“فراغتیں کیسی کیسی ” بلبلیں نواب کی سے انتخاب ترجمہ شاہ محی الحق فاروقی

بیٹیوں کا اعتراض اور غزالہ کی دھمکی

فراغتیں کیسی کیسی اس کتاب کے جتنے باب اب تک میں نے لکھے ہیں انہیں میری بیٹیاں پڑھتی اور ٹائپ کرتی رہی ہیں لیکن اس باب پر انہیں سخت اعتراض ہے۔ غزالہ تو مجھے دھمکی دے رہی ہے کہ وہ اس باب کو ٹائپ ہی نہیں کرے گی اور اس گندے حصے کو ٹائپ کرانے کے لیے مجھے کسی ایسے شخص کا انتظام کرنا پڑے گا جو اس سے کم حساس ہو۔ میرا خیال تو یہ تھا کہ آج کے ماحول میں جب جوان بچے اپنے والدین کے سامنے کسی موضوع پر بھی گفتگو کرنے میں کسی قسم کی الجھن محسوس نہیں کرتے تو غزالہ کو بھی کتاب کے اس حصے پر گفتگو کرنے میں کوئی بہر حال میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ اگر میں ان دشواریوں کو بیان نہ کروں جو گاؤں کے پٹیل کے چبوترے پر قیام کرنے والے کسی شخص کو صبح سویرے فراغت حاصل کرنے میں پیش آتی ہیں ت میں موضوع سے انصاف نہ کروں گا۔اعتراض نہ ہو گا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ غزالہ کا خیال ہے کہ ہر بات کی ایک حد ہوتی ہے جس کے آگے کوئی چیز طبع نہیں ہونی چاہیے۔

گجرات کے دیہات میں عوامی سہولیات کا فقدان

حقیقت یہ ہے کہ گجرات کے دیہاتوں میں عوامی سہولیات کا کوئی باقاعدہ نظام میں ہے بلکہ گجراتی زبان میں تو اس کے لیے کوئی خاص لفظ ہے ہی ہیں۔ بعض لوگ جھاڑو ” کا لفظ استعمال کرتے ہیں جو ایک فارسی لفظ کی بگڑی ہوئی مشکل ہے جس کے معنی ہیں ” جائے ضرور” بعض لوگ اس کام کے لیے “ٹٹی” جانے کا حوالہ بھی دیتے ہیں جس کا مطلب ہے “پردہ” گاؤں میں جہاں نہ اس مقصد کے لیے کوئی مخصوص جگہ ہوتی ہے اور نہ کوئی پردہ میسر ہوتا ہے وہاں گاؤں کے لوگ اس مقصد کے لیے کسی مخصوص جگہ جانے کا حوالہ دے کر کام چلاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہماری شادی کے ابتدائی دنوں میں “کادی” نامی جگہ پر قیام کے دوران میں حسن آراء کو اس معاملے میں ایک اصطلاحی بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ہوا یہ کہ ایک مرتبہ رات کا کھانا پکانے کے عین درمیان میں اس کے خدمت گار نے تھوڑی دیر کے لیے کہیں جانے کی اجازت مانگی۔ حسن آرا نے پوچھا کہ اسے کہاں جاتا ہے۔ کچھ دیر تو وہ نوکر اپنی منزل کے بارے میں کچھ بتانے سے ہچکچاتا رہا لیکن جتنی اس کی ہچکچاہٹ بڑھی اتنا ہی حسن آراء کا شبہ بڑھا کہ وہ محض شرارت کر رہا ہے چنانچہ اس نے بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے باقاعدہ دھمکی دینا شروع کر دیا۔ اس نے بڑے سخت لہجے میں ملازم سے کہا ”جب تک تم مجھے بتاؤ گے نہیں کہ تمہیں کہاں جاتا ہے میں تمہیں کسی حالت میں نہیں جانے دوں گی۔” اس اثناء میں بیچارے ملازم کی حالت نازک ہوتی جا رہی تھی۔ آخر کار وہ پھٹ پڑا اور بولا کہ وہ جنگل جانا چاہتا ہے۔ اب تو حسن آرا کے شبہات اور پختہ ہو گئے ۔ ہمارا مکان شہر کے درمیان میں واقع تھا اور وہاں میلوں میل تک کوئی جنگل نہ تھا۔ اور پھر کھانا پکانے کے درمیان میں اس شخص کو آخر جنگل جانے کی کیا ضرورت تھی۔

حسن آرا اور ملازم کے درمیان مکالمہ

جنگل! تم نے جنگل ہی کیا ہے نا؟” حسن آرا نے بے حال ملازم سے چیختے ہوئے کہا ” تو پھر خدا کے لیے یہ بتاؤ کہ وہ جنگل ہے کہاں جہاں تم جانا چاہتے ہو۔ اور پھر کھانا پکاتے پکاتے تمہیں جنگل اس سوال جواب میں اتنا وقت گزر چکا تھا کہ ملازم بالکل ہی بے قابو ہو گیا اور مزید کوئی بات کے بغیر وہ بھاگ کھڑا ہوا۔ کچھ دیر بعد جب وہ واپس آیا تو اس کے چہرے سے ایسا اطمینان جھلک رہا تھا کہ حسن آراء کی سمجھ میں آگیا کہ ان اضلاع میں جنگل سے مراد کسی کوٹے میں جاتا ہے۔ غسل خانے کے لیے اس لفظ کا استعمال دی گجرات کی اس حقیقی زندگی کی عکاسی کرتا ہے جس میں بد رویا نالیوں کا کوئی نظام نہ تھا لہذا کسی دیہاتی گھر میں کوئی غسل خانہ بھی نہیں ہوتا تھا۔ آج بھی ہندوستان کے اسی فیصد سے زیادہ دیہاتوں میں اس قسم کا کوئی نظام نہیں ہے۔ صرف احمد آباد اور بڑودہ جیسے بڑے بڑے شہروں میں غسل خانے ہوتے تھے لیکن وہاں بھی 1960ء کے عشرے میں زیر زمین بدرد کا نظام نہیں تھا۔ خود سورت میں جہاں میرا پہلا تقرر ہوا تھا اور جہاں میرے پاس ایک بہت بڑا اور جدید تعمیر شدہ مکان تھا، مکان کے دور دراز کے ایک گوشے میں صرف ایک غسل خانہ تھا جو رہائشی حصے سے الگ اور ایک اونچے چبوترے پر بنا ہوا تھا۔ جس میں ایک سوراخ بنا ہوا تھا۔ سوراخ کے نیچے ایک بڑی سی بالٹی رکھی ہوئی تھی۔ چونکہ اس چبوترے کی جانب باہر سے بھی رسائی تھی لہٰذا بلد یہ اپنا صفائی کا عملہ جنہیں لوگ اچھوت ” کہتے تھے دن میں ایک بار بھیجتی تھی۔ یہ عملہ اس بالٹی کو اٹھا کر بلدیہ کے ٹینکر میں خالی کر دیتا تھا۔ بڑے بڑے دیہاتوں میں کہیں کہیں صرف گاؤں کے مکھیا کے بعض بعض گھروں میں ایک غسل خانہ صحن کے ایک کونے میں مخفی ہوتا تھا۔ یہ جگہ عموما” کھلی ہوتی تھی جسے نیچی چہار دیواری سے گھیر دیا جاتا تھا۔ یہاں زمین میں ایک گرا کنواں کھود کر اس کا منہ اوپر سے بند کر کے اس میں ایک سوراخ بنا دیتے تھے۔ جب ایک کنواں بھر جاتا تو صحن کے دوسرے کنارے پر دوسرا کنواں کھود کر غسل خانے کو وہاں منتقل کر دیا جاتا۔جانے کی کیا ضرورت پیش آگئی اور وہ بھی اس رات کے وقت ؟”

دیہی آبادی کا صبح کا معمول

لہذا کسی گاؤں میں جنگل جانے کا لغوی مطلب صرف یہی ہوتا تھا۔ دیہی آبادی کی بہت بڑی اکثریت صبح سویرے گاؤں کے بیرونی علاقے میں چلی جاتی تھی جہاں عموما” ایک خاصا گھنا جنگلی قطعہ ہوتا تھا۔ وہاں خلوت اور فراغت کے لیے کوئی جھاڑی منتخب کر لی جاتی تھی۔

سرکاری دوروں میں درپیش مسائل

ملازمت کی ابتدا میں میرے دیہی دوروں کے قیام میں اسٹنٹ کلکٹر کو مہینے میں بیس دن سے زیادہ اور کلکٹر کو دس دن دیہاتوں میں گزرانے پڑتے تھے) بعض اوقات یہ ایک مسئلہ بن جاتا تھا۔ صبح سویرے میری فراغت اور آب دست کے معالمات شام کے وقت برگد کے درخت کے نیچے دیہاتیوں کے اجتماع میں یقینا ان کی گفتگو کا موضوع بنتے ہوں گے۔ اب جب میں گزرے ہوئے ان دنوں کو یاد کرتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اپنے دوروں کے بعد بڑی خوشگوار یادیں چھوڑ آتا ہوں گا۔ جیسے ہی میں اپنی خدمت پر مامور تلاقی کو اپنی ضرورت سے آگاہ کرتا وہ گاؤں کے پٹیل کے کان میں سرگوشی کرتا۔ پٹیل نو پٹیل فورا ہی سنجیدہ ہو جاتا جیسے کوئی نہایت اہم خبر اسے بنائی گئی ہو۔ تلاقی یقینا” کچھ اس طرح کی بات کہتا ہو گا :

‘جنگل’ جانے کا شاہانہ انتظام

پٹیل ! صاحب فورا” جنگل جانا چاہتے ہیں۔ مہربانی کر کے ضروری انتظام کرو۔” اس موقع پر پٹیل زور دار آواز میں اپنے خادموں سے کہتا “ارے او چھانگا اور مانگا ! صاحب جنگل جانا چاہتے ہیں ۔ کونے سے وہ لوٹا اٹھانے اور باورچی خانے سے بالٹی لے لے اور صاحب کو جنگل لے جا”۔

سرکاری عملے کی مستعدی اور تجسس

اس کے بعد تلاقی اور خدمت گاروں میں ایک ہیجان اور بے چینی پیدا ہو جاتی۔ اس وقت تک تمام گھر والوں کو میری ضرورت کا علم ہو جاتا اور میری جانب تنجس نگاہیں اٹھنے لگتیں۔ غالبا” میری ضرورت کی شدت کا اندازہ لگانے کے لیے۔ میرا معالمت دار بھی قدرے مستعدی کے ساتھ مجھ سے دریافت کرتا کہ میں بھی ساتھ چلوں (کیونکہ اس کے فرائض میں یہ بھی شامل تھا کہ میں اس کے علاقے میں اگر کوئی سرکاری فریضہ انجام دینے جاؤں تو وہ میرے ساتھ جائے) اور میں اس کو یاد دلاتا کہ میں کسی سرکاری کام کے لیے جنگل نہیں جا رہا تھا۔ تاہم وہ یہ اصرار ضرور کرتا کہ میں اپنے ساتھ پولیس کے سپاہی لے جاؤں۔ اس اثناء میں چھانگا اور مانگا پیتل کا لوٹا اور پانی کی بالٹی لا چکے ہوتے اور ایک تیسرے آدمی کے ہاتھ میں تولیوں کا ایک جوڑا ہوتا۔ تلاقی آگے آگے راستہ بتاتا ہوا چلتا اور عقب کی جانب پولیس کا سپاہی توجہ رکھتا۔ اس طرح یہ جلوس جنگل کو روانہ ہو جاتا اور بعض اوقات اس میں دو ایک تجسس پسند دیہاتی بھی یا تو اس مقصد میں اپنی شرکت ظاہر کرنے کے لیے اور یا پھر اس امید میں شریک ہو جاتے کہ ان پر بھی اور ان کی دھوتی میں اڑی ہوئی درخواست پر بھی اسٹنٹ کلکٹر صاحب کی نظر پڑ جائے گی۔

موزوں جگہ اور جھاڑی کا انتخاب

جوں ہی یہ جلوس گاؤں کے ایک کنارے جنگلی حصے میں پہنچ جاتا تو جلوس کے متفرق شرکاء تلاقی اور پولیس والے کی کمان میں کسی موزوں جگہ کی تلاش میں ادھر حر بکھر جاتے۔ جھاڑیاں منتخب اور مسترد ہونے لگتیں۔ یہ جھاڑی اس لیے مسترد کر جاتی کہ یہ بہت خار دار بھی تھی اور صحیح پردہ بھی مہیا نہیں کرتی تھی اور وہ جھاڑی اس لیے رد کر دی جاتی کہ وہاں زمین بہت ناہموار تھی اور وہاں برابر کی سطح پر رکھنا بھی مشکل ہوتا۔ اسی اثنا میں کچھ لوگ موزوں پتھروں کی تلاش میں بھی نکل جائے اور اس ضمن میں بھی اس طریق کار پر عمل کیا جاتا جس میں فیصلہ کن شخصیت تلاقی کو حاصل رہتی۔ اس اثنا میں چھانگا مانگا اور ان کے دستے کے افراد پانی اور تولیہ لیے ہوئے حملے کا آغاز کرنے والے ان فوجیوں کی طرح ایک امید موہوم کے ساتھ ایک طرف اس انداز میں کھڑے رہے جنہیں معلوم نہ ہو کہ کون سی چیز کہاں رکھنی ہے۔ جوں بھی جگہ کا انتخاب ہو جانا اور پتھر قریب رکھ دیئے جائے چھانگا کی سرگرمیاں عروج پر آجائیں اور وہ پیتل کا لوٹا کسی ایسی موزوں جگہ رکھ دیتا کہ وہ میری دسترس میں رہتا۔ اس کے بعد وہ سب وہاں سے ہٹ کر قدرے فاصلےپر کھڑے ہو جائے۔ تلاقی اور سپاہی جنگی طریقوں کے عیں مطابق ایسی جگہ کھڑے ہوتے جہاں سے پورا میدان ان کی نگاہوں کے سامنے ہوتا۔ تھوڑے تھوڑے وقفے سے میں ان میں سے کسی ایک کی آواز سنتا۔ وہ اتفاق سے ادھر آجانے والے کسی دیہاتی کو پکار کر کہتا۔

‘صاحب جی جنگل کر رہے ہیں’

“اے بھائی ! او ھرمت آؤ، دوسری طرف سے نکل جاؤ۔ دیکھ نہیں رہے ہو کہ صاحب جی ادھر جنگل کر رہے ہیں۔ دراصل “جنگل” کے لفظ کو گجراتی زبان میں فعل کی شکل میں بھی تبدیل کیا جا سکتا تھا ۔ وہ لوگ اس طرح یہ بات سناتے تھے گویا میں وہاں اپنی موجودگی سے جنگل سے متعلق کوئی فرض انجام دے رہا تھا۔ جب یہ سارا عمل مکمل ہو جاتا اور میں اپنے ہاتھ دھونے کے لیے بالٹی کا پانی استعمال کر لیتا اور انہیں تولیے سے خشک کر لیتا تو جلوس ایک بار پھر بن جاتا اور ہم لوگ اسی انداز میں واپس پلٹ جاتے۔ معالمت دار جو گاؤں میں ٹھہر گیا تھا اور سارے وقت ایک تشویش میں مبتلا تھا قدرے تردد کے ساتھ میری خیر و عافیت دریافت کرتا۔

فطری مناظر سے لطف اندوزی

شروع شروع میں یہ ساری صورت حال میرے لیے خاصی پریشان کن ہوتی اور میں یہ دیکھ کر خاصا برہم ہو جاتا کہ میری معمولی کی فطری ضروریات کو عوامی اہمیت کے مسائل میں تبدیل کر دیا جاتا بہر حال وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میں اس معاملے کے مضحک پہلو پر زیادہ توجہ دینے لگا اور جنگل میں میں اپنی یلغار صبح گاہی سے لطف اندوز ہونے لگا کیونکہ جھاڑی کے پیچھے بیٹھ کر اکا دکا دیہاتیوں اور تجنس پسند کتوں کو دور رکھنے کا انتظام ہو جانے کے بعد بڑے سکون کے ساتھ بیٹھ کر میں ابھرتے ہوئے سورج کا نظارہ کر سکتا تھا، ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے مزے لے سکتا تھا۔ جنگلی ھولوں کی تازہ خوشبو سے لطف اندوز ہو سکتا تھا اور صبح سویرے اٹھنے والے ان ندوں کی چہچہاہٹ سن سکتا تھا جو اپنے بچوں کو جگا کر زمین پر رینگنے والے کیڑوں کے اپنے دوڑنے کی تربیت رہا کرتے تھے۔

گجرات کے گورنر کا دورہ

مجھے یاد ہے کہ ایک بار جب میں سورت میں تعینات تھا تو گجرات کے گورز نے میرے ضلع کے دورے کا اعلان کیا۔ ان کا ارادہ تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ہراور ڈیچیی کے آشرم میں دو راتیں گزاریں گے۔ گورز صاحب پرانے گاندھی بھگت تھے ( در اصل وہ کچھ دنوں کے لیے واردھا میں مہاتما جی کے پیکرڑی کے طور پر بھی کام کر چکے تھے) اور ان کی بیوی جو ایک پر جوش سماجی کارکن تھیں گاندھی جی سے متعلق صوبے کے تمام اداروں میں گہری دلچسپی لیتی تھیں۔ وہ میاں بیوی صوبے کے دورے پر جہاں کہیں بھی جاتے جنگ آزادی کے پرانے سپاہیوں سے ملاقات کرنے کے لیے ان کے یہاں جاتے اور مختلف آشرموں اور اسکولوں کی تقریبات میں شرکت کرتے۔ اس بار انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ وہ کچھ دقت ویچی آشرم میں گزاریں گے۔

ویڈچی آشرم کا پس منظر

سوپکی آشرم جگت رام داوے نے جو گاندھی جی کے ایک بڑے متشدد پیروکار تھے 1928ء میں پسماندہ اور پامال ادیواسیوں اور بے زمین کھیت مزدوروں کی دیکھ بھال اور انہیں ابتدائی تعلیم دینے کے لئے قائم کیا تھا۔ ان لوگوں کو مشترکہ طور پر “رانی پراج” یعنی جنگل کے باسی کہا جاتا تھا۔ آشرم ان برادریوں کے چھوٹے لڑکوں اور لڑکیوں کو اپنے یہاں داخل کرتا تھا۔ ان کے قیام و طعام کا بندوبست اور ابتدائی درجوں سے ہائی اسکول تک ان کی تعلیم کا انتظام کرتا تھا۔ اسکول کی عام تعلیم کے ساتھ ساتھ انہیں کاشتکاری جنگلیات، مویشی پروری، نجاری پارچہ بانی اور زندگی گزارنے کے لائق دوسرے فنون کی تربیت بھی دی جاتی تاکہ بڑے ہونے کے بعد وہ محض جنگل کے باشندے اور بے کھیت مزدور بن کر نہ رہ جائیں بلکہ وہ معاشرے کے ایک مفید رکن خود کفیل اور آزاد پیشہ انسان بن جائیں۔

جگت رام داوے اور آشرم کی شہرت

جن دنوں کا یہ ذکر ہے اس وقت جگت رام دادے کی عمر ستر سال سے اوپر تھی لیکن وہ اب بھی ایک چاق و چوبند اور مستعد انسان تھے اور آشرم ان کی سرپرستی میں ایک مشہور و معروف ادارہ بن چکا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ گجرات کی است میں آج کل جو لوگ فعال کردار ادا کر رہے ہیں ان کی اکثریت اپنی ابتدائی میں اس آشرم میں رہ چکی ہے۔

جگت رام جی کا تذبذب اور سادگی

گورنر کے دورے کا اعلان ہوا تو میں نے پہلے خود جا کر آشرم کو دیکھنے کا فیصلہ یہ آخرم ایک محال (چھوٹا تعلقہ کے صدر مقام میں جس کا نام ویلاد تھا واقع – دیلاد میں ایک چھوٹا سا لیکن عمدہ قسم کا مہمان خانہ بھی موجود تھا جو کسی مقامی کارخانے کی ملکیت تھا۔ اب مجھے یاد نہیں ہے کہ وہ کون سا کارخانہ تھا۔ یہ بہت سے زاک بنگلوں سے بہتر طور پر آراستہ تھا۔ میں نے وہیں قیام کیا اور شام کے وقت محبت رام جی سے ملاقات کی۔ انہیں یہ سن کر خوشی ہوئی کہ گورنر صاحب آشرم میں دو روز ٹہرنے اور آشرم والوں کی کار گزاریاں رکھنے کے لیے آنے کا ارادہ کر رہے ہیں۔ ان کے خیال میں اس سے آشرم کے استادوں اور وہاں رہنے والوں کے حوصلے بلند ہوں گے اور یہ کہ اس دورے میں فائدہ ہی فائدہ ہو گا لیکن انہیں اس بات کا اندیشہ بھی تھا کہ آشرم کی قدیم اور سادہ انداز کی سہولیات مہمان نوازی کے ان تقاضوں کو پورا نہ کر سکیں گی جو ایک اعلیٰ منصب انسان کی آمد کے موقع پر ضروری ہوں گے۔ جگت رام جی نے پس و پیش کرتے ہوئے مجھ سے کہا “دیکھیے کلکٹر صاحب! اس آشرم میں ہم لوگ بڑے سادہ مزاج ہیں ۔ ہم ان معمولی سائبانوں میں رہتے ہیں جنہیں ہم لوگوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اینٹوں اور پتھروں سے بنایا ہے۔ ہم وہی غلہ اور سبزی ترکاری کھاتے ہیں جنہیں ہم خود یہیں کھیتوں میں اگاتے ہیں۔ ہم اپنے ہی مویشیوں سے دودھ رہی حاصل کرتے ہیں ہم کھادی پہنتے ہیں جنہیں ہم خود کاتنے اور بنتے ہیں۔ ہم میں سے بعض لوگ چارپائیوں پر سوتے ہیں اور بعض لوگ بغیر تکیوں کے چٹائیوں پر۔ مجھے یقین نہیں ہے کہ ہم اپنے قدیمی ماحول میں صوبے کے سربراہ ان کی بیوی اور ان کے وفد کے ارکان کی دو روز تک مهمان نوازی کر سکیں گے۔

کلکٹر کی یقین دہانی

میں جگت رام جی کے تذبذب کی وجوہات سمجھ رہا تھا لیکن چونکہ گورنر صاحب کی خواہش بڑی واضح تھی لہذا میں نے قدرے تفصیل کے ساتھ کہا ” جگت رام جی! میں آپ کی تشویش کو خوب سمجھ رہا ہوں لیکن جیسا کہ آپ جانتے ہیں گورنر صاحب خود گاندھی بھگت ہیں۔ انہوں نے مہاتما جی کے ساتھ وقت گزارا ہے اور مجھے یقین ہے کہ وہ آشرم کے رہائشی حالات سے بخوبی واقف ہوں گے۔ وہ یہاں شاہانہ تواضع کی توقع یقیناً نہیں کر رہے ہوں گے۔ اس کے علاوہ میں انکے وفد کے اراکین کو آپ پر مسلط کرنے کا ارادہ بھی نہیں رکھتا۔ صرف گورنز صاحب اور ان کی بیوی آشرم میں ٹھہریں گی۔ ان کے ایڈی کانگ، ان کا حفاظتی عملہ ، پولیس کے سر براہ اور میں خود اپنے انتظام کے تحت ویلاد میں قیام کریں گے۔ یہاں صرف دو عدد پولیس والے اپنے فرائض کی انجام دہی کے سلسلے میں رہیں گے۔

وفد کی روانگی اور گرد و غبار

جگت رام جی اب بھی تذبذب تھے لیکن کچھ دیر کی گفتگو کے بعد وہ مان گئے۔ دو ہفتوں کے بعد گورنر اور ان کی جماعت آگئی۔ ضلع کے صدر مقام میں ایک روز ٹہرنے کے بعد وہ لوگ شام کو ویچی آشرم کے لیے روانہ ہوئے۔ میں نے گورز صاحب کو آشرم کی صورت حال پوری تفصیل کے ساتھ بتا دی اور انہوں نے بغیر کسی تبصرے کے میری بات خاموشی کے ساتھ سن لی اگرچہ ان کی ہیوی کے چہرے پر میں نے غالبا” قدرے بے آرامی کے آثار محسوس کیے۔ میری پوری کوشش کے باوجود کہ گورنر صاحب کا وقد مختصر سے مختصر رہے ان کے جلوس میں کوئی پندرہ بیسں گاڑیاں شامل تھیں۔ آگے چلنے والی ایک کار اس کے پیچھے پائلٹ، اس کے بعد گورنر صاحب کی ائیر کنڈیشن شیور لیٹ (جس میں پچھلی نشست پر گورنر صاحب خود ان کی بیوی اور میں اور اگلی نشست پر ایک اے ڈی سی) ایک فالتو کار جو خالی تھی، اس کے بعد میری کار (جو میرے پی اے کو لا رہی تھی، پھر دو جیبیں جن میں حفاظتی عملہ سوار تھا، پھر پولیس چیف کی ایک جیپ دوسری جیپ میں اس کے نابین، پھر ڈاکٹر کی گاڑی اور آخر میں چند گاڑیاں جن میں گورنر اور ان کے وفد کی ضروریات کے مطابق افسران اور عملہ سفر کر رہے تھے۔ ویلاد تک سڑک اچھی خاصی تھی لیکن اس کے بعد راستہ کچا تھا جس پر صبح کے وقت پانی چھڑک دیا گیا تھا تاہم شام تک وہ پانی خشک ہو چکا تھا اور اگلی کار اور پاکٹ کارگزر کر خاصی گرد اڑا رہی تھیں۔

گورنر صاحب کی اہلیہ کا مطالبہ

گورنر صاحب کی بیوی نے میری طرف مخاطب ہو کر بڑے مہذب انداز میں جو ان کی اعلیٰ تربیت کی نشانی تھی کہا ” کلکٹر صاحب! کیا اس گرد کے لیے کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا ؟”میں نے جوابا کہا صبح اس راستے پر پانی کا چھڑکاؤ کیا گیا تھا لیکن آج دھوپ بہت تیز تھی۔ صرف ایک صورت تھی کہ اگلی کار اور پاکٹ والی کار کو جلوس نے خارج کر دیا جاتا۔ انہوں نے کہا “کیا یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ ایک ٹینکر ہم سے آگے آگے چل کر پانی چھڑکتا رہتا ؟” اول تو مجھے یہ خیال نہیں آیا تھا اور سچی بات یہ بھی ہے کہ کفایت شعاری کے ان دنوں میں کسی گاندھی بھگت کے لیے اس انداز میں سفر کرنا بڑا عجیب معلوم تا لہذا میں نے مزید کوئی جواب نہیں دیا۔ جب ہم آشرم پہنچے تو جگت رام جی اور ان کے ساتھیوں نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ ہمارا استقبال کیا۔ ہمیں آشرم کے روایتی استقبالی انداز میں بیٹھنا پڑا جہاں اربواسیوں کی نوجوان لڑکیاں اپنے بالوں کا سخت جوڑا بنائے اور اپنے ہاتھوں میں رنگ رنگ کی چوڑیاں بہنے گانے اور ناچنے میں مشغول تھیں۔ اس کے بعد وفد کے تمام اراکین کو آشرم کی سہولیات دکھانے کے لیے ایک جلوس کی شکل میں باضابطہ طور پر لے جایا گیا۔ ہمیں باورچی خانے مودی خانے، رہائشی کمرے اور مویشی خانے دکھائے گئے جو سب مختلف سائبانوں میں قائم تھے۔ پھر سویرے ہی کھانے کا وقت آگیا۔ آشرم میں رہنے والے کھانا سویرے کھانے کے عادی تھے۔ چونکہ جس سائبان میں ہیں کھانا کھانا تھا وہی خواب گاہ کا کام دیتا تھا لہذا یہ بات شائستگی کے عین مطابق تھی کہ ہم سویرے سویرے کھانا کھالیں تاکہ وہاں رہنے والے اپنی اپنی چٹائیاں بچھا کر نو بجے سے پہلے سو جائیں۔ یہ ان لوگوں کا معمول تھا۔ اس طرح پروگرام کے آخر میں ہم بڑے سائیان میں پہنچ گئے جہاں ہم نے چٹائیوں کے گرد بیٹھ کر بہت سادہ کھانا کھایا جو آشرم میں کاشت کی ہوئی دال چاول اور بغیر چھلی ہوئی ترکاریوں پر مشتمل تھا۔ گورنر صاحب وقفے وقفے سے کھانا پسند کرنے کے ضمن میں اپنی رائے دیتے رہے جب کہ جگت رام جی اس معمولی انتظام کے لیے اظہار ندامت کرتے رہے۔اب گورنر اور ان کی بیوی کے آرام کرنے کا وقت آگیا۔ گورنر نے اپنے اے ڈی سی سے سرگوشی میں کچھ کہا۔ غالبا” وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ ان کی خواب گاہیں کہاں واقع تھیں۔ اب رنگ میں بھنگ پڑ گیا۔ اے ڈی سی نے میرے کان میں کہا کہ گورنر صاحب اور ان کی بیوی کی خواہش ہے کہ ان کی خواب گاہیں الگ الگ ہوں۔ اس کا مطلب تھا دو الگ سائبان۔

خواب گاہ کی تقسیم اور چادروں کی دیوار

اب معلوم یہ ہوا کہ جگت رام جی نے ایک بڑا کمرہ خالی کرا رکھا تھا اور بڑی مشکلوں سے ان میں قیام کرنے والی لڑکیوں کے لیے دوسرے کمرے میں انتظام کر دیا تھا۔ انکے پاس اب کوئی فالتو سائبان نہیں تھا۔ چونکہ آشرم میں آنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی لہٰذا اس حساب سے جگہ بھی تنگ ہوتی جا رہی تھی۔ اب اے ڈی سی، پولیس چیف جگت رام جی اور میرے درمیان گفتگو کا ایک طویل سلسلہ شروع ہوا اور آخر کار ایک حل تلاش کر لیا گیا۔ گورنر صاحب کے لیے مخصوص کیے گئے کمرے میں مناسب جگہوں پر کیلیں ٹھونک دی گئیں۔ جگت رام جی نے کھاری کی بہت سی چادریں مہیا کر دیں جنہیں ایک دوسرے میں باندھ کر ان کی دو سے خواب گاہ کو تقسیم کر دیا گیا اور جہاں پہلے ایک خواب گاہ تھی وہاں دو خواب گاہیں بنا دی گئیں۔

انتظامیہ کی تشویش اور کھانے کا پروگرام

میں نے اور پولیس چیف نے اور ساتھ ہی اے ڈی سی نے بہت کم کھانا کھایا تھا۔ دراصل ہم نے ویلاو کے مہمان خانے میں کھانے کا انتظام کر رکھا تھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہم گورنر کو جگت رام جی کے مہربان ہاتھوں میں چھوڑ کر دن بھر کی گرمی اور گرد و غبار سے نجات حاصل کر کے مہمان خانے میں واپس چلے جائیں گے اور اس سکون کے ساتھ کھانا کھائیں گے لیکن ہمیں اتنی جلدی چھٹی نہ مل سکی کیونکہ ہم نے گورز صاحب کی مجبوریوں کا خیال ہی نہیں رکھا تھا۔

آشرم کے ‘کھوکھے’ اور گاندھیائی فلسفہ

جوں ہی خلوت گاہ کی تقسیم کا کام ختم ہوا تو گورنر صاحب نے اے ڈی سی کان میں کچھ کہا۔ وہ یہ پوچھ رہے تھے کہ فراغت کے لیے وہ کسی گوشے میں جائیں ۔ اس وقت تک جنت رام جی “شب بخیر” کہہ کر اپنے بستر پر جا چکے تھے۔ ں نے اپنے چند لائق تائبین کو وہاں چھوڑ دیا تھا۔ لہٰذا اے ڈی سی ان میں سے کو ایک طرف کونے میں لے گیا اور معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ نائب میری سنجیدگی سے کہا کہ آشرم میں زیر زمین بدرو یا کموڈ اور فلش کے نظام کے ساتھ غسل خانے وغیرہ کی کوئی سہولت موجود نہیں ہے۔ ہمیں معلوم تھا کہ اگرچہ صاحب مہاتما گاندھی کے ساتھ کام کر چکے تھے لیکن ہمیں یہ بھی معلوم تھا کہ میں سال سے وہ اعلیٰ عہدے اور منصب پر فائز رہے ہیں اور اب وہ راج بھون میں موجود سہولیات کے عادی ہو چکے ہیں۔ معاملات دار نے پیش کش کی کہ وہ باہر جا کر اندازہ لگائے کہ وہاں کسی قسم کی سہولیات میسر ہیں۔ وہ دو ایک رہنماؤں کو لے کر گیا اور بہت جلد اپنے چہرے پر بھیانک اثرات لیے ہوئے واپس آگیا۔ حضور اس نے میرے کان میں بڑبڑاتے ہوئے کہا ” یہاں تو برائے نام بھی کسی سہولت موجود نہیں ہے۔ یہ ساری جگہ کھلی ہوتی ہے۔ اب کیا کیا جائے ؟؟ مزید معلومات کرنے سے پتا چلا کہ آشرم گاندھی جی کے عمل پر یقین رکھتا ہے کا نفاذ کرتا ہے یعنی کوئی فاضل چیز بھی ضائع نہ کی جائے (مجھے یاد آیا کہ کے پاس جو خطوط آتے تھے ان کے لفافوں کو بھی وہ خط یا مضامین لکھنے کے اتے تھے) اس اصول کے نفاذ میں آشرم نے چارپایوں والے ٹین کے ایسے ر ہلکے کھوکھے بنوا رکھے تھے جنہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ آسانی سے ا سکتا تھا۔ انہیں کھیت میں رکھ دیا جاتا تھا اور بازی گروں والے کرتبوں کے ذریعہ انسان اس میں دو زانو بیٹھ سکتا تھا۔ جوں بھی اس طرح کمیوں کا ایک حصہ زرخیز ہو جاتا تو کھوکھے کو بنا کر چند فٹ کے فاصلے پر رکھ دیا جاتا کہ زمین کا ایک نیا ٹکڑا پالتی مار کر بیٹھنے والوں سے فائدہ اٹھا سکے۔ خود اس کھوکھے تک پہنچنے کے لیے انسان کر پہلے ہی سے زرخیز کی ہوئی زمین کو عبور کرنا ہوتا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ جس طرحنکھیں بچھی ہوئی زمین پر چلنے کے لیے انسان کو طرح طرح کے کرتب کرتے پڑتے ہیں اسی طرح ٹین کے ان کھوکھوں تک پہنچنے کے لیے بھی پیادہ فوج کے ایک تجربہ کار سپاہی کی مہارت کی ضرورت ہوتی تھی۔ بہر حال آشرم کے کارکنوں نے کسی نہ کی طرح ایک موزوں قطعہ زمین پر چند اینٹیں رکھ کر کہا کہ جو کچھ وہ کر سکتے تھے انہوں نے کر دیا۔

گورنر کی ‘سیرو سیاحت’ اور ہمارا احساسِ جرم

گورنر کو اس امر کی اطلاع دینے کی ذمہ داری مجھ پر ہوئی جو اس دوران میں جب یہ فوجی نقل و حرکت جاری تھی خاصے بے خبر نظر آنے لگے تھے تاہم انہوں نے اس صورت حال کے باوجود اپنے چہرے پر خاصی بشاشت رکھی اور ہم لوگ کھیتوں کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے کو روشن رکھنے کے لیے کوئی نصف درجن آدمی لائین لے کر چل رہے تھے اور چند آشرمیوں کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں تاکہ سانپوں کو دور رکھا جا سکے۔ آخر کار زمین کے اس حصے تک کافی لوگ پہنچ گئے جے گورنر صاحب کی سخاوت سے فیض یاب ہوتا تھا۔ ہم سب ایک کنارے پر ٹھر گئے کیونکہ ہمیں اپنی حدود معلوم تھیں۔ ایک آخری نے جو غالبا” سرنگیں بچھی ہوئی ان زمینوں پر چلنے کا ماہر تھا کھیت کے درمیانی حصے میں واقع کھوکھے تک گورنر صاحب کی رہنمائی کی۔ کچھ دیر بعد جب ہم لوگ مہمان خانے کی آرام دہ سردی میں بیٹھے کھانا کھا رہے تھے تو ہم کسی حد تک خود کو قصور وار سمجھ رہے تھے کہ ہم نے آشرم میں گورنر صاحب کو اس حالت میں چھوڑ دیا تھا کہ وہ خواب گاہوں اور سرنگ زرہ” کھیتوں سے پیدا ہونے والے مسائل سے خود ہی نمٹیں۔ بہر حال گورنر صاحب اور ان کی بیوی نے آشرم میں پورے دو دن قیام کیا لیکن مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ دوسرے دن انہوں نے یہ فریضہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے انجام دے دیا۔ میں ان کی اس دور بینی کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکا کیونکہ کوئی شخص بھی رات کے وقت دوسری بار گڑھوں سے بھری ہوئی اس زمین پر سیرو سیاحت نہیں کر سکتا تھا

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو پریس کریں

جب بلیک میلروں کو بلیک میل کیا انتظامیہ نے ۔ بلبلیں نواب کی