رتجگوں میں لکھی ہوئی نظمیں سید انور جاوید ہاشمی کی شاعری کا جاءزہ

]

رتجگوں میں لکھی ہوئی نظمیں — سید انور جاوید ہاشمی کی شاعری کا جائزہ

کتاب: رتجگوں میں لکھی ہوئی نظمیں (شاعری)
شاعر: سید انور جاوید ہاشمی
ناشر: ٹائپورا اسٹوڈیو، کراچی
صفحات: 158
قیمت: درج نہیں
برائے رابطہ: 03333295074
تبصرہ نگار: ڈاکٹر محمد سہیل شفیق
سید انور جاوید ہاشمی: شاعر، ادیب اور محقق

سید انور جاوید ہاشمیؔ (1953ء۔2026ء) شاعر، ادیب، محقق، مترجم، نقاد اور صحافی تھے۔ وہ اردو لغت بورڈ سے بحیثیت معاون وابستہ رہے۔
علاوہ ازیں متعدد ادبی رسائل و جرائد کے ساتھ مترجم، نامہ نگار اور مدیر کی حیثیت سے بھی وابستہ رہے اور اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے اردو زبان و ادب کی خدمت کرتے رہے۔
ان کی شعری و نثری تصنیفات و تالیفات میں نئے بت پرانے پجاری، مشاہدۂ حق، انتظار کے پودے، تکلف برطرف، خاکِ دل، کاغذ کا رزق، کراچی نامہ، نغمہ زار اور اعتبار کی شبنم شامل ہیں۔

سید انور جاوید ہاشمی صاحب کی کہانی خود ان کی زبانی سننے کے لیئے اس امیج کا کلک کری

 

رتجگوں میں لکھی ہوئی نظمیں

پیشِ نظر کتاب “رتجگوں میں لکھی ہوئی نظمیں” ان کی مختلف شعری کاوشوں کا آخری مجموعہ ہے، جو مختلف اوقات میں رسائل و جرائد اور سوشل میڈیا کے متنوع پلیٹ فارموں  پر شائع ہوتی رہی ہیں

خود ان کے بقول:

“نہ یہ بڑی شاعری ہے اور نہ ہی شعری روایت سے بغاوت کے مصداق اینٹی غزل کی تحریک کے زیرِ اثر کچھ شعوری و لاشعوری کوشش۔ جسے مصرع لکھنا آتا ہو نثری نظم بھی لکھ سکتا ہے اور شاعری کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کرسکتا ہے۔ داخلیت، خارجی اثرات، امیجریز، استعارے کے استعمال اور سب سے بڑھ کر اظہار کے لیے اختراعی رجحان کے بجائے اپنے مخصوص اسلوب کو بروئے کار لانا مشکل بھی ہے اور ممکن بھی۔
یہ نظمیں جیسی بھی ہیں، آپ اپنا تعارف ہیں! زندگی کے پل پل بدلتے انسانی رویوں اور معاشرتی تضادات، اتفاقات و حادثاتِ زمانہ کی عکاس ان نظموں سے محفوظ و متفق ہونے کا حق بھی قاری کو اتنا ہی ہے جتنا حقِ استرداد!”

زندگی، سماج اور انسانی رویّوں کی عکاسی

ان نظموں میں زندگی کے مختلف تجربات، سماجی رویّوں، معاشرتی ناہمواریوں، انسانی خواہشات، محرومیوں اور بدلتے ہوئے اقدار و تصورات کی جھلک نمایاں  ہے

ہاشمی صاحب نے اپنے مشاہدات کو محض خارجی منظرنامے کے طور پر پیش نہیں کیا بلکہ ان میں اپنی ذات کے تجربے اور داخلی احساس کو بھی شامل کیا ہے۔
ایک نظم ملاحظہ کیجیے:

میں نے اپنے چہرے پر
سماجی مرتبے کی مہر ثبت نہیں کروائی
میرے ہم عصر
لمبی لمبی گاڑیوں، ایئر کنڈیشنڈ کمروں
اور سوشل کانٹریکٹ رکھنے والی بیویوں پر
چاہے جتنا نازاں ہوں
مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس نہیں ہوتا
صبح کی اذان کانوں میں نہیں
خواب آلودہ پلکوں کے رستے
میرے سینے میں بیداری کی لہر پیدا کرتی ہے
میں حصولِ رزق کے لیے
نیم بیداری کے عالم میں
سترہ کلومیٹر کا فاصلہ
ستائیس منٹ میں طے کرلیتا ہوں
میرے ہم عصروں نے ستائیس برسوں کا فاصلہ
سترہ سیکنڈوں میں طے کرلیا ہوگا
مجھے اپنی آہستہ روی
اور خواہشوں کی یورش کے مابین
چھڑنے والی جنگ سے لطف لینے کا اتنا ہی حق ہے
جتنا میرے سماجی ہم عصر
اپنی زندگی سے لطف اٹھاتے ہیں
میں کم مایا ہی سہی
یہ قناعت کی دولت میرا عظیم سرمایہ ہے۔

 

اپنے عہد سے جڑی شاعری

“رتجگوں میں لکھی ہوئی نظمیں” کا مطالعہ کرتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ شاعری کسی ایک موضوع یا مخصوص شعری سانچے تک محدود نہیں۔
شاعر نے اپنے عہد، اپنے ماحول اور اپنے ذاتی تجربات کو مختلف زاویوں سے دیکھنے اور انہیں اپنے مخصوص اسلوب میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
ان نظموں میں ایک ایسے حساس انسان کی آواز سنائی دیتی ہے جو اپنے گردوپیش سے لاتعلق نہیں اور بدلتے ہوئے سماجی رویّوں کو محض دیکھتا نہیں بلکہ ان پر اپنے انداز میں ردِعمل بھی ظاہر کرتا ہے۔

  • Sohail Shafiq

     

    ڈاکٹر محمد سہیل شفیق کا شمار پاکستان کے ان نامور مورخین، محققین اور ماہرینِ تعلیم میں ہوتا ہے جنہوں نے تدریس اور تحقیق کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا۔ وہ جامعہ کراچی کے شعبہ اسلامی تاریخ کے پروفیسر اور چیئرمین کے عہدے پر فائز رہے۔ علمی و تحقیقی سفران کا  پی ایچ ڈی مقالہ "جامعہ نظامیہ بغداد کا علمی و فکری کردار" اسلامی تاریخ کے حوالے سے ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔ اسلامی تاریخ، سیرتِ طیبہ اور وفیات و اشاریہ سازی کے میدان میں ان کی خدمات بے مثال ہیں۔

    اہم تصانیف و مرتب کردہ کتب:

    جامعہ نظامیہ بغداد کا علمی و فکری کردار ، وفیات معارف ، نعت نامے ،  جامعہ اردو کتابیاتِ سیرت اور مقالاتِ معارف شامل  ہیں  

    View all posts