مطالعہ کا اصل مقصد کیا ہے؟

مطالعہ

مطالعہ کا اصل مقصد کیا ہے؟

آپ نے اکثر سنا ہوگا کہ کتابوں کا دور ختم ہو رہا ہے، لوگ کتابیں نہیں پڑھتے، لوگ مطالعہ نہیں کرتے۔ پہلی بات یہ سمجھ لیجیے کہ مطالعے کی تین قسمیں ہوتی ہیں: ایک ہوتا ہے ٹالو مطالعہ، ایک ہوتا ہے گمراہ کن مطالعہ، اور ایک ہوتا ہے کماؤ مطالعہ۔

مکمل ویڈیو دیکھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں

ٹالو مطالعہ کیا ہے؟

ٹالو مطالعہ تو وہ ہے جو بلا مقصد، آپ سے وقت گزارنے کے لیے کیا جائے۔ کوئی اخبار، رسالہ، افسانہ یا ناول شروع کر دیا، حاصلِ محصول جس کا کچھ بھی نہیں ہے۔ ہاں، وقت گزر رہا ہے۔ تو ایسا مطالعہ اگر نہ بھی ہو تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔

گمراہ کن مطالعہ: ایک خطرناک رویہ

گمراہ کن مطالعہ بڑا خطرناک مطالعہ ہے، جو آپ کو منفی جذبات میں ابھارے اور آپ منفی اور نفرت کی زبان استعمال کرنا شروع کر دیں۔

اور جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہم ایسی کل کتابیں قابلِ ضبطی سمجھتے ہیں جن کو پڑھ کر بیٹا باپ کو خبطی سمجھنے لگے۔

میرا آج کا موضوع یہی ہے کہ صرف مطالعہ کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ بہت احتیاط سے انتخاب کرنا چاہیے۔ یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم کیا پڑھنا چاہتے ہیں اور کیوں پڑھنا چاہتے ہیں۔

اگر آپ کے ذہن میں یہ نہ ہو تو حاصلِ مطالعہ کچھ بھی نہیں ہوگا۔

مطالعے کے 30 اہم فوائد

آج میں آپ کو کم سے کم 30 ایسے نکات بتاؤں گا جو مطالعے کے فائدوں سے متعلق ہیں۔ لیکن ان میں 10 نکات ایسے بھی ہیں جن میں مطالعے کے نقصانات یا سائیڈ ایفیکٹس پائے جاتے ہیں۔

مطالعے کا پہلا فائدہ یہ ہے کہ آپ کو توجہ کو مرکوز کرنے کی صلاحیت ملتی ہے۔ جب ہم کتاب کھولتے ہیں تو ہماری ساری توجہ اس پر مرکوز ہوتی ہے۔

دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے آپ کا ذخیرۂ الفاظ بڑھتا ہے۔

تیسرا فائدہ یہ ہے کہ مطالعہ آپ کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتا ہے۔

چوتھا فائدہ یہ ہے کہ مطالعہ آپ کے اندر ایک خاص قسم کا وجدان یا الہام پیدا کرتا ہے۔ جو چیزیں لاشعور میں ہوتی ہیں، وہ شعور میں آ جاتی ہیں۔

پانچواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کے نقطۂ نظر کو تبدیل کر سکتی ہیں۔

چھٹا فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کو نئے دوست بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ آپ کے علم اور محبت کی وجہ سے لوگ آپ سے متاثر ہوتے ہیں۔

ساتواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کو آرام کرنے کا ایک اچھا موقع فراہم کرتی ہیں۔ تھکن کے بعد ایک اچھی کتاب کافی ریلیکسیشن دیتی ہے۔

آٹھواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں تفریح کے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ آپ دنیا بھر کی سیر کر سکتے ہیں، جیسے یورپ اور افریقہ وغیرہ، صرف مطالعے کے ذریعے۔

نواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کو کیریئر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ نوکری کے لیے علم اور اپڈیٹ ہونا بہت ضروری ہے۔

دسواں فائدہ یہ ہے کہ زندگی میں نظم و ضبط کیسے پیدا کرنا ہے، یہ ہمیں کتابوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے۔

گیارہواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کے اندر کے مصنف کو جگاتی ہیں۔ بغیر پڑھے آپ لکھ ہی نہیں سکتے۔

بارہواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کو امیر بننے کا موقع دیتی ہیں۔ مال کمانے کے طریقے اور لوگوں کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

تیرہواں فائدہ یہ ہے کہ ذاتی زندگی میں کافی ساری بہتری آتی ہے۔ سیلف امپروومنٹ آتی ہے اور موٹیویشنل اسپیکرز کے بجائے کتابوں اور آپ بیتیوں سے زندگی کے اصل سبق ملتے ہیں۔

چودہواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کو ایک بہتر انسان بناتی ہیں۔ کتابیں رویوں میں تبدیلی لے کر آتی ہیں۔

پندرہواں فائدہ یہ ہے کہ لوگوں کے تجربات سے سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔

سولہواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کو پرسکون اور پرامن بناتی ہیں۔

سترہواں فائدہ یہ ہے کہ نئے آئیڈیاز، جیسے سولر پاور، ری سائیکلنگ اور جدید زراعت، یہ سب ہمیں مطالعے سے ملتے ہیں۔

بیسواں فائدہ یہ ہے کہ یادداشت بہتر ہوتی ہے اور سیکھنے کی صلاحیت بڑھتی ہے، بشرطیکہ آپ کو یہ معلوم ہو کہ آپ کیا سیکھنا چاہتے ہیں۔

اکیسواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں آپ کو اپنی اصل میراث، یعنی لیگیسی، اگلی نسل تک منتقل کرنے کی صلاحیت دیتی ہیں۔

بائیسواں فائدہ یہ ہے کہ تاریخ کو جاننے میں بڑی مدد ملتی ہے۔

تئیسواں فائدہ یہ ہے کہ سماجی تعلقات بہتر ہوتے ہیں، کیونکہ آپ دوسروں کی تہذیب کے بارے میں جانتے ہیں۔

چوبیسواں فائدہ یہ ہے کہ دماغ کی طاقت مضبوط ہوتی ہے۔ مطالعہ دماغ کے لیے ایندھن کا کام کرتا ہے۔

پچیسواں فائدہ یہ ہے کہ مطالعے کے ذریعے ڈپریشن پر قابو پانے میں بڑی مدد ملتی ہے۔

چھبیسواں فائدہ یہ ہے کہ طویل عرصے تک زندہ رہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

ستائیسواں فائدہ یہ ہے کہ کتابیں نیند میں مدد دیتی ہیں۔ اگر نیند نہ آ رہی ہو تو آپ کتاب پڑھنا شروع کریں، خاص طور پر کورس کی کتاب۔ نیند فوراً آ جائے گی۔

اٹھائیسواں فائدہ یہ ہے کہ ایک نئی شخصیت، ایک نئی پرسنالٹی، آپ کے اندر جنم لیتی ہے۔

انتیسواں فائدہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے علوم اور مختلف تہذیبوں میں لوگوں کے طرزِ زندگی سے آپ کو زندگی کی ایک نئی جہت نظر آتی ہے اور بہت کچھ نیا سیکھنے کو ملتا ہے۔

تیسواں اور آخری فائدہ یہ ہے کہ مطالعہ تفریح کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس سے بہتر تفریح شاید اور کوئی نہ ہو کہ آپ اپنے گھر میں بیٹھے، اپنی آرام دہ کرسی پر یا لیٹے ہوئے، دنیا کے کسی بھی کونے کی سیر کر سکیں اور کسی بھی عظیم انسان کے خیالات سے واقف ہو سکیں۔

تو جناب! یہ تھے کتابوں کے مطالعے کے 30 فوائد۔

ممکن ہے اس میں کوئی تکرار بھی رہی ہو، کیونکہ وقت کی کمی کی وجہ سے میں پورا اسے واضح نہیں کر سکا کہ کوئی نقطہ دوسرے نقطے سے کیسے مختلف ہے۔ لیکن یاد رکھیں کہ مطالعہ بامقصد ہونا چاہیے۔

مطالعے کے 10 نقصانات اور سائیڈ ایفیکٹس

اب میں آپ کو 10 نقصانات یا سائیڈ ایفیکٹس بتاتا ہوں جو زیادہ یا غیر ضروری مطالعے کی وجہ سے ہو سکتے ہیں۔

پہلا نقصان یہ ہے کہ مطالعے میں وقت بہت لگتا ہے۔ اس لیے آپ کو ٹائم مینجمنٹ پر توجہ دینی پڑے گی تاکہ دوسری چیزوں کے لیے بھی آپ وقت نکال سکیں۔

دوسرا نقصان پیسہ ہے۔ اچھی کتابیں مہنگی ہوتی ہیں، بلکہ آج کل تو کچھ زیادہ ہی مہنگی ہونے لگی ہیں۔ اس لیے سوچ سمجھ کر کتابیں خریدیں۔

تیسرا نقصان یہ ہے کہ جہالت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی صرف اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے پڑھے تو اس کی جہالت بڑھتی ہے۔

چوتھا مسئلہ اسٹوریج کا ہے۔ کتابیں رکھنے کے لیے جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ کتاب پڑھنے کے بعد آپ اپنے کسی دوست کو تحفے میں دے دیں یا کتابوں کا تبادلہ کر لیں تاکہ اسٹوریج کا مسئلہ حل ہو۔

پانچواں نقصان صحت کا ہے۔ کم روشنی میں پڑھنے سے آنکھوں کے مسائل ہو سکتے ہیں۔

چھٹا نقصان رابطے کا منقطع ہونا ہے۔ انسان کتابی کیڑا بن کر عملی زندگی سے کٹ بھی سکتا ہے۔

ساتواں نقصان تاخیر ہے۔ اچھی کتاب پڑھتے ہوئے دوسرے کاموں میں دیر بھی ہو سکتی ہے۔

آٹھواں نقصان معلومات کا بوجھ ہے۔ بہت زیادہ اور متضاد معلومات الجھن پیدا کر سکتی ہیں۔

نواں نقصان صحت کے دیگر مسائل ہیں۔ بہت دیر تک بیٹھے رہنے سے جسمانی حرکت کم ہوتی ہے اور کمر میں تکلیف بڑھ سکتی ہے۔ بہت ساری دوسری چیزیں بھی ہو سکتی ہیں۔

دسواں اور آخری نقصان متضاد نظریات ہیں۔ مختلف آرا کی وجہ سے فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

ٹالو، گمراہ کن یا کماؤ مطالعہ؟

تو جناب! یہ تھے کتاب پڑھنے کے 30 فائدے اور 10 نقصانات۔ آخر میں میں پھر کہوں گا کہ یہ چیز ذہن میں رکھیں کہ آپ کو ٹالو مطالعہ نہیں کرنا ہے، جو صرف وقت ٹالنے کے لیے کیا جاتا ہے۔

آپ کو گمراہ کن مطالعہ نہیں کرنا ہے، جس میں آپ صرف اپنے آپ کو صحیح ثابت کرنے کے لیے دوسرے لوگوں کے نظریات اور ہیٹ اسپیچ پڑھتے ہیں۔ آپ کو صرف اور صرف کماؤ مطالعہ کرنا ہے۔

کتاب پڑھنے سے پہلے اور بعد میں دو اہم سوال

اور جو میں نے شروع میں کہا تھا، کتاب پڑھنے سے پہلے یہ سوال ضرور کریں: میں یہ کتاب کیوں پڑھ رہا ہوں؟ اور مجھے اس سے کیا حاصل کرنا ہے؟ اور کتاب پڑھنے کے بعد یہ سوچیں: میں نے اس سے کیا حاصل کیا؟ یہی بامقصد مطالعہ ہے۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں