ڈاکٹر اقبال ہاشمانی کی کتاب “ایامِ رقصِ طاؤس”: کراچی کے سنہرے دنوں کی بازگشت

 ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب نے ازراہ کرم مجھے اپنی ساری کتابیں عنایت فرمائی مگر جب سے میں گفتگو فورم میں شامل ہوا ہوں، اس فورم کے کئی احباب کی کتابوں پر میں پڑھ چکا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی کسی کتاب کے لیے فورم میں اظہارِ خیال کا ذکر نہیں کیا۔

عنایت کی گئی کتابوں پر تو میں ضرور لکھتا ہوں اور پڑھتا بھی ہوں۔ اس لیے میں نے ڈاکٹر صاحب کی مذکورہ کتاب پر لکھ لیا تھا آج سمجھتا ہوں کہ اسے پڑھ بھی دوں۔ کیونکہ یہ ایک ادبی قرض ہے جس کی ادائیگی مجھ پر فرض ہے۔ میں صرف اپنے فرض کی ادائیگی کر رہا ہوں اس میں کسی کی فرمائش شامل نہیں ہے۔

ایامِ رقصِ طاؤس: ایک تعارف

ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب سے میری پہلی باضابطہ ملاقات نثار نندوانی کی مرہونِ منت ہے۔ ایک اتوار کینیڈا سے ہمارے پیارے بھائی عبدالشکور پٹھان کراچی تشریف لائے تو انھوں نے اتوار کے دن ریگل کی پرانی کتابوں کے بازار چلنے کا پروگرام بنایا۔ اتفاق سے میرپور خاص سے نوید سروش اپنے شاگرد اعجاز بابو خان کے ساتھ مجھ سے ملنے ریگل آ گئے۔

یوں ہم چار افراد ہو گئے کہ شکور صاحب سے نندوانی صاحب بڑے تپاک سے ملے پتہ چلا کہ نندوانی صاحب شکور صاحب سے واقف ہیں۔ ہم سے کہنے لگے کہ اگر وقت ملے تو جبیس چلیں، وہاں ’’گفتگو‘‘ کی محفل ہوتی ہے آپ سب کو بڑا لطف آئے گا۔ شکور صاحب آمادہ ہو گئے۔

میں ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب کو غائبانہ ان کی کتاب ’’مجبوریاں‘‘ اور ’’مزید مجبوریاں‘‘ کے حوالے سے جانتا تھا، یہ دونوں کتابیں میری لائبریری میں ہیں۔ میں بظاہر تو غزل کا شاعر ہوں مگر میرا دوسرا عشق طنز و مزاح سے ہے۔ آپ اسے عقدِ ثانی بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس لیے میرے کتب خانے میں ایک خاصی تعداد طنز و مزاح پر مبنی کتابوں کی ہے۔

ملاقات کا احوال

ہم چاروں نندوانی صاحب کی معیت میں جبیس پہنچے تو وہاں ایک محفل سجی ہوئی تھی۔ ہم سب کو دیکھ کر سب نے خوشی کا اظہار کیا اور ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب اس استقبال میں پیش پیش تھے۔ مجھے دیکھتے ہی پہچان گئے کیونکہ مجھ سے زیادہ مشہور میری تصویریں ہیں جو فیس بک پر بلاوجہ نظر آتی رہتی ہیں۔

میں نے احباب کی جانب نظر ڈالی تو اس وقت سب میرے لیے نئے تھے مگر جب میں باقاعدہ ’’گفتگو‘‘ کا رکن بن گیا تو پھر سب میرے لیے میرے اپنے بن گئے۔ بعد میں ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب نے اپنی تازہ کتاب ’’ایامِ رقصِ طاؤس‘‘ عنایت کی۔

کراچی کے سنہرے دنوں کی یاد

ایامِ رقصِ طاؤس یہ کراچی کے سنہرے دنوں کی یاد میں لکھی گئی ہے۔ میرے کتب خانے میں کم و بیش 30 کتابیں کراچی کے موضوع پر ہیں۔ میں اگرچہ کراچی والا نہیں ہوں پھر بھی کراچی سے مجھے اس لیے انسیت ہے کہ میں نے کراچی کے آخری سنہرے دنوں کو دیکھا ہے

یہ بات ہے 1958 سے 1960 تک کی ہے جب میں کراچی میں رہتا تھا۔ 1977 میں مستقل طور پر کراچی آ کر بس گیا، غالباً کراچی کی خرابی میں میری کراچی آمد بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ کیونکہ کسی انسان کی خباثت اتنا اثر نہیں ڈالتی جتنی اس کی خواہشات بے جا اثر ڈالتی ہیں۔

ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب کی کتاب کو میں نے ملنے کے بعد پڑھی، پھر وقفے سے پڑھی اور اب پھر پڑھی۔ یہاں تک تو تمہید تھی، قصہ اب شروع ہوتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے دلچسپ، دلفریب اور دل گرفتہ کراچی پر کتاب کا نام ’’ایامِ رقصِ طاؤس‘‘ رکھا ہے۔

کتاب کا ادبی اور تہذیبی مطالعہ

کتاب کے صفحہ 5 کا پہلا پیراگراف کسی عشقیہ ناول کے ہیروئن کا قصیدہ لگتا ہے اگرچہ یہ کراچی کے پس منظر کا حسین منظر ہے۔ کہانی فرئیر ہال سے شروع ہوتی ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا اگلا پڑاؤ صدر میں واقع ’جہانگیر پارک‘ ہے۔ کتاب کا دوسرا عنوان ’’آسیب کا سایہ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا کہنا ہے کہ ماضی کو یاد کرنے کا ایک اچھا ذریعہ پرانے فلمی گانے بھی ہیں۔

کتاب کے صفحہ 127 پر میں نے ایک صاحب کا ذکر پڑھا اور اچنبھا رہ گیا، ڈاکٹر صاحب نے اپنے فیس بک شناسا کا ذکر کیا جن کا نام اقبال ابراہیم وفا ہے۔ خوش قسمتی سے ایک اتوار گفتگو گروپ کے دوست ان کی دعوت پر ان کے درِ دولت پر پہنچے جہاں طعام و کلام سے لطف اندوز ہوئے۔

ڈاکٹر صاحب نے ان کے بارے میں بتایا کہ اقبال ابراہیم وفا صاحب فداؔ خالدی دہلوی کے تلازمہ میں رہے ہیں۔ کیسا حسنِ اتفاق ہے کہ میں اپنے ایک بزرگ خواجہ تاش سے مل کر نہال ہوا۔ میں بھی حضرت فداؔ خالدی دہلوی کا باقاعدہ شاگرد ہوں۔

ایک جامع دستاویزی کتاب

کتاب 224 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب میں ماضی کے ساتھ ساتھ حال کی بدحالی کا بھی ذکر بہت احسن طریقے سے کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں کیا کچھ نہیں ہے

حسین مقامات کا ذکر، پارکس، عمارات، ڈان اور بدمعاشوں کا ذکر، ہوٹلوں اور ڈھابوں کا ذکر، سینماؤں، فن کار، فلموں، حکومت اور مارشل لاء کے دور کا ذکر، مساجد، کالج، یونیورسٹی، ٹرام، سرکلر ٹرین، اور نامور شخصیات کا تذکرہ۔ گویا ڈاکٹر اقبال ہاشمانی نے اپنی زندگی کے ہر چھوٹے بڑے واقعات کا ذکر کیا ہے۔

اختتامیہ

’’ایامِ رقصِ طاؤس‘‘ کا اختتام صفحہ 224 پر ان درد بھرے الفاظ پر ہوتا ہے کہ: ’’کراچی میرا شہر اپنے اس سنہرے دور سے گزر چکا ہے۔ اس کا وہ رنگین اور دلکش ماضی اب محض خواب بن کر رہ گیا ہے۔ وہ اپنے ایامِ رقصِ طاؤس سے گزر چکا ہے۔ شاید میں بھی۔۔۔۔‘‘

حضرات! ایسے یاسیت کے عالم میں رونا بہت ضروری ہے۔ روئیے اور دل کھول کر روئیے: غموں کا بوجھ ہو سینے پہ بھاری کسی جا بیٹھ کے چپکے سے رو لیں

ڈاکٹر اقبال ہاشمانی صاحب کی کتاب ’’ایامِ رقصِ طاؤس‘‘ کراچی کے متوالوں، کراچی کے جاننے والوں اور کراچی کی حسین ماضی اور نحیس حال کو دیکھنے کی طرح جاننا چاہتے ہیں تو پھر اس کتاب کو پڑھیں اور ڈاکٹر اقبال ہاشمانی کے حق میں دعا کریں، ہم سب اس دعا میں شریک ہیں۔

ایں دعا ازمن و از جملہ جہاں آمین باد

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

ڈاکٹر اقبال ہاشمانی