Life Story Of Mohammad Sajjad Khan

سجاد خان

محمد سجاد خان سے خصوصی گفتگو

محمد سجاد خان ایک ایسے لکھاری ہیں جنہوں نے عملی زندگی کا بڑا حصہ ملازمت اور فنی شعبے میں گزارنے کے بعد کتاب نویسی اور کرکٹ کی تاریخ کو محفوظ کرنے کا کام شروع کیا۔ ان کی کتابیں ’’جاوید میانداد، کرکٹ کا فیلڈ مارشل‘‘ اور ’’کپتان سے کپتان تک‘‘ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ، اس کے کرداروں اور بدلتے ہوئے مزاج کو سمجھنے کی ایک منفرد کوشش ہیں۔

صوابی سے کراچی تک: ایک دلچسپ خاندانی سفر

محمد سجاد خان کا خاندانی تعلق صوابی سے ہے۔ ان کے دادا برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دیتے رہے اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما کے محاذ پر بھی رہے۔ بعد ازاں خاندان کراچی منتقل ہوا، جہاں سجاد خان اور ان کے بہن بھائیوں نے پرورش پائی اور تعلیم حاصل کی۔ یوں ان کی زندگی میں صوابی کی تہذیبی جڑیں، کراچی کا شہری ماحول اور ایک مڈل کلاس گھرانے کی محنت ایک ساتھ نظر آتی ہے۔

بچپن، کتابیں اور کرکٹ سے محبت کا سفر

سجاد خان کا بچپن کراچی کے اس دور کی یاد دلاتا ہے جب گلیاں کھیل کے میدان ہوا کرتی تھیں، بچے فٹ بال، ہاکی، کرکٹ، کنچے، لٹو اور دوسرے روایتی کھیل کھیلتے تھے اور کتابیں بچوں کی تفریح کا اہم ذریعہ تھیں۔ ’’نو نہال‘‘، ’’جگنو‘‘ اور کہانیوں کی سستی کتابوں سے شروع ہونے والا مطالعے کا شوق وقت کے ساتھ تاریخ، کرکٹ اور شخصیات پر تحقیق تک پہنچا۔ یہی شوق بالآخر انہیں کتاب نویسی کی طرف لے گیا اور انہوں نے اپنی یادداشتوں، مشاہدات اور تحقیق کو کتابی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔

پہلی قسط مکمل دیکھنے کے لئے امیج کو پریس کریں

پہلی قسط: بچپن، کتابیں، کرکٹ اور پاکستان کرکٹ کی تاریخ

محمد سجاد خان ایک ایسے لکھاری ہیں جنہوں نے عملی زندگی کا بڑا حصہ ملازمت اور فنی شعبے میں گزارنے کے بعد کتاب نویسی اور کرکٹ کی تاریخ کو محفوظ کرنے کا کام شروع کیا۔ ان کی کتابیں ’’جاوید میانداد، کرکٹ کا فیلڈ مارشل‘‘ اور ’’کپتان سے کپتان تک‘‘ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ، اس کے کرداروں اور بدلتے ہوئے مزاج کو سمجھنے کی ایک منفرد کوشش ہیں۔

سجاد خان کی زندگی کا سفر بھی ان کی کتابوں کی طرح دلچسپ ہے۔ صوابی سے تعلق رکھنے والے خاندان میں آنکھ کھولنے کے باوجود ان کی پرورش کراچی میں ہوئی۔ مڈل کلاس گھرانے، سرکاری اسکول، کھیلوں، بچوں کے رسالوں، کتابوں، ملازمت اور فنی تعلیم سے گزرتے ہوئے وہ بالآخر اس مقام تک پہنچے جہاں انہوں نے اپنی یادداشتوں اور مشاہدات کو کتابی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔

یہ گفتگو صرف کرکٹ یا کتابوں کے بارے میں نہیں بلکہ ایک ایسی نسل کی داستان بھی ہے جس نے موبائل فون اور سوشل میڈیا سے پہلے کا زمانہ دیکھا، گلیوں میں کھیل کھیلے، بچوں کے رسالے خریدے، کتابیں پڑھیں، والدین کی محنت دیکھی اور اپنے پاؤں پر کھڑے ہونے کے لیے عملی زندگی کا آغاز کم عمری میں کیا۔

صوابی سے کراچی تک: ایک دلچسپ خاندانی سفر

محمد سجاد خان کا خاندانی تعلق صوابی سے ہے۔ ان کے دادا برطانوی ہندوستانی فوج میں خدمات انجام دیتے رہے اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران برما کے محاذ پر بھی رہے۔ بعد ازاں 1955ء میں وہ کراچی آ گئے۔

سجاد خان اور ان کے بہن بھائی کراچی ہی میں پیدا ہوئے اور یہیں تعلیم حاصل کی۔ ان کے بقول ان کا خاندان ہندوستان سے ہجرت کرکے کراچی نہیں آیا بلکہ صوابی سے کراچی منتقل ہوا۔ یوں ان کے خاندان کا سفر صوابی سے کراچی تک ایک منفرد داستان ہے۔

ان کے گھر میں آٹھ بہن بھائی تھے، جن میں پانچ بھائی اور تین بہنیں شامل ہیں۔ ان کی بہنوں کی شادیاں صوابی ہی میں ہوئیں، یوں کراچی میں رہتے ہوئے بھی خاندان کا تعلق اپنی آبائی سرزمین سے قائم رہا۔

مڈل کلاس گھرانے میں بچپن

سجاد خان کا بچپن کراچی کے ایک عام مڈل کلاس گھرانے میں گزرا۔ اس زمانے میں سرکاری اسکولوں کا معیار نسبتاً بہتر تھا اور پرائیویٹ اسکولوں کا تصور آج کی طرح عام نہیں تھا۔

وہ یاد کرتے ہیں کہ ان کے خاندان کے بیشتر بچوں نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ اس دور میں سرکاری اسکولوں سے بڑی بڑی شخصیات نکلتی تھیں اور تعلیم کے معیار کو بھی قابلِ ذکر سمجھا جاتا تھا۔

ان کے مطابق آج تعلیم کے میدان میں نجی اسکولوں کا دائرہ بہت وسیع ہو چکا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا آج کے تعلیمی نظام سے وہی معیار اور وہی شخصیات پیدا ہو رہی ہیں جو کبھی سرکاری اسکولوں سے سامنے آتی تھیں؟

کھیلوں سے بھرپور بچپن

سجاد خان کا بچپن کھیلوں سے بھرپور تھا۔ کرکٹ کے علاوہ فٹ بال، ہاکی، بیڈمنٹن، لٹو، کنچے اور دوسرے روایتی کھیل ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ آج کے بچوں کو ان کھیلوں میں سے بہت سے کھیلوں کا علم ہی نہیں۔ اس زمانے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ نہیں تھے، اس لیے بچوں کی تفریح کا بڑا ذریعہ کھیل، کتابیں اور دوستوں کی محفلیں تھیں۔

گرمیوں کی دوپہریں بھی کھیلتے ہوئے گزرتی تھیں۔ لیاری کے اطراف میں اس زمانے میں کھلے علاقے اور میدان موجود تھے جہاں صبح سے شام تک بچے کھیلتے رہتے تھے۔

لیاری کے کھیل اور بے خوف زمانہ

سجاد خان کے بچپن کا کراچی آج کے کراچی سے بہت مختلف تھا۔ وہ لیاری کے ان دنوں کو یاد کرتے ہیں جب وہاں فٹ بال کے مقابلے، کشتی اور مختلف مقامی کھیل عام تھے۔

ان کے مطابق اس وقت لوگوں میں ایک عجیب سی بے فکری اور بے خوفی تھی۔ بچے گھروں سے نکلتے، میدانوں میں جاتے اور کئی کئی گھنٹے کھیلتے رہتے۔

لیاری کے کھیلوں کی اپنی ایک ثقافت تھی۔ فٹ بال اور کشتی کے ساتھ مختلف مقامی مقابلے بھی ہوتے تھے اور کھیل محض تفریح نہیں بلکہ محلے اور معاشرتی زندگی کا اہم حصہ تھے۔

بچوں کے رسالے اور مطالعے کا شوق

سجاد خان کے بچپن میں کتابوں اور بچوں کے رسالوں کی بھی خاص اہمیت تھی۔ ’’نو نہال‘‘ اور ’’جگنو‘‘ جیسے رسالے وہ اپنی پاکٹ منی سے خرید کر پڑھتے تھے۔

کہانیوں کی چھوٹی چھوٹی کتابیں بھی ان کی دلچسپی کا مرکز تھیں۔ بعض کتابیں پچاس پیسے میں مل جاتی تھیں، جنہیں بچے خریدتے، پڑھتے اور پھر ایک دوسرے سے تبدیل کرلیتے تھے۔

وہ آج بھی ان رسالوں میں شائع ہونے والی اپنی تحریروں، تصاویر اور یادوں کو محفوظ رکھتے ہیں۔ طارق عزیز صاحب کے بچوں کے لیے شائع کیے گئے رسالے میں بھی ان کی تحریر اور تصویر شائع ہوئی تھی، جسے انہوں نے سنبھال کر رکھا۔

امن، سکون اور بے فکری کا زمانہ

سجاد خان کے خیال میں ان کا بچپن آج کے مقابلے میں زیادہ پُرسکون تھا۔ اس وقت بچوں کو باہر کھیلنے سے اتنا خوف محسوس نہیں ہوتا تھا جتنا آج کے والدین محسوس کرتے ہیں۔

وہ صبح اسکول جاتے، پھر گھر واپس آتے اور شام تک فٹ بال یا دوسرے کھیل کھیلتے رہتے۔ کھیلتے کھیلتے تھک جانا اس زمانے کے بچوں کی عام زندگی تھی۔

آج کے بچے موبائل فون اور ڈیجیٹل تفریح میں زیادہ وقت گزارتے ہیں۔ نتیجتاً جسمانی سرگرمیاں کم ہوئی ہیں اور بچپن کی وہ اجتماعی زندگی بھی کم ہوتی جا رہی ہے جس میں محلہ، میدان اور دوست سب شامل ہوتے تھے۔

نسلوں کے بدلتے ہوئے تعلقات

گفتگو کے دوران ایک دلچسپ بات سامنے آتی ہے کہ نئی اور پرانی نسل کے تعلقات بھی بدل گئے ہیں۔ سجاد خان کہتے ہیں کہ جب ہم چھوٹے تھے تو بڑوں سے ڈرتے تھے، لیکن آج جب خود بڑے ہو گئے ہیں تو چھوٹوں سے ڈرنے لگتے ہیں۔

یہ جملہ بظاہر مزاحیہ ہے، لیکن اس میں نسلوں کے بدلتے ہوئے مزاج کی ایک گہری حقیقت پوشیدہ ہے۔ والدین، بچے اور معاشرتی اقدار سب ایک تیز رفتار تبدیلی سے گزر رہے ہیں۔

اسکول کے اساتذہ اور تعلیم کا معیار

سجاد خان اپنے زمانے کے اساتذہ کو محنتی اور ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق استاد بچوں کو سمجھاتے تھے اور تعلیم کو محض ملازمت نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتے تھے۔

ان کے خیال میں آج بہت سے نجی اسکولوں میں تعلیم کے پھیلاؤ کے باوجود اساتذہ کے معیار کا مسئلہ موجود ہے۔ خاص طور پر چھوٹے اور متوسط درجے کے اسکولوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔

وہ اس تبدیلی کو صرف تعلیمی اداروں کا مسئلہ نہیں سمجھتے بلکہ اسے پورے معاشرے کے مستقبل سے جوڑتے ہیں۔

آدھی چھٹی اور ڈبّو کا کھیل

سجاد خان کو اپنے اسکول کے زمانے کی ’’آدھی چھٹی‘‘ بھی خوب یاد ہے۔ آج جسے بچے بریک کہتے ہیں، اس زمانے میں اسے ہاف ٹائم یا آدھی چھٹی کہا جاتا تھا۔

اس دوران وہ اسکول سے باہر نکل جاتے اور ڈبّو یا ہینڈ فٹ بال کھیلنے لگتے۔ کھیل میں اتنا مزہ آتا کہ کبھی کبھی آدھے گھنٹے کی چھٹی بہت لمبی محسوس ہوتی۔

کئی بچے واپس اسکول جانے کے بجائے کھیل میں مصروف رہتے اور اساتذہ انہیں تلاش کرتے ہوئے باہر آتے۔ یہ بچپن کی شرارتیں تھیں، لیکن انہی میں دوستی، کھیل اور اجتماعی زندگی کے کئی سبق بھی چھپے ہوئے تھے۔

کھیل، شرط اور دوستوں کی محفلیں

اس دور کے کھیلوں میں چھوٹی موٹی شرطیں بھی لگتی تھیں۔ کبھی ہارنے والا دوستوں کو بوتل پلاتا اور کبھی بریانی کھلانے کی ذمہ داری لے لیتا۔

کلفٹن کے پلے لینڈ میں بھی دوستوں کے ساتھ کھیلنے کی یادیں وابستہ ہیں۔ سکوں سے گیندیں حاصل کرکے فٹ بال کھیلی جاتی اور پھر دوستوں میں ہنسی مذاق چلتا رہتا۔

صدر کی مشہور ’’اسٹوڈنٹ بریانی‘‘ بھی ان نوجوانی کی یادوں کا حصہ ہے۔ پہلے دوست ڈبّو کھیلتے اور پھر ہارنے والا سب کو بریانی کھلاتا۔

والد کی تربیت اور سچ بولنے کا سبق

سجاد خان اپنے والد کی تربیت کو اپنی زندگی کا اہم حصہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق والد نے پوری زندگی میں انہیں صرف دو مرتبہ مارا، لیکن ان کی ایک نصیحت ہمیشہ یاد رہی کہ جھوٹ نہیں بولنا اور ہمیشہ سچ کہنا۔

ایک مرتبہ وہ دوستوں کے ساتھ چھپ کر فلم دیکھنے چلے گئے۔ گھر میں بتایا کہ مدرسے جا رہے ہیں، لیکن والد کو حقیقت کا اندازہ ہو گیا۔

والد نے سزا دینے کے بعد انہیں یہ سبق دیا کہ فلم دیکھنے جاؤ یا کہیں اور، بتا کر جاؤ۔ اگر بات مناسب ہو تو والدین منع نہیں کریں گے، لیکن جھوٹ بولنا درست نہیں۔

فلم دیکھنے کی شرارت اور پکڑے جانے کا فائدہ

سجاد خان بتاتے ہیں کہ اس زمانے میں گھر سے چھپ کر فلم دیکھنے جانا بھی نوجوانی کی شرارتوں میں شامل تھا۔ محلے کے قریب کراؤن سنیما تھا جہاں انہوں نے پہلی بار فلم دیکھی۔

فلم پسند آئی تو وہ مسلسل کئی دن وہاں جانے لگے۔ آخرکار کسی نے گھر میں شکایت کر دی اور والد کو معلوم ہو گیا۔

آج پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت پکڑا جانا ان کے لیے فائدہ مند تھا۔ اگر وہ پکڑے نہ جاتے تو شاید جھوٹ بولنے کی عادت آگے بڑھتی جاتی۔

باڈی بلڈنگ کا شوق

نوجوانی میں سجاد خان کو باڈی بلڈنگ کا شوق بھی پیدا ہوا۔ ان کے محلے میں دولت شاہ پہلوان کا باڈی بلڈنگ کلب تھا، جو فری اسٹائل ریسلنگ سے بھی وابستہ تھے۔

اسی ماحول اور باڈی بلڈنگ سے متعلق فلموں نے انہیں بھی ورزش کی طرف متوجہ کیا۔ انہوں نے باڈی بلڈنگ شروع کی، لیکن جلد ہی اندازہ ہوا کہ اس کے لیے مستقل مزاجی ضروری ہے۔

چند ماہ ورزش کے بعد روٹین ٹوٹ جاتی، پھر سردیوں میں دوبارہ شوق پیدا ہوتا۔ وہ تسلیم کرتے ہیں کہ باڈی بلڈنگ صرف شوق نہیں بلکہ مسلسل محنت اور نظم و ضبط کا تقاضا کرتی ہے۔

دوسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے امیج کو پریس کریں

دوسری قسط: تعلیم، کتابیں اور لکھنے کا سفر

اسکول سے جوانی تک کا سفر

میٹرک کے بعد سجاد خان نے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ انہوں نے میٹرک ڈویژن سے کیا اور اس کے بعد شپ یارڈ میں اپرنٹس شپ حاصل کی۔

صبح سے شام تک وہ شپ یارڈ میں کام سیکھتے اور شام کو عبداللہ ہارون کالج میں تعلیم حاصل کرتے۔ یوں ملازمت اور تعلیم دونوں ایک ساتھ چلتے رہے۔

بعد میں انہوں نے اردو آرٹس کالج سے گریجویشن کیا، جو آج اردو یونیورسٹی کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

عبداللہ ہارون کالج اور فیض احمد فیض

عبداللہ ہارون کالج سے سجاد خان کی ایک خاص نسبت بھی ہے۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ معروف شاعر فیض احمد فیض اس ادارے کے پرنسپل رہ چکے تھے۔

اس وقت سجاد خان کو اس تاریخی نسبت کا علم نہیں تھا۔ بعد میں جب کتابوں میں اس بارے میں پڑھا تو انہیں خوشی ہوئی کہ انہوں نے اسی ادارے سے تعلیم حاصل کی جہاں فیض احمد فیض جیسی عظیم شخصیت وابستہ رہی تھی۔

یہ احساس اس بات کی ایک مثال ہے کہ بعض تاریخی نسبتوں کی اہمیت ہمیں وقت گزرنے کے بعد سمجھ آتی ہے۔

تعلیم کے ساتھ روزگار

سجاد خان کی تعلیم والدین کی کمائی پر مکمل انحصار کرتے ہوئے نہیں ہوئی۔ وہ دن میں کام کرتے اور شام کو کالج جاتے تھے۔

ان کے والد کی ایک دکان تھی اور وہ صبح ناشتے کے بعد دکان پر چلے جاتے اور رات گئے واپس آتے۔ بچپن سے ہی سجاد خان اپنے والد کی محنت دیکھتے رہے۔

اسی مشاہدے نے ان کے اندر یہ خواہش پیدا کی کہ جب وہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوں تو والد کا ہاتھ بٹائیں۔

والد کی خواہش اور فنی تعلیم

سجاد خان کے والد چاہتے تھے کہ تعلیم کے ساتھ وہ کوئی فنی ہنر بھی سیکھیں۔ اسی وجہ سے انہوں نے شپ یارڈ میں شپ کنسٹرکشن کے شعبے میں ڈپلومہ کیا۔

شپ یارڈ میں انہوں نے تقریباً تین سال عملی تربیت حاصل کی۔ روزانہ کی مصروفیت، کام، پریکٹیکل سیشن اور شام کی تعلیم ان کی زندگی کا معمول بن گئے۔

یہ تجربہ ان کی شخصیت میں عملی زندگی کی سمجھ پیدا کرنے کا اہم ذریعہ بنا۔

دوستوں کی دنیا

جوانی میں ان کے دوست بھی زیادہ تر مڈل کلاس گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کا تعلق کسی خاص ادبی یا کھیلوں کے حلقے سے نہیں تھا۔

شپ یارڈ میں انہیں اچھے دوست ملے۔ مختلف علاقوں سے آنے والے نوجوان ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے اور تعلیم اور ملازمت کے درمیان اپنی زندگی آگے بڑھاتے۔

عبداللہ ہارون کالج میں داخلہ بھی بڑی حد تک دوستوں کے ساتھ چلتے چلتے ہوا۔ اس زمانے میں مستقبل کی کوئی بڑی ادبی منصوبہ بندی ان کے ذہن میں نہیں تھی۔

کالج کی ادبی سرگرمیاں اور عملی زندگی

کالج میں باقاعدہ ادبی سرگرمیوں سے ان کا کوئی خاص تعلق نہیں تھا۔ چونکہ کالج ایوننگ تھا، اس لیے کلاسز بھی باقاعدگی سے نہیں ہوتیں تھیں۔

وہ صبح شپ یارڈ میں کام کرتے، عملی تربیت حاصل کرتے اور شام کو کالج جاتے۔ تھکن کی وجہ سے کبھی کبھی کلاس چھوڑ کر گھر جانے کا دل بھی کرتا۔

یوں عملی زندگی نے ان کے وقت اور توانائی کا بڑا حصہ لے لیا تھا اور کتاب نویسی کا خیال ابھی بہت دور تھا۔

جوانی کے خواب

جوانی خواب دیکھنے کی عمر ہوتی ہے۔ سجاد خان کے خواب بھی اس زمانے کے ایک عام مڈل کلاس نوجوان جیسے تھے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس دور میں نوجوان زندگی میں آگے بڑھنے، کسی کو متاثر کرنے اور بہتر مستقبل بنانے کے خواب دیکھتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ان خوابوں کی جگہ عملی زندگی کی ذمہ داریوں نے لے لی۔ اب زندگی میں خواہشات کے ساتھ حساب کتاب بھی شامل ہو چکا تھا۔

کتابوں کا اثر اور وقت سے پہلے سنجیدگی

سجاد خان کے مطابق بچپن سے کتابوں کے قریب رہنے کا ایک اثر یہ بھی ہوا کہ وہ وقت سے پہلے سنجیدہ ہو گئے۔

ان کا آدھا خاندان گاؤں میں رہتا تھا۔ جب کبھی خاندان میں کسی کی وفات ہوتی تو والدین کے ساتھ انہیں بھی گاؤں جانا پڑتا اور کئی دن کی چھٹی لینی پڑتی۔

ایسے مواقع پر وہ گھر اور دکان کی ذمہ داریاں دیکھتے۔ اسی تجربے سے انہیں اندازہ ہوا کہ گھر چلانا اور روزمرہ زندگی کی ذمہ داریاں نبھانا آسان کام نہیں۔

والد کی قدر اور محنت کا احساس

والد کی محنت کو قریب سے دیکھنے کی وجہ سے سجاد خان کے اندر والد کے لیے احترام بہت جلد پیدا ہو گیا تھا۔

ان کے والد روزانہ صبح سے رات تک دکان پر کام کرتے تھے۔ سجاد خان نے جب خود دکان اور گھر کی ذمہ داریوں کو محسوس کیا تو انہیں والد کی محنت کی اصل قدر سمجھ آئی۔

یہ احساس ان کی شخصیت کے بنیادی عناصر میں شامل ہو گیا کہ انسان کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا چاہیے اور اپنے والدین کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔

کتاب نویسی کا آغاز

سجاد خان نے اپنی پہلی کتاب کا مسودہ کئی برس پہلے تیار کیا تھا۔ لیکن انہیں معلوم نہیں تھا کہ کتاب کیسے شائع ہوتی ہے اور کس ناشر سے رابطہ کیا جائے۔

وہ ایک مرتبہ اردو بازار میں ایک معروف بک ڈپو پر اپنا مسودہ لے کر گئے۔ انہوں نے کتاب شائع کرنے کی خواہش ظاہر کی، لیکن انہیں جواب ملا کہ اس موضوع پر کتاب شائع کرنے میں دلچسپی نہیں۔

مسودہ واپس آ گیا اور کئی برس تک محفوظ رہا۔ پھر 2021ء میں وہی محنت کتاب کی صورت میں سامنے آئی۔

جاوید میانداد پر کتاب لکھنے کی کہانی

جاوید میانداد سے سجاد خان کی دلچسپی بہت پرانی تھی۔ وہ ان کی تصاویر، اخباری تراشے اور مختلف مضامین جمع کرتے رہے تھے۔

شروع میں ان کے ذہن میں کتاب لکھنے کا واضح منصوبہ نہیں تھا۔ پھر انہیں معلوم ہوا کہ جاوید میانداد کی سوانح عمری انگریزی میں شائع ہو چکی ہے، لیکن اس کا اردو ترجمہ عام قارئین کے لیے دستیاب نہیں۔

دوستوں کے مشورے اور اپنے شوق کی وجہ سے انہوں نے فیصلہ کیا کہ جاوید میانداد پر اردو میں کتاب لکھنے کی کوشش کی جائے۔

جاوید میانداد سے پہلی ملاقات

2015ء میں سجاد خان نے جاوید میانداد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں ایک اسپورٹس ایڈیٹر نے ان کی مدد کی اور انہیں جاوید میانداد کا فون نمبر ملا۔

کئی دن کی کوشش کے بعد جاوید میانداد نے انہیں اپنے گھر بلایا۔ سجاد خان اپنے ساتھ تیار کیا ہوا مسودہ لے گئے۔

جاوید میانداد نے مسودہ دیکھا اور مشورہ دیا کہ اسے شائع کریں، لیکن ساتھ ہی اسے شفقت صاحب کو دکھانے کا بھی کہا۔

کتاب کی اجازت اور چار سالہ تحقیق

شفقت صاحب سے ملاقات کے بعد سجاد خان کو مسودے پر مزید کام کرنے کا موقع ملا۔ اجازت ملنے کے بعد انہوں نے فیصلہ کیا کہ کتاب کو صرف پہلے سے موجود مواد تک محدود نہیں رکھا جائے گا۔

انہوں نے تقریباً چار سال مزید تحقیق کی۔ اخباری تراشے، تصاویر، پرانے مضامین اور دیگر دستیاب مواد جمع کیا۔

بالآخر 2021ء میں ’’جاوید میانداد، کرکٹ کا فیلڈ مارشل‘‘ شائع ہوئی۔

کتاب کی اشاعت اور مالی مشکلات

کتاب شائع کرنے کے لیے انہیں کسی اسپانسر کی مدد نہیں ملی۔ بیشتر خرچ انہیں اپنی جیب سے برداشت کرنا پڑا۔

تقریباً تین سو نسخے شائع ہوئے اور اس وقت کتاب پر ایک لاکھ روپے کے قریب خرچ آیا۔ کچھ کتابیں فروخت ہوئیں اور کچھ دوستوں تک پہنچیں۔

یہ تجربہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں کتاب لکھنے اور شائع کرنے کا شوق رکھنے والے افراد کے لیے مالی مشکلات آج بھی ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔

کتاب سے دولت نہیں، عزت ملتی ہے

سجاد خان کے مطابق کتاب سے انہیں مالی فائدہ نہیں ہوا، لیکن عزت، شناخت اور نئے تعلقات ضرور ملے۔

کتاب کی پذیرائی ہوئی، لوگوں نے ان کے کام کو سراہا اور انہیں مختلف پروگراموں میں مدعو کیا جانے لگا۔

یہی وہ مقام تھا جہاں انہیں احساس ہوا کہ کتاب لکھنے سے شاید دولت نہ ملے، لیکن علم، عزت، نیک نامی اور تعلقات کا ایک نیا راستہ ضرور کھل سکتا ہے۔

اخبارات کا بدلتا ہوا منظرنامہ

گفتگو میں پاکستانی اخبارات کی بدلتی ہوئی صورت حال پر بھی بات ہوئی۔ سجاد خان نے بتایا کہ ایک زمانے میں اخبارات کے دفاتر میں بڑی تعداد میں لوگ کام کرتے تھے۔

اب کئی اخبارات کے دفاتر میں عملہ بہت کم رہ گیا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن چینلز نے روایتی پرنٹ میڈیا کی اہمیت اور معاشی حیثیت کو بہت متاثر کیا ہے۔

اس تبدیلی کا اثر لکھاریوں، کالم نگاروں اور کتابوں کی دنیا پر بھی پڑا ہے۔

کتاب کی پذیرائی اور نئے راستے

’’جاوید میانداد، کرکٹ کا فیلڈ مارشل‘‘ کی اشاعت کے بعد کئی معروف لوگوں نے سجاد خان کے کام کو سراہا۔

انہوں نے کتاب امجد اسلام امجد صاحب کو بھی بھیجی۔ امجد اسلام امجد نے کتاب کی تعریف کی اور بعد میں ’’کرکٹ کا ماسٹر‘‘ کے عنوان سے ایکسپریس میں کالم بھی لکھا۔

اس پذیرائی نے سجاد خان کا حوصلہ بڑھایا اور انہیں محسوس ہوا کہ ان کی کئی برس کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔

تعریف سے حوصلہ اور نئے مواقع

کتاب کے بعد انہیں اخبارات اور ٹی وی پروگراموں میں مدعو کیا گیا۔ مختلف لوگوں نے ان کے کام پر گفتگو کی اور ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

سجاد خان کے لیے یہ سب اس لیے اہم تھا کہ انہوں نے یہ کام کسی شہرت یا مالی فائدے کے لیے شروع نہیں کیا تھا۔

پہلی کتاب کے تجربے نے انہیں دوسری کتاب کی طرف بڑھنے کا حوصلہ دیا اور یوں ’’کپتان سے کپتان تک‘‘ کا سفر شروع ہوا۔

کتاب لکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں

سجاد خان اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کتاب لکھنے کے لیے عمر کی کوئی آخری حد نہیں ہوتی۔

ان کے مطابق انہوں نے 52 سال کی عمر میں کتاب لکھی۔ زندگی کے کسی بھی مرحلے پر انسان کے اندر موجود صلاحیت کو موقع مل سکتا ہے۔

بعض صلاحیتیں بچپن میں سامنے آ جاتی ہیں، بعض جوانی میں اور بعض زندگی کے آخری حصے میں۔ اصل ضرورت صرف یہ ہے کہ موقع ملنے پر انسان اس صلاحیت کو استعمال کرے۔

مواقع اور صلاحیتوں کے چھپے ہوئے بیج

سجاد خان اسے ’’جراثیم‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں، یعنی انسان کے اندر کسی کام کی ایک پوشیدہ صلاحیت یا رجحان موجود ہوتا ہے۔

کسی شخص کو بچپن ہی میں ایسا ماحول مل جاتا ہے جہاں اس صلاحیت کو پروان چڑھنے کا موقع ملتا ہے، جبکہ بہت سے لوگ ایسے مواقع سے محروم رہ جاتے ہیں۔

ان کا خیال ہے کہ کئی صلاحیتیں انسان کے ساتھ ہی دفن ہو جاتی ہیں کیونکہ انہیں اظہار کا موقع نہیں ملتا۔

کتابوں کی ناقدری اور علم کا نقصان

پاکستان میں کتابوں کی کم ہوتی ہوئی اہمیت بھی گفتگو کا اہم موضوع رہی۔ سجاد خان کے مطابق ہمارے معاشرے میں بہت سے قابلِ ذکر پروفیسر، استاد اور ماہرین گزرے ہیں۔

ان کے پاس اپنی زندگی کا بہت سا علم اور تجربہ تھا، لیکن بہت کم لوگوں نے اسے کتابی شکل میں محفوظ کیا۔

اگر کسی کتاب کو نصاب میں شامل نہ کیا جائے تو اس کے فروخت ہونے کے امکانات بھی کم ہو جاتے ہیں۔ اس طرح علم کا ایک بڑا حصہ نئی نسل تک پہنچنے سے پہلے ہی ضائع ہو جاتا ہے۔

اگلی نسل کے لیے لکھنے کا مقصد

سجاد خان کا ارادہ ہے کہ اگر انہیں موقع ملا تو وہ اپنی یادداشتیں بھی لکھیں گے۔

ان کے خاندان میں اس سے پہلے کسی نے کتاب نہیں لکھی۔ اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی کی جدوجہد، مشاہدات اور تجربات کو محفوظ کر جائیں۔

ممکن ہے آنے والی نسل میں ان کے بچوں یا پوتے پوتیوں میں سے کوئی ان یادداشتوں سے متاثر ہو کر کتاب، ادب یا تحقیق کے میدان میں قدم رکھے۔

یادداشتیں محفوظ کرنے کی اہمیت

یادداشتیں صرف ذاتی زندگی کی کہانی نہیں ہوتیں بلکہ ایک دور کی تاریخ بھی بن جاتی ہیں۔

ایک شخص کی زندگی میں جو کچھ گزرتا ہے، وہ اس کے خاندان، معاشرے، شہر اور زمانے کی بہت سی تصویریں اپنے اندر محفوظ رکھتا ہے۔

سجاد خان کے نزدیک اپنی جدوجہد کو کتابی شکل دینا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ ان کے بزرگوں نے زندگی کس طرح گزاری۔

تیسری قسط مکمل دیکھنے کے لئے امیج کو پریس کریں

تیسری قسط: کرکٹ اور جاوید میانداد

جاوید میانداد سے محبت کا آغاز

سجاد خان کے ساتھ گفتگو کا تیسرا حصہ کرکٹ اور خاص طور پر جاوید میانداد کے گرد گھومتا ہے۔

گفتگو کرنے والے میزبان خود کرکٹ کے بہت بڑے ماہر نہیں، لیکن جاوید میانداد کے پرستار ہیں۔ ان کے بقول کرکٹ کے بارے میں ان کی معلومات بہت محدود ہیں، لیکن ایک بات ضرور جانتے ہیں کہ جاوید میانداد ایک عظیم کھلاڑی تھے۔

1974ء کے قریب ان کی جاوید میانداد سے پہلی واقفیت ہوئی، جب ان کے ایک آفس کولیگ نے بتایا کہ ان کا بھائی کرکٹ کھیلتا ہے اور بہت اچھا کھلاڑی ہے۔

جاوید میانداد: کرکٹ کا فیلڈ مارشل

سجاد خان کی پہلی کتاب ’’جاوید میانداد، کرکٹ کا فیلڈ مارشل‘‘ جاوید میانداد کی زندگی اور کرکٹ کے سفر پر ایک تفصیلی کام ہے۔

کتاب میں صرف ریکارڈز بیان نہیں کیے گئے بلکہ ان کے کھیل، شخصیت، دور اور پاکستانی کرکٹ پر ان کے اثرات کو بھی سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

جاوید میانداد کی شہرت عام طور پر شارجہ میں بھارت کے خلاف تاریخی چھکے سے جوڑی جاتی ہے، لیکن ان کا پورا کرکٹ کیریئر اس ایک شاٹ سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

جاوید میانداد کی عظمت

پاکستان نے کرکٹ کی تاریخ میں کئی عظیم کھلاڑی پیدا کیے۔ جاوید میانداد ان میں ایک نمایاں نام ہیں۔

ان کی ذہانت، کھیل کو سمجھنے کی صلاحیت، دباؤ میں فیصلہ کرنے کی قوت اور خاص طور پر بھارت کے خلاف ان کی کارکردگی نے انہیں پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں ایک منفرد مقام دیا۔

انہیں آئی سی سی کی وال آف فیم میں شامل کیا گیا اور پاکستان کی جانب سے اس اعزاز تک پہنچنے والے چند عظیم کھلاڑیوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔

شارجہ کا تاریخی میچ

18 اپریل 1986ء کو شارجہ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلا جانے والا میچ پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ بن گیا۔

آخری گیند پر پاکستان کو جیت کے لیے چار رنز درکار تھے۔ جاوید میانداد کریز پر موجود تھے اور بھارت نے باؤنڈری پر اپنے فیلڈرز لگا رکھے تھے۔

جاوید میانداد نے گیند کا اندازہ لگایا، اسے زبردست انداز میں کھیلا اور گیند باؤنڈری تک پہنچ گئی۔ پاکستان نے تاریخی فتح حاصل کی اور یہ لمحہ ہمیشہ کے لیے کرکٹ کی تاریخ میں محفوظ ہو گیا۔

1986ء کے بعد پاکستان اور بھارت

1986ء کے بعد ایک عرصے تک پاکستان اور بھارت کے مقابلوں میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا۔

اس دور میں عمران خان، جاوید میانداد، وسیم اکرم اور دوسرے عظیم کھلاڑی پاکستانی ٹیم کا حصہ تھے۔

سجاد خان کے مطابق جاوید میانداد کی وجہ سے بھارتی ٹیم پر ایک نفسیاتی دباؤ بھی محسوس کیا جاتا تھا۔ ان کی کتاب میں اس پورے دور اور دونوں ٹیموں کے مقابلوں کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔

کرکٹ: کھیل سے کمرشل انڈسٹری تک

سجاد خان آج کی کرکٹ کو دیکھتے ہوئے محسوس کرتے ہیں کہ یہ کھیل اب ایک بڑی کمرشل انڈسٹری بن چکا ہے۔

برانڈز، اسپانسرز، ٹی وی شوز، اشتہارات، لیگس اور دیگر تجارتی سرگرمیوں نے کرکٹ کے گرد ایک مکمل صنعت قائم کر دی ہے۔

ان کے مطابق اس تبدیلی نے کھلاڑیوں کو مالی فائدہ ضرور پہنچایا ہے، لیکن اس کے ساتھ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے کمرشل نظام میں خود کھیل کہاں رہ گیا ہے؟

پہلے کھیل تھا، اب انڈسٹری ہے

پرانے دور میں کرکٹرز کو آج کے مقابلے میں بہت کم پیسہ ملتا تھا۔ اس کے باوجود ان کے اندر ملک کی نمائندگی کرنے کا جذبہ بہت مضبوط تھا۔

آج پیشہ ورانہ کرکٹ میں پیسہ، شہرت اور اسپانسر شپ بہت بڑھ گئی ہے۔ کھلاڑیوں کے لیے مواقع بھی بڑھے ہیں۔

لیکن سجاد خان کے نزدیک اصل سوال یہی ہے کہ اگر کھلاڑی تو آگے نکل گیا، تو کیا خود کرکٹ بھی اسی رفتار سے آگے بڑھی ہے؟

’’شاعر تو بہت آگے نکل گئے، شاعری بہت پیچھے رہ گئی‘‘

گفتگو میں ایک شاعر کے شعر کا حوالہ بھی آتا ہے:

’’شاعر تو بہت آگے نکل گئے، شاعری بہت پیچھے رہ گئی۔‘‘

سجاد خان کہتے ہیں کہ انہیں موجودہ کرکٹ کے بارے میں بھی کچھ ایسا ہی محسوس ہوتا ہے۔

ان کے مطابق کرکٹر تو بہت آگے نکل گئے، لیکن کہیں نہ کہیں کرکٹ خود پیچھے رہ گئی ہے۔

کرکٹ کا برطانوی پس منظر

کرکٹ کی تاریخ برطانوی سلطنت کے پھیلاؤ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ جہاں برطانیہ گیا، وہاں مختلف طریقوں سے کرکٹ بھی پہنچی۔

برطانوی فوج کے ذریعے بھی یہ کھیل مختلف علاقوں میں پھیلا اور مقامی آبادی میں اس کی مقبولیت بڑھی۔

اس دور میں ’’جینٹل مین‘‘ اور ’’پلیئر‘‘ کی اصطلاحات کے ذریعے کرکٹ کے سماجی ڈھانچے میں ایک فرق بھی موجود تھا۔

جینٹل مین کرکٹ کا تصور

پرانے دور کی کرکٹ میں کھلاڑی کے کردار اور دیانت کو بہت اہم سمجھا جاتا تھا۔

اگر کسی بلے باز کو خود معلوم ہوتا کہ وہ آؤٹ ہے تو بعض عظیم کھلاڑی امپائر کے فیصلے کا انتظار کیے بغیر میدان سے واپس چلے جاتے تھے۔

مَاجد خان جیسے کھلاڑیوں کے بارے میں ایسی کئی مثالیں بیان کی جاتی ہیں جن میں ان کی دیانت داری اور جینٹل مین رویے کو نمایاں کیا گیا۔

کھیل کی روح اور ٹیکنالوجی

آج کرکٹ میں کیمرے، تھرڈ امپائر، ہاک آئی اور جدید ٹیکنالوجی نے فیصلوں کو زیادہ سائنسی بنا دیا ہے۔

یہ سہولتیں غلط فیصلوں کے امکانات کم کرتی ہیں، لیکن سجاد خان کے خیال میں کھیل کا وہ انسانی اور جینٹل مین پہلو کم ضرور ہوا ہے۔

اب فیصلے ٹیکنالوجی سے زیادہ جڑے ہوئے ہیں جبکہ پہلے کھلاڑی کے کردار اور امپائر کے فیصلے پر زیادہ اعتماد کیا جاتا تھا۔

میک برے لی اور کھیل کی روح

انگلینڈ کے کپتان میک برے لی سے متعلق ایک واقعہ بھی گفتگو میں بیان کیا گیا۔

ایک میچ میں پاکستانی بلے باز اقبال قاسم کا کیچ لیا گیا، لیکن کپتان نے محسوس کیا کہ کیچ لیتے وقت گیند ان کے ہاتھ سے نکل گئی تھی۔

انہوں نے امپائر سے کہا کہ بلے باز آؤٹ نہیں ہے اور اقبال قاسم کو واپس بلا لیا۔ یہ فیصلہ اس وقت مزید اہم تھا کیونکہ وہ ہیٹ ٹرک کا موقع تھا۔

آج کے کرکٹ کلچر کا فرق

آج کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ بلے باز خود کو آؤٹ سمجھنے کے باوجود کریز پر کھڑا رہتا ہے اور تھرڈ امپائر کے فیصلے کا انتظار کرتا ہے۔

کئی منٹ کی ویڈیو جانچ کے بعد فیصلہ آتا ہے اور پھر کھلاڑی واپس جاتا ہے۔

سجاد خان کے نزدیک یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ کرکٹ میں ٹیکنالوجی اور مقابلے کی شدت تو بڑھی ہے، لیکن جینٹل مین رویہ کم ہوا ہے۔

چوتھی قسط مکمل دیکھنے کے لئے امیج کو پریس کریں

چوتھی قسط: ٹیسٹ سے ٹی ٹوئنٹی تک — کھیل، صنعت اور پاکستان

ٹائم لیس کرکٹ سے پانچ روزہ ٹیسٹ تک

کرکٹ کے ابتدائی دور میں میچ کے لیے دنوں کی کوئی سخت حد مقرر نہیں ہوتی تھی۔ اسے ’’ٹائم لیس کرکٹ‘‘ کہا جاتا تھا۔

کچھ میچ دس یا گیارہ دن تک بھی جاری رہتے اور پھر بھی فیصلہ نہ ہو پاتا۔ بعض اوقات سفر یا دوسرے انتظامی مسائل کی وجہ سے میچ ختم کرنا پڑتا۔

وقت کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کے دن کم کیے گئے۔ پہلے طویل دورانیے کے بعد یہ چھ دن اور پھر پانچ دن تک محدود ہوئی۔

ایک روزہ کرکٹ کا آغاز کیسے ہوا؟

کرکٹ کے طویل میچوں کے باعث شائقین کی دلچسپی برقرار رکھنا ایک مسئلہ بنتا جا رہا تھا۔

اسی ضرورت سے محدود اوورز کی کرکٹ کا تصور سامنے آیا۔ پچاس اوور کی ایک اننگز اور پھر دوسری ٹیم کی پچاس اوور کی اننگز نے کھیل کو ایک دن میں فیصلہ کن بنانے کی راہ ہموار کی۔

یہ تجربات آسٹریلیا اور انگلینڈ میں ہوئے اور بعد میں بین الاقوامی کرکٹ کا حصہ بن گئے۔

پہلا ون ڈے انٹرنیشنل

1970ء اور 1971ء کے دوران آسٹریلیا کے انگلینڈ کے دورے میں بارش نے ٹیسٹ میچوں کو متاثر کیا۔

مسلسل بارش کے باعث ایک موقع پر یہ تجویز سامنے آئی کہ ٹیسٹ کے بجائے پچاس اوور کا میچ کروا لیا جائے۔

بارش رکنے کے بعد ایک روزہ میچ کھیلا گیا، جسے بعد میں پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ قرار دیا گیا۔ اس کے بعد ون ڈے کرکٹ آہستہ آہستہ عالمی کرکٹ کا مستقل حصہ بن گئی۔

1975ء: پہلا کرکٹ ورلڈ کپ

ون ڈے کرکٹ کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے ورلڈ کپ کے تصور کو جنم دیا۔

1975ء میں انگلینڈ میں پہلا کرکٹ ورلڈ کپ کھیلا گیا، جس میں ویسٹ انڈیز نے کامیابی حاصل کی۔

اس کے بعد ورلڈ کپ کرکٹ کے سب سے بڑے عالمی مقابلوں میں شمار ہونے لگا اور ون ڈے فارمیٹ کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہوا۔

ٹی ٹوئنٹی سے ٹی ٹین تک

کرکٹ کا سفر ٹیسٹ سے ون ڈے اور پھر ٹی ٹوئنٹی تک پہنچا۔ اب ٹی ٹین جیسے مزید مختصر فارمیٹس بھی موجود ہیں۔

لوگوں کی توجہ کا دورانیہ کم ہونے کے ساتھ کھیلوں کے فارمیٹس بھی مختصر ہوتے گئے۔

جس طرح آج ڈیجیٹل دنیا میں مختصر ویڈیوز مقبول ہیں، اسی طرح کرکٹ میں بھی تیز رفتار اور مختصر مقابلوں کی مقبولیت بڑھتی جا رہی ہے۔

آئی پی ایل، پی ایس ایل اور کرکٹ کا کمرشل دور

آئی پی ایل نے کرکٹ کو ایک نئی تجارتی شناخت دی۔ کھلاڑیوں کے لیے بڑی مالی مواقع پیدا ہوئے اور مختلف ممالک کے کرکٹرز کو عالمی لیگز میں کھیلنے کا موقع ملا۔

پی ایس ایل بھی اسی عالمی کمرشل کرکٹ کا حصہ ہے۔ اس نے پاکستانی کرکٹ میں نئی دلچسپی پیدا کی اور کئی نوجوان کھلاڑیوں کو قومی سطح پر آنے کا راستہ دیا۔

تاہم کمرشل سرگرمیوں کی بھرمار کے ساتھ یہ سوال بھی برقرار ہے کہ کھیل اور کاروبار کے درمیان توازن کیسے قائم رکھا جائے۔

پاکستان کے کھیلوں کا سنہرا دور

پاکستان نے ایک وقت میں کئی کھیلوں میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کیں۔

1992ء میں پاکستان نے عمران خان کی قیادت میں کرکٹ ورلڈ کپ جیتا۔ 1994ء میں پاکستان ہاکی میں بھی عالمی چیمپئن تھا اور اسنوکر سمیت دوسرے کھیلوں میں بھی ملک نے اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

بعد کے برسوں میں ہاکی، اسنوکر اور دیگر کھیلوں کی کارکردگی میں کمی آئی اور کرکٹ بھی اپنے بہترین دور کی طرح مسلسل کامیابی حاصل نہ کر سکی۔

آئی پی ایل نے کرکٹ کو کیا دیا؟

آئی پی ایل نے دنیا بھر میں کرکٹ کے مالیاتی ڈھانچے کو بدل دیا۔ مختصر مدت میں بڑی آمدنی حاصل کرنے کے مواقع پیدا ہوئے۔

بعض کرکٹرز کے لیے ایک مختصر لیگ میں حاصل ہونے والی رقم کئی طویل ٹیسٹ میچوں کی آمدنی سے زیادہ ہو سکتی ہے۔

اس تبدیلی نے کرکٹ کو ایک عالمی صنعت بنا دیا، لیکن ساتھ ہی کھلاڑیوں کی ترجیحات اور بین الاقوامی کرکٹ کے مستقبل پر بھی نئے سوالات پیدا کیے۔

کرکٹر آگے گیا، کرکٹ پیچھے رہ گئی؟

پاکستانی کرکٹ نے دنیا کو کئی اہم چیزیں دیں۔ ریورس سوئنگ کے فن میں سرفراز نواز کا نام نمایاں ہے۔

اسپن بولنگ میں ’’دوسرا‘‘ بھی پاکستانی کرکٹ سے جڑی ہوئی ایک اہم اصطلاح اور تکنیک بن گئی۔

سوال یہ ہے کہ جب پاکستان نے کرکٹ کو اتنا کچھ دیا ہے تو آج ہماری بنیادی کرکٹ، کلب سسٹم اور نوجوانوں کی تربیت اسی تناسب سے کیوں مضبوط نہیں؟

کلب کرکٹ کو فروغ کیوں نہیں ملا؟

پاکستان میں پی ایس ایل جیسے بڑے ٹورنامنٹس ضرور ہو رہے ہیں، لیکن کلب سطح کی کرکٹ کو وہ بنیاد نہیں مل سکی جو ایک مضبوط قومی نظام کے لیے ضروری ہے۔

دنیا کے کئی ممالک میں کلب کرکٹ نوجوان کھلاڑیوں کو مسلسل کھیلنے، تربیت حاصل کرنے اور اپنی صلاحیت دکھانے کا موقع دیتی ہے۔

پاکستان میں بھی اگر کلبوں کو مضبوط کیا جائے تو یہی نوجوان آگے چل کر ڈومیسٹک اور بین الاقوامی سطح تک پہنچ سکتے ہیں۔

اردو اور کرکٹ: قوم کو جوڑنے والی دو طاقتیں

سجاد خان کے خیال میں 2026ء کے پاکستان میں دو چیزیں ایسی ہیں جو ملک کے مختلف علاقوں کے لوگوں کو بڑی حد تک جوڑتی ہیں: اردو زبان اور کرکٹ۔

گلگت کا شخص بھی اردو میں بات کر سکتا ہے اور ملک کے دوسرے حصے کا شخص بھی اسے سمجھ سکتا ہے۔

اسی طرح کرکٹ میچ کے دوران بہت سے علاقائی اور سماجی فرق پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور لوگ خود کو سب سے پہلے پاکستانی سمجھتے ہیں۔

ڈپارٹمنٹل کرکٹ کا کردار

ایک زمانے میں پاکستان کے بینکوں اور مختلف اداروں کی اپنی کرکٹ ٹیمیں ہوتی تھیں۔

ادارے اچھے کھلاڑیوں کو ملازمت دیتے تھے۔ یوں کھلاڑی کو روزگار بھی ملتا اور وہ اپنی کرکٹ بھی جاری رکھ سکتا تھا۔

حفیظ کاردار کے دور میں ڈپارٹمنٹل کرکٹ کو خاص فروغ ملا اور اس نظام نے پاکستان کو کئی اچھے کرکٹرز فراہم کیے۔

بینک اور ادارے کلب کرکٹ کو اسپانسر کریں

اگر بڑے بینک اور کاروباری ادارے براہِ راست کھلاڑیوں کے بجائے کلبوں کو اسپانسر کریں تو اس کے اثرات زیادہ دیرپا ہو سکتے ہیں۔

ایک نوجوان کسی کلب میں آئے، تربیت حاصل کرے، مقابلوں میں حصہ لے اور پھر اعلیٰ سطح تک پہنچے۔ اس طرح ایک مضبوط بنیاد تیار ہو سکتی ہے۔

ماضی میں مختلف اداروں کی ٹیمیں ٹورنامنٹس میں حصہ لیتی تھیں اور اداروں کا نام بھی کھیل کے ساتھ جڑا رہتا تھا۔

کیا بڑے ادارے کرکٹ کے لیے میدان بنا سکتے ہیں؟

پاکستان میں بہت سے بڑے ادارے ایسے ہیں جو اپنے وسائل سے کھیلوں کے میدان، کلب یا اکیڈمیاں قائم کر سکتے ہیں۔

چند سابق کرکٹرز نے اپنی اکیڈمیاں قائم کی ہیں، لیکن ملک میں بڑے پیمانے پر کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کی ضرورت اب بھی موجود ہے۔

حکومت کو بھی اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، لیکن معاشرے کے صاحبِ حیثیت افراد اور کاروباری اداروں کو بھی کھیلوں کے فروغ کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔

’’کپتان سے کپتان تک‘‘: پاکستان کے 36 ٹیسٹ کپتانوں کی داستان

کتاب کا بنیادی موضوع

سجاد خان کی دوسری اہم کتاب ’’کپتان سے کپتان تک‘‘ پاکستان کے ان 36 ٹیسٹ کپتانوں کی داستان ہے جنہوں نے قومی ٹیم کی قیادت کی۔

اس کتاب کا آغاز پاکستان کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کاردار سے ہوتا ہے اور یہ سفر جدید دور کے کپتانوں تک پہنچتا ہے۔

کتاب میں صرف اعداد و شمار اور ریکارڈز نہیں بلکہ ان کپتانوں کے سفر، شخصیت، کھیل اور پاکستانی کرکٹ پر ان کے اثرات کو بھی بیان کیا گیا ہے۔

ریکارڈ سے آگے، کہانی کا انداز

سجاد خان نے کتاب کو محض ریکارڈ بک بنانے کے بجائے کہانی کے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔

وہ چاہتے تھے کہ قاری صرف یہ نہ پڑھے کہ کسی کھلاڑی نے کتنے رنز بنائے یا کتنی وکٹیں حاصل کیں، بلکہ یہ بھی سمجھے کہ اس وقت ماحول کیا تھا اور کھلاڑی کس طرح کے حالات سے گزر رہے تھے۔

اسی وجہ سے کتاب میں تاریخی واقعات، دلچسپ قصے اور کرکٹ سے متعلق معلومات کو ایک داستانی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔

پاکستان کے تین نمایاں کپتان

اگر کامیابی، ٹیم کو ساتھ لے کر چلنے اور پاکستانی کرکٹ پر اثرات کے حوالے سے چند نمایاں کپتانوں کا انتخاب کیا جائے تو سجاد خان کے نزدیک تین نام خاص طور پر اہم ہیں۔

یہ نام ہیں مشتاق محمد، عمران خان اور جاوید میانداد۔

ان تینوں کے ادوار میں پاکستانی کرکٹ نے مختلف مراحل طے کیے اور عالمی کرکٹ میں پاکستان کی شناخت مضبوط ہوئی۔

حفیظ کاردار اور پاکستان کی ابتدائی کرکٹ

عبدالحفیظ کاردار پاکستان کے پہلے بین الاقوامی کپتان تھے۔ پاکستان نے ٹیسٹ اسٹیٹس حاصل کرنے کے بعد اپنی ابتدائی کرکٹ کا سفر ان کی قیادت میں شروع کیا۔

1952ء میں پاکستان نے بھارت کے خلاف اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ ابتدائی شکست کے باوجود پاکستان نے جلد ہی اپنی پہلی تاریخی کامیابی بھی حاصل کر لی۔

کاردار نے ایک نئی ٹیم کو عالمی کرکٹ کے میدان میں جگہ بنانے کے لیے بنیادی کردار ادا کیا۔

فاضل محمود اور بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی

پاکستان نے اپنی ابتدائی ٹیسٹ سیریز میں ہی بھارت کے خلاف تاریخی کامیابی حاصل کی۔

فاضل محمود نے اس دور میں غیر معمولی بولنگ کا مظاہرہ کیا اور بھارت کے خلاف ایک یادگار کارکردگی پیش کی۔

لکھنؤ ٹیسٹ میں ان کی شاندار بولنگ نے پاکستان کو تاریخی فتح دلانے میں اہم کردار ادا کیا اور وہ پاکستانی کرکٹ کے ابتدائی عظیم ہیروز میں شامل ہو گئے۔

مشتاق محمد: پاکستان کو مضبوط ٹیم بنانے والا کپتان

مشتاق محمد 1976ء میں پاکستان کے کپتان بنے۔ ان کے دور میں پاکستانی ٹیم نے عالمی کرکٹ میں ایک مضبوط ٹیم کی حیثیت اختیار کرنا شروع کی۔

اس دور میں پاکستان کو دنیا کی اہم ٹیموں میں شمار کیا جانے لگا۔

ان کی قیادت نے پاکستانی کرکٹ میں پیشہ ورانہ سوچ، نظم و ضبط اور ٹیم کی مضبوطی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

محمد برادران اور ہنیف محمد

پاکستانی کرکٹ کی تاریخ میں محمد برادران کا ذکر ہمیشہ احترام سے کیا جاتا ہے۔

رئیس محمد، وزیر محمد، ہنیف محمد اور مشتاق محمد سمیت خاندان کے کئی افراد نے فرسٹ کلاس اور ٹیسٹ کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔

ہنیف محمد نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 337 رنز کی تاریخی اننگز کھیلی، جو پاکستانی کرکٹ کی ابتدائی تاریخ کے عظیم ترین کارناموں میں شمار ہوتی ہے۔

ہنیف محمد: صبر اور استقامت کی علامت

ہنیف محمد نے اس تاریخی اننگز کے دوران تقریباً 16 گھنٹے 10 منٹ کریز پر گزارے۔

اس دور کی کرکٹ میں بلے باز کے لیے صبر، ارتکاز اور طویل وقت تک کریز پر موجود رہنے کی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی تھی۔

آج کی تیز رفتار کرکٹ میں اس طرح کی طویل اننگز اور مسلسل ارتکاز ایک غیر معمولی کارنامہ محسوس ہوتا ہے۔

رفتار کے دور میں صبر کی کرکٹ

آج کرکٹ بہت تیز ہو چکی ہے۔ بلے باز سے ہر گیند پر رنز بنانے کی توقع کی جاتی ہے۔

اس کے مقابلے میں ہنیف محمد جیسے کھلاڑی طویل عرصے تک وکٹ پر کھڑے رہنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔

سجاد خان کے مطابق یہی مزاج ہمیں جاوید میانداد میں بھی نظر آتا ہے، جہاں کھیل کی صورت حال کو سمجھنا اور صحیح وقت پر فیصلہ کرنا بنیادی اہمیت رکھتا تھا۔

بنگال اور پاکستان کرکٹ کا ایک سوال

گفتگو میں مشرقی پاکستان کی کرکٹ کے حوالے سے ایک اہم سوال بھی اٹھایا گیا۔

1971ء سے پہلے مشرقی پاکستان بھی پاکستان کا حصہ تھا اور وہاں کرکٹ کھیلی جاتی تھی، لیکن قومی ٹیم میں مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے نمایاں ٹیسٹ کرکٹرز کی تعداد نسبتاً کم نظر آتی ہے۔

یہ سوال تحقیق کا متقاضی ہے کہ اس خطے میں موجود ٹیلنٹ کو قومی سطح پر مواقع کیوں کم ملے اور اس کے پیچھے کھیل، سیاست، جغرافیہ یا انتظامی وجوہات میں سے کیا عوامل کارفرما تھے۔

کرکٹ جینٹل مین کا کھیل ہے، مگر لوگ؟

کرکٹ کو اکثر ’’جینٹل مین کا کھیل‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن کھیل کے جینٹل مین ہونے اور کھیلنے والوں کے جینٹل مین ہونے میں فرق ہے۔

سیاست، تعصب اور علاقائی ترجیحات مختلف ادوار میں کھیل کے ساتھ موجود رہی ہیں۔

پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کو سمجھنے کے لیے یہ بھی دیکھنا ضروری ہے کہ کون لوگ آگے آئے، کس کو مواقع ملے اور کون سی صلاحیتیں مواقع نہ ملنے کی وجہ سے پیچھے رہ گئیں۔

انتخاب عالم: پاکستان کرکٹ کا ایک بڑا نام

انتخاب عالم پاکستان کرکٹ سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہے۔ وہ کھلاڑی بھی رہے، بولر اور بیٹسمین کی حیثیت سے کھیلے، پھر مینیجر اور کوچ کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

ان کے پاس پاکستان کرکٹ کے کئی ادوار کی اندرونی معلومات موجود ہیں۔

سجاد خان کا خیال ہے کہ انتخاب عالم کو اپنی یادداشتیں ضرور لکھنی چاہییں تاکہ ان کا تجربہ اور مشاہدہ آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ ہو سکے۔

نوجوان کرکٹ ضرور کھیلیں، مگر گلی میں نہیں!

سجاد خان نوجوانوں کو کھیلوں کی طرف آنے کا مشورہ دیتے ہیں۔

ان کے مطابق کرکٹ ہو، فٹ بال ہو یا کوئی اور کھیل، جسمانی سرگرمی نوجوانوں کو صحت مند اور فعال رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

آج موبائل فون اور ڈیجیٹل سرگرمیوں نے بچوں کے کھیلنے کا وقت کم کر دیا ہے۔ اس لیے والدین اور معاشرے کو نوجوانوں کے لیے کھیل کے مواقع پیدا کرنے چاہییں۔

شہروں میں کھیل کے میدان کہاں ہیں؟

پاکستان کے بڑے شہروں میں آبادی بڑھنے کے ساتھ کھیلوں کے میدان کم ہوتے جا رہے ہیں۔

بچوں کو گلیوں میں کرکٹ کھیلنے سے محلے کے لوگوں کو بھی مشکلات پیش آتی ہیں۔ تنگ گلیوں اور گھنی آبادی میں کھیل کے لیے مناسب جگہ فراہم کرنا ضروری ہے۔

اس لیے حکومت کے ساتھ ساتھ نجی اداروں، کاروباری شخصیات اور صاحبِ حیثیت افراد کو بھی کھیل کے میدان، کلب اور اکیڈمیاں بنانے میں کردار ادا کرنا چاہیے۔

کرکٹ کی یادیں اور ایک دلچسپ اختتام

محمد سجاد خان کے ساتھ ہونے والی یہ گفتگو دراصل صرف ایک لکھاری یا کرکٹ کے ایک پرستار کی داستان نہیں بلکہ ایک پورے دور کی یادداشت ہے۔

اس میں ایک ایسے کراچی کی تصویر ملتی ہے جہاں بچے گلیوں اور میدانوں میں کھیلتے تھے، سستے رسالے خریدتے تھے، کتابیں پڑھتے تھے اور دوستوں کے ساتھ دن گزار دیتے تھے۔

یہ گفتگو ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ زندگی میں کسی بھی عمر میں انسان کے اندر چھپی صلاحیت کو موقع مل سکتا ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ انسان اپنے شوق کو پہچانے اور اسے آگے بڑھانے کی کوشش کرے۔

کتابیں، یادداشتیں اور آنے والی نسلیں

سجاد خان کی زندگی کا ایک اہم سبق یہ ہے کہ علم اور تجربہ صرف اپنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔

اگر کسی شخص نے زندگی میں کچھ دیکھا، سیکھا اور محسوس کیا ہے تو اسے محفوظ کرنا بھی ایک ذمہ داری ہے۔

کتاب، مضمون یا یادداشت آنے والی نسلوں کے لیے ایک پل کا کام کرتی ہے۔ آج کی زندگی کا تجربہ کل کے کسی نوجوان کے لیے حوصلے اور رہنمائی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

اختتامی کلمات

گفتگو کے اختتام پر محمد سجاد خان کا شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے اپنے بچپن، تعلیم، والدین، کتابوں، جاوید میانداد اور پاکستانی کرکٹ کے حوالے سے اتنی تفصیل سے بات کی۔

ان کی دونوں کتابیں، ’’جاوید میانداد، کرکٹ کا فیلڈ مارشل‘‘ اور ’’کپتان سے کپتان تک‘‘، پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کو ایک مختلف زاویے سے دیکھنے کی کوشش ہیں۔

یہ گفتگو ایک اہم پیغام بھی دیتی ہے: کتاب لکھنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں، صلاحیت کے اظہار کے لیے کوئی مقررہ وقت نہیں، اور اپنی یادیں محفوظ کرنے کے لیے کبھی دیر نہیں ہوتی۔

زندگی کے کسی بھی مرحلے پر اگر انسان اپنے اندر موجود کسی شوق، صلاحیت یا ’’جراثیم‘‘ کو پہچان لے اور اسے عمل کا موقع دے دے تو ایک نئی داستان جنم لے سکتی ہے۔شاید یہی محمد سجاد خان کے سفر کا سب سے خوبصورت سبق ہے۔