محبت: وہ روشنی جو دلوں کو ایک تار میں پرو دیتی ہے
محبت ایسی دھڑکن ہے جس کی گہرائی کو لفظوں میں سمیٹنا آسان نہیں۔ محبت کے کتنے رنگ اور کتنے ڈھنگ ہوتے ہیں، یہ بتانا واقعی بہت مشکل ہے۔ چلیں، کچھ رنگ میں آپ کے سامنے رکھتی ہوں، اور جو مجھ سے فراموش ہو جائیں، وہ آپ بتا دیجیے گا۔
جذبات کی قوس قزح: محبت کے مختلف موسم
محبت میں زندگی کے سارے موسم ایک ساتھ دمکتے ہیں۔ یہ قوسِ قزح کے رنگوں کی طرح ہے، جس میں جذبوں کی شدت، گرمی، نرمی، بے نیازی، بے رخی اور شرم و حیا ایک ساتھ رقص کرتے ہیں۔ اس سفر میں خوف، غصہ، بدگمانی، شکوے، جلوے اور نخرے بھی ہیں، اور پھر روٹھنا، منانا اور ہنسنا کھلکھلانا بھی۔
دراصل، ہماری تمام شاعری اور ادب زندگی کے ان ہی رنگوں کی عکاسی ہے۔ چاہے یہ رنگ آنکھوں سے دیکھے گئے ہوں، دل سے محسوس کیے گئے ہوں یا صوفیانہ فکر سے مرتب ہوئے ہوں۔ دونوں صورتوں میں اصل حقیقت صرف محبت یا عشق ہی ہے۔
ایک عالمگیر اور الہیٰ احساس
محبت کسی کی ذات دیکھ کر نہیں ہوتی، نہ یہ مذہب کی محتاج ہے، نہ ظاہری حسن کی، اور نہ ہی دولت و حشمت کی۔ یہ تو اللہ پاک کا عطا کردہ ایک ایسا خاص اور پاکیزہ احساس ہے جو انسان کو انسانیت کا احترام سکھاتا ہے۔
احترام کا ایک خوبصورت اور سچا واقعہ
میں اپنا ایک ذاتی تجربہ آپ کے ساتھ سانجھا کرتی ہوں۔ میری ایک جاننے والی صاحبہ نے میرے گھر کام کے لیے ایک خاتون کو بھیجا۔
وہ بہت صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس، بھاری جسم کی عورت تھی۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت ہے کہ میں ایسی تمام صاف ستھری خواتین کو، چاہے وہ کسی بھی پیشے سے تعلق رکھتی ہوں، اپنی بیٹھک میں عزت کے ساتھ بٹھاتی ہوں۔
مجھے اس وقت گھر پر کسی کی ضرورت نہیں تھی، لیکن چونکہ وہ میرے گھر آئی تھی، اس لیے اس کو عزت و احترام دینا میں اپنا اخلاقی فرض سمجھتی تھی۔ ہم نے کافی دیر بیٹھ کر باتیں کیں
مسکراہٹ اور آنسو: جب تمام فرق مٹ گئے
جب میں نے ان سے معذرت کی کہ ابھی مجھے ضرورت نہیں ہے، لیکن جیسے ہی ضرورت ہوگی میں آپ کو بلا لوں گی، آپ اپنا نمبر دے دیں، تو وہ میرے اس رویے اور عزت سے اتنی خوش ہوئی۔ وہ ڈرتے ڈرتے میرے قریب آئی، تو میں نے آگے بڑھ کر اسے گلے سے لگا لیا۔
بس پھر کیا تھا، اس کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اور چہرے پر ایک سچی مسکراہٹ۔ اس کے ان آنسوؤں اور مسکراہٹ نے یہ ثابت کر دیا کہ انسان ہونے کے ناطے ہم سب ایک ہیں، ہم میں کوئی فرق نہیں۔
خالق کی مخلوق سے بے لوث محبت
اللہ پاک بھی تو اپنی مخلوق سے ایسی ہی بے لوث محبت کرتا ہے۔ اس کی نظر میں کالے، گورے، امیر اور غریب کا کوئی فرق نہیں؛ سب برابر ہیں۔ ہم سب اس “رب العالمین” کی تخلیق ہیں اور اس کے احسان کے سایہ تلے ہیں۔
دعا
یا اللہ! ہمیں تسبیح کے دانوں کی طرح ایک ہی دھاگے میں پرو دے، تاکہ ہم متحد ہو سکیں۔ ہمارے دلوں کو نفرتوں، بدگمانیوں اور حسد سے ہمیشہ محفوظ رکھ۔ آمین!



