پروفیسر خورشید احمد: سنجیدگی، علمیت اور فکری انقلاب کی ایک منفرد مثال

خورشید

تعارف: سنجیدگی اور فضیلت کا پیکر

علمیت و فضیلت کے ساتھ ساتھ اگر کسی انسان میں سنجیدگی و متانت بھی کوٹ کوٹ کر بھری ہو اور ہر محفل و صحبت میں ہر ہر لمحہ اس کا اظہار بھی ہوتا رہے تو اس شخص میں چاہے کیسے ہی اوصاف موجود ہوں وہ أولا” اپنے اسی وصف سے پہچانا جائے گا اور بعد میں اس کی دیگر خوبیاں اور خصوصیات اس کے لیے حوالہ بنیں گی۔ میری نظر میں ایسی شخصیات میں ایک پروفیسر خورشید احمد ہیں جنھیں میں نے اپنے ایک تعلیمی دور میں بحیثیت استاد کے طور پر بارہا دیکھا اور بے حد پسند کیا اور انسانی وصف و صفات کی ایک منفرد اور اس وقت ایک یکتا مثال سمجھا۔

جامعہ کراچی کا سنہری دور (1965ء سے 1969ء)

یہ ۱۹۶۵ ء سے ۱۹۶۹ء کے درمیانی عرصے کی بات ہے جب میں کراچی یونیورسٹی میں بی اے آنرز اور ایم اے کا طالب علم تھا اور ایسے ایسے لائق و فائق اور مہذب و شائستہ اساتذہ کو اپنے اطراف دیکھتا اور ان سے جو جو کچھ سیکھتا رہا وہ یونیورسٹی کے بعد کے طالبِ علمی کے کسی بھی دور میں ایسا کچھ نہ دیکھ سکا نہ سیکھ سکا۔

دیگر شعبہ جات سے استفادہ اور لائق اساتذہ

پروفیسر خورشید احمد شعبہ معاشیات کے استاد تھے اور بطور مضمون میرا معاشیات سے کبھی کوئی تعلق نہ رہا اس لیے وہ راست میرے استاد کبھی نہ رہے، میں شعبۂ اردو کا طالب علم رہا یا بحیثیت آنرز کے طالبِ علم مجھے مزید دو شعبوں میں بھی ان کے مضامین پڑھنے پڑتے تھے

چناںچہ میں نے اردو کے علاوہ فلسفہ اور نفسیات بھی بطور اختیاری مضامین لیے تھے اور ان دونوں شعبوں میں دو سال تک فلسفہ اور نفسیات کے مضامین پڑھے اور ان شعبوں میں بھی جاتا اور وہاں کے اساتذہ سے بھی پڑھتا رہا۔ یقیناً وہاں کے اساتذہ سے بھی قرب و استفادہ حاصل ہوتا رہا اور ان شعبوں میں ایک سے بڑھ کر ایک لائق و فاضل اساتذہ کو دیکھتا اور ان سے استفادہ کرتا رہا۔

کراچی یونیورسٹی کے معمار: ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی اور اے بی اے حلیم

تعلیم کے لحاظ سے وہ دور کراچی یونیورسٹی کا بہترین دور تھا جب اشتیاق حسین قریشی جیسے فاضل اسکالر اور دانش ور استاد وائس چانسلر رہے اور انھوں نے کراچی یونیورسٹی کو اس وقت ملک کی ہر اعتبار سے بہترین یونیورسٹی بنا دیا تھا۔ ان کے لیے یہ سب کچھ اس لیے ممکن ہوا تھا

ان سے پہلے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے پروردہ استاد اے بی اے حلیم یہاں کراچی یونیورسٹی کے ابتدائی دنوں میں اس یونیورسٹی کو اس قابل بنا دیا تھا کہ یہ یونیورسٹی ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی کے دور میں ان کی فضیلت و لیاقت کے سبب ایک بہترین یونیورسٹی بن سکے۔ اس وقت ہر شعبے میں بہترین استاد ہوتے تھے اور ہر ایک کی خدمات مثالی تھیں۔

اساتذہ کی صحبتیں اور علمی پیاس

اساتذہ کی صحبتوں کے دل دادہ اگر چاہتے تو اپنے پسندیدہ اساتذہ کے کمروں میں بغرض استفادہ و گفتگو ان کے کمروں میں ان کی فرصت کے دوران جاکر ان کی صحبت سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔ چناں چہ میں پروفیسر مولانا ابن حسن جارچوی صاحب کے کمرے میں بالعموم جاکر ان کی دلنشیں و حکمت آمیز گفتگو سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا جو بی اے آنرز کے ابتدائی سالوں میں اسلامیات پڑھایا کرتے اور اپنی شفقت و محبت سے طلبہ کو اپنے گرد گھیرے رکھتے تھے۔ ان ہی طلبہ میں ایک میں بھی ہوا کرتا تھا۔

پروفیسر خورشید احمد کی گاڑی کا سفر اور یادیں

ایسی ہی روایت خورشید احمد صاحب کے کمرے میں بھی قدرے قائم تھی اس لیے میں گاہے ان کے کمرے میں بھی جایا کرتا اور گفتگو اور سوال جواب کی کوشش کرتا۔ اس سوال کے جواب کے پس منظر میں میرا کچھ حوصلہ یوں ہوتا کہ گاہے مجھے خورشید صاحب کی گاڑی میں بیٹھنے کا موقع ملتا تھا کہ میں ان کے اس راستے میں جس سے وہ اس وقت اپنی رہائشی گاہ پیر الہی بخش کالونی سے روز صبح یونیورسٹی تشریف لے جاتے تھے

میں راستے میں ایک مخصوص مقام یا بس اسٹوپ پر بس کے انتظار میں کھڑا رہتا تو وہاں سے گزرتے ہوئے خورشید صاحب راستے میں آئے ہوئے بس اسٹوپ پر کھڑے بس کا انتظار کرنے والے افراد کو یونیورسٹی تک پہنچانے کے لیے بٹھا لیا کرتے تھے۔

گاڑی ان کے چھوٹے بھائی انیس احمد، جو کراچی یونیورسٹی ہی سے منسلک تھے، چلایا کرتے تھے، جب کہ خورشید صاحب ہر روز گاڑی میں سارا وقت بیٹھے اخبار پڑھتے رہتے تھے۔ کئی بار مجھے یہ سعادت حاصل ہوئی تھی اس لیے غالباً خورشید صاحب کے لیے میں کچھ صورت آشنا بھی رہا اور یہ بھی ایک سبب تھا کہ میں قدرے اعتماد سے ان کی گاڑی میں یونیورسٹی کے لیے بیٹھ جایا کرتا تھا۔

ڈاکٹر انیس احمد اور ‘انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز’

ان کے بھائی انیس احمد بھی مجھے جاننے پہچاننے لگے تھے، جو کچھ ہی عرصے کے بعد اسلام آباد منتقل ہو گئے اور وہاں کے ایک منفرد علمی ادارے ‘انسٹی ٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز’ کی نظامت سنبھالی اور اسے ایک ممتاز علمی ادارے کی حیثیت تک پہنچا دیا۔ یقیناً اس کام میں پروفیسر خورشید صاحب کی ہدایت و رہنمائی انھیں حاصل رہی ہوگی۔

ماہنامہ ‘چراغِ راہ’ اور علمی مکالمہ

اس زمانے میں خورشید صاحب ایک معروف علمی و ادبی رسالہ ماہ نامہ ‘چراغِ راہ’ نکالتے تھے جسے میں ہر ماہ دلچسپی اور شوق سے پڑھا کرتا اور گاہے اگر کسی سوال کی حاجت ہوتی تو خورشید صاحب سے سوال بھی کرتا جس کا وہ بہت مختصر لیکن جامع جواب ضرور عنایت کرتے۔

یونیورسٹی سے جدائی اور پروفیسر خورشید احمد کی انگلستان منتقلی

میرے یہ معمولات اس وقت تک رہے جب میں ۱۹۶۹ء میں ایم اے مکمل کرنے تک روز باقاعدگی سے یونیورسٹی جایا کرتا لیکن ایم اے کرنے کے بعد میرا روز باقاعدگی سے جانا نہ رہا، اگرچہ بعد میں پی ایچ ڈی کرنے کے دوران بھی گاہے گاہے جانے تو لگا لیکن باقاعدگی سے نہیں کبھی کبھی اور ۱۹۷۵ء میں پی ایچ ڈی مکمل ہونے تک۔ لیکن ۱۹۶۹ء میں ایم اے کامیاب ہونے تک تو جاتا ہی رہا لیکن اس کے بعد یونیورسٹی میں پروفیسر خورشید صاحب کی زیارت کا سلسلہ تقریباً مفقود ہو گیا کیوں کہ میرا بھی اب کراچی یونیورسٹی سے تسلسل ٹوٹ گیا تھا۔

‘اسلامک فاؤنڈیشن لیسٹر’ اور عالمی خدمات

اگلے ہی سال ۱۹۷۰ء میں خورشید صاحب بھی انگلستان لیسٹر منتقل ہو گئے اور وہیں قائم ایک اہم علمی ادارے ‘اسلامک فاؤنڈیشن’ سے منسلک ہوکر اس کی اہم ذمے داریوں اور منصوبوں میں منہمک ہو گئے اور تاعمر مصروف رہے۔ لیکن ان کی علمی شخصیت اور ان کے علمی و مطالعاتی کام اور ان سے بالواسطہ استفادہ وہاں کے ذوق و شوق کے حامل اہل علم و دانش کا جاری رہا

جس کے تحت انھوں نے متعدد ناقابل فراموش کام بھی انجام دیے جو وہاں ان کی اصل خدمات تھیں جن میں ‘لیسٹر یونیورسٹی’ سے پی ایچ ڈی کا حصول بھی تھا۔ یہاں وہ ۱۹۷۰ء سے بحیثیت استاد خدمات ادا کرنے پر مامور رہے۔

میں نے انگلستان کے اپنے دو ایک اسفار میں لیسٹر کے آس پاس سے گزرتے ہوئے وہاں موجود علمی ادارے کی زیارت کی اور دیکھ کر خوش ہوا لیکن بدقسمتی سے میرے اسفار کے دور میں پروفیسر خورشید صاحب وہاں موجود نہ تھے، ایک بار خود اپنے کسی سفر پر وہ ملیشیا گئے ہوئے تھے اور دوسری بار یہاں پاکستان آئے ہوئے تھے، چناں چہ دونوں مرتبہ میں ان سے ملاقات سے محروم رہا۔

کتاب ‘اسلامی نظریۂ حیات’ اور اشتراکی خیالات کا توڑ

ویسے اپنی زندگی کے آغاز میں یا جب ۱۹۶۵ء میں کراچی یونیورسٹی سے میرا تعلق بحیثیت طالب علم قائم ہوا تو ان کی اولین کتاب، جو بے حد وقیع و مفید تھی، یعنی ‘اسلامی نظریۂ حیات’ جو اس وقت بی اے کے نصاب میں شامل تھی، بی اے کے طلبہ کے لیے لازمی تھی، مجھے بے حد پسند آئی تھی اور ان موضوعات و مضامین پر مشتمل تھی جو اسلام اور اسلامی معاشرت کو سمجھنے کے لیے بے حد اہم اور مفید کتاب تھی جسے پروفیسر خورشید صاحب نے نہایت محنت و جستجو اور تلاش و تحقیق کے بعد نہایت سلیقے اور جذبے سے اسے مرتب کیا تھا۔ یہ کتاب اب تک طلبہ کے خاص استفادے میں رہتی ہے اور بہت مفید ہے۔

یہ کتاب دراصل خورشید صاحب کی مصنفہ نہیں بلکہ مرتبہ کتاب تھی اور نہایت سلیقے اور محنت سے مرتب ہوئی تھی جس میں شامل ابواب یا مقالات پاک و ہند کے نہایت فاضل اور معروف مصنفین اور دانش وروں نے تصنیف کیے تھے۔ یہ میرا پہلا تجربہ تھا کہ اس قدر پر مغز اور جامع کتاب بطور نصاب میرے مطالعے میں آئی تھی چناں چہ میں نے اسے بصد شوق ہمیشہ دلچسپی سے پڑھا اور بارہا پڑھا!

نوجوان نسل کی فکری اصلاح اور مثبت تبدیلی

خورشید صاحب کے یہ ابتدائی تصنیفی کاموں میں سے تھی لیکن بعد میں جو اعلیٰ سطحی اور نہایت معیاری علمی کام ان سے منسوب ہیں کچھ ان کا اثر ہے کہ خورشید صاحب کی شہرت و وقعت عالم گیر سطح پر شناخت کی گئی اور انھیں متعدد اسناد اور اعزازات سے نوازا گیا جس کے بلاشبہ وہ مستحق تھے۔ میں اپنے زمانہ طالب علمی ہی میں دیکھتا تھا کہ میرے ساتھی طلبہ بھی اس کتاب اور اس میں شامل مضامین و مقالات سے بہت متاثر رہتے تھے۔

اس وقت ہمارے معاشرے اور ماحول پر بالعموم ہر طرف اشتراکی خیالات اور ادب میں نام نہاد ترقی پسندی کا بہت چرچا رہتا تھا۔ ترقی پسند شاعری اور ادیبوں اور افسانہ نگاروں و ناول نگاروں میں ترقی پسندوں سے دلچسپی ہر طرف عام تھی۔

مجھے بھی ترقی پسند مصنفین و دانشوروں کی تحریریں پڑھنے کا شوق رہتا تھا اور میں نے شاید ہی کوئی نامور ترقی پسند ایسا چھوڑا ہو جس کی تخلیقات میں نے نہ پڑھی ہوں لیکن واقعہ یہ ہے کہ کسی سے اس قدر متاثر نہ ہوا کہ اسے اپنا دین و ایمان بنا لیتا۔

ایسے ہی زمانے میں، میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا تھا اور اسلامی نظریۂ حیات جیسی کتاب لفظ بہ لفظ پڑھنے اور ذہن میں اتارنے کا موقع ملا تو پھر اسلام اور اسلامی نظریۂ حیات پر کامل یقین و اعتقاد کیسے زندگی کا لازمہ نہ بنتا! چناں چہ ترقی پسندانہ خیالات و نظریات اب زندگی سے دور جانے لگے اور یہی میں اپنے اطراف اپنے ساتھیوں اور رفقا میں بھی دیکھنے لگا کہ وہ بھی اب ترقی پسندانہ خیالات و عقائد سے دور جانے لگے تھے

یہ سب پروفیسر خورشید صاحب کے احسانات تھے جو خاص طور پر نوجوان نسل کو واقعتاً متاثر کر رہے تھے اور انھیں اسلام کی طرف دوبارہ راغب کر رہے تھے اور اس طرح معاشرے میں ایک مثبت و مستحسن تبدیلی لا رہے تھے۔

عالمی اعتراف: شاہ فیصل ایوارڈ اور ستارۂ امتیاز

خورشید صاحب کے یہ ابتدائی تصنیفی کاموں میں سے تھی لیکن بعد میں جو اعلیٰ سطحی اور نہایت معیاری علمی کام ان سے منسوب ہیں کچھ ان کا اثر ہے کہ خورشید صاحب کی شہرت و وقعت عالم گیر سطح پر شناخت کی گئی اور انھیں متعدد اسناد اور اعزازات سے نوازا گیا جس کے بلاشبہ وہ مستحق تھے۔ حکومتِ سعودی عرب نے انھیں شاہ فیصل ایوارڈ سے اور حکومتِ پاکستان نے انھیں ستارۂ امتیاز سے نوازا۔ یہ اعزازات واقعی ایسے تھے جو پروفیسر صاحب کا کم از کم حق کہے جا سکتے ہیں۔

حرفِ آخر: علمی مجاہد اور مثالی زندگی

بظاہر پروفیسر خورشید صاحب ایک یکسر خاموش و نہایت شائستہ و سنجیدہ پروفیسر ہی تھے لیکن علمی و تصنیفی زندگی میں ایک مفکر و دانشور، مصنف و مدیر، طابع و ناشر اور اعلیٰ سطحی استاد لیکن عملی سطح پر ایک مجاہد و سرگرم کارکن، اسی لیے ان کے دور میں خاص طور پر وہ ایک استاد اور سیاسی دانش ور جس نے اپنے زمانے میں اور اپنے ماحول میں راسخ اسلامی فکر کے فروغ کے لیے ہمیشہ سرگرم اور مستعد و فعال انسان کے طور پر کامیاب زندگی گزار کر اپنا فرض پوری طرح ادا کیا اور ایک منفرد مثال بھی قائم کر دی۔ مجھے فخر اور اطمینان ہے کہ میں نے ایک شاگرد کے طور پر ان کی صحبت میں بھی ایک یادگار اور نہ بھول سکنے والا وقت گزارا ہے۔

اس قسم کے مزید بلاگز پڑھنے کے لئے نیچے دی گئی امیج پر کلک کریں
خورشید