حیا خیر لاتی ہے

حیا

حیا: حیات کی روح

حیات میں حیا مضمر ہے۔ یا پھر حیا کے سنگ حیات خوبصورت ہے۔ وہی فرد اور معاشرہ تازگی اور حسن کے ساتھ زندہ رہتا ہے جس میں حیا باقی رہے۔

پہلے انسان سیدنا آدم علیہ السلام کا پتلا جس مٹی سے تیار کیا گیا، حیا اس کا جوہر تھا؛ جیسے پھول میں خوشبو اس کا جوہر ہے۔ ہر چیز کو بناتے ہوئے اس کی اساس یا بنیادی خاصیت کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ نمکین یا میٹھا ہے، کھٹا ہے یا پھیکا، ہر چیز کو بنانے کے کچھ عناصر ترکیبی (ingredients) ہوتے ہیں۔ آدم کے پتلے کی تیاری والی مٹی میں نفسِ روحانی کے لیے جو ناگزیر چیز یا عنصر رکھی گئی وہ حیا ہے۔

اسی لیے انسانیت کی بقائے حیات میں حیا مضمر ہے۔ جب آدم کے مادی وجود میں “الحی القیوم” نے روحِ حیات پھونکی تو حیا اس کا لازمی جزو ٹھہری۔ حیا، حیات اور الحی کا بنیادی حرف “ح” اور “ی” ہے۔ زندگی عطا کرنے والی ذات “الحی” ہے۔ آدم کو جس مٹی سے بنایا گیا تھا اس کو حیا کے جوہر سے تیار کیا گیا تھا، اسی لیے اس کے انداز و اطوار، بول چال اور لفظوں میں بھی حیا تھی۔۔۔ پردہ تھا۔۔۔ حجاب اور لحاظ تھا، تہذیب تھی۔

آدم و حوا اور حیا کی فطری بنیاد

اماں حوا اُس وقت بے لباس نہ تھیں جب وہ عدم سے وجود میں لائی گئیں۔ آدم و حوا کی ملاقات ہوئی تو دونوں جنّتی تہذیب سے آشنا تھے، جنت کے لباس زیب تن تھے۔ نافرمانی کے نتیجے میں دونوں کا لباس اترا تو فطری حیا کے باعث ایک دوسرے سے ستر چھپانے لگے اور مارے شرم و حیا کے ایک دوسرے سے دور بھاگے۔ اور اس عمل سے یہ سمجھایا گیا کہ “ستر اتر جانا نافرمانی کا نتیجہ ہے”۔ جو جس قدر نافرمان ہوگا مکمل لباس سے بے گانہ ہوتا چلا جائے گا۔

“حیا کلچر” کی ابتدا آدم کی پیدائش کے ساتھ ہی ہوگئی تھی۔

دینِ فطرت اور حیا

دینِ فطرت دراصل دینِ حیا ہے۔ یہی ہر دینِ الٰہی کا “موٹو” (motto) رہا ہے۔ یہی ابتدا ہے، یہی انتہا ہے، یہی اوڑھنا بچھونا اور کھانا کمانا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے، خوشی غمی میں اس فطری تربیت سے غافل ہونا انسانیت کے درجے سے گرنا ہے۔

گویا کہ اسلام کی بنیاد اور خصلت حیا ہے۔

“حی” کا الٹ “موت” ہے تو حیا میں روحانی زندگی ہے اور بے حیائی میں انسانی فطرت کی موت ہے۔

کلمۂ توحید کا اقرار کرتے ہی حیات بدل جاتی ہے کیونکہ اپنے رب کی نافرمانی سے حیا آتی ہے۔

سب سے زیادہ حیا اللہ کا حق ہے

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک موقع پر محسنِ انسانیت ﷺ نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: “اللہ تعالیٰ سے ایسی حیا کرو جیسی کہ اس سے کرنی چاہیے۔”

لوگوں نے عرض کیا کہ “الحمدللہ! ہم اللہ تعالیٰ سے حیا کرتے ہیں۔” محسنِ انسانیت ﷺ نے فرمایا: “نہیں، حیا کا مفہوم اتنا محدود نہیں جتنا تم سمجھ رہے ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے کا حق یہ ہے کہ سر اور سر میں جو افکار و خیالات ہیں ان سب کی نگرانی کرو، اور پیٹ کی اور جو کچھ پیٹ میں بھرا ہے ان سب کی نگرانی کرو، اور موت کو اور موت کے بعد جو کچھ ہونے والا ہے اس کو یاد کرو، پس جس نے ایسا کیا سمجھو اس نے اللہ تعالیٰ سے حیا کرنے کا حق ادا کر دیا۔”

انسان جس قدر اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہوتا جاتا ہے، حیا سے عاری ہوتا جاتا ہے۔

بے حیائی کا پہلا مظہر لباس سے بے نیازی کی شکل میں سامنے آتا ہے۔

حیا: وفا اور حسنِ اخلاق کی بنیاد

حیا نہ رہے تو وفا بھی نہیں رہتی، معاملہ اپنے جیسے انسانوں کے ساتھ ہو یا رب کے ساتھ۔

اسلامی تہذیب و تمدن کی بنیاد حیا ہے جو افکار، اقوال، اعمال اور باہم معاملات سے تعلق رکھتی ہے

خوبصورت، کامیاب، خوشحال اور مطمئن زندگی ایک فرد کی درکار ہو یا پورے معاشرے کی، حیا کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ رب کے ساتھ معاملات ہوں یا اس کے بندوں کے ساتھ۔۔۔ ہر قدم پہ حیا ہی خیر لاتی ہے۔ ساری عبادتیں اور بندوں کا باہم میل ملاقات، لین دین، ایثار و ہمدردی، درگزر۔۔۔ غرض حسنِ اخلاق کا ہر جذبہ حیا کے نور سے ہی روشن نظر آتا ہے۔

حیا نفس کی ایک صفت ہے، جو انسان کو ایسے عمل پر ابھارتی ہے جو عمدگی اور زیبائش کا سبب ہو اور ایسے عمل کو ترک کرنے کی ترغیب دیتی ہے جو گندگی اور عار کا سبب ہو۔ اس لیے حیا خیر ہی کا سبب ہوا کرتی ہے۔

حیا اخلاقیات میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے اور اخلاقِ حسنہ اور تقویٰ جس قدر زیادہ ہوگا اتنی حیا زیادہ ہوگی، یا جس میں فطری حیا جس قدر غالب ہوگی، تقویٰ اسی لحاظ سے ہوگا۔

تربیتِ اولاد میں حیا کی آبیاری

تربیتِ اولاد میں بنیادی سوچ حیا کی آبیاری ہے، جس کی پہلی گھڑی سے آخری گھڑی تک ضرورت ہے۔ بچوں کے دلوں میں یہ عقیدہ راسخ کرنا کہ اپنے رب کے سامنے کھڑے ہوکر زندگی کے ہر لمحہ کا حساب دینے کی فکرمندی دراصل رب سے حیا ہے۔

رب العالمین کی ان گنت نعمتوں کا احساس زندہ رکھ کر دل اور زبان کو حمد سے تر رکھنا حیادار ہونا ہے۔ رب کی عطا کردہ صلاحیتوں اور نعمتوں کا اسی کی مرضی کے مطابق استعمال کرنا حیا کا مظہر ہے۔ حیادار غلام ہی اپنے آقا کی عنایتوں پہ شکر گزار رہتا اور ہر ممکن اطاعت کرتا ہے۔

جو بندہ اپنے آقا کی مرضی پہ چلتا ہے، مہربان آقا اس کی ہمیشہ سرپرستی کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ تو اپنے بندوں پہ ان کی توقعات سے زیادہ مہربان ہے۔۔۔ پہلے عنایتیں کرتا ہے اور پھر اطاعتوں کا مطالبہ کرتا ہے۔ بندہ اپنی سی کوشش کرتا ہے رب کو راضی کرنے کی تو مہربان رب کو حیا آتی ہے کہ اپنے بندے سے منہ موڑے۔ گویا “راضیہ مرضیہ” ہونے کے لیے دونوں طرف حیا کا عنصر کام کرتا ہے۔

حیا سے مثالی معاشرے کی تشکیل

حیا کی فطری بنیاد پہ انسانوں کی تربیت ہی ایک مثالی معاشرہ قائم کر سکتی ہے۔ عموماً حیا کا تعلق صرف لباس سے یا عورت ذات سے ہی منسلک سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ہر دو صنف کے لیے ماں کی گود سے گور تک حقوق و فرائض کا سارا سفر حیا کے زادِ راہ کا تقاضا کرتا ہے۔

تربیت کے معنی ہیں ربوبیت، یعنی بتدریج لمحہ بہ لمحہ وقت، حالات اور عمر کے ساتھ ساتھ ہمہ پہلو نشوونما کرنا۔ ایسی حسنِ تربیت کہ جس میں حیا کا رچاؤ غالب ہو۔

حسنِ اخلاق کے چمن کا ہر پھول حیا کے پانی سے سیراب ہو تو برے اخلاق کو پنپنے کا موقع نہیں ملتا۔

اسلامی معاشرت کے ہر پہلو میں حیا

اسلام نے تربیت کا ظاہری و باطنی کوئی پہلو ترک نہیں کیا۔

گھریلو زندگی کے آداب، جس میں اپنے ہی گھر میں داخلے، خواب گاہ کے اوقات کی وضاحت، دوسرے کے گھر میں جانے اور طعام کے آداب، لباس اور ستر کے احکامات، دوسرے کی عزتِ نفس کا احترام، ظاہری طور پہ نظروں کی حفاظت، آواز کا پردہ، غیر محرم سے آشنائی کی ممانعت، حتیٰ کہ ازدواجی تعلق کے وقت دودھ پیتے سوتے بچے سے اوٹ کرنے اور نو عمر بچوں کا بستر الگ کرنے کی ہدایت۔۔۔ غرض کوئی چھوٹا یا بڑا پہلو ایسا نہیں جس سے حیا نہ ٹپکتی ہو۔

خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کنواری لڑکی سے زیادہ حیا دار تھے۔ ان کا تبسم ہو یا تکلم، حیا کی خوشبو سے معطر تھا۔

احادیثِ نبوی ﷺ میں حیا کی اہمیت

عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “حیا تو خیر ہی لاتی ہے۔” ایک اور روایت میں ہے: «الحَيَاءُ خَيرٌ كُلُّهٌ» یعنی حیا سراپا خیر ہے۔ یا پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایا: «الحَيَاءُ كُلُّهُ خَيرٌ» یعنی حیا سرتاپا خیر ہے۔ (اسے امام مسلم نے روایت کیا ہے۔ متفق علیہ)

رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اسی لیے ارشاد فرمایا: “جب تجھ میں حیا نہ رہے تو جو چاہے کر۔” (بخاری، ج 2، ص 470، حدیث: 3484)معلوم ہوا کہ کسی بھی برے کام سے رکنے کا ایک سبب شرم و حیا بھی ہے، یعنی جس میں حیا نہ رہے تو پھر اس سے کسی خیر کی توقع رکھنا بے کار ہے

اسلام اور حیا کا آپس میں وہی تعلق ہے جو روح کا جسم سے ہے۔ سرکارِ مدینہ محمد صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: “بے شک حیا اور ایمان آپس میں ملے ہوئے ہیں، جب ایک اٹھ جاتا ہے تو دوسرا بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔” (مستدرک للحاکم، ج 1، ص 176، حدیث: 66)

اسی لیے اسلام کے دشمن مسلمانوں کی حیا پر وار کرتے نظر آتے ہیں۔

حدیث شریف میں ہے: “بے شک ہر دین کا ایک خُلق ہے اور اسلام کا خُلق حیا ہے۔” (ابن ماجہ، ج 4، ص 460، حدیث: 4181گ)

بچوں کی تربیت اور حیا کے عملی تقاضے

بچے کو شروع سے یہ تربیت کرنا کہ جسم اس کی بالکل ذاتی چیز ہے، اس کو دکھانا یا دوسرے کا دیکھنا غلط ہے۔ گناہ کے لفظ اور عمل کا تصور اس کی عمر کے لحاظ سے سمجھایا جائے۔ اسی طرح آنکھوں اور دل کی حیا کے متعلق عمر اور وقت کے ساتھ ساتھ سمجھایا جائے۔

جب ہم کسی کی پلیٹ پہ نظر ڈالنے اور اس میں اپنی طرف سے اپنا ہی حصہ کھانے کا سبق دیتے ہیں تو اس کے پیچھے پورا فلسفۂ زندگی سمجھایا جا سکتا ہے۔

حرام اور حلال کی تمیز بھی دراصل حیا دار کو ہی آتی ہے۔

والدین کے باہم برتاؤ میں حیا جھلکنی ضروری ہے۔

یاد رکھئے! اگر انسان خود شرم و حیا کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوگا تبھی اس کی اولاد بھی ان صفات و خصائل کی حامل ہوگی، اور اگر وہ خود شرم و حیا کا خیال نہ رکھے گا تو اولاد میں بھی اس طرح کے خراب جراثیم سرایت کر جائیں گے۔

آج ضرورت اس امر (بات) کی ہے کہ حیا کو متاثر کرنے والے تمام عوامل سے دور رہا جائے اور اپنے تشخص اور روحِ ایمان کی حفاظت کی جائے۔

حیا کی حفاظت اور بے حیائی سے بچاؤ

فحش باتیں کرنا، گانے سننا یا مناظر دیکھنا دل کو سیاہ کرتا ہے۔ شریعت کا مطالبہ ہے کہ میاں بیوی کے بالکل ذاتی معاملات بھی پردے میں رہیں۔ غرض چادر اور چار دیواری کا ادب، لحاظ اور حفاظت مسلم تہذیب کا بنیادی وصف ہے۔

بچوں کو سکھایا جائے کہ محرم اور غیر محرم میں کیا امتیاز ہے اور محرم سے بھی کتنی احتیاط لازمی ہے۔

بے حیائی: شیطانی تہذیب کا راستہ

دوسری طرف بے حیائی شیطان کا موٹو ہے۔ یہی اس کی ابتدا، انتہا اور مطمحِ نظر ہے۔ شیطانی تہذیب بے حیائی کی بنیاد پہ کھڑی ہوتی ہے اور جہاں جاتی ہے شر کا موجب بنتی ہے۔

سب سے بڑی بے حیائی رب سے بے وفائی اور شرک ہے۔ اور رب کا انکار کرنے والے یا مشرک انسان رب العالمین کے نافرمان ہیں۔۔۔ وہ چاہتے ہیں کہ معاشرے میں بے حیائی عام ہو جائے۔

بے حیائی پھیلانے والوں کے لیے دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی اور دردناک عذاب کا فیصلہ ہو چکا ہے۔

حیا کا کلچر عام کرنا ہوگا

اس لیے اگر خیر کی طلب ہے، ذلت و رسوائی سے بچنا ہے تو حیا کا کلچر عام کرنا ہوگا۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج کو کلک کریں

ریاست

  • Bushra Tasneem

    ڈاکٹر بشریٰ تسنیم ایک معروف مصنفہ، کالم نگار اور مبلغ ہیں جن کا تعلق جماعت اسلامی کے بانی گھرانے سے ہے۔ وہ درجنوں کتابوں اور سفرناموں کی مصنفہ ہونے کے ساتھ ساتھ ادبی تنظیم ”حریم ادب“ اور مجلہ ”حریم“ سے وابستہ رہی ہیں۔ انہوں نے ممتاز دینی اسکالرز سے کسبِ فیض کیا اور صحافت میں گریجویشن کی۔ وہ پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں خواتین کی تربیت اور دینی خدمات سرانجام دے رہی ہیں، اور آج کل اپنا تمام وقت قلم، قرآنی کلاسز اور سوشل میڈیا کے ذریعے تربیتی کام کے لیے وقف کیے ہوئے ہیں۔

    View all posts