اردو نثر کا ارتقا: فورٹ ولیم کالج، میر امن اور انگریزوں کا کردار
تمہید
تاریخ کے صفحات اٹھا کر دیکھیں تو لگتا ہے کہ اردو نظم اور شاعری کی تاریخ اردو نثر سے کہیں زیادہ پرانی ہے۔
شاید اس لیے کہ ایک دور میں لوگوں کے پاس شاعری ہی وہ واحد راستہ تھا جس سے وہ مشاعروں میں شرکت کر کے بادشاہوں اور نوابین کا قرب حاصل کرتے، قصائد لکھ کر سناتے، انعام و اکرام اور وظائف حاصل کرتے
اس بلاگ پر ویڈیو دیکھنے کے لیے نیچےکی امیج پر کلک کریں
جب مغلیہ سلطنت کو زوال آیا تو ان شعرا نے اودھ کا رخ کیا اور اسے اپنا مرکز بنایا، جہاں ان کی شاعری کے قدردانوں میں طوائفوں کا اضافہ ہوا، جنہیں گا کر کمانے کے لیے نئی نئی غزلوں کی ضرورت ہوا کرتی تھی۔
اودھ میں شاعری کا فروغ اور مرثیہ نگاری
نوابینِ اودھ محرم کے احترام میں چالیس دن کے لیے تمام سرگرمیاں، ہر قسم کے مشاعرے، غزل اور رقص و سرور کی محفلیں بالکل بند کر دیتے تھے۔
تو ان شعرا نے اس فراغ سے فائدہ اٹھا کر مرثیہ نگاری کے فن پر توجہ دی اور اسے فروغ دیا۔
اس دور کی شاعری کیا ہوا کرتی تھی، اس بات سے اندازہ لگائیں کہ دہلی سے لکھنؤ ہجرت کرنے والوں میں میر حسن بھی شامل تھے، جنہوں نے مثنوی “سحرُالبیان” لکھی اور اپنے الفاظ کے سحر میں لوگوں کو مبتلا کیا۔
ان کی شاعری میں ایک گھٹے ہوئے معاشرے کے مردوں کی ذہنی تسکین کے لیے بہت کچھ ہوا کرتا تھا۔
مثنوی سحرُالبیان کا ایک متنازع پہلو
مثنوی “سحرُالبیان” میں بارہ سال کے شہزادے بے نظیر کے دورانِ غسل آشکار ہونے والے جسمانی محاسن اور اس غسل کے عمل کی لطافت کا نقشہ جن الفاظ میں کھینچا، یا جس طرح انہوں نے برس پندرہ یا سولہ کا سن کہہ کر شہزادی بدرِ منیر کے سراپا کا، اس کے لباس کا، جواہر نگار زیر جاموں کا مزے لے لے کر ذکر کیا، یا پھر بے نظیر اور بدرِ منیر کی صحبت کی جیسے نقشہ کشی کی، یا پھر شادی کی تقریب میں ناچنے والی رقاصہ کی نقشہ کشی کرتے ہوئے انہوں نے سب کی توجہ اس رقاصہ کے زیرِ جامہ کی طرف کروائی۔
اسے نقل کرنا تو ممکن نہیں، لیکن اگر آپ تصدیق کرنا چاہیں تو انٹرنیٹ پر موجود مثنوی میر حسن با تصویر کے اس نسخے کا مطالعہ کر لیں جو 1903 میں شائع ہوا تھا۔
شاعری میں اچھی لفظی صناعی تو تھی، لیکن انہوں نے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے جس طرح کمسن بچوں اور بچیوں کے جسمانی حسن میں کشش کو موضوعِ شاعری بنایا تھا، اس نے انہیں ایک مقبول شاعر بنا دیا۔
اردو نثر کی ابتدائی تاریخ
لیکن اگر ہم اردو نثر کی تاریخ کا جائزہ لیں تو بہت عجیب سا لگتا ہے کہ جس خطے پر مسلمانوں نے ہزار سال حکومت کی، وہاں قرآن کا پہلا بامحاورہ ترجمہ شاہ عبدالقادر کا تھا، جو 1829 میں طبع ہوا، لیکن اس کے پہلے ایڈیشن پر اردو ترجمہ نہیں بلکہ ہندی ترجمہ لکھا ہوا تھا۔
فارسی، عربی اور ہندوستانی بولی
وجہ اس کی یہ ہے کہ اس خطے میں مسلمانوں کی سرکاری زبان فارسی اور مذہبی زبان عربی تھی۔
البتہ وہ دوسری عوام سے رابطے کے لیے جو مقامی بولی استعمال کرتے تھے، اسے سید سلیمان ندوی نے ہندوستانی بولی کہا اور ہم اسے موجودہ اردو کہتے ہیں۔
نثری ادب کی تاریخ کو دیکھیں تو اردو کا پہلا مقبول اور معروف ناول “امراؤ جان ادا” 1899 میں شائع ہوا تھا۔
فورٹ ولیم کالج اور اردو نثر کا آغاز
اردو کے نثری ادب کا آغاز 1800ء سے انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج سے کیا۔
یہ کالج انگریزوں نے ٹیپو سلطان سے نفرت میں فارسی زبان کا خاتمہ کر کے ہندوستانی بولی کو فروغ دینے کے لیے قائم کیا تھا۔
لارڈ ویلیزلی نے جب کمپنی کے اعلیٰ حکام سے منظوری حاصل کر کے 10 جولائی 1800ء کو فورٹ ولیم کالج کے قیام کا اعلان کیا تو اس شرط پر کہ کالج کے قیام کی تاریخ 23 مئی 1800ء تسلیم کی جائے گی، کیونکہ یہ دن سلطان ٹیپو شہید کے دارالحکومت سرنگا پٹم کے سقوط کی پہلی سالگرہ کا دن تھا۔
جبکہ کالج میں باقاعدہ تدریس کا سلسلہ نومبر 1800ء سے شروع ہوا، یعنی کالج کے قیام کے اعلان کے کوئی چھ ماہ بعد۔
ٹیپو سلطان اور انگریزوں کی مخالفت
ٹیپو سلطان سے انگریزوں کی نفرت کی وجہ یہ تھی کہ وہ 17 سال تک برطانوی سامراج کے خلاف مزاحمت کرتے رہے۔
اسی عرصے میں انہوں نے ریاستِ میسور کو بے مثال ترقی بھی دی۔
ریاستِ میسور میں معاشی اور زرعی ترقی
ایک نیا ریونیو سسٹم متعارف کروایا، صنعت و سکہ سازی کو فروغ دیا، مگر سکوں کے نام اپنے نام پر نہیں رکھے بلکہ ان سکوں کے نام فاروقی اور صدیقی وغیرہ رکھے۔
زراعت کی ترقی کے لیے بھاری سرمایہ خرچ کیا، فصلوں، دریا کے پانی اور نہری نظام میں بہتری لائی گئی۔
میسور کا شمار دنیا میں سب سے اعلیٰ قسم کا صندل پیدا کرنے والے علاقوں میں ہونے لگا۔
بے روزگاری کا خاتمہ کرنے کے لیے چھوٹی صنعتوں کو فروغ دیا، یہاں تک کہ ریشم کے کیڑے چین سے منگوا کر ریشم کے کپڑے کی صنعت کو فروغ دیا۔
ان کی ریاست میں مسلمان اور غیر مسلم خوشحال اور مطمئن زندگی بسر کر رہے تھے۔ ریاستِ میسور میں اجرت اور معیارِ زندگی بہت بلند تھا۔
ٹیپو سلطان کے راکٹ
ایسٹ انڈیا کمپنی سے جنگوں میں ٹیپو نے راکٹ کا استعمال کیا۔
ایسے راکٹ جن پر دو تیز دھار بلیڈ لگے تھے، سرنگا پٹم کی جنگ کے بعد انگریزوں کے ہاتھ آئے، جو لندن رائل آرٹلری میوزیم میں موجود ہیں۔
انگریزوں نے ان کا ڈیزائن بہتر کیا اور فرانس کے نیپولین کے خلاف استعمال کیا۔ نیپولین انگریزوں کے خلاف ٹیپو سلطان کا اتحادی تھا۔
ٹیپو سلطان کی بحری قوت
ٹیپو کی بحریہ میں 72 توپوں والے 20 جنگی جہاز اور 62 توپوں والے 20 بریگیڈ شامل تھے۔
انگریز سخت پریشان تھے کہ ٹیپو سلطان کی اس ترقی کا راز کیا ہے؟
ٹیپو سلطان کا خزانہ: علم اور کتابیں
ٹیپو دراصل ایک ہفت زبان حکمران تھے، مگر انہوں نے فارسی کے فروغ کے لیے گراں قدر خدمات انجام دیں۔
جمعے کے خطبے کو بجائے عربی کے فارسی زبان میں شروع کروایا تاکہ لوگ سمجھ سکیں۔
ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد انگریزوں کو جہاں بہت مالِ غنیمت ملا، وہیں ٹیپو کا سب سے بڑا خزانہ، جس میں ٹیپو کی کامیابی کا راز انگریزوں کے ہاتھ لگا، وہ خزانہ علم کا خزانہ یعنی ٹیپو سلطان کی نایاب لائبریری تھی، جسے دیکھ کر انگریز حیران رہ گئے۔
اس کے ذاتی کتب خانے میں 2000 کتابیں ایسی موجود تھیں، بشمول 500 نادر و نایاب مخطوطے، جنہیں پڑھ کر ٹیپو نے اپنی ریاست کو اتنی ترقی دی۔
انگریزوں کو یہ دیکھ کر بہت حیرت ہوئی کہ علم کا وہ نادر خزانہ زیادہ تر فارسی میں تھا۔
اس کے علاوہ مقامی زبان کناڈا، تلگو، مراٹھی، فرانسیسی، عربی اور انگریزی میں بھی کتابیں تھیں، جنہیں ٹیپو ترجمہ کرواتا تھا۔
فارسی سے اردو اور ہندی کی طرف لسانی تبدیلی
اس لائبریری کو پہلے تو انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی فورٹ ولیم لے گئے۔
پھر انہوں نے پہلے مرحلے میں ہندوستانی بولی کو فارسی رسم الخط میں فروغ دے کر مسلمانوں کو یقین دلایا کہ ان کی اصل زبان اردو ہے۔
اور ایسے ہی انگریزوں نے ہندوستانی بولی کو دیوناگری رسم الخط میں تحریر کر کے ہندوؤں کو یقین دلایا کہ ان کی اصل زبان ہندی ہے۔
اردو اور ہندی کے رسم الخط کا سوال
واضح رہے کہ ہندوستان میں نہ تو کوئی اردو بولی کا اپنا رسم الخط تھا نہ ہی کوئی ہندی کا۔
مسلمان فارسی استعمال کرتے تھے اور ہندوؤں کی قدیم زبان سنسکرت تھی، جو کہ مردہ زبان تھی اور جو صرف مذہبی کتابوں میں لکھی پڑھی جاتی تھی۔
لیکن ہندوستانی، ہندی، اردو، جو آپ کہہ لیں، یہ بولی جانے والی زبانیں تھیں۔
برصغیر کی دونوں قوتوں کو لڑوا کر برطانوی راج کو طول دیا گیا۔
لارڈ میکالے اور انگریزی تعلیمی نظام
پروگرام کے مطابق دوسرے مرحلے میں اردو کی بساط لپیٹ کر اپنی مرضی کا انگریزی تعلیمی نظام متعارف کرنے کی پلاننگ پہلے ہی ہو چکی تھی اور بعد میں یہ کام لارڈ میکالے سے کروایا گیا۔
انگریزوں نے ٹیپو سلطان سے عناد کے اظہار میں اس خطے کی سرکاری، عدالتی اور کسی حد تک عوامی فارسی زبان، جسے ہندو بھی بولا کرتے تھے، کا خاتمہ کیا اور متبادل زبان کے طور پر اردو کو نافذ کیا۔
فورٹ ولیم کالج کے منشی اور اردو نثر
اس اردو کو فروغ دینے کے لیے انگریزوں نے فورٹ ولیم کالج میں اردو نثر لکھنے کے لیے باقاعدہ تنخواہ دار ملازم رکھے، جن کو منشی کہا جاتا تھا۔
ڈاکٹر جان گلکرسٹ ہندوستانی شعبے کے سربراہ مقرر کیے گئے۔
گلکرسٹ کی سرپرستی میں میر امن دہلوی، سید حیدر بخش حیدری، میر شیر علی افسوس، مرزا مظہر علی خان، کاظم علی جوان، خلیل علی خان اشک، میر بہادر علی حسینی، نہال چند لاہوری اور للّو لال جی وغیرہ کی ایک جماعت تشکیل دی گئی۔
ان حضرات کے ذمے قصے کہانیوں کے آسان ترجمے کی ذمہ داری سونپی گئی۔
فورٹ ولیم کالج کی اہم تصانیف
ان حضرات کی کاوش کے نتیجے میں متعدد کتابیں تیار کی گئیں؛ مثلاً “باغ و بہار”، “طوطا کہانی”، “آرائشِ محفل”، “بیتال پچیسی”، “سنہاسن بتیسی”، “داستانِ امیر حمزہ”، “نسخہ بنفشہ”، “اخلاقِ ہندی”، “مذہبِ عشق” اور اس کے علاوہ بہت سی کتابیں تیار ہوئیں۔
ان مذکورہ کتابوں کو قبولِ عام حاصل ہوا۔
البتہ مذکورہ کتابوں میں بھی جتنی مقبولیت میر امن دہلوی کی “باغ و بہار” کو حاصل ہوئی، وہ کسی دوسری کتاب کو حاصل نہ ہو سکی۔
میر امن دہلوی اور باغ و بہار
میر امن دہلوی نے اپنی کتاب کے آغاز میں جو دیباچہ/تقریظ لکھی ہے، میں اسے پڑھ کر سنا دیتا ہوں۔
میر امن دہلوی کا دیباچہ
لکھا ہے:
“منشا اس تالیف کا یہ ہے کہ سن 1215 ہجری اور 1801ء سال عیسوی کے عہد میں، مارکوئس ویلیزلی گورنر جنرل لارڈ کے، جن کی تعریف میں عقل حیران اور فہم سرگردان ہے، قسم کی خوبی اس ملک کی تھی کہ جو ایسا حاکم تشریف لایا جس کے قدم کے فیض سے ایک عالم نے آرام پایا۔ مجال نہیں جو کوئی کسی پر زبردستی کر سکے، شیر اور بکری ایک گھاٹ پانی پیتے تھے، سارے غریب غربا دعا دیتے اور جیتے تھے۔ چرچا علم کا پھیلا۔ صاحبانِ نشان کو شوق ہوا کہ اردو زبان سے واقف ہو کر ہندوستانی میں شیریں سخنی کریں اور ملکی کام کو بہ حسن و خوبی انجام دیں۔ اس واسطے کتنی کتابیں اسی سال فورٹ ولیم کالج میں تالیف ہوئیں۔ جو صاحبِ دانائی اور ہندوستان کی زبان بولنے والے ہیں، ان کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ ‘قصہ چہار درویش’…”
قصہ چہار درویش اور امیر خسرو
ابتدا میں امیر خسرو دہلوی نے اس تقریب سے کہا تھا کہ حضرت نظام الدین اولیاء، جو ان کے پیر تھے اور درگاہ میں ولی ہیں، جب ان کی طبیعت ناساز ہوئی تو ان کا دل بہلانے کے لیے امیر خسرو یہ قصہ سناتے اور تیمارداری میں حاضر رہتے۔
اللہ نے چند روز میں شفا دی، تب انہوں نے غسلِ صحت کے دوران یہ دعا دی کہ جو کوئی اس قصے کو سنے گا، خدا کے فضل سے تندرست ہو گا۔
جب یہ قصہ فارسی میں مرتب ہوا، اب خداوندِ نعمت، صاحبِ مروت، نجیبوں کے قدردان گلکرسٹ صاحب نے حکم فرمایا کہ اس قصے کو ٹھٹھ ہندوستانی گفتگو میں، جو اردو کے لوگ، ہندو، مسلمان، عورت، مرد، لڑکے بالے، باہم آپس میں بولتے ہیں، ترجمہ کرو۔
بموجبِ حکمِ حضور کے میں نے بھی اسی محاورے سے لکھنا شروع کیا، جیسے کوئی باتیں کرتا ہے۔
اردو نثر اور انگریزوں کا کردار
تو جناب! یہ تھی اردو کی پہلی نثر جو انگریزوں کے ایماء پر اس خطے میں شروع ہوئی۔
اور میر امن دہلوی نے جو کچھ لکھا ہے، وہ تو کتابوں میں موجود ہے۔ آپ پڑھ سکتے ہیں۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ اردو کس نیت سے انگریزوں نے یہاں پر فروغ دی تھی۔
ڈاکٹر جان گلکرسٹ کی رائے
ڈاکٹر جان گلکرسٹ نے اس کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے:
“اردو میں اس کا ترجمہ سب سے پہلے میر حسین عطا خان تحسین نے کیا۔ اس کا نام ‘نو طرزِ مرصع’ رکھا۔ لیکن اردو زبان کے معیاری نمونے کی حیثیت سے ان کا یہ ترجمہ ناقص قرار پایا کیونکہ اس میں عربی اور فارسی کے ثقیل ترکیبوں کی بھرمار ہے۔
اس نقص کو دور کرنے کے لیے میر امن، عالم فاضل دہلی والے جو کہ فورٹ ولیم کالج سے ہیں، ایک سہل اور سادہ ورژن سے وابستہ ہیں۔
عطا خان تحسین کے ترجمے سے یہ نیا اسلوب نکالنے میں قدرے کامیاب ہوئے ہیں۔ اس کا اندازہ ہندوستانی زبان کا کوئی بھی عالم کر سکتا ہے۔
وہ ریختہ کے محاوروں کو ایسی صحت اور اسلوب کے ساتھ استعمال کرتے ہیں جس کے دیکھنے سے اس بات کا یقینِ کامل ہو جاتا ہے کہ ان کی واقفیت زبان سے بڑی گہری ہے۔
اس قصے میں اشیاء اور رسم و رواج کا بیان بہت خوب ہے۔ ان کے بیان میں ایک ایسی کلاسک سادگی پائی جاتی ہے جس سے گمان یہ ہوتا ہے کہ یہ قصہ ان کا اپنا طبع زاد ہے۔
یہ کتاب اپنی خصوصیت کے باعث ہندوستان کی کتابوں کے سرمائے میں بیش بہا اضافہ کرتی ہے اور حال ہی میں ایک مقبول زبان میں شائع ہوئی ہے۔”
اردو زبان کے فروغ کے پس پردہ مقصد
یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔
آج بتانے کا مدعا یہ تھا کہ اس خطے میں اردو زبان کے فروغ کے لیے، خصوصاً اردو نثر کے فروغ کے لیے، انگریزوں کی بہت بڑی خدمات ہیں، لیکن ان کا اپنا ایجنڈا کچھ اور تھا۔
وہ چاہتے یہ تھے کہ آپ فارسی سے کٹ جائیں، جو کہ آپ کٹ گئے، اور آپ انگریزی کی طرف نہ جائیں، تاکہ آپ زبان سے نفرت کے چکر میں اس علم سے بھی محروم ہو جائیں جو ان کے پاس موجود تھا۔
اسے دور رکھنے کے لیے انہوں نے یہ اردو زبان ایجاد کی تھی۔




