میرا مکلی اور ٹھٹہ کا
یادگار سائیکل کا سفر۔
بچپن کی یادیں اور مکلی ٹھٹہ
مکلی، ٹھٹہ اور جنگ شاہی، یہ وہ جگہیں ہیں جہاں ہمارا خاندان ایک زمانے میں اکثر سیر و تفریح کے لیے جایا کرتا تھا، جب لوگ واٹس ایپ کے ذریعے نہیں بلکہ زبان سے ایک دوسرے سے بات کیا کرتے تھے۔ یعنی انسانوں کے درمیان ایک زندہ رابطہ ہوا کرتا تھا، مشینی نہیں۔ بچپن میں میں بھی گھر والوں، خاص طور پر اپنے والد کے ساتھ ان جگہوں پر کئی بار گیا ہوں، لہٰذا یہ جگہیں مجھے نہ صرف اپنا بچپن بلکہ اپنے والد کی بھی یاد دلاتی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ مجھے کوئی بھی بہانہ مل جائے تو میں سائیکل کا سفر کرنے کے لیے ہر وقت آمادہ رہتا ہوں۔
کراچی سے روانگی اور موسم
آج ہم نو افراد کے ساتھ کراچی سے صبح چار بجے اپنی اپنی سائیکلوں پر سوار ہو کر روانہ ہوئے۔ سورج نکلنے میں ابھی تقریباً دو گھنٹے باقی تھے۔ فجر کی نماز میں نے تقریباً چھ بجے پورٹ قاسم کے موڑ کی طرف ایک پٹرول پمپ کے مصلّٰی پر ادا کیا۔ اس وقت تقریباً چھ بج رہے تھے۔ موسم انتہائی شاندار تھا — درجہ حرارت 25 اور 27 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان تھا اور ہوا جنوب مغرب اور مغرب سے شمال مشرق اور مشرق کی طرف چل رہی تھی، جس کی رفتار کم از کم 20 اور زیادہ سے زیادہ 32 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ ٹھٹہ بھی کراچی سے مشرق کی طرف ہے۔ دھوپ کا نام و نشان نہ تھا، بادل آسمان پر چھائے ہوئے تھے۔ انتہائی خوشگوار موسم میں ہم نے 106 کلومیٹر کا یہ سائیکل کا سفر 3 گھنٹے 51 منٹ میں طے کیا۔
رفتار اور کارکردگی
اور اگر راستے میں مختلف جگہوں پہ رکنے کے وقت کو بھی شامل کر لیا جائے تو یہ سائیکل کا سفر تقریبا سوا پانچ گھنٹے کا تھا۔ میری سائیکل چلانے کی اوسط رفتار تقریبا ساڑھے 27 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ جس پہ میں بہت خوش اور مطمئن ہوں۔ اس رفتار کو ایک اچھی رفتار سمجھا جاتا ہے خصوصا جب اب اتنا بڑا سفر طے کر رہے ہوں مغرب کی طرف سے چلتی ہوئی ہواؤں نے ہماری رفتار کو غیر معمولی تقویت دی ایک موقع پر میں اپنی سائیکل 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چلا رہا تھا، جس کے دوران میں نے کئی گاڑیوں اور موٹرسائیکلوں کو اوورٹیک کیا جو حیرت زدہ بھی تھے۔ مگر یہ تیز رفتاری محض چند منٹوں کے لیے تھی۔ تاہم، گھارو اور گجو کے درمیان چند مقامات پر 10 سے 15 منٹ تک سائیکل 38 سے 42 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی چلائی، جو یقیناً سائیکل جیسی سواری کے لیے بہت تیز رفتار سمجھی جاتی ہے۔کیونکہ سائیکل میں کوئی نہ انجن ہوتا ہے اور نہ ایندھن صرف سائیکلسٹ کی ٹانگیں دل اور پھیپھڑا کام کرتے ہیں یہی ان کا ایندھن اور انجن ہے۔
قومی شاہراہ اور راستے کے مقامات
جو شاہراہ کراچی کو حیدرآباد سے ملاتی ہے، براستہ گھارو، ٹھٹہ اور کلری جھیل، اسے قومی شاہراہ یا این-5 کہتے ہیں۔ ایک زمانے میں یہ سنگل سڑک ہوتی تھی، مگر چند سال پہلے اسے دو رویہ کر دیا گیا اور اس کا معیار بھی غیر معمولی طور پر اچھا ہے، گو کہ اس پر ٹریفک قدرے کم ہے۔ لہٰذا سائیکل کا سفر کرنے کے لیے یہ سڑک کافی محفوظ سمجھی جاتی ہے۔ کراچی سے لاہور جانے والی مرکزی ریلوے لائن دھابے جی تک سڑک کے بائیں جانب متوازی چلتی ہے اور دھابے جی کے بعد اس کا راستہ بنجر کوہستانی علاقے کی طرف مڑ جاتا ہے۔ اس راستے میں چھوٹے چھوٹے شہر بھی آتے ہیں، جہاں سے آپ اپنی ضرورت کی چیزیں خرید سکتے ہیں۔ ملیر، لانڈھی، قائدآباد، پپری، گھکڑ، دھابے جی، گھارو، ہالیجی، گجو، مکلی، ٹھٹہ، کلری، سنڈا، جھرک، کوٹری اور حیدرآباد اہم مقامات ہیں۔
تاریخی اہمیت اور صنعتی زون
بلا شبہ یہ ایک انتہائی تاریخی سڑک ہے — اس کے دونوں جانب غیر معمولی تاریخی اہمیت کے مقامات ہیں، مثلاً چوکنڈی کا قبرستان، بھمبور، تھارو ہل، شاہ تراب کا مزار وغیرہ۔ لانڈھی سے لے کر گھکڑ تک صنعتی علاقہ ہے، اور اسٹیل مل اور پورٹ قاسم بھی اسی راستے سے جایا جاتا ہے جہاں سے ہمارے اس سائیکل کا سفر کا راستہ گزرتا ہے۔
سائیکلنگ کے فوائد اور اختتامی پیغام
سائیکلنگ آپ کو فٹ، توانا اور صحت مند رکھنے کا ایک ایسا طریقہ ہے جس میں تفریح کے ساتھ ساتھ آپ اس سائیکل کا سفر سے بھی لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ اگر آپ نے کبھی سائیکل چلائی تھی اور اب اسے ترک کر چکے ہیں تو کوشش کیجیے کہ کوئی سستی سی سائیکل خرید کر اس پر اپنے گھر کے قریب ایک دو کلومیٹر ضرور چلائیں، تاکہ آپ صحت مند زندگی کے ساتھ ساتھ تفریح بھی کر سکیں اور ایسے دوستوں سے بھی ملیں اور ان کے ساتھ وقت گزاریں جو اس شوق میں آپ کے ساتھی ہیں۔ یقین مانیں، اگر آپ تھوڑی سی کوشش کریں تو آپ مایوس نہیں ہوں گے۔ تحریر پسند ائے تو دوسروں کو بھی ضرور بھیجیے اور مجھے بھی بتائیے۔ اپ کا تبصرہ میرے لیے مفید بھی ہوگا اور حوصلہ افزا بھی
اگر اپ سائیکل چلانا چاہتے ہیں اور اس کے لیے کسی بھی قسم کی مدد یا تعاون درکار ہے تو بلا جھجک مجھے بتائیے۔ تحریر پڑھنے کا بہت بہت شکریہ


