گرد کی تہ سے خزانہ نکلا: پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ

گرد کی تہ سے خزانہ نکلا

خود نوشت کا عنوان اور پس منظر

پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ نے اپنی خود نوشت کا نام‘‘تہ گرد ’’ رکھا ہے ۔بلکہ انھوں نے کہاں رکھا یہ نام تو فیاض صاحب کی نصف بہتر نے رکھا ہے جسے پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ نے بے چوں وچرامان لیا ہے کیونکہ اسی میں ان کی بہتری تھی مگر صاحب بیگم فیاض کی اس دور اندیشی کی داد دینا واجب ہے کہ انھوں نے کتا ب کا نام تہ گرد رکھا ۔

دراصل گرد کی تہ میں بہت سارے واقعات ، یادیں ، حادثات اور سانحات پنہاں ہوتے ہیں اور یہ خزانے ہر شخص کی گرد کی تہ میں ہوتے ہیں۔ آپ اگر ایک بہترین قاری ہیں تو پھر کبھی فرصت میں سوچیے اور ہمت کر کے اپنی گرد کی تہ سے وہ سب یادداشتیں نکالیں اور انھیں قرطاس پر لکھ لیں ۔

یہ یادداشتیں قصداً وجود میں نہیں آتیں ، بس کوئی ایک قصہ، کہانی، واقعہ یا حادثہ اس تسلسل کو بڑھاوا دیتا ہے اور یوں آپ کے اندر پوشیدہ گرد سے خزانہ نکلنے لگے گا اور ایک دن آپ بھی پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ صاحب کی جگہ پر بیٹھے نظر آئیں گے ۔

یہ سب باتیں یاد کر کے میں نے اپنی اس مختصر تحریر کا عنوان رکھا ہے “گرد کی تہہ سے خزانہ نکلا “۔

انتساب، ازدواجی لطافتیں اور نام کا انتخاب

ابتدا کرتا ہوں شیخ صاحب کے انتساب کے اس جملے سے

‘‘ممنون ہوں اپنی اہلیہ کا کہ ان سے چرایا وقت میری کامرانیوں کا باعث بنا’’[۱]

پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ نے بحیثیت ایک شوہرایسی حقیقت بیان کی ہے جسے شوہر حضرات بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ شیخ صاحب کا بڑا جگرا ہے کہ انھوں نے ببانگ دہل ایسی سچائی بیان کی ہے جس پر ان کے او پر سے مالائیں اتاری جائیں تو بھی کم ہیں۔وگرنہ یہاں تو یہ حال ہے کہ ماضی میں مجھ سے انٹر ویو میں پوچھا کہ آپ کیا کیا کرسکتے ہیں۔ میں نے وہی جواب دیا جو شوہروں کا جواب ہوتا ہے کہ پہلے تو میں سب کچھ کر سکتا تھا مگر جب سے شادی ہوئی ہے اب کچھ نہیں کر سکتا جو کرتی ہے بیگم کرتی ہے ۔

شوہر کی ذہانت کا راز ہی یہی ہے کہ وہ اپنی بیگم کے کچھ وقت چرا کر زندگی کی خوشیوں سے فیض یاب ہو،وگرنہ زنداں میں سانس تو چل ہی رہی ہے ۔

علامہ اقبال کا یہ شعر تو سب کو یاد ہوگا کہ: بہتر ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے

شیخ صاحب نے اقبال کا کہا مانا اور ناقص العقل کو دل سے کچھ وقت کے لیے دور کر کے ایک کتاب رقم کر ڈالی ۔ہم نے تو جتنی کتابیں لکھیں ہیں بیگم نے سامنے بٹھا کر املا کرائیں ہیں اسی لیے ہم جب بھی ریگل پرانی کتابوں کے بازار میں جاتے ہیں اپنی کتاب کھلی فضا میں دیکھ کر ٹھنڈی آہیں بھرتے ہیں۔کتنی خوش قسمت ہیں کہ یہ آزاد تو ہیں۔

شیخ صاحب کی کتاب بھی وہ کتاب ہے جسے ہر شخص پڑھنا چاہے گاکیونکہ اس کتاب میں اس قدر دلچسپیاں ہیں، ایسے ایسے ٹوٹکے ہیں اور تصاویر کا خزانہ ہے کہ کتاب بغیر پڑھے اور بغیر دیکھے انسان رہ ہی نہیں سکتا ہے ۔

شیخ صاحب نے عورت ذات خصوصاً بیگم ذات کی ذہانت کا ذکر بھی کر دیا ہے ،فرماتے ہیں

‘‘میری بیگم جنھوں نے پچھلے چوتیس سال مجھے بڑی خوشی سے برداشت کیا او رجو میری زندگی کے نشیب و فراز سے بہت اچھی طرح واقف ہیں اور اس کتاب کا عنوان‘‘تہ گرد’’ تجویز کیا جو میرے دل کو بھایا’’۔[۲]

شیخ صاحب نے اپنی روداد حیات کی مثال کرکٹ کے اننگ سے دی ہے ۔ کامیاب اننگ وہی ہوتی ہے جس میں چوکے بھی ہوں، چھکے بھی، اسکور بھی تین عدد میں ہو ، کبھی رنز بھاگ کر لیے جائیں، کبھی کیند بازوں کو خوب پیٹا بھی جائے اور یہ بات شیخ صاحب کی کتاب‘‘ تہ گرد’’ پڑھ کر لگا کہ وہ ایک کامیاب بلے باز ہیں مگر بیگم کو جو انھوں نے گگلی ماری ہے اس کا جواب نہیں۔ وہ اب تک خوش ہیں کہ ان کے میاں صاحب ان کی آنکھ کا تار ا، سر کا تاج اور ان کے تابعدار ہیں۔ اللہ تعالی جوڑی سلامت رکھے ۔

شیخ صاحب کی بیگم نے کتاب کا عنوان خود منتخب کیا ہے یعنی ‘‘تہ گرد’’ اگر میں شیخ صاحب کی بیگم کی ذہانت و ذکاوت کا ذکر کروں تو مضمون کتاب کا پیراہن اختیار کر لے گا اسی لیے کچھ سمجھنے والوں کے لیے بھی چھوڑ دیتا ہوں۔

میڈیکل سائنس، سر درد اور ڈاکٹر صاحب کی مسیحائی

صاحبو! ایک انسان اور سو بیماریاں،انسان کی بیماریاں بالکل انار کی مانند ہے ۔ بلکہ اب تو انار بھی پیچھے رہ گیا ہے ،لاتعداد بیماریاں انسا ن کو لاحق ہو گئی ہیں۔ ان لاتعدا د بیماریوں میں چالیس فیصد توبیماری کے زمرے میں آتی ہیں اور ساٹھ فیصد ڈاکٹروں سے نشو ونما پاتی ہیں۔اس لیے میڈیکل سائنس میں ایک معمولی بیماری کے لیے پورا ایک ہسپتال وجود میں آجاتا ہے ۔

شیخ صاحب نے اپنے لیے ‘‘سر درد’’ کا انتخاب کیا اور اس میں سرخرو ہوئے اورسر درد کے ماہرین میں ان کا شمار ہونے لگا ۔ شیخ صاحب اپنے ایک مضمون ‘‘سر درد یا دردسر’’ میں لکھتے ہیں

‘‘مائیگرین اور دماغ میں دوران خون کا یہ ٹاپک بہت دلچسپ تھا ’’[۳]

اللہ اللہ ۔ کوئی بیماری اتنی بھی دلچسپ ہوسکتی ہے اور وہ بھی مائیگرین اور دماغ میں دوران خون کا دوڑنا ۔ ہم اب تک یہ سمجھ رہے تھے کہ‘‘کہتے ہیں جس کو عشق……خلل ہے دماغ کا’’ ۔یہ شیخ صاحب کی مسیحائی کا کمال ہے کہ انھوں نے کئی بیماریوں کو بھی اس قدرپُر کشش بنا دیا ہے کہ ان بیماریوں پر قربان ہونے کو دل کر رہا ہے ۔

شیخ صاحب نے درد سر کے لیے بڑی جانفشانی کی ،پڑھائی کی، ملکوں کی سیر کی اور علم کا خزانہ حاصل کی اگر وہ بیگم کے سر درد پر تحقیق کرتے تو گھر بیٹھے درد سر کا ماہر بن جاتے مگر ہرکام کی کامیابی کے لیے ایک سند ضروری ہوتی ہے اول تو ،بیگم سند دیتی نہیں اور اگر دیتی تو وہ شاپنگ کی لسٹ ہوتی جس کو دیکھ کر خود ڈاکٹر صاحب سر درد کے مستقل مریض بن جاتے ۔

گھر کی گواہیاں، دیرینہ دوستی اور دلچسپ واقعات

تفصیلی مضمون کی گنجائش اس محفل میں نہیں ہے اس لیے مختصر کرتا ہوں ۔ گھر کی گواہی بڑی معتبر ہوتی ہے ۔ شیخ صاحب نے ایک دو نہیں گھر کی تین گواہیاں پیش کی ہے۔ ان میں شیخ صاحب کی بہن ، ان کی اہلیہ اور ان کی بیٹی شامل ہیں۔ وہ کیا فرماتیں ہیں اس کے لیے آپ کو کتاب خرید کر پڑھنی پڑھے گی اور اس لیے بھی کہ وہ اس کتاب سے ملنے والی آمدنی کسی رفاہی ادارے کو عطیہ کریں گے ۔

عرفان صبیح ،شیخ صاحب کے قریب ترین دوست ہیں اور۴۷ برس قدیم دوست اب تو اتنا قدیم دشمن تک نہیں ملتا ۔ عرفان صاحب نے بھی ڈاکٹر صاحب کے اوصاف بیان کیے ہیں اور ایک واقعہ بھی قلم بند کر دیا ہے جو شیخ صاحب کی شخصیات کے نئے پہلو سے روشناس کراتا ہے ۔ عرفان لکھتے ہیں

‘‘تمباکو نوشی کے حوالے سے فیاض ہمیشہ سے سگریٹ کے رسیا تھے جب کہ ہم کو تمباکو چبانے کی عادت تھی۔ جب این ایچ ایس نے سگریٹ نوشی پر پابندی لگائی تو وہ بھی ہماری طرح پھونکنے کے بجائے پھانکنے لگے۔ ہمارے گھر نارتھمٹن آتے تو امی کے ہاتھوں کے بنے تازہ پان مراد آبادی تمباکو کے ساتھ بہت شوق سے کھاتے ۔ ایک بار ملنے آئے تو ہمیں نیکوٹین بھری چوئنگم سے متعارف کروایا۔ جس کی علت میں آج تک ہم دونوں گرفتار ہیں’’۔[۴]

کچھ بیماریاں ڈاکٹر کی دین بھی ہوتی ہیں۔

تہ گرد میں تصاویر بھی شامل ہیں، کتاب میں یہ تین حصوں پر مشتمل ہیں۔ شیخ صاحب نے تحریراً ہی نہیں اپنی دلچسپ کہانی بیان کی ہے بلکہ تصاویر کی زبانی بھی بہت کچھ دیکھنے کو مل گیا ہے۔

وقت کی پابندی اور ایک چشم کشا واقعہ

حضرات!ہم نقلی مسلمان ہیں ،عملی نہیں ۔ اپنے مسلمان ہونے کا فخریہ اعلان کرتے ہیں مگر ڈھٹائی سے ۔ شیخ صاحب نے صفحہ 284میں ایک واقعہ لکھا ہے ،ایسے واقعات میں نے کئی کتابوں میں پڑھے ہیں آپ نے بھی پڑھے ہوں گے ۔اس واقعہ میں جس طرح ہم لوگوں کو غیر مسلم طنز کا نشانہ بناتے ہیں ،اس پر بجائے شرمسار ہونے کے ہم اس واقعے کو سر بزم بیان کرکے ثواب دارین حاصل کرتے ہیں۔شیخ صاحب لکھتے ہیں

‘‘5،فروری کو شروع ہونے والی میٹنگ کا پہلا لیکچر صبح 9بجے تھا ۔حسب عادت میں اورپیٹر صبح ساڑھے اٹھ بجے میٹنگ ہال پہنچے تو ہو کا عالم تھا ۔ دروازہ تک بند تھا ۔ بس کچھ ادویات کے اسٹال تھے جہاں لوگ اونگھ رہے تھے ۔ہم ہال کے باہر بیٹھ گئے ۔9بجے عزیز سونا والا اور انوار الحق ہال کی طرف آتے دکھائی دیے ۔

دروازہ کھولا گیا اور ہمیں اگلے صوفوں پر بیٹھنے کا کہا۔پیٹر نے پوچھا کہ 9بجے تو پہلا لیکچر تھا مگر ابھی تک تو ایک بندہ بھی نہیں پہنچا ۔عزیز نے معصومیت سے جواب دیا کہ پیٹر یہ پاکستان ہے ۔ یہاں کوئی وقت کی پابندی نہیں کرتا۔دس بجے سے قبل میٹنگ شروع نہیں ہو گی۔اس پر پیٹر نے برجستہ جواب دیا :‘‘حیرت ہے میں نے تو سنا تھا آپ لوگوں کو دن میں پانچ مرتبہ پابندی وقت کا درس دیا جاتا ہے ’’[۵]

حرفِ آخر اور مبارک باد

مختصراً پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ کی یہ سوانح عمری ایسی دلچسپ ،قابل مطالعہ اور رواں ہے کہ ایک بار پڑھنا شروع کریں تو پھر کئی صفحات بغیر کسی مشقت کے پڑھ جاتے ہیں وجہ صرف یہ ہے کہ ان کی تحریر شگفتہ ، بیان سادہ اور مضمون کا درو بست نہایت مربوط ہے ۔

آخر میں پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ کو میں مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ انھوں نے گرد کی تہ سے کیا کیا دلچسپ اور قابل مطالعہ خزانہ نکالا ہے۔ ان کی تحریر ،ان کا بیانیہ ،ان کی زبان دانی اور کہانی کا تسلسل سب قابل تعریف ہے۔

حواشی

پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ، انتساب ،تہ گرد، فضلی بک، کراچی، ستمبر ۲۰۲۵ء ص ۳

 پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ، پیش لفظ،تہ گرد، فضلی بک، کراچی، ستمبر ۲۰۲۵ء ص ۹

 پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ،سردرد یا درد سر ،تہ گرد، فضلی بک، کراچی، ستمبر ۲۰۲۵ء ص ۲۳۲

 پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ،نجی باتیں ،تہ گرد، فضلی بک، کراچی، ستمبر ۲۰۲۵ء ص ۱۹

 پروفیسر ڈاکٹر فیاض احمد شیخ،قائدانہ منصب ،تہ گرد، فضلی بک، کراچی، ستمبر ۲۰۲۵ء ص ۲۸۴

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں