درباری مورخ اور تاریخ
درباری مورخ کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ بادشاہ سلامت کی مرضی کے مطابق تاریخ رقم کرتا رہے۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت تاریخ رکھ لیتے ہیں اور درباری مورخ رقم رکھ لیتا ہے، یوں دونوں کے لیے یہ سودا خاصا نفع بخش ہوتا ہے۔
بادشاہ سلامت کی مرضی کی تاریخ
تاریخ کو پراثر بنانے کے لیے درباری مورخ کو مختلف واقعات گھڑنے پڑتے ہیں۔ ان میں سرفہرست یہ بات ہوتی ہے کہ بادشاہ رات کو بھیس بدل کر رعایا کی دادرسی کے لیے نکلتا تھا۔ اب نہ اس زمانے میں ٹیلی وژن تھا، نہ اخبارات کہ لوگ بادشاہ کی شکل پہچانتے ہوں، پھر اسے بھیس بدلنے کی کیا ضرورت تھی؟ اس سوال پر مورخ بالکل خاموش ہے، بالکل ایسے ہی جیسے آج کل کی پریس کانفرنس میں مشکل سوال سامنے آجائے تو ہمارے سیاستدان خاموش ہوجاتے ہیں۔ ایک اور بات کہ بادشاہ بہت عادل ہوتا ہے چاہے اس کا نام جابر ہی کیوں نہ ہوں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ یہ بادشاہ کثرتِ ازدواج کے بھی شوقین اور کثیرالعیال بھی ہوتے تھے۔ اچھا ہوا اس زمانے میں ڈی این اے ٹیسٹنگ ایجاد نہیں ہوئی تھی، ورنہ مزید الجھنیں پیدا ہوجاتیں۔ کون سی الجھنیں؟ یہ تو ہم سب جانتے ہیں۔
گھنٹا، فریاد اور نظام
کسی بادشاہ کو محل کے باہر گھنٹا لگوانے کا شوق تھا کہ فریادی انصاف کے حصول کے لیے آئے اور گھنٹا بجائے۔ کسی نے یہ نظام وضع کرنے کی کوشش نہیں کی کہ ایک ایسا نظام قائم کردیا جائے جس کے تحت لوگوں کو ان کی بنیادی ضرورت کی چیزیں گھر کی دہلیز پر ملیں اور انہیں فریاد لے کر محل تک آنے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ ہم آج تک شخصیت پرستی سے نہیں نکل سکے اور کوئی ایسا نظام بھی وضع نہیں کرسکے جو شخصیت کا محتاج نہ ہو۔
ہمارے ہاں بادشاہوں کے ذاتی نیکی کے واقعات بھی تاریخ میں محفوظ ہیں۔ کوئی بادشاہ اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرآن مجید لکھتا تھا، کوئی ٹوپیاں سیتا تھا اور پھر یہ ٹوپیاں عوام کو پیسے لے کر پہنائی جاتی تھیں۔ مورخ نے یہ تو لکھ دیا کہ بادشاہ کتنا نیک اور خودکفیل تھا، یہ نہیں لکھا کہ اگر پورا نظام عوام کی زندگی آسان بنانے کے لیے بنادیا جاتا تو شاید بادشاہ کو یہ سب کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔
مستقبل کا درباری مورخ
اب ذہن میں سوال آتا ہے کہ آج کے دور کی تاریخ جب چار پانچ سو سال بعد لکھی جائے گی تو وہ کیسی ہوگی؟
آئیے، اس تحریر میں اس کی ایک جھلک دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
سنہ 2026ء، ملک امدادستان
اس زمانے کا بادشاہ اتنا دیالو تھا کہ جب بھی کسی چیز کی قیمت بڑھاتا، دل پر پتھر رکھ کر بڑھاتا۔ البتہ مورخ نے یہ نہیں بتایا کہ اس کا دل اس کے پاس تھا بھی یا نہیں۔ کیونکہ اس کا دل تین چار جگہوں پر سرکاری طور پر اور کچھ اتنی ہی جگہوں پر نیم سرکاری طور پر موجود تھا۔ غیر سرکاری طور پر کتنی جگہوں پر تھا، اس کا علم صرف اللہ کو تھا۔
یہ بادشاہ بارش میں فل بوٹ پہن کر سڑکوں پر نکل آتا اور تمام نالوں کو انگلی کے اشارے سے کھلنے کا حکم دیتا۔ سرکاری عاملوں کی پوری فوج موجود ہونے کے باوجود وہ یہ کام خود کرتا تاکہ درباری مورخ کو اس کے کارنامے تاریخ میں درج کرنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔
مورخ نے یہ بھی لکھا کہ بادشاہ رعایا کا اتنا خیال رکھتا تھا کہ بارش میں خود سڑکوں پر آتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ مورخ نے یہ سوال نہیں اٹھایا کہ اگر نالے باقاعدگی سے صاف ہوتے، پانی کے نکاس کا مناسب نظام موجود ہوتا اور ادارے اپنا کام کررہے ہوتے تو بادشاہ کو فل بوٹ پہن کر سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آتی؟
بادشاہ اور خوبصورت خواتین
بادشاہ کی ایک خوبی تو سنہرے حروف میں لکھنے کے قابل تھی۔ البتہ یہ وہی سنہرے حروف تھے جو کچھ عرصے بعد خود ہی سیاہ ہوجاتے ہیں۔
بادشاہ جب بھی کسی خوبصورت خاتون کو اکیلا دیکھتا تو اس سے اس کی تنہائی دیکھی نہ جاتی اور وہ فوراً اسے شادی کی پیشکش کردیتا۔ اگر کوئی خاتون شوہر کی موجودگی میں بھی تنہا دکھائی دیتی تو ایسا نہیں تھا کہ بادشاہ شوہر کی وجہ سے اس کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک کرتا۔ وہ تمام خوبصورت خواتین کو ایک ہی نظر سے دیکھتا تھا۔ البتہ رعایا کو اس کی نظر میں دیکھنے کی اجازت نہیں تھی کہ خدا جانے انہیں کیا نظر آجائے۔
“ز” کی بادشاہت اور درباری تاریخ
ایک اور بادشاہ تھا جسے “ز” سے شروع ہونے والی ہر چیز بہت پسند تھی۔ وہ بھی اپنے سینے میں ایک بہت دردمند دل رکھتا تھا۔ اسی لیے وہ خوبصورت مگر “غیر پیشہ ور” خواتین کو کورئیر کی ملازمتیں دیا کرتا تھا تاکہ ان کے گھر کا چولہا نہ بجھے اور ان کا دال دلیہ چلتا رہے۔
ان خواتین کا کورئیر کا کام اتنا چلا کہ بعد میں انہوں نے دال دلیے کے علاوہ سب کچھ کھانا شروع کردیا۔ ان کے گھر کا چولہا کیا بجھتا، انہوں نے تو دوسروں کے گھروں میں آگ لگانے کا کام بھی شروع کردیا۔
یہ آگ اتنی پھیلی کہ اسے بجھانے کے لیے لانچوں میں پانی لانا پڑا۔ درباری مورخ نے البتہ اس واقعے کو بھی بادشاہ کی “خواتین کی فلاح و بہبود” کی پالیسی قرار دیا۔
دربار سلامت، مورخ سلامت
ویسے آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔ ایسا نہیں کہ درباری مورخ کا کام ختم ہوگیا ہے۔ درباری مورخ کا کام ہنوز جاری ہے اور ویسے بھی جب تک دربار سلامت ہے، درباری مورخ کی ضرورت ختم نہیں ہوگی۔
چار پانچ سو سال بعد جب کوئی مورخ 2026ء کی تاریخ لکھے گا تو شاید اسے بھی بہت سے واقعات ایسے ہی ملیں گے جن میں بادشاہ کی نیکی، دردمندی، عوام دوستی اور غیر معمولی صلاحیتوں کے قصے سنہری حروف میں لکھے ہوں گے۔
بس فرق اتنا ہوگا کہ اس وقت کا مورخ شاید یہ سوال بھی کرے کہ بادشاہ نے کیا کیا تھا، اور درباری مورخ نے اس کے بارے میں کیا لکھا تھا؟
فی الحال ہم انتظار کرتے ہیں کہ آگے درباری مورخ کیا تاریخ رقم کرتا ہے، اور سب سے اہم بات یہ کہ کس رقم کے عوض کرتا ہے۔




