ ہی نہ چکھنے دیں۔ یوں براہِ راست حکومت ختم ہوجائے، مگر بالواسطہ حکمرانی کے راستے کھلے رہیں۔

اب اس سے آگے امن خطرے میں ہے

اب اس سے آگے حقیقت بیان کرنے کا خطرہ ہے۔ یہ طالب علم تو ویسے بھی انتہائی امن پسند شہری ہے، اس لیے ایسے خیالات پر قُفل لگاتے ہیں اور سوچوں کے دھارے کو لگام دیتے ہیں۔ ویسے بھی جو کچھ لکھنے کی جسارت کی گئی ہے، یہ ان سوچوں کے سمندر کی محض ہلکی سی جھلک ہے۔

اس سے آگے گئے تو شاید صرف مسلم لیگ کی تاریخ ہی نہیں، پوری تاریخ دوبارہ لکھنی پڑے اور نہ ہم میں اس کا حوصلہ ہے، نہ شاید ہم اس کے متحمل ہوسکتے ہیں۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں