انیتا غلام علی کی کہانی: ایک عظیم ماہرِ تعلیم کی یادگار زندگی — گوہر تاج

ماہرِ تعلیم انیتا غلام علی کی کہانی — گوہر تاج  

خاص اس لیے کہ یہ میری ان سے آخری یادگار ملاقات تھی۔

یہ پچھلے برس 2013ء کی بات ہے۔ جولائی کا مہینہ، دوپہر کا وقت۔ میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے دفتر میں ایک ایسی شخصیت کے سامنے بیٹھی ہوں جو ہمیشہ ہی مجھے اپنے دل کے قریب محسوس ہوئی ہیں۔

جن سے میری قربت کا رشتہ پل دو پل کی بات نہیں بلکہ 3 دہائیوں سے بھی زیادہ طویل عرصے پر محیط ہے۔ ملک میں تعلیم کے شعبے کے حوالے سے ان کا کام فقید المثال ہے۔ اپنی کتاب ’’سب میرے لعل و گوہر‘‘ (2012) ان کے نام منسوب کی تھی

ہم تو اسکول سے بھاگ جایا کرتے تھے ہاں بریک میں کھانا کھانے جاتے تھے۔انیتا غلام علی کی مزے مزے کی باتیں  سننے کے لیئے نیچے  امیج پریس کریں

 


انیتا غلام علی کی مزے مزے کی باتیں

ادھر کئی برسوں سے میں امریکا میں سکونت پذیر ہوں لیکن جب بھی پاکستان جانا ہوا، ہم دونوں ہی کی کوشش رہی کہ ملاقات کئی بار رہے۔ اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود جتنی بار بھی ممکن ہوا، انھوں نے کبھی اپنے گھر اور کبھی سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن (SEF) کے آفس بلا کر حتی المقدور ’’لاڈ‘‘ اٹھانے کی کوشش کی۔

اب یہ بات اور ہے کہ ان کا لاڈ اور پیار روایتی اظہارِ محبت سے ماورا ہے۔ آج میں ماہرِ تعلیم انیتا غلام علی سے ہونے والی ایک ’’خاص ملاقات‘‘ کا ذکر کر رہی ہوں۔

انیتا غلام علی سے آخری یادگار ملاقات

خاص اس لیے کہ یہ میری ان سے آخری یادگار ملاقات تھی۔ اس دن میں نے ان کے ساتھ 3، 4 گھنٹے گزارے۔ ادھر انھوں نے بیتے لمحوں کو دہرانا شروع کیا، ادھر ہم نے کاغذ اور قلم سنبھال کر یادوں کے موتیوں کو اپنی تحریر کی مالا میں پرونا شروع کر دیا۔

افسوس کہ ان کی زندگی میں اس تحریر کو باقاعدہ شکل میں چھپوانے کی نوبت نہ آ سکی۔ اس سال 8 اگست 2014ء کو انیتا آپا نے ایک بھرپور زندگی گزارنے کے بعد دنیا سے رخصت لی۔

ماہرِ تعلیم انیتا غلام علی کا خاندانی پس منظر

انیتا غلام علی نے 2 اکتوبر 1934ء کو کراچی میں پاکستان کے مشہور چیف جسٹس فیروز علی نانا اور سماجی کارکن شیریں نانا کے گھر آنکھ کھولی۔ والد اور والدہ کا تعلق سندھ کے علمی اور ادبی گھرانوں سے تھا۔

والدہ کے دادا سندھ کے مشہور عالم شمس العلما مرزا قلیچ بیگ تھے تو نانا مرزا جعفر قلی علی بیگ، جو برطانیہ سے فارغ التحصیل مشہور سرجن تھے۔ انیتا آپا کے والد سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سندھ کی قانون ساز اسمبلی کے پہلے سیکریٹری تھے۔

خود انیتا غلام علی مائیکرو بیالوجی کی پروفیسر رہی تھیں۔ بعد میں 2 بار سندھ میں تعلیم کی وزارت کا عہدہ بھی سنبھالا۔ صدارتی تمغہ حسنِ کارکردگی، تمغہ امتیاز کے علاوہ کئی ایوارڈز حاصل کیے۔

انیتا غلام علی کی کہانی، خود ان کی زبانی

’’ہماری دادی پارسی تھیں، ان کا نام دین بانو تھا۔ دادا مسلمان تھے۔ لہٰذا یہ سوچنا مشکل تھا کہ ایک مسلمان کی پارسی سے شادی کیسے ہو۔ دادا کم عمر، 19 برس کے تھے اس وقت لیکن اپنے فیصلے کی استقامت اور چاہت کی وجہ سے یہ مشکل کام انجام پہ پہنچا۔

یہ شادی علامہ آئی آئی قاضی، جو ان کے دوست تھے اور حیدرآباد میں رہتے تھے، کے گھر ہوئی۔ اس شادی میں کل 18 روپے اور 12 پیسے خرچ ہوئے۔ جس میں ہماری دادی نے سفید سوتی ساڑھی اور بلاؤز پہنا اور کچھ پیسے مٹھائی پہ خرچ ہوئے۔ ہماری دادی نے شیعہ مذہب کو اپنایا۔‘‘

’’ہمارے والد نے علی گڑھ یونیورسٹی سے پڑھا جہاں سے انھوں نے لا (قانون) کی ڈگری لی۔ ان کے زمانے میں آل احمد سرور طلبا یونین کے صدر اور والد جنرل سیکریٹری تھے۔ اس کے علاوہ نواب چھتیاری (راحت اور فرحت چھتاری کے والد) بھی ان کے زمانے میں ہوتے تھے۔‘‘

انیتا غلام علی کا بچپن: شرارت، تخیل اور جانوروں سے محبت

پھر انھوں نے اپنے بچپن کا ذکر کیا:

’’ہم گارڈن ایسٹ (کراچی) میں پیدا ہوئے۔ 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑے تھے۔ ہمارا بچپن بہت ایکٹیو (فعال)، طلسماتی، تخیلاتی اور شرارتوں سے بھرپور تھا۔

ہمارے گھر میں قسم قسم کے جانور تھے۔ گائے، بھینسیں، مرغیاں، شتر مرغ، بکری، بلی، کتا وغیرہ کے علاوہ اود بلاؤ (Otter) کی بھی جوڑی تھی جنھیں ہم پیار سے ٹومی اور لومی پکارتے تھے، جو ایک بڑے سے تالاب میں رہتے تھے۔

ہم سب کی موجودگی میں دن کے وقت تو وہ خوب آوازیں نکالتے اور خوش رہتے لیکن جب رات کے وقت اکیلے ہوتے تو بچوں کی طرح چیختے۔ لہٰذا ان کو زولوجیکل گارڈن دے دیا گیا، جہاں انھیں دوسرے اود بلاؤں کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔

اس کے بعد جب بھی ہم زولوجیکل گارڈن جاتے تو وہاں بھی جاتے اور ہمیشہ یہ ظاہر کرتے کہ جیسے ہم اپنے اود بلاؤں کو پہچان بھی رہے ہیں۔ ہمارے پاس وکٹوریہ بگھی اور گھوڑا گاڑی بھی تھی۔ ان جانوروں کے رہنے کے لیے بڑے بڑے کیچ یا پین (Pan) بھی تھے۔‘‘

انیتا غلام علی کے بچپن میں رات کو کہانیوں کی محفل

یہ جھلک تو انیتا آپا کے دن کی تھی جو کھیلوں میں مصروف گزرتا تھا لیکن رات بھی کچھ کم دلچسپ نہ ہوتی تھی۔

’’ہماری اماں رات کو ہم 5 بہن بھائیوں کو لے کر بیٹھتی تھیں اور آسکر وائلڈ اور لیو ٹالسٹائی وغیرہ کی کہانیاں پڑھ کر سناتیں۔ پڑھنے کے دوران وہ رک کر سوال پوچھتی جاتیں۔ ان کا کہانی پڑھنے کا انداز بہت اچھا تھا۔ صاف ستھرا اور واضح لہجہ۔ پھر دوسرے دن توقع ہوتی کہ بچے سوال کریں۔‘‘

واضح ہو کہ انیتا آپا کی امی شیریں نانا کو سندھی، انگریزی، فارسی، لاطینی، ہسپانوی زبانوں کے علاوہ بھی کئی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ انھوں نے 2 کتابیں ’’لیٹرز ٹو ایملی گلیمس فرام ان سائیڈ اینڈ آؤٹ سائیڈ دی حویلی‘‘ اور ’’سندھ ایمبرائیڈری اینڈ بلاکس‘‘ بھی لکھی ہیں۔

انیتا غلام علی، سینٹ لارنس اسکول اور گدھوں کی سواری

’’اس زمانے میں ہم سینٹ لارنس (سولجر بازار) میں پڑھتے تھے۔ لنچ کے وقت تو ہم بڑے صبر اور شرافت کے ساتھ کھاتے لیکن لنچ ختم ہونے کے بعد جب نوکر ہمیں اسکول کی Nuns (ننز) کے حوالے کر کے چلے جاتے تو تھوڑی دیر تو ہم انتظار کرتے، پھر سب کے چلے جانے کے بعد اپنی ڈیسک میں اسکول کا بیگ پھینک کر اپنے دوست آسٹن مارٹن کے ساتھ اس میدان میں بھاگ جاتے جہاں گدھے ہوتے تھے۔

دراصل اس میدان میں گدھا گاڑی والے اپنے گدھے چرنے کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔ ہم ان پر خوب رائیڈنگ کرتے اور سب مزے کرنے کے بعد ساڑھے 3 بجے اسکول، چھٹی سے پہلے، واپس آ جاتے۔

اس وقت ہماری عمر 8، 9 سال کی ہو گی۔ تو یہ طریقہ، اسکول سے بھاگنے کا، 1 یا 2 ماہ جاری رہا۔ مگر یہ سلسلہ زیادہ عرصہ جاری نہ رہ سکا۔

ہماری آئرش ننز (Nuns) تھیں، انتہائی سخت قسم کی۔ انھوں نے ایک دن دیکھا تو تشویش ہوئی۔ پھر ہماری انکوائری کی گئی، اس کے بعد ہماری اماں کو بلوایا۔ انھیں بھی پتہ چلا کہ کیسے ہم غائب رہتے ہیں۔

ہماری اماں دبلی پتلی تو بہت تھیں مگر ان کے ہاتھ بہت مضبوط تھے۔ ہماری ایک ٹیچر مدر انتھونی تھیں۔ انھوں نے اماں کو سمجھایا۔ اماں اس وقت تو چپ چاپ سنتی رہیں مگر پھر گھر جا کر خوب مرمت ہوئی ہماری۔

ہماری ایک ٹیچر مسز ڈی سوزا ہوتی تھیں جن کو ستانے میں ہمیں بہت مزہ آتا تھا۔ وہ 12 بجے سے 1 بجے دن تک پنشمنٹ (Punishment)، یعنی سزا ملنے والے بچوں کی نگرانی، سپروائزری بھی کرتی تھیں۔ انھوں نے بالآخر کہہ دیا کہ ’اس کا (انیتا) کوئی علاج نہیں۔‘‘‘

انیتا غلام علی پنج گنی میں نانی کے گھر اور نئی زندگی

انیتا آپا نے کچھ رک کے بات جاری رکھی:

’’اس طرح ہماری شرارتوں سے تنگ آ کر امی نے ہمیں نانی کے پاس پنج گنی (مہاراشٹر، انڈیا)، جو ایک ہل اسٹیشن ہے، بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ ہماری نانی کا بہت خوب صورت گھر تھا جس میں کئی ایکڑ پہ پھیلے باغات تھے۔ نانی ہاف برٹش تھیں اور سخت نظم و نسق والی۔ اماں نے سوچا کہ ان کا اثر ہم پر اچھا پڑے گا۔

ہماری تو یہ عادت تھی کہ جوتا بھی اچھال کر اتارتے تھے۔ وہاں جانے کے لیے ہم نے آیا اور نوکر کے ساتھ 2 راتیں اور 3 دن ٹرین میں گزارے۔ ہمارے ماموں بھی وہیں ایک بورڈنگ اسکول میں پڑھتے تھے۔ ہمارا داخلہ بھی سینٹ جوزف اسکول میں کیا گیا۔

اسکول تو بہت اچھا تھا لیکن ہم کو تو کبھی تعلیم سے دلچسپی تھی ہی نہیں۔ ہم گھر سے اسکول پونی پر جاتے تھے۔ شروع میں 3 ماہ تک تو ہمیں بارش میں رین کوٹ پہن کر جانا پڑا۔

نانی کے گھر 2 سال رہے۔ 2 سال بعد جب گھر واپس گئے تو اس دوران ایک بھائی بھی پیدا ہوا تھا۔

ہمارے دادا ہمیں بہت چاہتے تھے۔ ان کی طرف سے ہمارے لیے 5 روپے کا منی آرڈر ہر ماہ آتا تھا۔ اس دوران ہم بہت رسالوں کے ممبر بھی بن گئے تھے۔ دادا کے لاڈ کی وجہ سے سب کہتے، دادا ہیں جو ہم کو خراب کر رہے ہیں۔‘‘

انیتا غلام علی کا کالج کا زمانہ اور فلموں کا شوق

یہ تو اسکول کے زمانے کی جھلک ہے۔ کالج کا زمانہ بھی انیتا آپا کا کوئی کم دلچسپ نہیں تھا، جس کے متعلق وہ بتاتی ہیں:

’’کالج میں ہم کبھی باٹنی کی کلاس نہیں لیا کرتے تھے۔ یہ کلاس دوپہر میں 3 بجے ہوتی تھی۔ وہی وقت جب طلبا کے لیے پیراڈائز سینما میں میٹنی شو ہوتا تھا۔

ہماری بوٹنی کی یہ ٹیچر سامان، تجربے میں استعمال ہونے والا، اور پنسل وغیرہ کے بارے میں بہت سخت ہوتی تھیں۔ لہٰذا ہم کوئی ایسی شرارت کرتے کہ سزا ملے۔ مثلاً اپنی پنسل کو شارپ کرنے کا ریزر نہیں لاتے۔ بس یہی چھوٹی سی بات کافی ہوتی تھی۔ وہ ہمیں کلاس سے نکل جانے کو کہتیں اور یہی بہترین موقع ہوتا کہ ہم کم داموں پر فلم شو دیکھتے۔‘‘

انیتا غلام علی کی مائیکرو بیالوجی میں کامیابی اور گولڈ میڈل

یہی حالات رہے ہوں گے جبھی انیتا آپا کے مطابق ’’انٹر‘‘ 2 Attempts میں پاس کیا۔

انھوں نے بتایا:

’’ہمارے ساتھ کالج میں ڈاکٹر ادیب رضوی بھی تھے، جن کے ساتھ ہم بیٹھتے تھے۔ وہ سارے تجربے کرتے تھے اور ہم ٹیبل پر آرام کرتے رہتے۔ ہمارے بیگ میں کتابوں کے بجائے ٹینس شوز ہوتے تھے۔‘‘

ان ساری باتوں کے باوجود انیتا آپا نے بتایا کہ ان کا گھرانا بہت سپورٹیو (Supportive) تھا۔

’’انٹر میں ہمارے گریڈ اتنے اچھے نہیں تھے کہ میڈیکل میں داخلہ مل سکے۔ لہٰذا مائیکرو بیالوجی کا انتخاب کیا۔ جب تعلیم ایک مخصوص مضمون میں ہو گئی تو ہم نے اس میں دلچسپی لینی شروع کی۔ ویسے بھی یہ مضمون میڈیسن سے قریب تھا، جس کی وجہ سے تعلیم میں دلچسپی بڑھنے لگی۔ لہٰذا ماسٹرز میں ہم نے ٹاپ کیا اور گولڈ میڈل لیا۔

جب ہم اپنے اسکول اور کالج کے ٹیچروں سے ملتے تو وہ یہ سن کر ہمیشہ حیران ہوتے کہ ہم نے گولڈ میڈل لیا ہے۔‘‘

انیتا غلام علی کی قائدانہ صلاحیتیں

بچپن سے آخری عمر تک ان میں خداداد لیڈرشپ صلاحیت تھی، جو ان کی تعلیم کے زمانے میں دیکھی گئی۔

کہتی ہیں:

’’ہم نے بی ایس سی میں ایک فارما سوٹیکل میں انٹرن شپ (تربیتی کورس) کی جہاں جلد ہی ہم فلنگ سیکشن کے انچارج بنا دیے گئے۔ انٹرن شپ میں ہماری لیڈر شپ ظاہر ہو رہی تھی۔ اسی زمانے میں ہم نے لیاری کے علاقے میں ریڈکراس کے لیے رضاکارانہ کام بھی کیا۔‘‘

انیتا غلام علی کی تدریس کا آغاز اور ایس ایم سائنس کالج

تعلیم میں شاندار کامیابی یعنی ایم ایس میں فرسٹ پوزیشن کے بعد دادا کی خواہش پر تعلیم و تدریس کے شعبے کا انتخاب کیا۔

اس کے متعلق کہتی ہیں:

’’ابھی ماسٹرز کیا ہی تھا کہ بیچلر کی سطح کے طلبا کو 1961 میں پڑھانا شروع کر دیا۔ یہ ایس ایم سائنس کالج تھا جو چھوٹا سا اور کوئی زیادہ مشہور بھی نہ تھا۔

یہاں عموماً کم آمدنی والے گھرانوں کے لڑکے آتے تھے، جن میں سے کچھ تو ہم سے بھی بڑی عمروں کے ہوتے تھے۔ جو کام بھی کرتے تھے اور پڑھتے بھی تھے۔

یہ طلبا عموماً لانڈھی، ملیر، لیاری جیسے علاقوں سے آتے تھے۔ رات میں فیکٹری میں کام کرتے اور صبح کو کالج میں ہوتے۔ لہٰذا ان کے بارے میں اکثر معاملات میں حساس ہونا پڑتا تھا کیونکہ وہ مختلف مسائل کا شکار رہتے تھے۔‘‘

کھیلوں نے انیتا غلام علی کو استاد بننے میں کیسے مدد دی؟

ایک نوجوان استاد ہونے کی حیثیت سے اس قسم کے طلبا، جو عمر میں بھی بڑے ہوتے تھے، سے نپٹنا مشکل ہو سکتا تھا لیکن انیتا آپا کی کھیلوں سے دلچسپی اور لیڈرشپ نے اس ملازمت کو آسان کر دیا۔

بچپن سے اسپورٹس میں دلچسپی کے متعلق انھوں نے بتایا:

’’شریر طالب علم ہونے کے علاوہ ہم ایک بہت اچھے اسپورٹس پرسن تھے۔ یونیورسٹی میں طلبا یونین کے صدر تھے۔ بیڈمنٹن، نیٹ بال اور ٹیبل ٹینس ٹیم کے چیمپئن تھے۔

ان کھیلوں نے ہماری زندگی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس اسپورٹس پرسن ہونے کی وجہ سے ہمیں مستقبل میں مختلف صورتحال سے بہتر طور پر نپٹنا آیا۔ اپنے طلبا سے بھی نپٹنے میں مشکل نہ ہوئی۔

ہم کبھی کبھی ان کو دوستانہ انداز میں تھپڑ بھی لگا دیا کرتے اور کبھی کبھار ان کی جیبیں بھی پھاڑ دیتے لیکن بالعموم ہم ان کے ساتھ نرم رویہ ہی رکھتے تھے۔ ہمیں پتہ تھا کہ اگر ان سے عزت لینی ہے تو ان کو اپنا بہترین وقت دینا بھی ہے۔

ہماری کلاس (طلبا) انرجی سے بھرپور ہوتی تھی۔ جن کو کبھی فریش کرنے کے لیے ہم چائے کا کپ بھی پلا دیتے۔ اگر اہم کرکٹ میچ ریڈیو پر آ رہا ہوتا تو ہم کلاس منسوخ کر کے ان کے ساتھ ٹرانسسٹر پر میچ بھی سنتے۔‘‘

انیتا آپا نے اپنے طلبا کی حوالات میں ضمانتیں بھی دیں اور ہر طرح سے ان کا خیال رکھا۔ اس کا نتیجہ ہی تھا کہ ان کے بیان کے مطابق:

’’طلبا ہمیں بہت تحفظ دیتے تھے۔‘‘

انیتا غلام علی اور وہ واقعہ جب طلبا نے پولیس اہلکار کو دیکھ لیا

’’ایک دن جب یونی فارم پہنے ایک پولیس اہلکار کالج میں اپنے ذاتی کام سے آیا اور چونکہ ہم اس وقت کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کی صدر تھے اور مظاہرے جلسے کر رہے تھے، طلبا یہ سمجھے کہ وہ ہمیں گرفتار کرنے آیا ہے۔

ایک طالب علم ہمیں بتانے آیا اور یقین دلایا کہ اگر اس پولیس والے نے ہمیں چھونے کی بھی ہمت کی تو ’ہم اس کا بھرکس نکال دیں گے‘۔ جب بے چارا پولیس والا تیسری منزل تک پہنچا، جہاں ہم بیٹھا کرتے تھے، تو وہ کانپ رہا تھا خوف سے۔‘‘

انیتا غلام علی، کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن اور قومی تحویل کی تحریک

ایس ایم کالج میں 1961–65ء تک کام کیا۔ اس دوران انیتا آپا نے کالج ٹیچرز ایسوسی ایشن کی صدارت سنبھالتے ہوئے نجی کالجوں کو قومی تحویل میں دینے کی تحریک کا تاریخی کام کیا، جس میں پولیس کے لاٹھی چارج کو سہا، مگر 1972ء تک نجی ادارے قانوناً قومی تحویل میں دے دیے گئے۔

جو ایک بڑی کامیابی تھی۔

انیتا غلام علی: ریڈیو پاکستان سے سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن تک

انھوں نے ریڈیو پاکستان میں بطور نیوز کاسٹر 1950ء کی دہائی میں کام شروع کیا، جو 2 دہائیوں تک جاری رہا۔ تعلیم کا سلسلہ مگر کبھی نہیں ٹوٹا۔

’’1985ء سے ہم نے منیجنگ ڈائریکٹر (سندھ ٹیچرز فاؤنڈیشن) کا عہدہ سنبھالا۔ اس کے تحت 1990ء میں سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے ادارے کے منیجنگ ڈائریکٹر بن گئے۔‘‘

انیتا غلام علی 2 دفعہ سندھ کی وزیرِ تعلیم بھی رہی ہیں۔ لیکن کالج کی استادی (ٹیچنگ) انھیں سب سے زیادہ پسند تھی۔

انیتا غلام علی: ’’سب سے زیادہ طاقت ایک استاد کو کلاس میں محسوس ہوتی ہے‘‘

وہ کہتی ہیں:

’’سب سے زیادہ طاقت ایک استاد کو اس وقت محسوس ہوتی ہے جب وہ کلاس میں ہوتا ہے۔ یہ وہ طاقت ہے جسے ہم محسوس کر سکتے ہیں، چھو سکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے جیسے آپ ’سپرمین‘ ہیں۔

آپ کے ہاتھ میں بہت کچھ ہوتا ہے اور یہ منسٹر ونسٹر۔۔۔ یہ تو ایسے ہی کچرا (نوکری) ہے۔ اس کے ہاتھ میں کیا طاقت ہوتی ہے جو استاد کے پاس ہوتی ہے۔

سچی بات تو یہ ہے کہ اگر ہم نے پڑھ لیا ہوتا تو منسٹر نہ ہوتے، ڈاکٹر ادیب رضوی ہوتے۔‘‘

انیتا غلام علی سے برداشت، تحمل اور دوسروں کو قبول کرنے کا سبق

انیتا آپا میں دوسروں کے نقطۂ نظر کو تحمل سے سننے اور برداشت کی عادت تھی، جس کی وجہ سے وہ ہر قسم کے افراد سے رشتہ استوار کر سکتی تھیں۔

اس کی ایک ممکن وجہ ان کے مطابق یہ ہے:

’’ہمارے ابا جج تھے جس کی وجہ سے ان کی ہر 2 سال بعد مختلف شہروں میں پوسٹنگ ہوتی تھی، مثلاً سیہون، حیدرآباد، نواب شاہ، سکھر وغیرہ۔ جہاں جاتے ہماری اماں وہاں کے مقامی اسکولوں میں داخل کروا دیتیں۔ ہم نے سندھی میڈیم میں بھی پڑھا ہے۔

آج کل لوگ کہتے ہیں کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے سے نفسیات خراب ہوتی ہے جب کہ ایسا نہیں ہے۔

ہمارے اس تجربے کی وجہ سے بعد کی زندگی میں جب ہم بھوٹان، مالدیپ اور چین جیسے ممالک میں گئے تو ہمیں دوسرے لوگوں سے رابطہ اور میل جول میں کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ ہم نے نئے دوست بنائے، نئی زبان سیکھی کیونکہ نہ ہم میں احساسِ کمتری تھا، نہ برتری اور نہ ہی دوسرے کے خلاف بغض تھا۔

ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ لوگ کس طرح ایک دوسرے کے مذہب کے خلاف بات کرتے ہیں۔ اگر ہم نے ایک دوسرے کی بات سننے اور انھیں نہ بدلنے کی عادت ڈال لی ہوتی اور اس کے بجائے محض اپنا نقطۂ نظر بنانے کی کوشش کی ہوتی تو نفرتیں اس قدر نہ بڑھتیں۔‘‘

انیتا غلام علی کے مطابق تعلیم کی تباہی کا اصل سبب کیا ہے؟

اپنے 2 دفعہ کے وزارتِ تعلیم کے تجربے کے متعلق ان کا کہنا تھا:

’’تعلیم کی تباہی کا اصل سبب طبقاتی نظام ہے۔ ایک طبقے کا بچہ موبائل، گاڑی اور گائیڈ لیے پھر رہا ہے جب کہ 80 فیصد بچے محرومی کا شکار ہیں۔‘‘

انھوں نے پوری زندگی ایک عام اور غریب بچے کی تعلیم کی بہتری کے لیے وقف کر دی اور زندگی کے آخری سالوں تک کام اور صرف کام ہی کیا۔

انیتا غلام علی کا ہر روز کچھ نیا سیکھنے کا فلسفہ

جس کے حوالے سے ان کا کہنا تھا:

’’ہمیں سب سے زیادہ لطف ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھنے میں آتا تھا۔ خاص کر نوجوانوں کی باتیں ہمیں تازگی دیتی ہیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ ہم سب میں اسفنج کی طرح جذب کرنے کی صلاحیت ہے۔ مشاہدہ کرنا، اسے جذب کرنا اور اسے اپنے تجربے میں لانا۔‘‘

کاش ہم انیتا آپا کی طرح برداشت، رواداری اور ہر روز کچھ سیکھنے کی عادت کے عہد کا انمول تحفہ دنیا کو دے سکیں۔

تحریر: گوہر تاج

خصوصی شکریہ

  روزنامہ ایکسپریس

2nd & 4th  OCTOBER 2014

VIDEO

 YOUTUBE @wisewords1997