نہاری : دہلی سے کراچی تک کا سفر

نہاری

برصغیر کی تہذیبی تاریخ اور ایک لازوال پکوان

برصغیر کی تہذیبی تاریخ میں بعض پکوان ایسے ہیں جو محض خوراک نہیں بلکہ ایک عہد، ایک ثقافت اور ایک اجتماعی یادداشت کی علامت بن جاتے ہیں۔ نہاری بھی انہی چند لازوال کھانوں میں شامل ہے

جس نے مغل درباروں سے لے کر کراچی کی مصروف شاہراہوں تک صدیوں کا سفر طے کیا اور آج بھی اپنے ذائقے، خوشبو اور روایت کے باعث لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کر رہی ہے۔

مغل دربار سے عوامی دسترخوان تک کا سفر

نہاری کی ابتدا اٹھارہویں صدی کے اواخر کی دہلی سے منسوب کی جاتی ہے۔ پرانی دہلی کے علاقے جامع مسجد، چاندنی چوک اور دریا گنج اس پکوان کے اولین مراکز شمار ہوتے تھے۔

لفظ ’’نہاری‘‘ عربی زبان کے لفظ ’’نہار‘‘ سے نکلا ہے جس کے معنی صبح یا دن کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غذا فجر کی نماز کے بعد ناشتے کے طور پر تناول کی جاتی تھی اور رفتہ رفتہ صبح کے کھانے کی ایک مستقل علامت بن گئی۔

مغل دور میں نہاری کو شاہی دسترخوان کی ایک خصوصی غذا کا درجہ حاصل تھا۔ بادشاہ، نواب اور امراء سرد موسم کی صبحوں میں اسے شوق سے تناول کرتے تھے۔ گوشت، نلی، گودا اور خوشبودار گرم مصالحوں سے تیار ہونے والی یہ غذا نہ صرف ذائقے میں بے مثال سمجھی جاتی تھی

بلکہ اسے جسمانی قوت اور توانائی کا ذریعہ بھی تصور کیا جاتا تھا۔ دہلی کے بعض حکما نہاری کے شوربے کو نزلہ، زکام اور جسمانی کمزوری کے لیے مفید قرار دیتے تھے۔

نہاری کی تیاری: دھیمی آنچ پر پکتی ایک روایت

نہاری کی اصل روح اس کی تیاری کے منفرد انداز میں پوشیدہ ہے۔ دیگ میں گوشت، پیاز، ادرک، لہسن اور مخصوص مصالحے شامل کرکے اسے رات بھر دھیمی آنچ پر پکایا جاتا تھا۔ صبح جب دیگ کا ڈھکن اٹھتا تو خوشبو پورے محلے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی۔

نرم و ملائم گوشت، گاڑھا خوشبودار شوربہ اور تازہ خمیری روٹی کا امتزاج ایسی لذت پیدا کرتا تھا جس کے سامنے دیگر پکوان ماند پڑ جاتے تھے۔

مغل سلطنت کے زوال کے بعد دہلی کے بہت سے باورچی اور اہلِ ہنر لکھنؤ منتقل ہوئے۔ وہاں نوابانِ اودھ کے ذوقِ طعام نے نہاری کو مزید نکھارا۔ اس کے مصالحوں میں نفاست آئی، شوربہ مزید گاڑھا ہوا اور ذائقے میں ایسی دلکشی پیدا ہوئی کہ نہاری کی شہرت پورے شمالی ہندوستان میں پھیل گئی۔

ہجرت کے سفر میں تہذیب کی منتقلی

معروف ادیب اور مؤرخ شاہد احمد دہلوی نے اپنی شہرۂ آفاق کتاب “دلی جو ایک شہر تھا” میں پرانی دہلی کی تہذیبی زندگی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تقسیمِ ہند سے قبل تقریباً ہر محلے میں نہاری فروش موجود تھا، تاہم چاندنی چوک کے نیل کے کٹرے کے قریب ’’گنجے نہاری والے‘‘ اپنی مثال آپ تھے۔

1947ء کی تقسیم کے بعد جب لاکھوں مہاجرین پاکستان آئے تو وہ اپنے ساتھ صرف یادیں ہی نہیں بلکہ دہلی اور لکھنؤ کی تہذیبی روایات بھی لائے۔ انہی روایات میں نہاری بھی شامل تھی، جس نے کراچی کی سرزمین پر آکر ایک نئی شناخت حاصل کی۔

کراچی میں نہاری کا ارتقا اور ’رات کی نہاری‘ کا آغاز

کراچی میں نہاری کی پہلی معروف دکان 1950ء کی دہائی میں رنچھوڑ لائن بوہرا پیر کے علاقے میں ’’بھائی نامن‘‘ نے قائم کی۔ چاند بی بی روڈ کی اس مختصر سی دکان سے نکلنے والی خوشبو جلد ہی پورے شہر میں مشہور ہوگئی۔

فجر کے بعد دیگ کھلتے ہی خریداروں کی قطاریں لگ جاتیں۔ کچھ لوگ وہیں بیٹھ کر خمیری روٹی کے ساتھ نہاری کھاتے جبکہ دیگر اسے گھروں کے لیے ساتھ لے جاتے۔

کراچی میں نہاری کے ارتقا کا ایک اہم باب نثار پہلوان کے نام سے منسوب ہے جنہوں نے رامسوامی میں ’’دہلی نثار ہوٹل‘‘ قائم کیا۔ انہوں نے نہاری کی تیاری اور فروخت کے انداز میں کئی تبدیلیاں متعارف کروائیں۔

روایتی تانبے کی دیگوں کی جگہ اسٹیل کی دیگیں استعمال ہونے لگیں اور صبح کے بجائے شام کے وقت نہاری فروخت کرنے کا رجحان پیدا ہوا۔ یوں کراچی میں ’’رات کی نہاری‘‘ کی روایت نے جنم لیا جو بعد ازاں شہر کی ثقافتی شناخت بن گئی۔

ستر اور اسی کی دہائی: مشہور ہوٹلوں کا سنہرا دور

1970ء کی دہائی میں رنچھوڑ لائن کا ’’تقی ہوٹل‘‘ نہاری کے شائقین کے لیے ایک معتبر نام بن گیا۔ نرم گوشت، گاڑھا شوربہ اور خوشبودار مصالحوں کا ایسا امتزاج آج بھی حافظے میں تازہ ہے۔ بھائی تقی اعلیٰ معیار کے گوشت اور قورمے میں استعمال ہونے والے مہنگے مصالحوں سے نہاری تیار کرتے تھے۔

ہفتے کی راتوں میں مغرب سے پہلے ہی لوگ اپنے برتن رکھوا دیتے تھے تاکہ پسندیدہ نہاری سے محروم نہ رہ جائیں۔ رمضان المبارک میں تو اس ہوٹل کی نہاری کئی گھروں کے افطار اور سحری کے دسترخوان کی زینت بنتی تھی۔

بعدازاں سول اسپتال کے نزدیک اسلم روڈ پر ‘پھوپھا کی نہاری‘ کے نام سے مشہور ادریس ہوٹل نے بھی اپنی منفرد پہچان بنائی۔ 1988 میں ادریس ہوٹل پر جو سابق صوبائی وزیر حافظ محمد تقی مرحوم کے گھر کے نزدیک تھا، حافظ صاحب نے اس ہوٹل پر ہم چند دوستوں کی نہاری کی دعوت کی تھی۔

ستر اور اسی کی دہائیوں میں برنس روڈ کا ملک ہوٹل، صابر ہوٹل، زاہد ہوٹل اور ممتاز نہاری جیسے نام کراچی کے ذائقہ شناس حلقوں میں شہرت حاصل کرتے گئے۔ صابر ہوٹل کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ اس کی نہاری پر مزاحیہ انداز میں قوالی کی طرز پر تخلیقات بھی پیش کی گئیں۔

1980ء کی دہائی میں واٹر پمپ اور فیڈرل بی ایریا کے علاقے اپنی مخصوص ذائقہ دار نہاری کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے تھے۔ اُس زمانے میں گلستان ہوٹل اور تاج محل ہوٹل کی نہاری شائقینِ طعام کے لیے ایک منفرد کشش رکھتی تھی۔

کراچی: نہاری کا غیر سرکاری دارالحکومت

کراچی کو اگر نہاری کا دارالحکومت کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہو۔ اس شہر کے تقریباً ہر علاقے میں ایک ایسا نہاری فروش موجود ہے جس نے اپنے منفرد ذائقے اور معیار کے باعث برسوں سے شائقینِ نہاری کے دلوں میں جگہ بنا رکھی ہے۔ اسلم روڈ کی ادریس نہاری، صدر اور طارق روڈ کی زاہد نہاری، برنس روڈ اور بہادر آباد کا ملک ہوٹل،

برنس روڈ اور گلشنِ اقبال کی وحید نہاری، لسبیلہ اور اردو بازار کی صابر نہاری، ڈیفنس کی دہلی نہاری، شاہراہِ فیصل اور محمود آباد کی دہلی فیمس نہاری، لیاقت آباد کی جمعہ گجر نہاری، ناظم آباد کی ممتاز اور جدہ نہاری، ملا احمد نہاری، نارتھ ناظم آباد کی دہلی سہیل نہاری، دستگیر، بہادر آباد اور ملیر کی جاوید نہاری، دستگیر کی اسلام نہاری، ناگن چورنگی کی فیاض نہاری،

نیوکراچی کے وسیم ہوٹل کی نہاری، گلستانِ جوہر کی اے جے نہاری اور سرجانی ٹاؤن کی مسٹر کون نہاری آج کراچی کی نہاری ثقافت کے نمایاں نام ہیں۔

خاندانی ہنر اور حیدرآبادی ذائقے کا تڑکا

ان تمام مراکز کی مقبولیت کا راز صرف ان کا ذائقہ نہیں بلکہ ان کے پس منظر میں موجود ایک طویل خاندانی اور تہذیبی روایت بھی ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان میں سے بیشتر نہاری فروش دہلی کی قدیم (آرائیں) برادری سے تعلق رکھتے ہیں اور باہمی رشتہ داریوں کے مضبوط بندھن میں جڑے ہوئے ہیں۔

اگر کوئی ہوٹل براہِ راست اس برادری سے تعلق نہیں رکھتا تو اکثر اس کے باورچی یا کاریگر اسی روایت کے تربیت یافتہ افراد ہوتے ہیں۔ خصوصاً جاوید نہاری نے اس روایت کو عالمی سطح تک پہنچاتے ہوئے بیرونِ ملک بھی اپنی شاخیں قائم کی ہیں۔

اسی طرح کراچی کی حیدرآباد کالونی میں حیدرآبادی نہاری ملتی ہے جو ایک لذیذ، گاڑھے شوربے والا روایتی پکوان ہے۔ اس میں بکرے کے پائے (یا نلی) اور سری بکرے کی، خاص ‘پوٹلی کے مصالحے’ (پھول پتھر، خشخاش، کھوپرے کا پاؤڈر، بھنے چنے) سے تیار کی جاتی ہے۔ یہ طویل دھیمی آنچ پر پکتی ہے، جس سے گوشت ہڈیوں سے الگ ہو جاتا ہے۔

اردو ادب اور مزاح میں نہاری کا تذکرہ

اردو کے متعدد نامور ادیبوں اور مزاح نگاروں نے نہاری کے ذائقے، اس کی روایت اور اس سے وابستہ تہذیبی رنگوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔

معروف مزاح نگار ابنِ انشا نے بھی اپنے سفرناموں اور مزاحیہ مضامین میں کھانے پینے کی ثقافت کا نہایت دل چسپ انداز میں ذکر کیا ہے۔ ان کی تحریروں میں نہاری اور اس کے لوازمات پر مبنی طنز و مزاح قاری کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔

ابنِ انشا ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ ایک شام صدر کے ایک مشہور ریستوران میں جانے کا اتفاق ہوا۔ بیرا حسبِ دستور لپک کر حاضر ہوا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا دستیاب ہے

تو اس نے جواب دیا: ’’اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔‘‘ اس جواب پر انشا صاحب نے برجستہ فرمایا کہ ’’ہم کھانے کا پوچھ رہے ہیں، خیریت دریافت نہیں کر رہے۔‘‘ بیرا مختلف کھانوں کی تعریفیں بیان کرتا رہا اور جب نہاری کا ذکر آیا تو اس نے بڑے فخر سے بتایا کہ ’’مرغ کی نہاری بھی ہے اور بٹیر کی نہاری بھی۔‘‘

بٹیر کی نہاری کا نام سن کر حیرت اور مزاح کی ایک نئی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اس فرضی فہرست میں ’’پدی کا شوربا‘‘، ’’تیتر کے سری پائے‘‘ اور ’’مسور کی دال کے تکے کباب‘‘ جیسے عجیب و غریب پکوان بھی شامل تھے۔ جب بٹیر کی نہاری پیش کی گئی تو انشا صاحب کے ساتھ موجود ایک دہلوی دوست نے شکایت کی کہ اس نہاری میں نلیاں موجود نہیں، حالانکہ اصل نہاری کا لطف تو نلیوں کا گودا چوسنے میں ہے۔

بیرا غالباً بات نہ سمجھ سکا اور کچھ دیر بعد ایک طشتری میں خلال لے آیا۔ وضاحت پر اس نے معصومیت سے کہا کہ ’’حضور! یہ خلال نہیں، بٹیر کی نلیاں ہیں۔‘‘ پھر اس نے مستقبل کا ایک اور حیران کن منصوبہ بھی بیان کیا کہ ناغے کے دن نہاری کے شوقینوں کے لیے پلاسٹک کی نلیاں تیار کروائی جا رہی ہیں جن کے اندر آلوؤں کا گودا بھر کر پیش کیا جائے گا۔

خلاصہ: ہجرت اور ثقافتی تسلسل کی لذیذ داستان

یوں کہا جا سکتا ہے کہ کراچی کی نہاری محض ایک کاروبار نہیں بلکہ نسل در نسل منتقل ہونے والا ایک ہنر ہے، جس کی جڑیں پرانی دہلی کی گلیوں میں پیوست ہیں۔ ایک ہی خاندان اور برادری سے وابستہ یہ لوگ اپنی مخصوص ترکیبوں، مصالحوں اور پکانے کے انداز کے ذریعے اس روایت کو آج بھی زندہ رکھے ہوئے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کراچی کی نہاری میں آج بھی دہلی کی تہذیب، لکھنؤ کی نفاست اور کراچی کی رنگارنگ شہری زندگی کا حسین امتزاج محسوس ہوتا ہے۔

درحقیقت کراچی کی نہاری کی تاریخ صرف ذائقوں کی تاریخ نہیں بلکہ ہجرت، تہذیب، خاندانی روایت اور ثقافتی تسلسل کی ایک دل چسپ داستان بھی ہے، جو ہر دیگ کے ساتھ آج بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جب نہاری کا ذکر ہوتا ہے تو صرف ایک لذیذ پکوان ہی نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب اور یادوں سے بھرپور ایک پورا عہد آنکھوں کے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔

نہاری