آتے ہیں ” عیب ” سے یہ مضامیں خیال میں

ناکامی

وہ مسخرائے اور بولے ” آتے ہیں ” عیب ” سے یہ مضامیں خیال میں ” جب سے آر سی مصحف ہوا ہے روئے جا رہی ہیں

اظہر عزمی

دوستی اور باری صاحب کا اندازِ بیاں

کہتے ہیں بے Loss دوستی کو زمانے گزر گئے مگر ہمارے دوست باری ایسے نہیں ۔ سب کی باری باری ، باری لگتے ہیں ۔ لفظ میں ایک دو حروف آگے پیچھے کر کے دوستی کا اگلا پچھلا حساب کر دیتے ہیں ۔ طبیعت میں عجیب سا اجاڑ اور گنوار پن ہے ۔ لہجہ کرخت اور بات سخت ہے مگر بات دل کو لگتی اور کبھی بہت چھبتی ہے ۔ اگر آپ ہڑ ہڑ کا مربہ کھاتے ہیں تو آدھے گھنٹے تک دماغی گڑبڑ نہ ہونے کی ضمانت ، میں دے سکتا ہو ۔ جس کی حجامت پر اتر آئیں ، کھڑے کھڑے گنجا کرکے گنجینہ اوصاف بنا دیں ۔ دوستوں میں ” حجام الحاجمین ” کہے جاتے ہیں ۔

رخصتی کا قصہ اور ولیمے کی تصویر

باری صاحب کی اہلیہ سے شادی کے بعد بالکل نہیں بنی ۔ خود بھی کہتے ہیں بنے کی بنی سے بنی نہیں ۔ شادی سے پہلے دور سے دیکھنا تو دور کی بات کبھی کانوں کان بات بھی نہ ہوئی ۔ خود بتاتے ہیں کہ رخصتی کے وقت اہلیہ اس زور و شور سے روئیں کہ ٹینٹ سر پر اٹھا لیا ۔ کسی نے پوچھا : ہوا کیا بھائی ؟ میں نے کہا : بھائی جب سے آر سی مصحف کی رسم ہوئی ہے ، روئے جا رہی ہیں ۔ دوست نے پوچھا : شادی سے پہلے تصویر کیوں نہ دکھا دی ۔ بولے : اماں نے میری تصویر بھیجی تھی لیکن ان کے اماں باوا نے نہ دکھائی ۔ کہنے لگے نکاح کے بعد خود ہی دیکھ لے گی ۔

باری صاحب بتاتے ہیں ۔ شادی کے بعد ولیمے کی تصویر اماں نے فریم کروا کے ہمارے بیڈ روم میں لگا دی ۔ بیوی نے دوسرے دن ہی اس کا شیشہ توڑ کر تصویر بیڈ کے نیچے چھپا دی ۔ میں نے کہا : یہ کیا کیا ؟ بولیں : سہیلیاں ملنے آتے ہیں آپ کا پوچھتی ہیں ۔

کچھ تو رہنے دو زمانے سے چھپانے کے لیے

اردو شاعری پر تازہ ایمان

باری صاحب کے ہاں آج کل شعر و شاعری کی باری لگی ہے۔ خود شعر بٹھانے کر اس فن کو اوج پستی پر بٹھانے میں لگے ہیں ۔ اردو شاعری پر تازہ ایمان لائے ہیں اور پہلے شعر سے اس کی گواہی دی ہے ۔

ایک دن تشریف آوری ہوئی تو لب کانوں کو چھوئے جا رہے تھے ۔ میں نے کہا : اس دریدہ لبی اور کان چھوئی کی وجہ؟ بولے : مبارک ہو ! میں اردو کی شوہراتی شاعر پر ایمان کامل لے آیا ۔ ایک شعر نے دیوانہ کر دیا ہے ۔ مجھے شرارت سوجھی ۔ یہ جانتے ہوئے کہ باری صاحب تین مرتبہ ” مجلس حاملہ ” کے رکن رہ چکے ہیں اور عمر کی اس منزل میں ہیں کہ ابھی اس رکنیت میں برقراری کی بیقراری موجود ہے ۔ کچھ سیڑھیاں اور چڑھ سکتے ہیں ۔ یہ شعر سنا دیا : عاشقی قید شریعت میں جب آ جاتی ہے جلوہ کثرت اولاد دکھا جاتی ہے

بولے : نہیں بھائی ، وہ ایک شاعر ہیں ناں جگر مراد آبادی ، اب اپنا جگری ہے ۔ کیا شعر کہہ گیا یہ عشق نہیں آساں اتنا ہی سمجھ لیجیے اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جاناہے

بسں ایک تبدیلی کا خواہاں تھا ۔ اگر جگر ڈوب کے بجائے تیر کے جانا کر دیتے تو زیادہ مزا آتا لیکن بہرحال انہوں نے حسب حال لکھا ، ہم اسے حسب کمال کرنا چاہ رہے تھے ۔ میں تو جب تیر کے دریا سے باہر نکلا تو شادی سر پر کھڑی تھی ، کرنی پڑی اور یہ سمجھا کہ عشق اپنے منطقی انجام کو پہنچا لیکن لوگ کہتے ہیں آپ نے اسے مطلبی انجام تک پہنچا دیا ۔

ایک بیوی ہے ، چار بچے ہیں عشق جھوٹا ہے لوگ سچے ہیں

شاعری اور ازدواجی زندگی کی کشمکش

ایک بات تمھیں بتا دوں ہر شوہر آدھا شاعر ہوتا ہے ۔ وہ تو بیوی اسے ایسا مشقتی بناتی ہے کہ مرض دکھن سے جان چھوٹے تو مشق سخن پر آئے ۔ بھائی میں یہ راز پا گیا ۔ اب وہ وہ شعر بٹھاتا ہوں کہ اٹھتے بیٹھتے بیوی کی ناک بھوں چڑھی رہتی ہے ۔ صبح پہلے شعر پر جھگڑا ہوا ۔ بیوی کو اس کے گھر چھوڑا اور راستے میں دوسرا ہو گیا ۔

میں نے کہا : شادی کے بعد صرف پہلا دوسرا تیسرا نہ کہا کریں ، لوگ مبارکباد دینے لگتے ہیں ۔ وہ میری سننے کے موڈ میں نہ تھے ، بولے سنو ۔ صبح نہار منہ کیا کہا : یہ شادی نہیں آسان اتنا ہی سمجھ لیجیے ایک پتلی گلی ہے اور بچ کے نکلنا ہے

بیوی کے تیور چڑھ گئے ۔ خوب تو تڑاخ ہوئی ۔ میں نے” تو” کہا اور اس نے ” تڑاخ ” پر انتہا کردی ۔ میں نے کہا : بہت ہو گئی ۔ تم سدھرو گی نہیں ، میں بدلوں گا نہیں ۔ اسے اس کے کے گھر چھوڑا اور تمہارے پاس چلا آیا ۔ راستے میں دوسرا ہو گیا ۔ یہ شادی نہیں آسان تنا ہی سمجھ لیجیے ہو بیوی سے چخ چخ گھر چھوڑ کے آنا ہے

میں نے کہا : جس تواتر اور تفاخر سے آمد ہو رہی ہے ، آپ تو پورا دیوان مرکب کر دیں گے ۔

بولے ادب میں میرا وہ مقام ہوگا کہ تاریخ رشک کرے گی ۔ پہلا مصرعہ نہ بدلے گا ۔ تخلیقات کی تمام تکلیفات ، دوسرے مصرعے میں زبان دراز ہوں گی ۔ کلام میں تصنع نام کو نہیں ہر مصرعہ میری تواضع کی کفگیر ہے ۔ جو دل پہ گزرتی ہے ” ایڈریس ” کرتے رہیں گے

میں نے کہا : روز کتنے کر لیا کریں گے ؟ بولے : یہ تو بیوی پر ہے ۔ میں تو رد عمل کا شوہر شاعر ہوں ۔ جتنا ظلم و ستم بڑھے گا ، اتنا ذہن و قلم چلے گا ۔

میں نے بھی تفریح میں گرہ لگا دی : یہ شادی نہیں آسان اتنا ہی سمجھ لیجیے ایک راکھ کا دریا ہے اور خاک اڑانا ہے

باری صاحب پھڑک اٹھے ۔ یار تم نے کیا مضمون باندھا ہے ۔ کیا خاک اڑائی ہے ۔

میں نے کہا : باری صاحب آپ ے جو خاک اڑائی اور ڈالی یے ۔ اس کے آگے یہ معمولی سی دھول ہے ۔ آپ سر بسر خاک بسر شاعر ہیں ۔ خیال آفرینی کو سلام پیش کرتا ہوں ۔ غالب نے کہا تھا : آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں

مسخرائے اور بولے : آتے ہیں ” عیب ” سے یہ مضامیں خیال میں

  • Azhar Azmi

    اظہر عزمی ظرافت کے جادے پر زندہ دلی اور شرارت کی حرارت کے ساتھ گامزن ہیں ۔ لفظوں اور رشتوں سے چھیڑ چھاڑ ان کے دل پسند مشغلے ہیں ۔ وہ ایسے فرہاد ہیں جو ان سنگلاخ اور روایتی موضوعات سے بھی دودھ کی نہ سہی ، ظرافت کی زود ہضم نہر کھودنے کے کام میں کامران ٹھہرتے ہیں۔

    View all posts