دی ون منٹ مینیجر: قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کا ایک منٹ کا طریقہ

دی ون منٹ مینیجر: قیادت اور انتظامی صلاحیتوں کا ایک منٹ کا طریقہ

کیا کوئی شخص صرف ایک منٹ میں اپنے ملازم کی کارکردگی بدل سکتا ہے؟ کیا ایک منٹ کی تعریف کسی انسان میں نئی جان ڈال سکتی ہے؟ اور کیا ایک منٹ کی تنبیہ اسے ذلیل کیے بغیر اپنی غلطی سدھارنے پر آمادہ کر سکتی ہے؟ بظاہر یہ باتیں ناقابلِ یقین لگتی ہیں، لیکن آج جس کتاب کا ذکر کرنے جا رہا ہوں، اس کے مصنفین کا دعویٰ ہے کہ اچھی قیادت کے لیے ہمیشہ طویل تقریروں، مسلسل نگرانی اور سخت احکامات کی ضرورت نہیں ہوتی۔

کتاب کا نام ہے دی ون منٹ مینیجر، یعنی ایک منٹ کا منتظم۔ اسے کین بلانچارڈ اور اسپینسر جانسن نے تحریر کیا ہے۔ یہ انتظامی صلاحیتوں اور انسانی رویوں کے بارے میں ایک مختصر مگر دلچسپ کتاب ہے، جس میں خشک نصیحتوں کے بجائے ایک کہانی کے ذریعے قیادت کے بنیادی اصول سمجھائے گئے ہیں۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

اچھے منتظم کی تلاش: کہانی کا آغاز

کہانی ایک نوجوان سے شروع ہوتی ہے جو ایک اچھے منتظم کی تلاش میں نکلتا ہے۔ وہ مختلف اداروں میں جاتا ہے، افسروں سے ملتا ہے اور ان کے کام کرنے کے طریقے دیکھتا ہے۔ اسے دو طرح کے منتظمین ملتے ہیں۔

ایک وہ جو نتائج حاصل کرنے کے لیے اپنے ملازمین پر سختی کرتے ہیں۔ ان کے ادارے تو کامیاب دکھائی دیتے ہیں، لیکن ملازمین خوش نہیں ہوتے۔

دوسرے وہ جو ملازمین کے ساتھ نہایت خوش اخلاقی سے پیش آتے ہیں، مگر ان کے اداروں کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔

نوجوان سوچتا ہے کہ کیا کوئی ایسا منتظم بھی ہے جو اپنے ملازمین کو خوش رکھے اور ادارے کو کامیاب بھی بنائے؟

آخرکار اس کی ملاقات ایک ایسے شخص سے ہوتی ہے جو خود کو ون منٹ مینیجر کہتا ہے۔

نوجوان حیران ہوتا ہے۔ کیا واقعی ایک منٹ میں انتظامی مسائل حل کیے جا سکتے ہیں؟

منتظم اسے اپنے تین راز بتانے کے بجائے اپنے ساتھیوں سے ملاقات کرنے کا مشورہ دیتا ہے۔ اور یہیں سے کتاب کی اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔

کامیاب قیادت کے تین بنیادی راز

 پہلا راز: ایک منٹ میں مقصد کا تعین

مصنفین کہتے ہیں کہ بہت سے اداروں میں ملازمین کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ان سے کیا توقع کی جا رہی ہے۔ ملازم سمجھتا کچھ اور ہے، افسر چاہتا کچھ اور ہے۔ نتیجہ غلط فہمی، ناراضی اور خراب کارکردگی کی صورت میں نکلتا ہے۔

اس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ ملازم اور منتظم مل کر چند اہم مقاصد طے کریں۔ ہر مقصد مختصر الفاظ میں لکھا جائے، تاکہ اسے تقریباً ایک منٹ میں پڑھا جا سکے۔

ذرا اپنے پاکستانی دفاتر کا تصور کیجیے۔ ایک افسر اپنے ماتحت سے کہتا ہے کہ اس منصوبے پر جلد کام مکمل کرو۔ لیکن جلد کا مطلب کیا ہے؟ آج، کل یا اگلے ہفتے؟

اگر وہ صاف کہہ دے کہ جمعرات تک تین صفحات کی رپورٹ تیار کرنی ہے، جس میں اخراجات، مسائل اور تجاویز شامل ہوں، تو کام کہیں زیادہ واضح ہو جائے گا۔

یہی پہلا سبق ہے۔ جس کام کا مقصد واضح نہ ہو، اس کے نتائج پر شکایت کرنا بھی مناسب نہیں۔

 دوسرا راز: ایک منٹ کی تعریف

یہ حصہ مجھے خاص طور پر دلچسپ لگا۔

کتاب میں بتایا گیا ہے کہ اکثر منتظمین اپنے ملازمین کی غلطیاں تلاش کرتے رہتے ہیں۔ کوئی کام درست ہو جائے تو خاموش رہتے ہیں، لیکن معمولی غلطی پر فوراً بازپرس شروع ہو جاتی ہے۔

ون منٹ مینیجر اس کے برعکس طریقہ اختیار کرتا ہے۔ وہ اپنے ملازمین کو کوئی کام درست کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو فوراً ان کی تعریف کرتا ہے۔

لیکن یہ محض رسمی شاباش نہیں ہوتی۔ وہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ کون سا کام اچھا ہوا اور اس سے ادارے کو کیا فائدہ پہنچا۔

فرض کیجیے کسی اسکول میں ایک استاد کمزور طلبہ کی مدد کے لیے اضافی وقت دیتا ہے۔ پرنسپل اسے بلا کر کہتا ہے کہ آپ نے ان بچوں پر خصوصی توجہ دی، ان کی کارکردگی بہتر ہوئی اور مجھے آپ کی محنت کی خوشی ہے۔

یہ چند جملے استاد کے اندر ایک نیا حوصلہ پیدا کر سکتے ہیں۔

ہمارے گھروں میں بھی یہی اصول کام آ سکتا ہے۔

بچہ اپنا کمرہ صاف کرے، تو صرف یہ کہنے کے بجائے کہ اچھا کیا، اسے بتائیے کہ آپ نے اپنی چیزیں ترتیب سے رکھیں، اس سے کمرہ خوبصورت ہوگیا اور آپ کی ذمہ داری کا احساس ظاہر ہوا۔

کتاب کا اہم پیغام یہ ہے کہ لوگوں کو صرف غلط کام کرتے ہوئے نہ پکڑیے، انہیں اچھا کام کرتے ہوئے بھی دیکھیے۔

 تیسرا راز: ایک منٹ کی تنبیہ

یہاں مصنفین ایک نہایت اہم فرق واضح کرتے ہیں۔

غلطی پر تنبیہ ضرور کیجیے، لیکن غلطی کرنے والے انسان کی شخصیت پر حملہ نہ کیجیے۔

ون منٹ مینیجر جب کسی اہم غلطی کو دیکھتا ہے تو اسے نظرانداز نہیں کرتا۔ وہ فوراً بتاتا ہے کہ غلطی کیا ہوئی اور اس سے اسے کیوں مایوسی ہوئی۔

لیکن اس کے بعد وہ یہ بھی واضح کرتا ہے کہ اس کی ناراضی غلط عمل سے ہے، انسان سے نہیں۔

مثلاً ایک ملازم نے اہم فائل وقت پر مکمل نہیں کی۔

اسے یہ کہنا کہ آپ انتہائی غیر ذمہ دار اور ناکارہ انسان ہیں، اس کی عزتِ نفس مجروح کر سکتا ہے۔

لیکن اگر افسر کہے کہ آپ نے فائل مقررہ وقت پر مکمل نہیں کی، اس سے پورے دفتر کا کام متاثر ہوا، مجھے آپ سے بہتر کارکردگی کی توقع ہے، تو پیغام بھی پہنچ جاتا ہے اور اصلاح کی گنجائش بھی باقی رہتی ہے۔

مصنفین کے نزدیک تنبیہ کا مقصد کسی شخص کو شرمندہ کرنا نہیں، بلکہ اس کی کارکردگی بہتر بنانا ہے۔

البتہ کتاب میں بیان کردہ بعض سخت جملے اور جسمانی لمس کے طریقے آج کے ہر دفتر اور ہر ثقافت کے لیے مناسب نہیں سمجھے جا سکتے۔ احترام، رضامندی اور پیشہ ورانہ حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔

کتاب کا ادبی تجزیہ اور محدودات

اب ذرا کتاب کے ادبی پہلو کی طرف آئیے۔

یہ کوئی روایتی ناول نہیں۔ کرداروں کی نفسیاتی گہرائی یا واقعات کے پیچیدہ اتار چڑھاؤ اس کا مقصد نہیں۔ مصنفین نے ایک سادہ تمثیلی کہانی لکھی ہے جس میں ہر ملاقات ایک انتظامی اصول کی وضاحت کرتی ہے۔

اس کی خوبی یہ ہے کہ مشکل باتیں بھی آسانی سے سمجھ آ جاتی ہیں۔ اس کی کمزوری یہ ہے کہ بعض کردار حقیقی زندگی کے پیچیدہ انسانوں کے بجائے مصنفین کے نظریات کی نمائندگی کرتے محسوس ہوتے ہیں۔

کتاب میں انسانی رویوں اور نفسیات سے متعلق مختلف مطالعات کا سہارا بھی لیا گیا ہے، لیکن ہر دعوے کو جدید سائنسی تحقیق کا قطعی نتیجہ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

ایک اور بات بھی اہم ہے۔ اس کتاب کا عنوان پڑھ کر یہ نہ سمجھیے کہ ہر کام صرف ایک منٹ میں مکمل ہو سکتا ہے۔ اصل مقصد مختصر، واضح اور بروقت گفتگو کی اہمیت سمجھانا ہے۔

نتیجہ اور عملی مشورہ

اس کتاب کی سب سے خوبصورت بات شاید یہ ہے کہ یہ انتظامی کامیابی کو صرف منافع، پیداوار یا اعداد و شمار سے نہیں ناپتی۔ یہ یاد دلاتی ہے کہ اداروں کی کامیابی میں انسانوں کا بنیادی کردار ہوتا ہے۔

میرے خیال میں یہ کتاب صرف افسروں اور کاروباری منتظمین کے لیے نہیں، بلکہ اساتذہ، والدین، سماجی کارکنوں اور ان تمام لوگوں کے لیے مفید ہو سکتی ہے جو دوسروں کی رہنمائی کرتے ہیں۔

ہاں، یہ مکمل انتظامی نصاب نہیں۔ اس میں اداروں کے پیچیدہ مسائل، طاقت کے غیر مساوی تعلقات، ملازمین کے حقوق اور مختلف انسانی مزاجوں پر زیادہ تفصیل نہیں ملتی۔ لیکن یہ چند بنیادی عادتوں کی طرف ضرور توجہ دلاتی ہے۔

اور اب اس کتاب سے حاصل ہونے والا ایک عملی مشورہ۔

آج آپ اپنے گھر، دفتر یا ادارے میں تین کام کر کے دیکھیے۔

کسی شخص کو واضح طور پر بتائیے کہ آپ اس سے کیا توقع رکھتے ہیں۔

کسی اچھے کام کی فوری اور سچی تعریف کیجیے۔

اور اگر کسی غلطی کی نشاندہی ضروری ہو تو عمل پر تنقید کیجیے، انسان کی عزت پر نہیں۔

ممکن ہے یہ تین چھوٹے اقدامات آپ کے تعلقات اور کام کرنے کے ماحول میں مثبت تبدیلی پیدا کر دیں۔

آخر میں ایک سوال آپ کے لیے چھوڑتا ہوں۔

آپ کی زندگی میں ایسے کتنے لوگ ہیں جن کی غلطیاں تو آپ فوراً دیکھ لیتے ہیں، مگر ان کی خوبیوں کی تعریف کرنا بھول جاتے ہیں؟

سوچیے گا ضرور۔