پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری: آج کا دور
پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری
ہم لوگوں نے پچھلے ابواب میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے سنہری ابتدائی دور کے حوالے سے بات چیت کی،اب ہم ڈرامہ انڈسٹری کے دوسرے سنہری دور کے حوالے سے بات چیت کریں گے جو دو ہزار کی پہلی دہائی سے شروع ہوئی اور جس نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کا رخ بالکل تبدیل کرکے رکھ دیا۔
نجی چینلز کا آغاز
سرکاری ٹیلی ویژن چینل کے علاوہ نوے کی دہائی میں واحد نیم سرکاری چینل ایس ٹی این تھا، جس پر پرائیوٹ پروڈکشن کے تحت بننے والے بہت سے ڈرامہ سیریل چلے۔نوے کی دہائی کے اواخر تک ان چینل پر مختلف ڈرامہ، شوز اور ٹیلی فلم/لانگ پلے ٹیلی ویژن سکرین کی زینت بنتے رہے۔
سال ١٩٩٨ء میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا جب پی ٹی وی ورلڈ کے نام سے ایک نئے چینل کا آغاز ہوا،گو کہ یہ چینل سرکاری تھا لیکن اس چینل کے اندر زیادہ تر ڈرامہ نجی پروڈکشنز کے بنائے ہوئے پیش کئے جاتے تھے۔ پی ٹی وی ورلڈ ٢٠٠٥۔٢٠٠٦ء تک ایکٹو رہا اور پھر رفتہ رفتہ وہاں کے حالات بھی دگرگوں ہوتے چلے گئے۔
٢٠٠١ء میں پاکستان کے باقاعدہ پہلے پرائیوٹ انٹرٹینمنٹ چینل انڈس ویژن کا قیام عمل میں آیا۔ اس چینل کے آنے کے بعد پاکستانی ڈراموں بالخصوص سٹ کامز کو ایک نئی جہت ملی۔
٢٠٠٢ء کے دور میں پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک اہم سنگ میل کی بنیاد رکھی گئی جب روزنامہ جنگ والوں نے اپنے نجی ٹیلی ویژن چینل جیو ٹی وی کی شروعات کی۔ گو کہ شروع میں جیو ٹی وی محض خبروں کا چینل تھا لیکن چند سالوں کے اندر ہی اندر انہوں نے اپنا انٹرٹینمنٹ چینل کھول لیا جو اس وقت پاکستان کے کامیاب ترین انٹرٹینمنٹ چینل میں سے ایک ہے۔
٢٠٠٥ء وہ دور تھا جب پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں ایک خاموش طوفان آیا اور پاکستان ٹیلی ویژن کی مایہ ناز پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سلطانہ صدیقی نے اپنے پرائیوٹ ٹیلی ویژن چینل ”ہم ٹی وی” کا آغاز کیا۔
ہم ٹی وی کے آغاز کے بعد پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جہاں بہت سے نئے لکھنے والوں نے بہت سے نئے موضوعات پر طبع آزمائی کی، وہیں ہم ٹی وی کا شمار ان اولین چینلز میں ہوتاہے جنہوں نے خواتین کے لئے شائع ہونے والے ڈائجسٹ کی لکھاریوں کو مواقع فراہم کئے اور ان لوگوں نے ہم ٹی وی پر ایک سے بڑھ کر ایک شاہکار ڈرامے لکھے۔

اکیسویں صدی کے شاہکار
اکیسویں صدی کی شروعات نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو ایک نئی شناخت دی، گو کہ یہ وہ وقت تھا جب ڈیجیٹل میڈیا اور یوٹیوب اتنا عام نہیں تھا لیکن اس دور میں بننے والے بہت سے ڈرامہ سیریل آج بھی لوگوں کو یاد ہیں اور ہمسایہ ممالک اور بہت سے دوسرے ممالک میں وہ ڈرامے نہ صرف دیکھے جاتے ہیں بلکہ اب بہت سے پاکستانی چینلز نے اپنے ڈرامہ مختلف زبانوں (پشتو، عربی، ترکی) میں ڈب کرواکر بھی یوٹیوب پر اپلوڈ کئے ہیں۔
ان ڈراموں کی فہرست اگر بنائی جائے تو بے حد طویل ہوگی لیکن اس دور میں جن ڈراموں نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری کو ایک نئی شکل دی ان میں سرفہرست ”میری ذات ذرّہ بے نشان” ڈرامہ سیریل ہے جو مشہور اور معروف مصنفہ عمیرہ احمد کے ایک ناول سے ماخوذ ہے۔ ایک بے حد حساس موضوع پر لکھے گئے اس ڈرامے کی بازگشت لوگوں کے ذہن میں آج تک گونجتی ہے۔
اس کے علاوہ بہت سے اور ڈرامے جیسے ”داستان” جو رضیہ بٹ کے ناول بانو سے ماخوذ ہے ، وہ ڈرامہ لوگوں میں بے حد پسند کیا گیا، اس کی ڈرامائی تشکیل معروف سکرپٹ رائٹر سمیرا فضل نے کی جن کے کریڈٹ پر بہت سے مزید کامیاب ترین سیریل بھی موجود ہیں۔
دو ڈرامے جنہوں نے پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری او ر اس کے اداکاروں کو بین الاقوامی شہرت اور کامیابی دی وہ بھی ہم ٹی وی کی ہی پیشکش ہیں ”ہم سفر” اور ”زندگی گلزار ہے۔”
اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے اوائل میں ایک ڈرامہ اے آروائی چینل پر چلا جو گو کہ اس وقت تو زیادہ مشہور نہ ہوسکا لیکن آج اس کی حیثیت ایک کلٹ کلاسک کی سی ہے اور وہ ہے ”قدوسی صاحب کی بیوہ” جو فصیح باری خان نے تحریر کیا اور جس کی ہدایات مظہر معین نے دی۔ قدوسی صاحب کی بیوہ ایک ایسا سیریل ہے جو شائقین میںآج بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے اور بہت سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس کے مکالمے بہت زیاد استعمال ہوتے ہیں۔

بین الاقوامی مقبولیت
٢٠١٥ء کے شروع میں ایک نئے دور کا آغاز اس وقت ہوا جب ہندوستا ن کے ایک مشہور چینل زی ٹی وی نے اپنے ایک نئے چینل ”زی زندگی” کا آغاز کیا جہاں انہوں نے پاکستانی ڈرامہ کے حقوق حاصل کرکے انہیں ہندوستان میں نشر کرنا شروع کیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب کوئی پاکستانی سیریل کسی ہندوستانی چینل پر نشر ہورہا تھا اور اس ایک چینل کے قیام کے بعد پاکستانی ڈرامہ کو پسند کرنے والے شائقین میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ ہندوستان میں”زندگی گلزار ہے” اور ”ہم سفر ” کو بے حد پسندکیا گیا اور آج بھی وہاں کے لوگ ان دو ڈراموں کی تعریفیں کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان دونوں سیریل کے اداکاروں کو بین الاقوامی شناخت ملی۔
گوکہ بعد میں دونوں ممالک میں ہونے والی کشیدگی کے باعث اب اس چینل پر پاکستانی ڈرامے نہیں چلتے ہیں لیکن پھر بھی آج بھی پاکستانی ڈرامہ دیکھنے والے ناظرین کی ایک بڑی تعداد ہندوستان سے ہے۔
ڈراموں کے معیار اور مسابقت کا جائزہ
ہم لوگوں نے اس حوالے سے بہت بات کی ہے کہ پرانا دور بے حد سنہری تھا، اور اس دور کے بننے والے ڈرامے آج تک لوگوں کو نہیں بھولے جاتے۔ گو کہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے لیکن یہ کہنا کہ آج کے دور اور اکیسویں صدی کے ڈرامے اس معیار کے نہیں ہیں، غلط بیانی ہے۔ ستر، اسی کی دہائی میں محض ایک ٹیلی ویژن چینل تھا جس پر سات دن محض سات ڈرامے آتے تھے۔ آج کے دور میں آٹھ سے نو انٹرٹینمنٹ چینل ہیں اور ہر چینل کے درمیان مقابلہ بے حد شدید ہے۔ اس بات میں کوئی دو رائے نہیں کہ بہت سے سوپ آج کل محض گھریلو سازشوں کے اوپر بنائے جارہے ہیں لیکن اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتاکہ ایسا کانٹینٹ دیکھنے والے لوگوں کی کمی نہیں ہے، آج بھی اچھا اور معیاری کانٹینٹ بن رہاہے لیکن چونکہ یہ مقابلے کا دور ہے اس لئے اکثر لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے۔

مزید بہتری کے لئے کیا کیا جائے؟
میں گزشتہ بارہ تیرہ سالوں سے ڈائریکٹ اور ان ڈائریکٹ طور پر انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کا حصہ ہوں اور میری ہمیشہ اس بارے میں بات ہوتی رہی ہے کہ ہم لوگوں کو معیاری کانٹینٹ پر کام کرنا چاہیے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ آج کل بچوں کے لئے کسی قسم کا کوئی کانٹینٹ نہیں بن رہاہے، نہ ہی کوئی سائنسی پروگرام بنائے جارہے ہیں، اس حوالے سے ٹی وی چینل مالکان کو ضرور سوچنا چاہیے کہ بچوں کے لئے تفریحی اور معلوماتی پروگرام بنائے جائیں۔




